تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق میں عوامی مزاحمت اور ہندوستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 28 شعبان 1435هـ - 27 جون 2014م KSA 10:00 - GMT 07:00
عراق میں عوامی مزاحمت اور ہندوستان

ابھی تک تو یہی اطلاع تھی کہ 40 ہندوستانیوں کو عراق کے جنگجوؤں نے اغوا کر لیا ہے جن میں سے ایک کو فرار ہونے میں کامیابی حاصل ہوئی اور 39 مغویہ افراد کی رہائی کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے مگر اب یہ اطلاع بھی موصول ہو رہی ہے کہ عراق میں کام کرنے والے ہندوستانی ملازموں اور مزدوروں کے پاسپورٹ کمپنیوں یا کم پر رکھنے والے افراد نے چھین لئے ہیں تاکہ وہ ہندوستان واپس نہ جا سکیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نوری المالکی نے اپنے عوام پر شدید ظلم ڈھا کر ایک طبقے کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کرنے کے علاوہ عراقیوں کے ایک دوسرے طبقے یا ملازمت دینے والوں کو اتنا بے خوف کر دیا ہے کہ وہ اپنے ملازموں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے لگے ہیں۔ نوری المالکی کے مظالم کی تصدیک ان ملکوں اور حلقوں سے بھی ہو رہی ہے جو جنگجوؤں کے ہم نوا نہیں ہیں مثلا مقتدیٰ الصدر نے تو کئی مہینے پہلے ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی اپنی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ نوری المالکی حکومت نا اہل ہے اور اب بشمول آیت اللہ سیستانی دوسرے مذہبی علماء نے بھی ان پر تنقید کی ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے عراق کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے کا اعلان کر کے نوری المالکی حکومت کی نا اہلی کو اجاگر کیا ہے۔ ابتداء میں یہ بھی خبر آئی تھی کہ ایران اور امریکہ میں اتفاق رائے ہو گیا ہے اور دونوں مل کر مسلح مزاحمت کرنے والوں کو روکیں گے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہوا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکیٹری جنرل کے بیان اور امریکہ کی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ سے ظاہر ہو گیا ہے کہ نوری المالکی ایک عرصے سے ظؒم کرتے رہی ہیں جس کا نتیجہ وہ عوامی مزاحمت ہے جو ان کی حکومت کے خلاف کی جا رہی ہے اور اس مزاحمت میں بعث پارٹی کے رضا کار سب سے آگے ہیں۔ صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنانے والے جج کا قتل اس کی دلیل ہے۔ کرد علاقے کو 1990ء سے خود مختاری حاصل ہے۔ اس کے صدر مسعود برزانی نے جان کیری سے نوری المالکی کی نا اہلی کی شکایت کے ساتھ ان کے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کرد فوجیوں نے کرکک پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ یہ معاملہ اس طرح مسلکی یا فرقہ وارانہ نہیں ہے جیسا ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس مشکل گھڑی میں ہر ہندوستانی کی بس یہی دعا ہے کہ جو ہندوستانی زائرین ، ملازمین ، نرسیں یا دوسرے لوگ جو عراق میں پھنسے ہوئے ہیں وہ سلامتی کے ساتھ ہندوستان واپس آجائیں۔ ہندوستان کی حکومت ہر اس حکومت اور عالمی ادارے سے رابطہ کر رہی ہے جو اغواء کئے ہوئے افراد کی رہائی میں معاون ہو سکتے ہیں مگر اس دوران شائع ہونے والی ایک خبر (ایشین ایج، ممبئی 23 جون 2014ء) سے یہ بھ یمعلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی نئی حکومت نے عرب حکومتوں کو ایک منفی تاثر دیا ہے جس سے عرب اور ہندوستان کے تعلقات پر شکوک و شبہات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔

پچھلے دنوں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ ہند نے حکومت کی منظور شدہ پالیسیوں کے بارے میں جا باتیں کہی ہیں ان میں ہندوستان اور عرب ملکوں کے صدیوں پرانے تعلقات کا ذکر نہیں تھا۔ اس سے پہلے ہر حکومت کی خارجہ پالیسی کے ضمن میں عرب ملکوں سے ہندوستان کے تعلقات کا ذکر صدر جمہوریہ ہند کے خطبے میں ہوا کرتا تھا۔ ہندوستان اور اسرائیل سے وزیر اعظم مودی کے دور میں جو روابط بڑھے ہیں اس سے بھی ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا سراغ ملتا ہے اور اس تبدیلی کو عربوں نے محسوس کیا ہے۔ نام لئے بغیر اس خبر میں ایک اہم عرب ملک کے سفیر کا یہ بیان دہرایا گیا ہے کہ صدر جمہوریہ ہند کے خطبے مین عربوں کا ذکر نہ ہونے سے وہ ششدر رہ گئے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ ہندوستان کی تیل اور گیس کی بیشتر ضرورت عالم عرب خاص طور پر خلیجی ممالک، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، عمان اور قطر سے پوری کی جاتی ہے۔ ان ملکوں میں ہندوستان کی بہت بڑی تعداد برسر روزگار ہے۔ دوسرے عرب ممالک میں بھی تجارت یا ملازمت کے مقصد سے ہندوستانی آباد ہیں۔

ورلڈ بینک نے Migration and Development کا حال ہی میں جو خلاصہ پیش کیا ہے اس کے مطابق 2013ء میں عرب ملکوں میں کام کرنے والوں نے ہندوستان میں جو رقم بھیجی وہ 30 بلین ڈالر تھی جبکہ اسی دوران دنیا بھر کے ملکوں میں رہنے اور کام کرنے والے ہندوستانیوں کی بھیجی ہوئی کل رقم 70 بلین ڈالر تھی۔ خلیج عرب کے ملکوں سے ہندوستان بھیجی جانے والی رقم معمولی نہیں ہے۔ اس سے بیلنس آف پیمئنٹ کو درست رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ہندوستان اور عربوں میں صدیوں پرانے ثقافتی تعلقات ہیں جن کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ سیکوریٹی کے معاملات میں بھی ہندوستان خلیج عرب کے ملکوں سے تعاون حاصل کرتا رہا ہے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ سعودی عرب نے پاکستان میں تربیت حاصل کرنے اور پاکستانی پاسپورٹ پر سعودی عرب میں قیام کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ہندوستان کے حوالے کیا تھا۔ تجارت میں ہندوستان اور خلیج عرب کے ممالک کو خصوصی اہمیت اور حیثیت حاصل ہے ۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ سونا متحدہ عرب امارات سے درآمد کیا جاتا ہے مگر نریندر مودی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی اپنی جو ترجیحات طے کی ہیں اور جن کی جھلک صدر جمہوریہ ہند کے خطبے میں ہے ان میں عربوں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ اس کو عرب ممالک ہی نہین دوسرے ممالک بھی محسوس کر رہے ہیں۔ عرب سفارت کاروں اور ان کے ملک کے لوگوں کو تو اس خطبے سے کافی مایوسی ہوئی ہے۔

خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرب سفیروں نے ہندوستانی حکومت سے دریافت کرنے کا فیصؒہ کیا ہے کہ کیا مغربی ایشیا کے ملکوں سے متعلق اس کی پالیسی بدل گئی ہے؟ ان حالات میں ہندوستان کی پہلی ترجیح تو یہی ہونی چاہیے کہ وہ اغواء کئے ہوئے یا کسی اور مشکل میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو عراق سے ہندوستان واپس لائے مگر وہ سوالات جو ایک عرب ملک کے سفیر نے اٹھائے ہیں وہ بھی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ بی جے پی ، آر ایس ایس کی عربوں سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ان کے معاونین عربوں سے فائدہ اٹھانے میں سے سب آگے ہیں مگر عربوں کی تباہی اور بد نامی پر سب سے زیادہ خوش بھی یہی لوگ عراق کی موجودہ عوامی مزاحمت کو بھی اس رنگ میں پیش کر رہے ہیں کہ فرقہ وارانہ کشمکش دوسرے ملکوں میں بھی پیدا ہو۔ یہی دہرا طرز عمل عرب ہند تعلقات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

اس پس منظر میں عراق کے بارے میں صحیح موقف یہی ہو سکتا ہے کہ عراقی عوام اپنے مقدر کا فیصلہ خود کریں۔ انکی حکومت امریکہ اور اسرائیل کے تابع ہو نہ کسی اور ملک کے، اور بشمول دیگر عرب ممالک کے عراق سے بھی ہندوستان کے صدیوں پرانے تعلقات پر شکوک و شبہات کے جو بادل منڈلانے لگے ہیں وہ دور ہوں۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب نوری المالکی اقتدار سے باہر ہوں اور عراق میں ایسی نمائندہ اور ذمہ دار حکومت تشکیل پائے جس میں ہر طبقے، فرقے اور علاقے کے لوگوں کی منصفانہ نمائندگی ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند