تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جان کیری کا لطیفہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 5 رمضان 1435هـ - 3 جولائی 2014م KSA 14:04 - GMT 11:04
جان کیری کا لطیفہ

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا چینی اخبار سے انٹرویو میں یہ فقرہ ’’عراق جنگ امریکہ کی غلطی تھی‘‘ اس صدی کا لطیفہ ہے ؎

کی مرے قتل کے بعد، اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا

لاکھوں عراقی جان سے گئے، ایک مستحکم، مضبوط اور خوشحال ریاست کے عوام کو بدامنی، غربت اور لاقانونیت نے گھیر لیا اور اس کا اقتدار اعلیٰ مذاق بن کر رہ گیا۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ امریکہ کی غلطی تھی ؎

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔

غلطی عراق پر حملہ نہیں افغانستان میں فوجی مداخلت تھی جسے جارج ڈبلیو بش نے مقدس صلیبی جنگ کا نام دیا مگر پھر مکر گئے کیونکہ حاشیہ نشینوں نے سمجھایا کہ صلیبی جنگوں کا ایک کردار سلطان صلاح الدین ایوبی بھی تھا جس کے نام سے یورپ کی مائیں اب بھی اپنے سرکش بچوں کو ڈراتی ہیں۔ پھر اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دیا گیا اور یہ پروپیگنڈا ہوا کہ دہشت گرد تمام کے تمام مسلمان ہوتے ہیں اور ان مسلم ممالک میں پائے جاتے ہیں جہاں کسی نہ کسی طرح سیاسی استحکام ہے، پیشہ ور اور طاقتور فوج اور معدنی وسائل پائے جاتے ہیں۔

عراق پر حملے کا مقصدان کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش تھی جو امریکہ نے عراق ایران جنگ میں صدام حسین کو دیئے تاکہ انقلاب ایران کی سرکوبی کر سکے۔ امریکہ نے چار درجن ممالک کی حمایت اور شرکت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صدام حسین کی حکمرانی کا تیا پانچہ کیا، ہتھیار تو خیر کیا ملتے اسرائیل کو سستے داموں تیل اور میٹھا پانی وافر مقدار میں ملنے لگا اور عسکریت پسندی کی وبا پورے عالم عرب میں پھیل گئی۔

افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے بعد دنیا میں دہشت گردی ختم ہوئی یا اس کا دائرہ کار مزید پھیلا؟ یہ سوال کسی انصاف پسند امریکی سے کیا جائے تو جواب ملتا ہے کہ پہلے صرف سوڈان اور افغانستان دردِ سر تھے اب یمن، لیبیا، شام، عراق اور پاکستان دردِ سر نہیں دردِ جگر ہیں۔ مصر بھی بالآخر اس راستے پر گامزن ہوگا۔ عراق میں اکثریتی شیعہ حکومت کے قیام سے ایران تو رام ہوا یا نہیں مگر ابوبکر البغدادی کی صورت میں ایک نیا اُسامہ بن لادن ضرور منظر عام پر آ گیا جس نے اسلامک سٹیٹ آف عراق و شام اور خلافت اسلامی کے قیام کا اعلان کر کے امریکہ و یورپ کے علاوہ پورے خطے کو چونکا دیا ہے۔

عراقی شہر تکریت سے اٹھنے والی اس آندھی نے بغداد میں گماشتہ امریکی حکومت اور نومنتخب پارلیمینٹ کے چھکے چھڑا دیئے ہیں۔ امریکہ و یورپ کے علاوہ ایران، ترکی، لبنان، شام میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں اور بغداد کی طرف پیش قدمی نے عراقی فوج میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ یہ ابوبکر البغدادی کا خوف ہے کہ نومنتخب عراقی پارلیمینٹ کے 100 ارکان پہلے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور یوں سپیکر اور وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں نہیں آ سکا۔ امریکہ نے اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لئے 200 مزید کمانڈوز بغداد بھیجنے کا حکم دیا ہے اور عراقی ہیت مقتدرہ نے انتباہ کیا ہے کہ اگر امریکہ و یورپ نے فوج نہ بھیجی تو ہم ایران سے فوجی مداخلت کی درخواست کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ابوبکر البغدادی کی آئی ایس آئی ایس یا آئی ایس آئی ایل نے اسلامی خلافت کا جو نقشہ جاری کیا ہے اس میں عراق و شام، لبنان شامل ہیں اور ترکی اور ایران کے سنی کرد اکثریت والے علاقے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت ِ عثمانی کے خاتمے کے اعلان کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جو فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر کیا۔ موجودہ قومی سرحدوں کو ختم کر کے عرب و عجم، کالے گورے کی تقسیم و تفریق کے بغیر ہر مسلمان کو خلافت کا شہری تسلیم کیا گیا ہے اور مزارات و مقابر کے بارے میں مذہبی احکامات کی تعمیل کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے جس نے ایران اور کربلائے معلی و نجف اشرف کے عقیدت مندوں کو پریشان کر دیا ہے۔ ابوبکر البغدادی نے القاعدہ اور ایمن الظواہری سے وابستگی ختم کر دی ہے اور صدام حسین دور کے فوجیوں کے علاوہ موجودہ عراقی فوج کے بھگوڑوں کوکھلے بازوئوں سے خوش آمدید کہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اور عراق پر حملے کے سبب پوراعالم عرب بلکہ عالم اسلام جنگی تھیٹر میں تبدیل ہوگیاہے اور شیعہ سنی تنازعات کو ہوادینے کانتیجہ ایک ایسی خلافت تحریک کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے جو بین الاقوامی سرحدوں کی مخالف اور نئے عالمی نظام ، نئی سرحدی تقسیم کی علمبردار ہے۔ عالمی رائے عامہ میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ کیا افغانستان سے رسواکن امریکی انخلا کے بعد کالی پگڑی اور کالے جھنڈے والے افغان طالبان بھی اس تحریک کا حصہ ہوںگے یا اپنی سرحدوں تک محدود رہیں گے؟ امریکہ، بحرین اور شام میں طالبان کی گروپوں کی آمد کو خوش آمدید کہہ کر اپنے پائوں پر کلہاڑی تو مار چکا ہے۔

خطے میں روز بروز پھیلتی جنگ جو آہستہ آہستہ شیعہ سنی تنازعے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے بالآخر کیا رخ اختیار کرے گی؟ فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ اگر اس جنگ میں افغان عنصر بھی شامل ہو گیا تو امریکہ کی بلا سے۔ کوئی جان کیری کندھے اچکا کر یہ کہہ دے گا کہ افغانستان پر حملہ امریکہ کی غلطی تھی مگر اس خطے کے عوام کا کیا بنے گا جنہیں افغانستان اور عراق پر جنگ مسلط کرتے وقت کسی نے پوچھا نہ اب امریکہ کی پسپائی کے وقت کچھ بتایا جا رہا ہے۔ ابوبکر البغدادی نے خلافت کا اعلان کر کے صرف امریکہ و یورپ کو سرخ رومال نہیں دکھایا بلکہ ترکی، ایران، شام اور لبنان کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کی فوج کو بھی للکارا ہے جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہے۔ اسرائیل البتہ اس صورتحال سے خوش ہے کیونکہ جب تک شیعہ سنی، کرد، غیر کرد اور خلافت کے علمبردار و مخالف ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں اس کی سلامتی اور جغرافیائی سرحدوں کو کوئی خطرہ نہیں۔

رہے ہم پاکستانی تو حال مست، مال مست لوگوں کو اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے نہ فرصت۔ ہم میں سے کسی نے آج تک اس بات پر غور نہیں کیا کہ آپریشن ضرب ِ عضب کے بعد اسلام آباد، لاہور، کراچی میں کوئی ردعمل کیوں نہیں ہوا؟ کیا ہر جگہ طالبان کا خاتمہ ہو گیا؟ وہ کسی چھوٹی موٹی کارروائی کے قابل نہیں رہے؟ اور خوف سے توبہ تائب ہو گئے ہیں یا خاموشی کسی طوفان کا پیشہ خیمہ ہے۔ کابل پر امریکی قبضے کے بعد اسی طرح کی خاموشی افغانستان میں بھی دیکھنے کو ملی تھی اور تورابورا پر بمباری کے بعد بش نے فتح کا اعلان بھی کر ڈالا تھا مگر بارہ سال سے یہ جنگ جاری ہے۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر دنیا کا نقشہ بدلا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صلیبی جنگ کا نام دیںا تیسری جنگ عظیم کا مگر یہ ہے خطرناک۔ کسی بڑی تبدیلی کے بغیر ختم ہو، یقین نہیں آتا مگر دنیا باامید قائم۔ فی الحال تو جان کیری کو لطیفے پر داد دیجئے ’’عراق جنگ امریکہ کی غلطی تھی‘‘ ؎

جادو  ہے  یا  طلسم  تمہاری  زبان   میں
تم  جھوٹ   کہہ  رہے  تھے مجھے اعتبار  تھا

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند