تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نیو یارک پولیس بمقابلہ ہماری پولیس
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 26 شعبان 1435هـ - 25 جون 2014م KSA 11:02 - GMT 08:02
نیو یارک پولیس بمقابلہ ہماری پولیس

ادھر پاکستانی نژاد کینیڈین شہری ڈاکٹر طاہر القادری ٹورنٹو کینیڈا سے 23 جون کو پاکستان پہنچ کر غیرملکی ایئر لائن، پاکستانی سول ایوی ایشن، پنجاب پولیس اور نواز شریف حکومت کے علاوہ اپنے ڈانڈا بردار حامیوں، پنڈی اسلام آباد اور لاہور کے عام شہریوں کے لئے پریشان کن مسائل پیدا کرنے میں مصروف تھے تو ادھر ان کے اس عمل کے ردعمل میں ٹورنٹو کے کچھ پاکستانی نژاد کینیڈین شہری علامہ طاہر القادری کے خلاف کینیڈین حکام اور عدالتوں میں مختلف حوالوں سے درخواستیں دائر کرنے کی تیاریاں کر چکے ہیں۔ پاکستانی نژاد کینیڈین شہری اور فری لانس صحافی محسن عباس نے بتایا ہے کہ وہ کینیڈا امیگریشن، کینیڈا بارڈر سیکورٹی ایجنسی شہریت اور محکمہ خارجہ کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں میں درخواستیں دائر کرنےکی تمام تیاریاں مکمل کر چکے اور اگلے چند دنوں میں یہ تمام درخواستیں متعلقہ محکموں میں دائر ہوجائیں گی. محسن عباس کا کہنا ہے کہ کینیڈین شہری ڈاکٹر طاہر القادری کی ایجی ٹیشن کی سیاست اور کینیڈین طرز کے پارلیمانی جمہوری نظام کو تباہ کر کے انقلاب لانے اور تمام معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنے کے آمرانہ طرز کے اعلانات کینیڈا کی عالمی امیج اور جمہوری طرز کو بد نام کر رہے ہیں۔

ان کی سرگرمیوں کی تفصیل کے ساتھ بھی ہر جگہ کینیڈا کا نام لیا جارہا ہے اور کینیڈا سے باہر جاکر پارلیمانی سسٹم کو تشدد اور خلاف ورزی کر کے تباہ کرنے کے اعلانات اور نعرے عالمی سطح پر کینیڈا کے لئے شرمندگی اور ندامت کا باعث بن رہے ہیں بلکہ خود کینیڈا کی پاکستانی کمیونٹی میں ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم کا خطرہ بھی پیدا کردیا ہے۔

محسن عباس نے تو فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت بھی علامہ طاہر القادری کی کینیڈا آمد، قیام، امیگریشن اور شہریت کے حصول کی تفصیلات بھی حاصل کرنے کی درخواست دائر کررہے ہیں۔ وہ اپنے موقف کی حمایت میں علامہ طاہر القادری کے تازہ بیانات، سوشل میڈیا میں ان کے بارے میں تنقید کے طوفان اور بہت کچھ پیش کررہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کینیڈا اور امریکہ میں علامہ طاہر القادری کے بعض معتبر عقیدت مند بھی علامہ کے تازہ بیانات اور طریقہ احتجاج پر ناراض ہیں اور وہ بھی تنقید اور انکشافات کے ساتھ لب کشائی کرنے لگے ہیں۔ علامہ کا یہ بیان کہ وہ کینیڈا سے سب کچھ بلکہ موزے تک سمیٹ کر پاکستان لے آئے ہیں جبکہ بعض راز داروں کا کہنا ہے کہ ابھی کئی سوٹ کیس ٹورنٹو میں باقی ہیں اور پھر جائیداد اور اثاثوں کی پیاروں کے نام منتقلی اور ٹھکانے لگانے، اپنی کینیڈین شہریت برقرار رکھنے اور دیگر امور وسائل کی تفصیلات علیحدہ ہیں۔ دیکھیں جمہوری پارلیمانی اور پبلک ریکارڈ کے نظام والے ملک کینیڈا کے پاکستانی کینیڈینز کو یہ تمام تفصیلات حاصل کرنے میں کتنی کامیابی ہوتی ہے۔

ان پاکستانی کینیڈینز کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانی کمیونٹی اور ان کے بچوں کو مسائل و مشکلات اور مزید منفی امیج سے بچانا اور نئے وطن کینیڈا کی عالمی شہرت کو بچانا چاہتے ہیں جو طاہر القادری کے عمل سے پیدا ہورہی ہے ڈاکٹر طاہر القادری نے بغیر کسی ’’روڈ میپ‘‘ کے انقلاب لانے اور پھر تمام امور کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کا جو آمرانہ اعلان کیا ہے وہ تو کینیڈا اور اس کے پارلیمانی نظام کو بھی تباہ کرنے اور خلافت راشدہ قائم کرنے کا اعلان ہے جبکہ اعلیٰ سیکورٹی اور بلٹ پروف کاروں میں محافظوں کے جھرمٹ میں سفر خلافت راشدہ سے کہیں بھی میل نہیں کھاتا۔ کینیڈا کے بعض پاکستانیوں کا یہ رد عمل منہاج القرآن ماڈل ٹائون میں 17 جون کے تصادم، اموات، تباہی اور المناک ماحول اور پھر 23جون کو اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں پیدا ہونے والے تشویشناک صورت حال کی شکل میں جو کچھ سامنے آیا ہے اس کا ردعمل ہے۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل پنجاب پولیس نے منہاج القرآن ماڈل ٹائون پر اپنے ہی شہریوں کے ساتھ سنگدلانہ سلوک کیا ہے وہ پورا رمضان، عیدالفطر بلکہ عیدالاضحیٰ تک انتہائی منفی اثرات کے ساتھ یاد رہے گا اسی طرح علامہ کے ڈنڈا بردار حامیوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد ایئرپورٹ کے علاقوں میں پولیس کے ساتھ 23جون کی جو سلوک کیا ہے وہ بھی قابل تعزیر اور قابل مذمت ہے۔

اس کے مقابلے میں مہذب، مضبوط اور جمہوری معاشرے میں پولیس اپنے شہریوں سے کس طرح سلوک کرتی ہے اس بارے میں 17 جون کے ماڈل ٹائون سانحہ کے اگلے روز 18 جون کو نیو یارک پولیس کے ہاتھوں تازہ ذاتی مشاہدہ کچھ یوں ہے۔ دو ہفتے قبل نیو یارک کے نئے پولیس کمشنر کی جانب سے جاری کردہ دعوت ناموں کے تحت 18 جون کو نیو یارک پولیس کے ہیڈ کوارٹر پلازہ میں ماہ رمضان المبارک کے خیر مقدم کے لئے مساجد کے اماموں اور مسلم کمیونٹی کے قائدین کو ’’سالانہ قبل از رمضان‘‘ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کئی سو مسلمان پولیس آفیسر بھی یونیفارم پہن کر شریک ہوئے۔ نئے پولیس کمشنر ولیم بریسٹن نے مسلم اقلیتی کمیونٹی کو رمضان کی مبارکباد اور دوران رمضان پولیس کو غیر معمولی خدمات، تحفظ، مساجد کے سامنے ڈبل پارکنگ اور دیگر سہولتوں کی یقین دہانی دلاتے ہوئے اسلام کو مقدس و محترم مذہب اور انسانی سیکورٹی کو اہمیت دینے والا مذہب قرار دیا۔ نیو یارک پولیس کے نوجوان امام لیفٹننٹ خالد لطیف نے تلاوت اور انگریزی ترجمہ سے آغاز کیا اور امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی اور شہری آزادیوں کے شعبے کی سربراہ خاتون میگن میک نے بھی خطاب کیا اور پھر کمشنر بریسٹن نے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا اس دوران کھڑے ہونے والے بعض حضرات نے یا اپنے علاقہ کی پولیس کے افسروں کے قصیدے پڑھے یا پھر غصہ اور احتجاج کا اظہار کیا اور بامقصد اور متوازن انداز میں مسائل کی نشاندہی اور گفتگو کی بڑی کمی رہی۔

سبکدوش ہونے والے پولیس کمشنر ریمنڈ لیکی کے بارے میں انکشاف ہوا تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کی مساجد اور کاروبار کی خفیہ نگرانی کے لئے خصوصی ٹاسک فورس بنا کر نگرانی کی تھی جسے بعض مسلمان لیڈروں نے مذہبی امتیاز کی پالیسی قرار دے کر احتجاج کیا تھا۔ نیو یارک کے نئے لبرل میٹر دبلازیو نے انتخابی وعدہ پر عمل کرتے ہوئے نئے پولیس کمشنر کی تقرری کے ساتھ ہی خفیہ نگرانی کی ٹاسک فورس کو بھی ختم کرنے پر عمل کیا ہے۔ تقریب کے اختتام کے بعد نئے پولیس کمشنر ولیم بریسٹن کے پاس جاکر میں نے سوال کیا کہ اس سال نیویارک کی مسلم کمیونٹی کو رمضان کے اغٓاز پر ایسا کیا تحفہ دیں گے جو آپ کے پیشرو (ریمنڈ لیکی) مسلمانوں کو نہیں دے سکے؟ کمشنر میرے سوال کی تہہ تک پہنچ گئے اور کہنے لگے کہ میں امن و امان، ہم آہٓنگی، دوستی کو فروغ اور جرائم کے خاتمہ میں مسلمان کمیونٹی کی شراکت چاہتا ہوں ہم کو مل کر اس شہر میں بھائی چارہ کو فروغ اور جرائم کو روکنا ہے تمام شہری بلا امتیاز یکساں حیثیت اور آزادی کے مالک ہیں پھر وہ اپنے بیان کی تشریح میں چلے گئے۔ میری معلومات کے مطابق انسداد دہشت گردی، کمیونٹی افیئرز، جرائم کی تحقیقات اور نیویارک پولیس کے مختلف شعبوں میں تین سو کے قریب مسلمان پولیس آفیسرز خدمات انجام دے رہے ہیں اور نئے پولیس کمشنر مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کے بجائے شراکت کا پیغام دے رے ہیں۔


امریکہ کے مسلمان ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد تلاشیوں، نگرانی، کشیدگی اور زیادتیوں کے ایک دور سے گزرے ہیں لیکن ان تمام سالوں میں بھی ایک بھی ایسا عمل اور منظر کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملا جو 17 جون کو ماڈل ٹائون لاہور میں پنجاب پولیس نے دنیا کے سامنے پیش کیا یا پھر علامہ کے حامیوں نے 23 جون کو اسلام آباد ایئرپورٹ کے اردگرد پیش کیا۔ سانحہ ماڈل ٹائون کو ٹی وی پر دیکھنے کے دوسرے روز نیو یارک کے پولیس کمشنر کی رمضان خیرمقدم کانفرنس نے جہاں ایک خوشگوار تاثر فراہم کیا وہاں آبائی وطنٓ پاکستان کی پولیس اور ایجی ٹیشن کی سیاست کرنے والے قائدین کے بارے میں شرمندگی، ندامت اور احتجاج کے جذبات کو بھی ابھارا۔ صبر، برداشت اور رحمتوں کا پیغام لئے رمضان مبارک۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند