تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
زخموں سے چور ہیں مسلم ممالک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 22 شعبان 1435هـ - 21 جون 2014م KSA 12:43 - GMT 09:43
زخموں سے چور ہیں مسلم ممالک

دنیا کہاں جا رہی ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا خون کی سرخ لہروں کی زد میں آ چکی ہے۔ ہر سو قتل عام، خونریزی اور ہنگامہ برپا ہے جبکہ عالم اسلام ان ہنگاموں، تشدد اور خونریزیوں کا مرکز معلوم ہو رہا ہے جس کا اندازہ عراق میں حال میں ہونے والے تشدد کے مختلف واقعات اور جنگجو گروہ ’’دولت مشترکہ عراق و شام‘‘ (آئی ایس آئی ایل یا داعش) کی سفاکانہ کارروائیوں سے لگایا جا سکتا ہے ۔ 1700 عراقی فوجیوں کے قتل عام کے ذریعہ اس گروہ نے جس جارحیت کا ثبوت دیا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ ان عراقی فوجیوں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے اور انہیں اوندھے منہ لٹا دیا گیا تھا۔ دہشت کا منظر پیش کرنے والی ان تصویروں کو سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔ اس گروہ میں شامل افراد پورے عراق میں پھیل رہے ہیں اور کئی شہروں پر انکا قبضہ ہو چکا ہے۔

یہ گروہ انہی مزاحمت کاروں پر مشتمل ہے جنہوں نے 2003ء میں عراق پر امریکہ کی سربراہی میں اتحادی افواج کے حملے کی مزاحمت کرنے کیلئے ہتھیار اٹھائے تھے اور امریکی افواج کے انخلاء کے موقع پر مزاحمتی بعث نوازوں سے لڑنے کیلئے شام میں داخل ہوگئے تھے۔

امریکی افواج کے انخلاء کے بعد جب نوری المالکی عراق کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے اور عراق کی مجموعی ترقی اور ہر فرقے کو ساتھ لے کر چلنے کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو مزاحمت کار دوبارہ عراق میں واپس آئے اور اس مرتبہ انکا مقصد نوری المالکی کے خلاف بغاوت تھا۔ اس گروہ نے شام میں بھی بشار الاسد حکومت، اسکے حامیوں اور فوج کے خلاف تشدد کا ہر حربہ آزمایا ، لیکن چونکہ روس اور ایران کی جانب سے اسد کو اسلحہ فراہم کیا جا رہا تھا اس لیے ان باغیوں نے اپنے اصلی میدان جنگ یعنی عراق کا دوبارہ رخ کیا۔ اب اگر باغیوں کی ایک مختصر تعداد پورے عراق کو یرغمال بنانے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے تو اسکے ذمہ دار پوری طرح نوری المالکی ہیں جنہیں کسی طور یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے ملک کے اس بحران کیلئے وہ کسی دوسرے کو مورد الزام ٹھرائیں۔ عراق سے امریکی انخلاء کے بعد جب نوری المالکی وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے تو اس جنگ زدہ ملک کو متحد کرنا اور اسے ایک نئی راہ پر گامزن کرنے کا ان کے پاس سنہرا موقع تھا۔

بہر حال اب کھیل بہت بگڑ چکا ہے اور اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ نوری المالکی کو ایسا موقع دوبارہ نصیب ہو۔ عراق میں نوری المالکی کیلئے موقع تھا کہ وہ جنوبی افریقہ کے سابق صدر آنجہانی نیلسن منڈیلا کی راہ پر چلتے جنہوں نے کرب والم کے ایک طویل دور سے گزرنے کے بعد اپنے ملک اور اپنی قوم کو سہارا دیا، دلاسہ دیا اور امن کی راہ پر چلتے ہوئے عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اتحادی افواج کے حملے اور پھر انخلاء کی درمیانی مدت میں عراق بھی کرب و الم کے ایک دور سے گزرا اور اس کے بعد نوری المالکی کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا لیکن وہ نہ تو ان مواقع کا فائدہ اٹھا سکے نہ ہی حالات کو سمجھ سکے۔ یہ جنگجو تنظیم اس وقت نوری المالکی کے خلاف ہوگئی جب اسے یہ احساس ہونے لگا کہ عراق میں بعض طبقات کو سیاست میں حصہ داری سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یا انہیں حاشیہ پر لایا جا رہا ہے۔

ایک شاندار ماضی اور عظیم تہذیب و ثقافت کی گواہ رہنے والی سرزمین عراق آج لہولہان ہے۔ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ عراقی عوام نہ صرف امریکہ سے فضائی تعاون کی درخواست کر رہے ہیں بلکہ کہیں نہ کہیں وہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے دور کو ایک بہتر وقت کے طور پر یاد کر رہے ہیں۔ س میں بہر حال کوئی شبہ نہیں ہے اور یہ بات ہر مرتبہ زیر بحث آتی ہی ہے کہ مغرب ، صہیونی طاقتوں اور ان سے وابستہ دیگر مفاد پرست گروپوں نے ہی دنیائے اسلام میں تفرقہ ڈالنے اور اسے بحران میں مبتلا کرنے کی سازش رچی ہے ۔ صہیونی طاقتیں مشرق وسطیٰ کا نقشہ اپنے طور پر کھینچنا چاہتی ہیں اور جانتی ہیں کہ انکا یہ خواب مسلم ممالک کو فرقہ وارانہ ، نسلی اور مسلکی خطوط پر تقسیم کئے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔

اس سازش کی ابتدا برطانیہ اور فرانس نے اس وقت کی تھی جب 1916ء میں فرینکوئس جارجیس پکٹ اور مارک سائکس نے سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کے ایک معاہدہ پر دستخط کئے تھے اور موجودہ مشرق وسطیٰ کا نقشہ کھینچا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت سرزمین عرب و اسلام کے قلب میں یہودیوں کو لا کر آباد کرنا مقصود تھا۔ یورپی ممالک اپنے اور اسرائیل کے مفاداد کی خاطر آج بھی مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ انکی نظر میں مشرق وسطیٰ کی جو سرحدیں یورپ سے متصل ہیں ، وہ کافی نہیں ہیں۔ 2006ء میں امریکی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل (سبکدوش) رالف پیٹر نے اپنی بدنام زمانہ کتاب ’’بلڈ بارڈرس‘‘ میں ’’مشرق وسطیٰ کا از سر نو نقشہ بنانے‘‘ کے صہیونی دلائل پیش کئے تھے تاکہ یہاں مغربی طاقتوں کے مقاصد کی تکمیل ہوسکے۔ پیٹر نے لکھا تھا کہ ’’غیر فعال سرحدوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کیلئے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ان سے بھی بڑے مسائل کا تعلق اس خطے پر طاری ہونے والی تہذیبی جمود اور یہاں سر ابھارنے والی مذہبی شدت پسندی سے ہے۔ اس خطے کی ناکامی کی وجہ صرف اسلام نہیں ہے( نعوذ باللہ) بلکہ وہ بین الاقوامی سرحدیں ہیں، ہمارے سفارتکار جن کا حد درجہ احترام کرتے ہیں۔‘‘

یہ مسلم دنیا پر قبضہ کرنے کا امریکی اور صہیونی ’بلو پرنٹ‘ ہے اور اس کے نشانے پر عرب جزیرہ نما سے لے کر ایران ، عراق ، شام اور ترکی تک اور افغانستان اور پاکستان سے لے کر مشرقی ایشیا کے سبھی مسلم ممالک ہیں۔ عالم اسلام میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کو فروغ دینے کے ذمہ دار مغربی طاقتوں کے علاوہ خطہ عرب میں سرگرم کچھ داخلی مفاد پرست بھی ہیں، بین الاقوامی ایجنسیاں بھی ہیں اور مشرق وسطیٰ کیلئے غیر ضروری طور پر چیخ و پکار کرنے کے در پے ہیں۔ ان طاقتوں نے ہی اس خطے کو توڑنے کی سازش کی اور یہاں نفرتوں کے بیج بوئے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ مسلکی اختلافات پہلے بھی رہے ہیں لیکن ان اختلافات کی وجہ سے کبھی اسلام کی بنیادیں متزلزل ہوئیں نہ اسلامی اتحاد پر کوئی ضرب پڑی۔ اس سلسلے میں جب تک حکومتیں، سیاسی قیادت، مذہبی اسکالر اور مسلم تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر نہیں آتیں اور مسائل کے حل کیلئے سر جوڑ کر نہیں بیٹھتیں تب تک کوئی بہتر صورت نہیں پیدا ہوسکے گی۔ دراصل ہم ان باتوں پر بحث کر کے باہم دست و گریباں ہوجاتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات کس نے پیدا کئے؟ ہمارا قبلہ ایک ہے، ہم ایک اللہ، ایک رسول اور ایک کتاب کو ماننے والے ہیں، کیا یہ بات ہمیں متحد کرنے کیلئے کافی نہیں ہے؟ اگر ہم میں ایک دوسرے کیلئے رحمدلی کا جذبہ نہیں ہوگا تو ہم انسانیت کو کیا دے سکیں گے؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند