تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پیپلز پارٹی کی امریکی جاسوسی سے بھی آگے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 11 رمضان 1435هـ - 9 جولائی 2014م KSA 10:57 - GMT 07:57
پیپلز پارٹی کی امریکی جاسوسی سے بھی آگے؟

کچھ روز قبل امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکمرانی میں امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی نے پیپلز پارٹی کی جاسوسی اور نگرانی کی تھی۔ اسی عرصہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور مصر کی حکمراں پارٹی اخوان المسلمون کو بھی امریکی جاسوسی نظام نے مانیٹر کیا تھا۔ اس بارے میں حاصل کردہ معلومات کا جاسوسی ڈیٹا بھی اب سامنے آگیا ہے۔ وہائٹ ہائوس کی بریفنگ میں بھی بی جے پی کے حوالے سے کئے گئے سوالات کے جواب میں ترجمان کے نوکمنٹ اور مبہم بیانات اور اشاروں سے بھی اب تصدیق ہوچکی ہے کہ امریکی نیشنل سیکورٹی نے پی پی پی، بی جے پی اور اخوان المسلمون سمیت پانچ سیاسی پارٹیوں کی جاسوسی کی تھی۔ اس انکشاف کیلئے ان پارٹیوں کو مفرور امریکی ایڈورڈ سنوڈن کا شکر گزار بھی ہونا چاہئے۔ اُدھر سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب پی پی پی حکومت کی کابینہ کا اجلاس ہوتا تھا تو بعض اوقات مختلف سگنلز کو سیکورٹی اداروں کے ذریعے کلیئر کرایا جاتا تھا۔ اُن کا یہ بیان کسی سائبر نظام کے ذریعے جاسوسی کی نشاندہی تو کرتا ہے مگر رحمن ملک اپنی کابینہ کے اُن وزراء کا ذکر بھول گئے جو کابینہ کے اجلاس کی بند کمرے کی کارروائی کی انسانی جاسوسی کر کے زبانی اور دیگر طریقوں سے غیر پاکستانی ذرائع تک پہنچایا کرتے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو اس انکشاف پر امریکی محکمہ خارجہ کے سفارت کاروں کو نئی دلی طلب کر لیا اور تمام صورت حال جاننے اور اعترافات کے بعد آئندہ ایسا نہ کرنے کی امریکی یقین دہانی حاصل کر لی۔

بات اس پر بھی ختم نہیں ہوتی امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اور اس کے مفادات امریکی سرحدوں کی حدود سے باہر بھی ہیں لہٰذا اپنے عالمی مفادات کیلئے امریکہ کا جاسوسی نظام بقول ایڈورڈ سنوڈن 193ممالک اور اُن کے سربراہان اور حکومتی اداروں تک پھیلا ہوا ہے۔ امریکہ افغانستان سے واپس تو جا رہا ہے لیکن اس کے مفادات افغانستان، پاکستان، بھارت، چین اور وسطی ایشیا تک پھیلے ہوئے ہیں لہٰذا اگر پی پی پی کی جاسوسی کرنے کے بارے میں امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے ایک سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن کے فرار ہونے اور دستاویزات کا انکشاف کرنے سے سامنے آگیا ہے تو پھر یہ بھی قرین قیاس ہے کہ پاکستان کے موجودہ حکمران، اپوزیشن اور حساس ادارے امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی اور دیگر امریکی اداروں کی جاسوسی اور نگرانی کی زد میں ہوں۔ ویسے بھی انٹرنیٹ، ای میل، اسمارٹ فون، کمپیوٹر اور ٹیلی کمیونی کیشن کے جدید سائنسی آلات نے تو دنیا کے ہر حکمراں سمیت ایک عام شہری کو بھی اس کی ’’پرائیویسی‘‘ سے محروم کر دیا ہے۔

فیس بک، ٹوئٹر، ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں امریکی نظام کو اتنی معلومات فراہم کر دیتی ہیں کہ کسی بھی عام شہری کی زندگی کے نجی لمحوں سے لیکر اُس کی عادات و مزاج، پسند ناپسند بلکہ نقطہ نظر اور سوچ کے بارے میں ایک اچھا خاکہ تیار ہو جاتا ہے۔ آج کے دور کا انسان ٹیلی کمیونی کیشن کی جدید ایجادات اور سہولتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے شوق میں خود اپنے بارے میں معلومات کا ڈھیر اپنے فون اور کمپیوٹر پر لگا رہا ہے۔ میری رائے میں اب پاکستان کے حکمران اور سیاستدان اور اداروں کی پرائیویسی یا ’’کانفیڈینشل‘‘ ہونا محض پاکستان کے عوام کے لئے رہ گیا ہے اگر مزید تصدیق اور یقین کرنا ہو تو صرف امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے شائع ہونے والی چند رپورٹوں کو توجہ سے پڑھنے سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائیگا کہ 193 ممالک کے حکمران سرکاری اہلکار اور پالیسی بنانے والے حکام تو جاسوسی کے سائبر نظام کی لپیٹ میں تو ہیں لیکن عام بے ضرر اور کسی سیاست یا مکتبہ فکر سے لاتعلق عام شہری بھی اپنی عادات، سوچ، تحریر اور ذاتی تفصیلات سمیت جاسوسی اور معلومات اکٹھا کرنے کے عالمی خفیہ نظام کی لپیٹ میں ہے۔ اس سلسلے میں ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی 6جولائی کی اشاعت میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے بارے میں شائع کردہ تفصیل میں کئے گئے بعض انکشافات آپ کی توجہ کیلئے پیش خدمت ہیں۔

(1) نیشنل سیکورٹی ایجنسی اپنے دو پروگرام Prism اور Upstream کے ذریعے یاہو، گوگل اور دیگر ڈیٹا کمپنیوں سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے اور ایسے ڈیٹا نیٹ ورک اور وائس ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جاتا ہے لہٰذا ذاتی تصاویر، سمندر کنارے تفریح اور بچوں کی تعلیمی اسناد اور تصاویر کے علاوہ آپ کا میڈیکل ریکارڈ، عشق کی خط و کتابت، دل ٹوٹنے اور محبت کی داستانوں تک کا ریکارڈ ڈیٹا کی شکل میں نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے پاس ہے جو بوقت ضرورت آپ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکمرانوں سے لیکر عام شہری تک کی انفرادی اور ذاتی زندگی کے بارے میں تمام تر مواد جو آپ نے فیس بک، ٹوئٹر، ای میل، اسکائپ پر لکھا یا محفوظ کیا وہ سب آپ کی ذات و حالات کا تجزیہ کرنے کے لئے کافی ہے اور این ایس اے کے پاس انٹرنیٹ اور کمیونی کیشن کمپنیوں کے ذریعے پہنچ رہا ہے اور یہ آپ کی شخصیت کے تمام پہلوئوں کو جاننے کیلئے کافی ہے۔2011ء میں ایبٹ آباد میں بم بنانے والے محمد طاہر شہزاد کی گرفتاری اور انڈونیشیا کے جزائر بالی میں دہشت گردی کرنے والے عمر پاٹک کو ایسی ہی معلومات اور ڈیٹا کے ذریعے گرفتار کیا گیا۔ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے بعض تفصیلات اور انکشافات اس لئے اشاعت سے روک لئے ہیں کہ بعض قومی راز اور بعض جاری آپریشنز کے بارے میں راز افشاء ہونے کا ڈر ہے۔

(2) امریکہ کے جاسوسی حکام میں این ایس اے نے ایک پاکستانی نوجوان اور امریکی نوجوان کے درمیان ایسی گفتگو بھی ریکارڈ کی ہے کہ جس میں 2009ء میں پاکستانی بچے نے امریکی نوجوان سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کی جنگ کو 44 کافر ممالک (ناٹو ممالک) کیخلاف مسلمانوں کی مذہبی جنگ قرار دے دیا اور امریکی شہری نے اس پاکستانی نوجوان کے موقف کو مسترد کر دیا تھا۔

(3) این ایس اے کا معلومات اور ڈیٹا حاصل کرنے والا پروگرام ایٹمی عدم پھیلائو اور انسداد دہشت گردی پر مرکوز ہے اور اس حوالے سے 193 ممالک کی جاسوسی اور معلومات حاصل کرنے کا کام خفیہ طور پر کرتا ہے۔ ایک ملک کا نام لئے بغیر یہ کہا گیا ہے کہ اس ملک کے نیو کلیئر پروگرام کے بارے میں بھی جاسوسی اور خفیہ معلومات جمع کرنے کا کام ہو رہا ہے۔ قارئین سمجھ لیں کہ مغربی طاقتوں کو کس کس ملک کا ایٹمی پروگرام کھٹکتا ہے یعنی پاکستان، ایران یا شمالی کوریا۔ اسی طرح عام شہریوں کے عشق و محبت، دل ٹوٹنے اور انتہائی قربتوں کی تفصیلات بھی این ایس اے نے اس لئے جمع کر رکھی ہے کہ نہ جانے یہ معلومات کب اور کہاں استعمال کی جاسکتی ہے۔ امریکی سول حقوق اور آزادیوں کی نامور امریکی و عالمی تنظیمیں احتجاج بھی کررہی ہیں اور اسے شہری آزادیوں اور پرائیویسی کا خاتمہ قرار دے رہی ہیں لیکن امریکی نیشنل سیکورٹی ایجنسی بدستور مصروف ہے اور انٹیلی جنس کرنے کی اجازت لینے کیلئے مخصوص خصوصی عدالت سے اجازت پہ کام جاری ہے۔ آپ کسی بھی ملک میں ہوں عام شہری ہوں یا حکمراں امریکہ کی قومی سلامتی اور مفاد کیلئے آپ کی تمام معلومات کمیونی کیشن کمپنیوں کے ذریعے جمع ہو رہی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند