تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جنگ کے نئے پہلو
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 24 شعبان 1435هـ - 23 جون 2014م KSA 10:03 - GMT 07:03
جنگ کے نئے پہلو

سنہ 2005ء میں امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے ایک پالیسی تشکیل دی تھی، جس کا آغاز جنگ زدہ عراق سے کیا گیا تھا اور بعد میں وہ مشرق وسطیٰ پہنچی اور دریائے نیل کو پار کر کے اور صحارا میں کسی غیر متعینہ پوائنٹ پر اٹک جانے سے قبل اس کا داخلہ شمالی افریقی عرب ریاستوں میں بھی ہوا تھا۔ پالیسی تھی کہ امریکا 'جمہوریت کی قیمت پر اب آئندہ استحکام کی پالیسی' کو نہیں اپنائے گا اور امریکا سبھی لوگوں کی جمہوریت سے متعلق آرزوؤں اور تمنائوں کو فروغ دے گا۔ جمہوریت کے امکانات سے اعزاز یافتہ شہری لفظ ’’سبھی‘‘ کا فائدہ اٹھانے سے بالکل نہیں چوکے تھے۔

دو ہزار پانچ تک صدام حسین خبروں کی سرخیوں سے غائب ہو چکے تھے اور اب سوال یہ تھا کہ جب عراق جنگ کا اہم مقصد مبینہ طور پر اس کی نیوکلیائی صلاحیت ہی محض ایک مفروضہ ثابت ہو گئی تو پھر یہ جنگ کیوں ہوئی اور کس مقصد کیلئے لڑی گئی؟ اس کے لیے جو جواب یا جواز پیش کیا گیا وہ جمہوریت تھا۔ اس موقع پر جہاں چھوٹے چھوٹے ملکوں پر کپکپاہٹ طاری ہو گئی تھی وہیں مسلح افواج کے بل بوتے و حمایت پر چلنے والے شہنشایت کے فرمانروئوں والے ملک جیسے شام ، مصر، لیبیا اور تیونس، جو استحکام کے نام پر ہی اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے تھے، وہ بھی متزلزل ہو گئے۔ باراک اوباما کے ذریعہ اپنے دفتر کا کام کاج سنبھالے جانے تک جیسی کہ پیش گوئی کی گئی تھی استحکام کی پالیسی تو غائب ہوچکی تھی تاہم جمہوریت کی آمد میں بھی کچھ رکاوٹیں حائم تھیں

صدر بش اور کونڈو لیزا رائس کا ری پبلیکن ممبران کیلئے تیار کیا گیا یہ مقالہ و تھیوری زبردست تضادات پر مشتمل تھی۔ اس وقت تک جنرل بغاوتوں کے سلسلے میں استحکام کا جواز ہی پیش کرتے رہے تھے۔ تاہم بش نے جنگ کا استعمال جمہوریت کی دایا کے طور پر کیا تھا۔ نتائج اور ان کو حاصل کرنے کے لیے اختیار کیے جانے والے ذرائع یہ بحث بعض اوقات ایک عام مباحثہ سے کچھ زیادہ ہی سنجیدہ نوعیت اختیار کر لیتی ہے۔ جب قوم پرستی تخریب کاری کا شکار ہو جاتی ہے اور بڑھتی ہوئی خلاء نظریہ کی تلاش شروع کر دیتی ہے تو کچھ ایسے نئے عناصر و قوتیں ابھر کر سامنے آ جاتی ہیں جن کی آئندہ کارروائی کے بارے میں اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے بلکہ اکثر ان سے فائدے کے بجائے نقصان ہی پہنچتا ہے۔

سنہ 1979ء میں روس کے افغانستان پر حملے نے ایک ایسی بے قاعدہ فوج کو پیدا کر دیا تھا جس کا ایجنڈا ان مقاصد سے بھی آگے نکل گیا جو ان کے حامیوں نے متعین کیا تھا اور جو آج بھی سنگین خطرات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ امریکا کہ 21 ویں صدی کی عراقی جنگ نے نہ صرف اس کے سیاسی و ادارہ جاتی ڈھانچوں کو کھوکھلا و خالی کر دیا بلکہ علاقائی طاقت بننے کی جدوجہد کی بھی شروعات کر دی تھی اور سنی و شیعہ فرقوں کے درمیان ایک ایسا جغرافیائی و سیاسی تنازع شروع کرا دیا تھا جو کہ کسی بھی طرح امریکا کے ارادوں سے میل نہیں کھاتا تھا۔

اس کے علاوہ یہ تنازع زیادہ تر کچھ ایسے عناصر و افواج کے ذریعہ کرائے گئے ہیں جو عملاً ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر تھے، جو انکو استعمال کر رہے تھے۔ انتہا پسند سنی ملیشیا آئی ایس آئی یا اسلامک اسٹیٹ آف عراق اور شام اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ ملیشیا موجودہ سرحدوں کو نہیں مانتی اور اسکا فوری نصب العین اس علاقہ پر اپنی حکمرانی قائم کرنا ہے، جو شام کے سنی اکثریت والے علاقے اور عراق کے شمالی کرد علاقے اور اسکے وسطی و جنوبی شیعہ اکثریتی علاقے کے درمیان میں واقع ہیں۔ اس علاقہ کو اپنے تسلط میں لینے کا ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اسے اس مقدس جنگ کیلئے اپنا اڈہ بنانا چاہتے ہیں، جو ’’اسامہ بن لادن‘‘ نے شروع کی تھی۔ اس ملیشیا کا یہ بھی ماننا ہے کہ القاعدہ اس جنگ کے تیئں اپنا عزم کھو چکا ہے۔

اس کے بے حد ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ سنہ 1979ء میں جبکہ ایرانی انقلاب نے علاقائی اسٹیٹس کو بگاڑ دیا تھا، پہلی بار شاید ایسا ہونے جا رہا ہے کہ امریکا کو بگاڑ دیا تھا پہلی بار شاید ایسا ہونے جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران جنگ کے میدان میں ایک دوسرے کے حلیف بن جائیں۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے اس معاملہ میں اوباما پر طنز بھی کرنا شروع کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ "جب کبھی بھی امریکا ان دہشت گرد گروپوں (جس سے ان کا مطلب آئی ایس آئی ایس ہے) کے خلاف کارروائی شروع کر دے گا، ایران اس میں تعاون فراہم کرنے پر غور کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس وقت جبکہ عراق جل رہا ہے اوباما کے لیے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو گا۔ ان کا موجودہ رد عمل 300 فوجی مشیر عراق روانہ کرنے اور آئی ایس آئی ایس کے خلاف فضائی حملے پر مشتمل ہے۔ امریکا کے سب سے بڑے حلیف برطانیہ نے بھی تہران میں اپنے مشن کو دوبارہ کھول دیا ہے۔ اپنی اعلیٰ ایس اے ایس کو بھی اس نے بغداد کے لیے روانہ کر دیا ہے۔

ایران وہاں پہلے ہی موجود ہے۔ ایران کی خصوصی قدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی اور انکے کم از کم 67 مشیروں کو، عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کو آئی ایس آئی ایس سے آزاد کرانے کی غرض سے عراقی فورسز کی تنظیم نو کا اہم چارج پہلے ہی دے دیا گیا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس سے لڑائی کا خاتمہ ہو جائے۔ سرکردہ شیعہ مذہبی رہنما آیت اللہ علی ال سیستانی نے اپنے بھائیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سنی ملیشیا سے ایک فیصؒہ کن جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

تاریخ کے آئینے ایک ٹیڑھی ترچھی مسکراہٹ کی عکاسی کر رہے ہیں۔ ایک مشترکہ دشمن امریکا کو اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ 1979ء میں فریم ورک ٹوٹ گیا تھا، اسے پھر سے بحال کیا جائے۔ اوباما اپنی افواج کی جنگ سے اکتائے ہوئے امریکا میں واپسی کے اس درجہ خواہاں تھے کہ انہوں نے اس بات کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا کہ وہ اپنے پیچھے ایک تیزی کے ساتھ تغیر پذیر صورتحال چھوڑنے جا رہے ہیں۔

ستمبر 2011ء میں انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ "جنگ کی لہر اب گھٹ رہی ہے" جبکہ اصل میں وہاں تیاریاں جاری تھیں۔ گذشتہ سال اگست میں ان کا ماننا تھا کہ القاعدہ نے راہ فراہ اختیار کر لی ہے اور اس کے بڑے حصہ کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ اس کی جگہ ایک اور اس سے بھی زیادہ خطرناک جانشین نے لے لی ہے۔ اوباما نے اس سال جنوری میں آئی ایس آئی ایس کے وجود کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ آپ باسکٹ بال کے ایک اسٹار محض HANKERS یونیفارم پہن کر ہی نہیں بن سکتے۔

اوباما نے القاعدہ کے معنی یعنی: اڈہ کو فراموش کر دیا تھا۔ یہ اڈہ ہی انقلابیوں کو جنم دیتا ہے اور انہیں ایسی نظریات بنیاد فراہم کرتا ہے جو نہ صرف انہیں ترغیب دیتی ہے بلکہ بے حد مہلک بھی بناتی ہے۔

یہ بے حد افسوس ناک بات ہے کہ کچھ ہندوستانی معصوم ورکرز غربت کے ہاتھوں پنجاب اور ہماچل سے ایک ایسے علاقے میں پہنچ گئے ہیں جو ان کے لیے ہر لحاظ سے اجنبی تھا اور اس کے باوجود کہ وہ کسی کی حمایت نہیں کر رہے تھے ، انہیں یرغمال بھی بنا لیا گیا ہے۔
موصل پر، زمینی و فضائی حملہ کے علاوہ اب کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اس سے مرکزی حکومت پر بھی ان لوگوں کو جلد از جلد وہاں سے واپس لانے کے سلسلے میں دباؤ میں اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن یہ کام آسان اس لیے نہیں ہو گا کیونکہ موصل کسی قابل شناخت حکام کے کنٹرول میں نہیں ہے، جن سے اس سلسلے میں رابطہ قائم کیا جا سکے۔

ایک بڑا خطرہ اور بھی ہے، اس زہریلی جنگ کے کچھ اثرات افغانستان اور پاکستان کے راستے سے جنوبی ایشیا کی جانب بھی بڑھ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا وقت ہے، جس میں ہمیں اپنے دشمنوں کی واضح طور پر نشاندہی کرنی ہو گی اور اپنے دوستوں کا انتخاب بھی دانش مندی سے کرنا ہو گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریہ سہارا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند