تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مشرق وسطیٰ اور رمضان کی تنہائی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 7 رمضان 1435هـ - 5 جولائی 2014م KSA 11:36 - GMT 08:36
مشرق وسطیٰ اور رمضان کی تنہائی

کہتے ہیں کہ کتابیں بہترین ساتھی ہیں۔ گذشتہ کئی برسوں سے میں کتابوں کے ساتھ ہی وقت گزارتا رہا ہوں اس لئے اس مقولے کی حقیقت کو میں بہت اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ کتابیں اگر بہترین ساتھی نہ بھی ہوں تب بھی ان میں ایک دوست کی تلاش کرنے والے کیلئے سب کچھ ہوتا ہے یعنی بہترین رفاقت، وفاداری اور سنجیدگی۔ کتابیں نہ صرف ہمارے علم میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ یہ اس حد تک ہمارے لئے مددگار و معاون ثابت ہوتی ہیں کہ ہم تصور نہیں کر سکتے۔ بہر کیف، انسانوں کا ساتھ اور انسانیت کا موازنہ کسی سے نہیں کیا جا سکتا۔ تنہائی دور کرنے کے لئے ہم کسی بھی قسم کی تفریح کا سہارا لے لیں لیکن ایک دوست کی کمی کا احساس ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ تنہائی کسی سزا سے کم نہیں ہے۔

یہاں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا کہ تنہائی کو خلوت نشینی کے مزاج کے برابر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ خلوت نشینی کو پسند کرنا ایک الگ چیز ہے اور تنہا رہنے پر مجبور ہونا ایک الگ چیز۔ مجھے شور شرابے سے بے حد نفرت ہے اور میں اپنی خلوت نشینی کا پورا لطف لیتا ہوں۔ ان دونوں کیفیتوں میں یہی فرق ہے۔ تنہائی کی کیفیت ایک تکلیف دہ احساس سے دوچار کراتی ہے اور ایک شخص کے پورے وجود کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے بر عکس خلوت نشینی کی کیفیت میں لطف ہے اور اس کیفیت میں ہم ایک خوشگوار احساس سے گزرتے ہیں۔ ایسے بھی کئی لوگ کزرے ہیں جو زندگی کی رنگینیوں اور خلوت نشینی کے درمیان ایک عمدہ توازن قائم رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور نتیجتا ان کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ تنہائی اور خلوت نشینی ایک حد تک ٹھیک ہے اور ضروری بھی کیونکہ تنہائی میں ہی ذہن کی تخلیقی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ ولیم شیکسپیئر، مرزا غالب اور شیخ سعدی اگر تنہائی پسند نہ ہوتے تو اپنے قلم سے انہوں نے جو کارنامہ انجام دیا، وہ ممکن نہ ہوتا۔ لیکن، ایک شخص جو تنہا ہو کر رہ گیا ہو اس کی زندگی کیسے گزرتی ہے، اسکا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

مرزا غالب ایک اچھے میزبان تھے اور اکثریت اوقات اپنے دوستوں اور مداحوں سے گھرے رہتے تھے۔ اس کے باوجود آہستہ آہستہ وہ تنہا رہنے کو ترجیح دینے لگے۔ یہی حال علامہ اقبال کا بھی تھا۔ برصغیر میں ان کے مداحوں کی تعداد کم نہیں ہے اور ہر خاص و عام ان کی ذہنی صلاحیتوں کا معتقد ہے۔ ان سے ملاقات کرنے کے لیے بھی احباب کا تانتا بندھا رہتا تھا لیکن ان کے اشعار گواہ ہیں کہ وہ تنہائی پسندی اور خلوت نشینی پر کس قدر فریفتہ تھے۔ مدر ٹریسا بھی اپنے چاہنے والوں کی بھیڑ میں گم تھیں لیکن کہیں نہ کہیں وہ بھی تنہا تھیں۔ اسی سبب انہوں نے کہا تھا کہ "سب سے سنگین غربت تنہائی اور بے رخی کے احساس کا لمحہ ہے"۔ البانیہ سے تعلق رکھنے والی مدر ٹریسا نے غریبوں کی خدمت کرنے کو اپنا نصب العین بنا لیا تھا اور اپنی زندگی ہندوستان کے ایک بھیڑ بھاڑ اور شور شرابے والے شہر کلکتہ میں گزار دی۔ کولکاتا میں ان کی وفات کے بعد انہیں ’’سنت‘‘ قرار دیتے ہوئے ’’بلیسڈ ٹیریسا آف کیلکٹا‘‘ کا اعزاز دیا گیا تھا۔ مدر ٹریسا نے جس طرح انسانوں کے دلوں کو جیتا، اس کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔

تنہائی پسند میں بھی ہوں اور اپنے قریبی دوستوں میں رہتے ہوئے بھی تنہائی کا احساس مجھ پر حاوی رہتا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے اس احساس میں شدت آئی ہے۔ مزید یہ کہ صحافت سے بھی میرا ناطہ ٹوٹ کر رہ گیا ہے اور اس کیفیت سے گزرنا میرے لئے ایسا ہی ہے جیسے پانی کے بغیر مچھلی کا تڑپنا۔ مجھے اپنے ضمیر کی آواز پر چلنے کی قیمت چکانی پڑی جو شاید مجھ سے بڑے عہدے والوں کو قبول نہیں تھا۔ اس بات کا مجھے کوئی افسوس نہیں ہے لیکن اس کے بعد جو غیر یقینی حالات میرے سامنے آنے والے تھے، ان کے پیش نظر میں نے اپنے گھر والوں کو حیدر آباد بھیج دیا۔ میرے بچے اب حیدر آباد کی زندگی میں گھل مل گئے ہیں۔ میرے پاس واپس آنے کیلئے وہ ضرور ہچکچائیں گے۔ اپنے اہل خانہ کے بغیر یہ میرا پانچواں رمضان ہے۔ سحر و افطار کے وقت اپنوں سے دوری کا جو احساس ہوتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ وہ سب کا جمع ہونا اور یہاں وہاں کی باتیں کرنا مجھے بہت یاد آتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ایسا کہہ کر میں جانبداری کا ثبوت دوں گا لیکن یہ حقیقت ہے کہ حیدرآباد میں رمضان کا موازنہ کسی دوسرے شہر سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس شہر کے رمضانی ماحول کو لفظوں میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ یہاں رمضان المبارک میں ملنے والے خصوصی پکوان ’’حلیم‘‘ کی بات ہی نرالی ہے۔

اپنوں سے دوری کا یہ احساس تکلیف دہ تو ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایسے لاکھوں خاندان ہیں جنہیں اس ماہ مبارک میں بھی امن میسر نہیں ہے۔ مجھ جیسے لوگوں کے لیے ان کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے صرف نظر کرنا بہت مشکل ہے۔ بے شک میرے اپنے میرے ساتھ نہیں ہیں لیکن مجھے رہنے اور کھانے پینے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے بر خلاف مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک میں ایسے بے گھر بھی ہیں جو گولیوں کی بوچھار کا بہادری سے سامنا کر رہے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو 50 ڈگری کے درجہ حرارت میں بھی روز اپنی گزر اوقات کا انتظام کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ پوری دنیا میں مسلمان جن حالات سے دوچار ہیں وہ دل دہلا دینے والے ہیں۔ خاص طور پر میانمار جیسے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مثال بھی پہلے کبھی دیکھی اور سنی نہیں گئی۔ میانمار کے حالات سے شدید حیرت میں مبتلا نیو یارک ٹائمز سے وابستہ نکولس کرسٹوف نے مئی میں لکھا تھا کہ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ جو نسلی تعصب برتا گیا تھا، اس سے بھی بدتر سلوک میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔ نکولس کرسٹوف نے تو میانمار کے مسلمانوں کی اندوہناک صورتحال کا سطحی منظر نامہ پیش کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اسسنٹ سیکریٹری کینوگ واکانگ نے روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کا ذاتی طور پر جائزہ لینے کے بعد کچھ ایسا بتایا تھا کہ "کیمپوں میں مقیم بے گھر افراد جس حالت میں گزارا کرنے پر مجبور ہیں، وہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ یہاں مردوں، عورتوں اور بچوں کے آزادانہ نقل و حرکت کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے بلکہ ان کے دیہاتوں میں بھی انہیں محصور کر کے رکھ دیا گیا ہے۔" سری لنکا میں بدھسٹ میانمار کے نقش قدم ہر چلتے ہوئے ملک کے مسلمانوں کا قافیہ تنگ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ مہینے چار مسلمانوں کے قتل کے واقعہ سے یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ سری لنکا میں مسلم اقلیت کے ساتھ کیا کچھ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔! بہت حال ان واقعات اور حقائق سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے؟ مخدوش حالات کے بیشتر مقامات پر مسلمان تو ایک دوسرے کا ہی گلا کاٹ رہے ہیں۔ صومالیہ سے لے کر نائیجیریا تک، شام سے لے کر عراق، افغانستان اور پاکستان تک ایسے ہی دھماکہ خیز حالات ہیں۔

مسلم ممالک میں مسلمانوں کے ہاتھوں جتنے مسلمان مارے گئے ہیں، اتنی ہلاکتیں تو بیرونی ممالک کی مسلط کردہ جنگوں میں بھی نہیں ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار کسی کے پاس نہیں ہیں کہ گزشتہ کچھ برسوں سے عراق، شام، پاکستان اور افغانستان میں کتنوں کی جانیں گئیں۔؟ اسرائیل جب چاہتا ہے فلسطینیوں پر بمباری کرتا ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی عرب ملک صدائے احتجاج بلند کر دے جبکہ قدرتی وسائل سے مالا مال خطے پر عرب حکمران ہی برسر اقتدار ہیں۔ ایک مسلم اسکالر نے میرے ایک مضمون پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ اللہ عزو جل ہم سے کیوں ناراض ہیں؟ کیا اب ہمارے لئے کوئی امید بچی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو میری حالت تنہائی سے کئی زیادہ سنگین ہیں؟ کیا انکا جواب ہے کسی کے پاس؟

[العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں]

بہ شکریہ روزنامہ "انقلاب"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند