تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
انگاروں سے نہ کھیلیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 13 رمضان 1435هـ - 11 جولائی 2014م KSA 10:36 - GMT 07:36
انگاروں سے نہ کھیلیں

آپ انگاروں سے کھیل رہے ہیں، وہ سب جو ٹی وی پر مذہبی پروگرام کر رہے ہیں، جو متشدد مزاج لوگوں کو ان پروگراموں میں مدعو کرتے ہیں، اور ان کی زبان سے نکلے ہوئے فرقہ واریت کے انگاروں کو گھر گھر پہنچاتے ہیں۔ ٹی وی پر پیش کیا جانے والا کوئی بھی پروگرام ہو احتیاط کا تقاضہ کرتا ہے۔ اس کی چھان پھٹک ہوتی ہے، نہیں ہوتی تو کی جانی چاہئے۔ اس میں سے وہ مواد نکال دینا چاہئے جو مثلاً حقائق کے منافی ہو، فرقہ واریت پر مبنی ہو، دل آزاری کا باعث ہو۔ مگر یوں ہو نہیں رہا۔ پہلے تو مذہبی لوگوں کے ایک طبقے کو مذہب کے سوداگر کہہ کر مطعون کیا جاتا تھا۔ ان کی دکان تو آپ نے ٹھپ کر دی۔ آپ لیپے پوتے چہرے سامنے لے آئے۔ ان میں زیادہ کشش ہے۔ مولوی کی جگہ اب بازاری لوگ آ گئے ہیں، مذہب کا منجن اب دوسرے لوگ بیچ رہے ہیں اور غیر ذمہ داری میں پہلے والوں کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ اُنہیں دین کا علم بھی تھا، دین کے تقاضوں سے وہ کما حقہٗ واقف بھی تھے۔

کچھ احتیاط اس وجہ سے ہوجاتی تھی۔ اب مگر کیا ہو رہا ہے؟ آپ کبھی غور سے ٹی وی کے مذہبی پروگرام دیکھیں، ان پروگراموں میں شریک ہونے والوں کو دیکھیں۔ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ان کا انداز بیان کیسا ہے؟ صبح ہو یا شام یہ دل آزاری پر تلے ہوئے ہوتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ ان کی زبان سے نکلے ہوئے شعلے اس خرمن کو آگ بھی لگا سکتے ہیں، ان کا اگلا ہوا زہر ساری فضا کو مسموم کر رہا ہے۔

اسلام ہو یا کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے، سب میں کچھ نہ کچھ اختلاف ہوتے ہیں۔ عیسائیوں کے دو فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ میں شدید لڑائیاں ہوتی رہی ہیں۔ مگر تباہیوں اور وقت سے انہوں نے عقل حاصل کی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھا۔ بد قسمتی سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی چنگاریاں صدیوں سے سلگتی چلی آ رہی ہیں۔ ان میں کچھ اپنوں کے مفادات ہیں، کچھ غیروں کی سازشیں۔ ان چنگاریوں کو ہوا دے کر جب کسی کا جی چاہے ، مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر سکتا ہے۔ ماضی بعید میں بھی ایسا ہوا، آج بھی ہو رہا ہے۔

آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ سلگتی آگ کو ٹھنڈا کریں ۔ یا کم ازکم اسے بھڑکانے میں تو کوئی کردار ادا نہ کریں۔ مذہبی معاملہ ہو یا کوئی اور، بنیادی اصول کیا ہے؟ اپنے عقائد پر عمل کریں، دوسروں کی دل آزاری سے گریز کریں۔ اور ان عقائد کی تشہیر سے بہرحال باز رہیں جو ملّتِ اسلامیہ میں مزید دراڑ ڈالیں، امت کو مزید نقصان نہ پہنچائیں۔ ٹی وی پر مذہبی پروگراموں میں آنے والے بہت سے لوگوں نے یہ و تیرہ بنا لیا ہے کہ اختلافی معاملات پر کچھ نہ کچھ موشگافی وہ ضرور کریں گے۔آپ کو حق ہے آپ جو عقیدہ چاہیں رکھیں، ٹی وی مگر اس کے اظہار کی جگہ نہیں ہے۔ اس کام کے لئے تو بالکل نہیں ہے کہ کسی گروہ کے محترم اکابرین کا مذاق اڑایا جائے، ان کی توہین کی جائے۔ کچھ لوگ مگر یہ سب کر رہے ہیں۔ اس کی اجازت نہیں دینی چاہئے، نہیں دی جا سکتی۔ ملکی مفاد ہر بات پر مقدّم ہے۔ ان کی توزبان بھی بگڑی ہوئی، اور دہن بھی۔ ایسے لوگوں کو جب آپ ٹی وی پر موقع دیتے ہیں تو قصور اُن سے زیادہ آپ کا ہوتا ہے۔ ان کے خیالات کا پرچار تو وہ کرتے ہی رہتے ہیں۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ٹی وی پر بھی انہیں یہ موقع فراہم کریں تو آپ سوچیں قصور کس کا ہے۔

مگر بات چند ایک افراد کی نہیں ہے، اجتماعی ہے۔ سوچنا چاہئے کہ ٹی وی پر مذہبی پروگرام کتنے پیش کئے جاسکتے ہیں اور انہیں کس طرح پیش کیا جانا چاہئے ۔ کچھ تو بنیادی معاملات ہیں، نماز ،روزہ، زکوٰۃ،حج، اخلاقی اور معاشرتی فرائض، اسوہِ حسنہ۔ان پر بات ہوسکتی ہے۔ ان کی افادیت پر گفتگو کی جاسکتی ہے۔ اور یہ کام مستند اور جیّد علما سے کروانا چاہئے ۔ مگر بات جب اِدھر اُدھر نکلنے لگتی ہے، نکالی جاتی ہے، تو خیال آتا ہے کہ ٹی وی ان معاملات پر گفتگو کرنے کے لئے نہیں ہے۔ پہلے شاید کبھی رہا ہو، جب اس کا دائرہ اتنا وسیع نہیں تھا۔ اب صورتِحال مختلف ہے۔

درجنوں چینل ہیں، ذمہ دار جن میں کم۔ لوگوں کی برداشت بھی کم ہو گئی ہے، کتنا برداشت کریں۔ یا، جیسے بعض لوگ کہتے ہیں ، اور صحیح کہتے ہیں، کہ آگاہی کم تھی۔بہت سی تقریبات بہت سے فرقوں میں مشترک تھیں۔ انہیں ثقافت کا نام بھی دیا جاتا تھا۔ اب آہستہ آہستہ آگاہی بڑھی تو لوگوں کو اندازہ ہوا کہ فلاں تقریب کی وجہ وہ نہیں ہے جو بیان کی جارہی ہے۔ اس کا پسِ منظر کچھ اور ہے۔ یوں بہت سی تقریبات محدود ہوتی چلی گئیں۔ وہ باتیں جو ڈھکی چھپی بیان ہوتی تھیں، ان کے مطالب دوسروں پر بھی واضح ہوتے گئے۔ برداشت بھی کم ہوئی اور لوگ حساس بھی ہوگئے۔ اس لئے آج جب کسی ایک جگہ سے سب وشتم سنائی دیتا ہے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ کیا کہا جارہا ہے، کس کو کہا جا رہا ہے۔ اور جیسے ہی یہ اندازہ ہوتا ہے، ساتھ ہی رد عمل بھی سامنے آجاتا ہے۔

ایک ادارہ ہے پیمرا جسے کہتے ہیں۔ اس کے قواعد و ضوابط میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کی کچھ سزا بھی مقرّر ہے۔ مگر وہاں بیٹھے ہوئے بزر جمہروں کا علم بقدر اشکِ بلبل یا اس سے کچھ کم ہی ہے ۔ اگر انہیں کچھ علم ہوتا تو وہ کوئی کارروائی کرتے۔ کارروائی کا مطلب سزا دینا نہیں ہے۔ آپ رہنمائی تو کر سکتے ہیں، یہ تو بتا سکتے ہیں کے ان حدود سے آگے نہیں جایا جاسکتا۔ جو ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ہیں، انہیں احساس تو دلایا جا سکتا ہے کہ ان کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ٹی وی چینلوں پر مذہبی پروگرام بغیر کسی احتیاط کے پیش کرنا، انگاروں سے کھیلنا ہے۔ ہم میں سے کئی کی انگلیاں جل چکی ہیں۔ اس بحث سے کوئی فائدہ نہیں کہ کس نے بے احتیاطی کی۔ نہ اس گفتگو سے کچھ حاصل کہ قوال نے اور کیا کچھ کہا تھا انگلیاں بہرحال جل گئیں۔ اگر باقی ٹی وی چینلوں نے احتیاط کا دامن نہ تھاما، اگر اپنا مائک ہر ایرے غیرے کو تھما تے رہے کہ جو منہ میں آئے کہہ ڈالے، اگر کسی بھی ایک طبقہ کی جانب سے کسی بھی دوسرے طبقے کے عقائد اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی آزادی دی جاتی رہی تو برصغیر کی تاریخ گواہ ہے، بڑی خرابی ہوتی رہی ہے۔

آس پاس اب بھی حالات بہت خراب ہیں۔ امت مسلمہ ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے، بانٹ دی گئی ہے، بانٹی جارہی ہے۔ اس سے بچیں۔ مذہب کا کاروبار نہ کریں۔ اس میں بہت خطرات ہیں۔ احتیاط آپ کر نہیں پا رہے۔ اپنی انگلیاں جلا لیں گے، اور خرمن کو بھی آگ لگا دیں گے۔ رک جائیں، انگاروں سے نہ کھیلیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند