تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا عبداللہ عبداللہ کو ہرایا گیا ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 14 رمضان 1435هـ - 12 جولائی 2014م KSA 13:49 - GMT 10:49
کیا عبداللہ عبداللہ کو ہرایا گیا ہے؟

افغانستان میں 5 اپریل کو ہونے والے انتخابات متنازع بن گئے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ نے چودہ جون کو ہونے والے رن آف الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ افغانستان میں متوازی حکومت بنا لیں گے۔ انہوں نے رن آف الیکشن کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس الیکشن میں سنگین نوعیت کی دھاندلیوں کی زمہ داری خودمختار الیکشن کمیشن، حامد کرزئی اور ان کے بھائیوں پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے بیلٹ بکسوں میں جعلی ووٹ ڈلوائے۔ خود الیکشن کمکیشن کے سربراہ جناب نور ستانی نے تسلیم کیا کہ الیکشن میں دھاندلیاں ہوئی ہیں اور اس عمل میں سرکاری افسران کے علاوہ سکیورٹی عملہ بھی ملوث تھا۔ اس وقت کابل میں عبداللہ عبداللہ کی حمایت میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور حامد کرزئی اور اشرفی غنی کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ اس صورت حال پر امریکہ کو بھی گہری تشویش ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد سیکرٹری خارجہ افغانستان پہنچیں گے جو اس مسئلہ کو پر امن طریقے سے حل کرانے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح صدارتی انتخابات کے متنازع نتائج کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران نے افغانستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس ضمن میں یہ لکھنا بے جا نہ ہو گا کہ افغانستان میں ہونے والے 2009ء کے صدارتی انتخابات میں بھی زبردست دھاندلیاں ہوئی تھیں۔ ان دھاندلیوں میں کرزئی اور ان کے دوست ملوث پائے گئے تھے۔ عالمی برادری نے 2009ء کے عام انتخابات کے نتایج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، لیکن امریکی دباؤ کی وجہ سے کرزئی کو صدر تسلیم کر لیا گیا۔ 2009ء کے انتخابات میں بھی عبداللہ عبداللہ جیت چکے تھے ، لیکن اب صورتحال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہے۔ عبداللہ عبداللہ اپنی شکست تسلیم نہیں کریں گے، ہو سکتا ہے کہ امریکہ انہیں کسی قسم کا لالی پاپ دے، لیکن لگتا ہے کہ وہ اس مسلط شدہ شکست کو ہر گز تسلیم نہیں کریں گے۔

ویسے بھی افغانستان ان انتخابات کے نتایج کے صورت میں لسانی بنیادوں پر مزید تقسیم ہو گیا ہے۔ رن آف الیکشن کی پوری انتخابی مہم لسانی بنیادوں پر چلائی گئی تھی۔ اشرف غنی نے پختون آبادی کو اپنے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کی تھی، جو افغانستان میں کل آبادی کا 40% ہیں جبکہ دوسری قومیتوں میں تاجک، ہزارہ، ازبک وغیرہ شامل ہیں۔ عبداللہ عبداللہ تاجک ہیں۔ انہوں نے شمالی اتحاد کے تحت طالبان کی حکومت کی سخت مخالفت کی تھی اور آج بھی وہ طالبان کے خلاف ہیں۔ امریکہ، پاکستان اور چین اشرف غنی کو بہتر خیال کرتے ہیں (جیساکہ خبروں میں ظاہر ہوتا ہے)۔ بھارت عبداللہ عبداللہ کو صدر بنتے دیکھنا چاہتا ہے؛ چنانچہ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ افغان صدارتی انتخابات کے متنازع نتائج کی گتھیوں کو سلجھانے کے سلسلے میں کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں؟

افغانستان کے عوام کی اکثریت ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے، تاہم ان انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان 22 جولائی کو کیا جائے گا۔ اس طرح ابھی ان نتائج کو فریقین کے درمیان متوازن بنانے کے سلسلے میں خاصا وقت موجود ہے لیکن اگر اشرف غنی کے حق میں فیصلہ برقرار رہتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عبداللہ عبداللہ اور ان کے لاکھوں ساتھی ان نتایج کو تسلیم کر لیں گے؟ مزید برآں اگر عبداللہ عبداللہ کو اشرف غنی کے تحت کوئی نیا عہدہ دیا گیا تو کیا وہ امریکی دباؤ کے تحت یہ عہدہ قبول کریں گے؟ یہ بڑے اہم سوالات ہیں جن کے جوابات جان کیری کی سیاست کاری کے بعد ہی سامنے آسکیں گے؛ تاہم اگر 22 جولائی کے بعد بھی تنازعاات باقی رہے تو افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی میں تیزی آسکتی ہے۔

افغان طالبان کسی بھی صورت میں نہ تو اشرف غنی اور نہ ہی عبداللہ عبداللہ کو برداشت کریں گے کیونکہ یہ دونوں سیاست دان امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی معاہدہ کرنے کو تیار ہیں۔ جس کے تحت امریکہ اس سال کے آخر مین اپنی اور نیٹو افواج کی مکمل انخلاء کے نعد بھی کم از کم 10,000 فوجی افغانستان میں نہ رکھ سکے گا اور جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ اگر صدارتی انتخابات کے سلسلے میں کوئی پر امن راستنہ نہیں نکلتا تو افغانستان مین نہ صرف کمزور جمہوریت کا چراغ گل ہو جائے گا بلکہ گزشتہ گیارہ برسوں میں امریکہ نے اس پسماندہ قبائلی ملک کو جمہوریت سے روشناس کرانے کی جو کوشش کی تھی، وہ بھی رائیگان چلی جائے گی۔

افغانستان میں امن ہو یا خانہ جنگی دونوں صورتوں میں اس کے اثرات پاکستان پر پڑیں گے جس سے بھارت پورا پورا فائدہ اٹھائے گا۔ دراصل افغانستان میں تمام تر برائی کی جڑ حامد کرزئی ہیں جن کو امریکی سی آئی اے نے منہ چڑھا رکھا ہے۔ یہ شخص کسی بھی صورت میں اقتدار سے فارغ نہیں ہونا چاہتا اور ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی و معاشی صورتحال کے پیش نظر وہ ایمرجنسی نافذ کر دے۔ اس طرح وہ نہ صور صدر رہ سکتا ہے بلکہ اس کو بے پناہ اختیارات بھی مل سکتے ہیں۔ 22 جولائی کے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھی اگر فیصلہ اشرف غنی کے حق مین آتا ہے تو افغانستان میں امن کے تمام امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ اس صورت میں امریکہ کرزئی کو افغانستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اشارہ دے سکتا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند