تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مہرے اب بساط نگل رہے ہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: منگل 25 شعبان 1435هـ - 24 جون 2014م KSA 08:32 - GMT 05:32
مہرے اب بساط نگل رہے ہیں

پنجابی محاورہ ہے ’’ ہتھیں لائی گنڈھ دندیں کھولنی پیندی اے ‘‘( ہاتھوں سے لگائی گرہ دانتوں سے کھولنی پڑتی ہے )۔

ابھی گیارہ برس پہلے کے اپریل کی ہی تو بات ہے جب بغداد کے ہر چوک پر صدام حسین کے مجسموں کے مسخ وزنی ٹکڑے پھیلے پڑے تھے۔ بموں پر فار صدام حسین ود لو لکھ کے طیاروں سے گرایا گیا تاکہ فاشسٹ عراق کے ملبے پر ایک جمہوری، روشن خیال، پرامن اور مہذب عراق تعمیر ہوسکے جس میں شیعہ، سنی اور کرد شانہ بشانہ خوف کے جنگل سے نکل کر حال کی جلی سیڑھیاں طے کرتے ہوئے چمکتے مستقبل میں چھلانگ لگا سکیں۔ امریکی وائسرائے ’’پال بریمر‘‘ نے صدامی فوج ہی توڑ دی تاکہ اس کی لاش پر ایک نئی، اعلیٰ تربیت یافتہ مستعد سپاہ کھڑی ہوسکے۔

صدام حسین کو ایک گڑھے میں سے نکال کر دانتوں کا طبی معائنہ ایسے کیا گیا جیسے کسی چڑیا گھر میں بیمار جانور کا میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے اور پھر اکتیس دسمبر 2004ء کو نیا سال شروع ہونے سے پہلے پہلے پھانسی پر جھلا دیا گیا۔

سب کو گمان تھا خس کم جہاں پاک۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ برائی کو برائی سے ختم کیا جائے تو برائی شکل بدل کر بھٹکی ہوئی روح بن جاتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ عراق ملک نہیں بلکہ تیزاب سے بھرا وہ جار ہے جو دھینگا مشتی میں ٹوٹ گیا تو آس پاس ہی بانجھ کر کے رکھ دے گا۔ مگر کیا کریں اس کہاوت کا کہ ’’ ہر برا کام بہترین نیت کے ساتھ کیا جاتا ہے‘‘۔ بغداد پر پہلا بم گرنے سے پہلے پہلے عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسی نے کہا تھا :’’ کیا کرنے والے ہو ؟ تم جہنم کا دروازہ کیوں کھولنا چاہ رہے ہو ‘‘۔ لیکن اس دنیا کے سب جارج بشوں، ٹونی بلئیروں، فہد بن عبدالعزیزوں، حسنی مبارکوں، ایریل شیرونوں کا ایمانِ کامل تھا کہ پہلے عراق اور پھر صدام کے ساتھ جو ہوا اس کے بعد خلیج ، مشرقِ وسطیٰ اور باقی دنیا زیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔

ہاں دنیا زیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔ اس کی گواہی اپریل 2003ء کے بعد سے مارے جانے والے دو لاکھ عراقیوں، ایک لاکھ ساٹھ ہزار شامیوں ، ایک لاکھ سے زائد افغانیوں اور 60,000 پاکستانیوں کی لاشیں دے رہی ہیں۔

فضا سے برسائی گئی مغربی تپِ دق کا مارا لیبیا، جمہوری بوٹوں تلے دب جانے والا مصر، گلا گھونٹ خاموشی کا استعارہ بحرین، زخمی تلوے چاٹتا یمن، زندہ درگور صومالیہ، برقی جھٹکوں کا عادی فلسطین، بوکو حرام کے حلال رضاکار، القاعدہ، طالبان اور دنیا بھر میں پھیلے سی آئی اے کے رینٹل ٹارچر سیل اور عالمی مواصلاتی ٹریفک کی بلا امتیاز جاسوسی اس نئی محفوظ تر دنیا کے سلطانی گواہ ہیں۔

پانچ کروڑ پناہ گزین محفوظ تر دنیا میں سر چھپانے کی سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔ اتنے پناہ گزین تو دوسری عالمی جنگ نے بھی پیدا نہیں کیے۔ اور یہ محفوظ تر دنیا مفت میں تھوڑی ہاتھ آئی۔ معمارِ اعظم امریکا کے 6 ٹریلین ڈالر اور ساڑھے چار ہزار فوجی تابوت تو صرف عراق کو مشرقِ وسطیٰ کا منارہِ جمہوریت بنانے کے منصوبے پر لگ گئے۔ اس خرچے میں اس جدید عراقی فوج کی تعمیر بھی شامل ہے جس نے پچھلے ایک ماہ میں ثابت کردیا کہ دشمن سامنے نہ ہو تو اس سے زیادہ جری سپاہ پورے خطے میں نہیں۔
اور اب دنیا اور محفوظ ہو جائے گی جب امریکا 650 بلین ڈالر کے خرچے سے تعمیر ہونے والے نئے اور جمہوری کرزئی گزیدہ افغانستان کو اگلے برس شکاری اور خرگوش کے ساتھ بیک وقت دوڑنے میں طاق افغان قیادت کے حوالے کر جائے گا۔ اس افغانستان کی بنیادوں میں اب تک ایک لاکھ سے زائد بے قیمت مقامیوں کے ساتھ ساتھ 3500 امریکی فوجیوں اور سویلین کنٹریکٹرز کا قیمتی خون بھی شامل ہو چکا ہے۔ ملحد نجیب اللہ تو سوویت یونین کی رخصتی کے بعد بھی تین ساڑھے تین برس قبائلی اسلام کے تھپیڑے سہار گیا۔ موجودہ کابلی ڈھانچہ تو دو رکعت کی مار بھی نہیں لگ رہا۔

اس دنیا میں ہر شے کا علاج ہے مگر وہم اور اپنے کیے کا کوئی علاج نہیں۔ سوویت ریچھ کو افغانستان میں گھیر کر مارنے کی انویسٹمنٹ کا خالص منافع مع سود الجزائر سے چین تک پھیلے ہوئے افغان اسکول آف جہاد کے گریجویٹس کی شکل میں قسط وار وصول ہورہا ہے۔ صدام حسین سے عراق کو پاک کرنے کا نیٹ پرافٹ دولتِ اسلامی عراق و شام ( داعش ) کی شکل میں تمام سرمایہ کاروں میں منصفانہ طور پر بٹنا شروع ہو گیا ہے۔

بشار الاسد سے شام کے وجود کو پاک کرنے کی مہم پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے خلیجی ریاستوں، ترکی، امریکا اور ہمنواؤں نے چار برس پہلے جو ہولڈنگ کمپنی قائم کی تھی، اس میں سے امریکا اور یورپ نے تو اپنے شئیرز سعودی عرب، قطر اور کویت وغیرہ کو بیچ دیے ہیں۔ کیونکہ مغربیوں کو اچانک سے احساس ہو گیا کہ وہ بھیڑئیے کی قیمت پر دراصل تیندوے پر رقم لگا رہے ہیں۔ اس کمپنی نے بشارالاسد کی ظالمانہ دنیا ڈھانے کے لیے جو توپچی تیار کیے اب ان کی نالیں اپنے ہی ہم نظریہ پشت پناہوں کی طرف مڑ رہی ہیں۔ اور یہ سرمایہ کار رفتہ رفتہ خود کو ایک ایسی بند گلی میں پا رہے ہیں جس کے دوسرے سرے پر سوائے کنفیوژن کی دھند اور افراتفری کی گہری کھائیوں کے کچھ بھی تو نہیں۔

اگر اب بھی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو ذرا اس شوقین کی جگہ خود کو رکھ کے دیکھئے جس نے بڑے چاؤ سے کوبرا پالا اور ایک صبح پتہ چلا کہ کوبرے کا پنجرہ خالی ہے۔ یہ خوف ہی اتنا خوفناک ہے کہ بڑے بڑوں کی اناؤں کا سانس حلق میں اٹک گیا ہے۔ مثال کے طور پر دیکھئے امریکا اور ایران کی تازہ پینگیں اور سعودیوں کا عالمِ گھبراہٹ میں گندھا ٹامک ٹوئیانہ احساسِ تنہائی۔
یہ دنیا نہ تو خطِ مستقیم پر بنائی گئی ہے نہ ہی خطِ منحنی پر ڈیزائن ہوئی ہے۔ قدرت نے اسے دائرے کی شکل میں ایک نازک توازن پر استوار رکھا ہوا ہے اور اس گول کارخانے میں کوئی شے نکمی نہیں۔ کیڑے مکوڑے زمین کے نقصان دہ اجزا پر زندہ ہیں، پرندے کیڑے مکوڑوں پر زندہ ہیں، جانور پرندوں پر زندہ ہیں، انسان جانوروں پر زندہ ہے اور گدھ لاشوں پر زندہ ہے۔ اسی لیے یہ دنیا آج بھی تمام تر مجرمانہ بے اعتدالیوں کے باوصف اتنی صاف اور ترتیب میں دکھائی پڑتی ہے۔اب آپ اس حیاتیاتی دائرے میں سے کسی ایک کردار کو نکال دیں۔ بقا کی پوری عمارت رفتہ رفتہ ڈھیتی چلی جائے گی۔

شطرنج کا کھیل اور اس کے قوانین مشرقی ہندوستان میں مرتب کیے گئے۔ دو ہزار برس بعد ان قوانین میں مغرب نے ردوبدل کیا اور پچھلے دو سو برس سے بین الاقوامی شطرنج مغربی اصولوں کے تحت ہی کھیلی جا رہی ہے۔ روئے زمین کی بساط پر دو سو پانچ خانے ہیں۔ کسی خانے میں پیادہ بیٹھا ہے تو کسی میں گھوڑا، کسی میں وزیر، کسی میں رخ۔ ان میں سے ایک بھی مہرہ دوسرے کھلاڑی سے آنکھ بچا کر اٹھا لیا جائے تو کھیل بگڑ جاتا ہے۔ اور کھیل 1980ء کے عشرے میں افغانستان میں بیرونی قوتوں کی بے ایمانہ مداخلت کے بعد سے بگڑنا شروع ہوگیا۔ بے جان مہروں میں جان پڑتی چلی گئی اور پھر وہ کھلاڑیوں کے ہاتھ سے نکلنے شروع ہوگئے۔ پہلے تو انھوں نے دیگر مہروں کو کھانے کی کوشش کی اور اب بساط کو ہی نگلنا شروع کر دیا ہے۔ مشاق کھلاڑی سر پکڑے بیٹھے ہیں کہ بساط تو گئی بھاڑ میں خود کو کیسے بچائیں۔

اور ہاں پہلے چودہ سو سال پرانا شیعہ سنی تنازعہ تو کھلے میدان میں طے ہوجائے۔ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے تو تا قیامت وقت ہی وقت ہے۔

[العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں]
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند