تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مودی حکومت کا پہلا مہینہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 27 شعبان 1435هـ - 26 جون 2014م KSA 09:04 - GMT 06:04
مودی حکومت کا پہلا مہینہ

مودی حکومت کے قیام کو ایک مہینہ ہو چکا ہے۔ یہ مدت کسی بھی حکومت کی کارکردگی پر تبصرے کے لئے مختصر لیکن اس کی سمت متعین کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے اب تک جس اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے وہ عوام کی امیدوں کے خلاف ہیں اور مودی کے ڈیولپمنٹ ایجنڈے اور "سب کا ساتھ سب کا وکاس" جیسے نعروں سے میل نہیں کھاتے ہیں۔

مسلمانوں کو آنے والے اچھے دنوں کا تجربہ انتخابی مہم کے دوران ہی ہو گیا تھا جب مودی مخالفین کو پاکستان بھیجنے کی بات کی گئی اور اعظم گڑھ کو دہشت گردو کا اڈہ قرار دیا گیا۔ دوسرا جھٹکا اس وقت لگا جب مظفر نگر فساد کے ملزم سنجیو سنگھ بالیان کو وزیر مملکت بنایا گیا۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ سیاست کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے والے مودی کے 282 ممبران، قتل اقدام قتل، اغوا اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں ماخوذ ہیں۔ حکومت قائم ہوتے ہی آرٹیکل 370 کی منسوخی اور مذہب کے نام پر ریزرویشن کی مخالفت کا معاملہ چھیڑ کر بھی ملک کی اقلیتوں کو فکر میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں تمھا چند دنوں بعد یونیفارم سول کوڈ اور رام مندر کا شوشہ بھی چھوڑا گیا۔ اگر ان معاملات کو نہ اٹھایا گیا ہوتا تو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ کے خطاب اور اس پر ہوئی بحث پر مودی کے جواب سے مسلمانوں میں اچھا پیغام جاتا۔

صدارتی خطاب میں نزاعی امور سے احتراز اور مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں مساوی حقوق دینے کی بات کہی گئی اور فرقہ وارانہ تشدد سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لئے ریاستوں سے صلاح و مشورے کے بعد جامع منصوبہ ترتیب دینے کا اشارہ دیا گیا۔ مودی نے مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنے کا یقین دلایا، انہیں ڈر اور خوف کے ماحول سے باہر نکلنے کی تلقین کی اور پہلی بار بدایوں آبروریزی سانحہ اور پونے میں محسن صادق شیخ کے قتل پر چپی توڑی لیکن مسلمانوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کا باز آبادکاری پیکج بڑھانے کا اعلان کیا لیکن گھروں سے اجاڑے گئے فساد متاثرین کے لئے کچھ نہیں کہا۔ مطلب صاف ہے کہ وہ سابق حکومتوں کی طرح اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو زبانی جمع خرچ پر ٹرخاتے رہیں گے اور ان کے چیلے چپاٹے وقتاً فوقتا نزاعی امور اٹھا کر انہیں ہراساں کرتے رہیں گے۔ فرقہ وارانہ تشدد پر بولنے کا اختیار مودی کو یوں بھی نہیں کہ خود ان کا دامن 2002ء کے بدترین فسادات سے داغدار ہے۔ ٹرائل کورٹ سے کلین چٹ ملنے کے بعد انہوں نے اپنے بلاگ پر مگر مچھ کے آنسو ضرور بہائے لیکن آج تک اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب نہیں دیا اور اپنے دفاع کی ذمہ داری اپنے حامیوں پر چھوڑ دی جنہوں نے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم اور ٹرائل کورٹ سے ملنے والی کلین چٹ کو مودی کی بے گناہی کی سند قرار دیا جو قطعی غلط ہے۔

معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کی خامیوں اور فسادات کے لئے مودی کو ذمہ دار ٹھہرانے والے الزامات اور ثبوتوں کی جانچ ابھی باقی ہے۔ خطرہ یہ بھی ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف مجوزہ منصوبے کی آڑ میں حکومت 9 سال سے التواء میں پڑے فساد مخالف بل کو ہمیشہ کے لئے سرد خانے میں ڈال دے گی۔ سنہ 2005ء میں پہلی بار پیش کیا جانے والا بل متعدد ترمیمات کے بعد 2009ء میں اور پھر سال رواں میں 5 فروری کو تیسری بار راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا جسے زبردست مخالفت کی بناء پر حسب سابق واپس لے لیا گیا۔ بل کا مقصد ملک کو گجرات کے 2002ء جیسے حالات سے بچانا اور فسادات روکنے میں ناکامی پر سرکاری افسروں، پولیس اور حفاظتی ایجنسیوں کو جوابدہ بنانا تھا۔ بل کی مخالفت کرنے والوں میں مودی بھی پیش پیش تھے اس لئے اس کے احیاء کی توقع عبث ہو گی۔ سچ یہ ہے کہ مسلمان مودی کے ڈیولپمنٹ ایجنڈے کا حصہ پہلے تھے نہ اب ہیں اور فسادات کیلئے جب تک ریاستی مشینری کو جوابدہ نہیں بنایا جاتا ان سے نجات ممکن نہ ہوگی۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے جس کا تعلق مسلمانوں سے تھا۔ تصویر کا دوسرا رخ وہ حصہ ہے جس کی ضرب عوام، وفاقی نظام اور اظہار رائے کی آزادی پر پڑی۔ تیرہ جون کو مودی نے اعلان کیا کہ معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے عوام کو کڑوی اور کسیلی دوا پینے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اس کی پہلی خوراک 20 جون کو دی گئی جب ریل بجٹ سے قبل ہی مسافر کرائے میں
2.14 فی صد اور مال بھاڑے میں 5.6 فی صد اضافے کے اعلان کو خسارے میں چل رہی ریلویز کے لئے ضروری بتایا گیا۔ یہ اضافہ اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے جس کا اثر سماج اور زندگی کے ہر شعبے پر پڑے گا۔ بی جے پی کی بے مثال کامیابی میں اہم رول کمر توڑ مہنگائی کا بھی تھا جس کا پورا فائدہ مودی نے اٹھایا اور اپنی چرب زبانی اور زور خطابت سے یہ تاثر دیا کہ ان کے اقتدار میں آتے ہی ملک کی کایا پلٹ جائے گی۔ مہنگائی سے راحت ملے گی اور ہر طرف ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔ ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔ کرائے میں اضافے سے ریل کے ذریعے پہنچائی جانے والے تمام اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھیں گی۔ مہنگائی میں اضافے کا دوسرا سبب داخلی اور خارجی ہے۔ اگر بارش معمول سے بہت کم ہوئی تو ملک قحط سالی کا شکار ہو جائے گا اور عراق کے حالات سے پیٹرول، ڈیزل ، مٹی کا تیل اور رسوئی گیس کے دام بڑھیں گے اس لئے مستقبل قریب میں مہنگائی سے نجات کے آثار معدوم ہیں۔

ہمیں یہ بھی اندیشہ ہے کہ وزیر خزانہ کی طرف سے پیش کیا جانے والا بجٹ کڑوی دوا کی دوسری خوراک ثابت نہ ہو۔ ریل کرائے میں اضافے پر بی جے پی سمیت تمام پارٹیوں نے ملک گیر احتجاج کیا ہے۔ ممبئی میں اس کا خاص اثر دیکھنے کو ملا جہاں کی لوکل ٹرینیں شہر کی لائف لائن سمجھی جاتی ہیں۔ مہاراشٹر میں اکتوبر میں الیکشن ہونے والے ہیں جس کے پیش نظر ایسے اشارے ملے ہیں کہ حکومت سیزن ٹکٹ والوں کے لئے مرحلہ وار اضافے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔حکومت کے دوسرے اقدامات جو نزاع کا سبب بنے سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر ہندی کے استعمال اور انٹیلی جینس بیورو رپورٹ کی بنیاد پر این جی اوز کی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق ہیں۔ ہندی کے معاملے میں جنوبی ہند کی ریاستوں کے احتجاج سے حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی لیکن غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں وہ ان این جی اوز کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو فنڈ کا استعمال مبینہ طور پر سرکاری پروجیکٹوں کے خلاف احتجاج کے لئے کرتی ہیں۔

مودی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اختلاف رائے اور تنقید کو برداشت نہیں کرتے، اس کا تلخ تجربہ کیرالا کے ان 18 طلباء کو ہوا جنہوں نے کالج میگزین میں مودی کا مذاق اڑایا تھا۔ پولیس نے گرفتار کر کے ان کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ اگر مودی مداخلت کرتے ہوئے کیس خارج کرنے کا حکم دیتے تو اچھی شروعات ہوتی لیکن ان کی رعونت اور نخوت پسندی آڑے آئی وہ بھول گئے کہ وہ اب سو ارب ہندوستانیوں کے وزیر اعظم ہیں جنہیں آئین کی رو سے اظہار کی آزادی کا حق حاصل ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ "انقلاب"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند