تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فوجی آپریشن، اتحادی امریکہ اور پاکستانی امریکی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 4 رجب 1441هـ - 28 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 4 رمضان 1435هـ - 2 جولائی 2014م KSA 08:44 - GMT 05:44
فوجی آپریشن، اتحادی امریکہ اور پاکستانی امریکی؟

امریکہ میں پاکستان کے موجودہ سفیر جلیل عباس جیلانی سیکریٹری خارجہ بھی رہ چکے ہیں اور ماضی میں واشنگٹن میں تعیناتی کے باعث امریکی نظام سے واقفیت کے علاوہ نیو یارک اور واشنگٹن کے ماحول اور راہداریوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ویسے بھی پریکٹیکل اور سادہ مزاج ہونے کے باعث ڈپلومیٹک کاروں اور سفارتی پروٹوکول میں الجھے بغیر نیویارک اور واشنگٹن کے درمیان تین گھنٹے کا سفر ٹرین سے بھی کر لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان سرکار کی کفایت شعاری اور محدود بجٹ کے اس دور میں ان کے ماتحت نیو یارک کے پاکستانی قونصلیٹ کے صرف ایک افسر کے زیر استعمال تین سرکاری گاڑیاں ہیں اور سرکاری مہر سے دعوت نامے جاری کر کے سرکاری فنڈ سے ایک ایسا ڈنر منعقد کیا ہے کہ جس سے کمیونٹی کے متعدد لیڈروں کو بجا طور پر شکایات پیدا ہوئی ہیں حالانکہ اس بلا جواز ڈنر پر خرچ ہونے والی یہ ڈالرز کی رقم شمالی وزیرستان کے متاثرہ پاکستانی خاندانوں کیلئے کام آتی تو سب کو خوشی ہوتی۔

بہرحال سفیر جلیل عباس جیلانی سے نیو یارک کے پاکستانی قونصلیٹ میں پریس کانفرنس سے پہلے اور بعد میں بھی گفتگو کا موقع ملا تو پاک، امریکہ تعلقات کی موجودہ کیفیت کے بارے میں سوالات کا موقع ملا۔ سفیر موصوف خاصے مطئمن نظر آئے کہنے لگے کہ پاک، امریکہ تعلقات کی صورت حال اب خاصی بہتر ہے اور کشیدگی کے ماحول سے نکل آئی ہے۔ اوباما ایڈمنسٹریشن کا رویہ اب بہتر ہے شمالی وزیرستان میں ہماری افواج کے آپریشن کے بارے میں اوباما حکومت کو بہتر انڈر اسٹینڈنگ ہے۔ البتہ انہوں نے یہ تصدیق بھی کی کہ امریکی کانگریس کے محاذ پر پاک، امریکہ تعلقات میں کشیدگی کے ایام میں دی گئی بریفنگ اور بیانات و سماعتوں کے اثرات ابھی باقی ہیں اور پاکستان کے بارے میں غلط تاثر دور کرنے میں وقت لگے گا تاہم اوباما حکومت سے تعلقات اور انڈر اسٹینڈنگ بہتری کی جانب جارہے ہیں۔ میرا استدلال یہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں افغانستان میں ہم نے بطور اتحادی امریکہ کا ساتھ دیا۔ پاکستانی سرزمین، فضائی حدود، دہشت گردوں کی گرفتاری اور حوالگی سے لے کر اپنی معیشت، معاشرت، فوجی وسائل، انٹیلی جنس اور بہت سی دیگر صورتوں میں اتحادی کا رول اور تعاون کر کے آج تک امریکہ کا ساتھ دیا اور خود اپنے لئے خطرات اور دشمنیاں سمیٹیں جبکہ علاقے کا سب سے بڑا ملک بھارت ایک بھی گولی چلائے بغیر دہشت گردی کی جنگ کے بعد مفید نتائج کو خوب سمیٹ رہا ہے۔

امریکہ سے اتحاد کے باعث اب دہشت گردوں اور طالبان کی دشمنی پاکستان کے گلے پڑ گئی ہے اور اب دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ بن چکی ہے تو اب امریکہ کو بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اتحادی ہونے کا ویسا ہی ثبوت دینا اور کردار ادا کرنا چاہئے جو پاکستان نے امریکی اتحادی کے طور پر ماضی کے دس سال تک ادا کیا ہے۔ پاکستانی معیشت کی حالت بری ہے۔ امریکہ بطور اتحادی اپنی انٹیلی جنس معلومات، افغانستان میں موجود امریکی فالتو اسلحہ اور ہتھیار و آلات پاکستان کو فراہم کرے بلکہ اپنے ڈرونز کو دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی مرضی اور ضرورت کے مطابق استعمال کرنے میں بھی تعاون فراہم کرے اور ایک بااعتماد اتحادی بن کر دہشت گردی کے خاتمہ تک پاکستان کا ساتھ دے اور ماضی کی طرح اپنا مفاد پورا ہونے پر پاکستان کو ایک بار پھر اکیلا چھوڑ کر افغانستان سے واپسی کی راہ نہ لے۔ مگر تجربہ کار ڈپلومیٹ جلیل عباس جیلانی اپنی منصبی مجبوریوں اور ڈپلومیسی کے تقاضوں کے ہاتھوں محدود، محتاط اور مجبور ہیں۔ وہ اتحادی امریکہ کو پاکستان کی قربانیوں اور مشکلات کا احساس دلانا چاہتے ہیں اور اتحادی امریکہ کو بطور اتحادی ملک اپنی ذمہ داریاں یاد دلانا بھی چاہتے ہیں مگر واحد عالمی سپر پاور کی من مانی اور عالمی مفادات کی عینک کے سامنے شائستگی کے ساتھ سفارتکاری کرتے نظر آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے وسائل کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور وہ کامیابی حاصل کرے گی۔

جلیل عباس جیلانی امریکہ میں غیر ملک یعنی اتحادی پاکستان کے سفیر ہیں اور ان کا دائرہ کار محدود ہے اس لئے وہ محتاط زبان اور محدود انداز کے مطالبات امریکہ سے کر رہے ہیں۔ امریکہ میں آباد پاکستانی ایک بڑی تعداد میں امریکی شہری اور ووٹرز بھی ہیں اس لحاظ سے وہ سفیر جلیل عباس جیلانی سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں وہ اپنے حلقے کے رکن کانگریس، سینیٹر اور دیگر منتخب نمائندوں سے کھل کر بات کرسکتے ہیں اور بطور امریکی امریکہ کے نظام اور شخصیات کو اپنی ذمہ داریاں یاد دلاسکتے ہیں اور پاکستان کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرسکتے ہیں مگر سانحہ 9-11 کے بعد سے امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی حالات اور ماحول کے ہاتھوں خاصی ٹھٹھری ہوئی ہے اور سیاسی طور پر آگے بڑھنے کے بجائے سکڑ کر کونے میں لگ کر جمود کا شکار ہے۔ مسلم امیج، بھارتی کمیونٹی کی تیزیاں، پاکستان کے اپنے حالات اور حکمرانوں کی عاقبت نا اندیشیوں نے بھی پاکستانی کمیونٹی میں خاصی بددلی اور سیاسی جمود کو فروغ دیا ہے لہٰذا کم آبادی کے باوجود امریکہ کے پاکستانی امریکہ کے سیاسی نظام میں جس قدر فعال اور متحرک 1980ء اور 1990ء کے عشرے میں تھے، وہ آج آبادی میں اضافہ کے باوجود اتنے متحرک اور بااثر نہیں ہیں۔

امریکی کانگریس کی کمیٹیوں میں جنوبی ایشیا کے امور پر سماعتوں میں جانے اور اپنے حلقوں کے کانگریس مینوں اور سینیٹرز سے رابطوں کا وہ جوش و خروش بھی اب خاصا مدھم پڑ چکا ہے۔ بھارتی کمیونٹی کی کوششوں اور عالمی حالات و مفادات کے تقاضوں سے امریکہ بھارت تعاون کی جو فضا قائم ہو گئی ہے پاکستان اور امریکہ کے پاکستانی اس کی لپیٹ میں بھی آگئے ہیں۔ مزید برآں امریکہ کے مسلمان بھی سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھے نظر نہیں آتے بلکہ مسلم ممالک میں موجودہ انتشار کے اثرات امریکی مسلمانوں پر بھی پڑے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی کام کی بڑی گنجائش اور بطور امریکی ووٹرز بڑی اہمیت اور صلاحیت ہے۔ اگر منظم ہو کر جرأت و اعتماد اور حقائق کو یکجا کر کے پاکستان کے معاملے کی وکالت کی جائے تو مفید نتائج نکل سکتے ہیں مگر ایک مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح پاکستانیوں کو شکایت ہے کہ امریکہ وقت ضرورت پاکستان کو استعمال کرتا ہے اور پاکستان کو تنہا چھوڑ کر کہیں آگے نکل جاتا ہے یہی شکایت پاکستانی حکمرانوں سے امریکہ کے پاکستانیوں کو بھی ہے کہ پاکستانی حکمراں جب اپنے غلط فیصلوں، ہوس اقتدار اور لوٹ مار کے باعث مشکلات میں پھنس جاتے ہیں تو پھر وہ امریکہ کے پاکستانیوں سے آبائی وطن سے محبت اور پاکستان کی خدمت کے نعرے لگا کر پاکستان کے نام پر مدد مانگتے ہیں اور جونہی ان حکمرانوں کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر وہ امریکہ اور بیرونی ممالک میں آباد پاکستانیوں سے منہ موڑ کر اسی طرح نظر انداز کر دیتے ہیں جس طرح امریکہ پاکستان سے سلوک کرتا ہے۔

حکمراں طبقہ تو پاکستان کے وسائل لوٹ کر باہر کے بنکوں میں دولت جمع کرتے ہیں اور بیرونی ممالک کے پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ امریکہ و کینیڈا میں مقررہ ضابطے پورے کر کے کچھ عرصہ کی رہائش کے بعد امریکہ کی شہریت اور پاسپورٹ حاصل کر کے یہاں کی سیاست اور نظام کا حصہ بن جاتے ہیں مگر اسی کو جواز بنا کر پاکستان کے سیاسی نظام سے ان پیدائشی شہریوں کو دہری شہریت کے نام پر بے دخل کر دیا جاتا ہے اور پھر پاکستان سے محبت کا ثبوت مانگتے ہوئے امریکی نظام میں پاکستان کی خدمت کا درس بھی دیا جاتا ہے، کیا خوب تضاد ہے۔ بہرحال مٹی کا قرض اتارنے کیلئے اگر امریکہ میں آباد پاکستانی خود کو منظم کر کے امریکہ کے اتحادی پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کیلئے امریکی نظام میں سرگرم ہو جائیں تو وہ بہت اہم خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ امریکہ میں آباد دنیا بھر کے مسلمانوں میں سب سے متحرک مسلمان پاکستانی ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستانی اپنا مقام اور رول متعین کریں۔ شمالی وزیرستان میں ابھی فوجی آپریشن جاری ہے۔ کامیابیوں کے دعوے اور ساتھ ساتھ طالبان کے جوابی حملے اور شمالی وزیرستان سے لاکھوں شہریوں کی بے دخلی کا عمل بھی جاری ہے اور اس عمل کے نتائج ابھی نکلنا باقی ہیں۔ فوج ملٹری آپریشن میں کامیابی تو دے سکتی ہے مگر اس عمل سے پیدا ہونے والے سیاسی اور معاشرتی مسائل کا حل نہیں دے سکتی۔ افغانستان سے امریکی واپسی نے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ امریکہ کے پاکستانی متحرک ہوکر پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے میں خاصی مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند