تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان بحران سے طاہر القادری کے انقلاب تک؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 18 رمضان 1435هـ - 16 جولائی 2014م KSA 10:28 - GMT 07:28
افغان بحران سے طاہر القادری کے انقلاب تک؟

عالمی طاقتوں کے رویئے ان کے مفادات اور مقاصد کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور یہ تاریخی حقیقت بھی ہے اور موجودہ سائنسی دور کی سکڑی ہوئی اور برق رفتار عالمی برادری کا وتیرہ بھی۔ اس لئے یہ بات ایک تلخ حقیقت لگتی ہے کہ عالمی ڈپلومیسی کی راہداریوں میں نہ تو کوئی رومانس ہے اور نہ ہی کوئی دشمنی یا دوستی مستقل ہے بلکہ جس کے مفادات کا جس کسی دوسری قوم سے ٹکرائو ہو تو وہاں دشمنی اور اختلاف ہو جاتا ہے اور جہاں مفادات کا اشتراک ہو جائے تو دشمنی دوستی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا اچانک کابل پہنچ کر سبکدوش ہونے والے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات، مذاکرات اور رول ادا کرنے کی امریکی درخواست اس کا ایک عام فہم اور معمولی سا ثبوت ہے۔ امریکہ حامد کرزئی سے نہ صرف ناراض ہے بلکہ ان کی سبکدوشی جلد چاہتا ہے مگر مفادات نے اگر امریکہ کو مجبور کیا تو امریکہ حامد کرزئی کے اقتدار کو مزید کچھ عرصہ کے لئے اسی طرح تیار ملے گا جس طرح اگست میں افغان صدارت کے لئے رسم حلف برداری کو منسوخ کر کے حامد کرزئی کی صدارت کو امریکیوں نے توسیع دلوائی ہے۔ اسی طرح ہمارے ماضی کے حکمرانوں کے پاک، امریکہ تعلقات، تاریخی رشتوں ،دو طرفہ پاک، امریکہ اتحاد کے رومانوی بیانات، خوشامدانہ اور بغیر سوچے سمجھے فیصلوں کی بھرمار ،عوام سے غلط بیانی یہ سب حقیقت سے فرار کی سچی داستان بیان کر رہے ہیں۔

67 سال تک عوام کو رومانوی اور غیر حقیقی تصویر دکھلا کر ہمارے حکمرانوں نے اپنے وقتی فوائد کی خاطر دھوکہ میں رکھا جبکہ عالمی ڈپلومیسی، ملکوں کے باہمی مفادات اور تعلقات کا عمل اور حقائق کو عوام کے سامنے رکھا جاتا تو شاید پاکستانی عوام اس قدر شدید اضطراب کا شکار نہ ہوتے۔ ایک تلخ حقیقت جو گزشتہ ہفتہ پاکستانی عوام کے سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ بعض امریکی دستاویزات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو باعزت اور محفوظ راستہ دینے کا پختہ وعدہ امریکہ سے بھی کر رکھا تھا۔ عوام کو اب پتہ چلا ہے کہ ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کے نعرہ کی عملی حقیقت پرویز مشرف کو باعزت محفوظ راستہ کی ضمانت سے منسلک تھی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف بھی اس کے حامی تھے بعض کا اختلاف بھی ہے مگر امریکی سفیر این پیٹر سن کی خفیہ کیبلز اسلام آباد میں ملاقاتوں اور مذاکرات کا مقصد اسی وعدے کی تعمیل کے سلسلے میں دکھائی دیتی ہے اور ہمارے ہی لیڈروں نے ہمارے ہی عوام کو اس سے بے خبر رکھ کر حکمرانی جاری رکھی۔ اس عرصہ میں پیپلز پارٹی کی سائبر جاسوسی کرنے کے بارے میں امریکی خفیہ رپورٹوں کے انکشافات بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ امریکہ کو پیپلز پارٹی کے اقتدار میں ہونے کے عرصہ میں کوئی الجھن ضرور لاحق تھی جو خفیہ جاسوسی کی گئی۔

کیا ہی بہتر ہو کہ ہمارے سیاست دان اپنے عوام سے منافقت جھوٹ اور دوغلے پن کا رویہ رکھ کر بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کی تعمیل اور خوشامد کا راستہ آج کے جدید دور میں ترک کر دیں اورواضح صاف الفاظ میں یہ تسلیم کر لیں کہ چھوٹے ممالک کے لئے آج کی عالمی طاقتوں کا سامنا کرنے کی سکت نہیں ہے لہٰذا عالمی قوتوں کے ایجنڈے اور مطالبات کی تعمیل چھوٹے اور کمزور ممالک کی ایک حقیقی مجبوری ہے اور کسی رومانس اور اصول پروری کے خیالوں میں گم ہونے کی بجائے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے چھوٹی اقوام کا نقصان کم ہو گا آنے والے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ امیدیں لگائی جائیں۔ جرمنی نے دوسری جنگ عظیم میں شکست کو بھی تسلیم کیا اور تاوان جنگ بھی کھلی آنکھوں اور عملی نتائج کے ساتھ تسلیم کیا عوام سے کوئی جھوٹ یا دوغلا پن بیان نہیں کیا۔ آج وہی جرمنی نہ صرف ترقی یافتہ دنیا کی ایک بڑی معیشت ہے بلکہ پچھلے ہفتے جرمنی میں متعین امریکی سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کو نکالنے کا اقدام بھی کیا ہے حالانکہ وہ اس وقت کسی جاسوسی میں ملوث نہیں تھا بلکہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے جرمنی کے سیاسی اور دیگر قائدین کی کئی سال قبل جاسوسی کی تھی اس کا ردعمل ظاہر کرنے کے لئے ایسا کیا گیا۔

بہرحال افغانستان میںجو صورتحال ہے اس پر پاکستان کے فیصلہ ساز ادارے اور سیاسی قائدین کسی تشویش کا اظہار کرتے نظر نہیں آتے بلکہ وہ پاکستان کی داخلی سیاست کے خلفشار میں اتنے ہی الجھے ہوئے ہیں جتنا کہ برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے انتشار اور راج باڑوں کی سیاست کے ایام میں برصغیر کے جاگیر دار الجھے ہوئے تھے اور غیر ملکی تسلط کی آمد سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی تھیں کسی ایسی خوش فہمی میں اہل پاکستان کو نہیں رہنا چاہئے کہ افغانستان جس سمت میں جا رہا ہے اور امریکیوں کے انخلا کی صورت میں افغانستان میں جو کچھ ہو گا وہ صرف افغانستان تک محدود رہے گا بلکہ افغانستان میں اگر لسانی، علاقائی اور نسلی بنیادوں پر جغرافیائی ٹوٹ پھوٹ ہوئی تو نہ صرف تقسیم افغانستان کے اس خطرہ سے امریکی فوجیوں کی بارہ سالہ قربانیاں، اربوں ڈالرز کی امریکی امداد ضائع ہو جائیں گی بلکہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ پاکستان اور نیٹو ممالک کی جنگ شکست میں تبدیل ہو سکتی ہے بلکہ تقسیم کا یہ،خطرہ پاکستان کی جانب بھی تیزی سے بڑھ سکتا ہے جہاں پہلے ہی صورتحال اس حوالے سے کافی تشویشناک ہے۔ تقسیم افغانستان سے نہ صرف افغان سکیورٹی ،فورسز ،حکومتی ادارے اور علاقے تقسیم ہو جائیں گے بلکہ افغانستان مزید تباہی کا شکار ہو کر پاکستان، ایران سے بھی بڑھ کر وسط ایشیائی ممالک کو بھی لپیٹ میں اسی طرح لے سکتا ہے جس طرح شام و عراق کے حالات نے پوری عرب دنیا کو اپنی لپیٹ میں رکھا ہے۔

ہمارے سیاسی قائدین کو یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ آج وہ کسی غیر ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرکے آنے والے وقت میں خود بھی اس کے نتائج بھگت سکتے ہیں۔ صرف قوم اور عوام ہی نہیں بھگتیں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے ماضی میں انتخابات کو انجینئر کرنے کا الزام لگا کر جس تلخی کو ہوا دی تھی آج اسی الزام کو دوہرا کر افغان صدارت کے دونوں امیدوار مزید کشیدگی اور منافرت پھیلا کر افغانستان کے تقسیم ہونے کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔ ملک اور قوم تو بھگت رہے ہیں مگر حامد کرزئی بھی امریکی ناراضی کی صورت میں سزا پا رہے ہیں اس طرح جس حامدکرزئی کو امریکہ نے مئی 2009ء میں (RUN OFF) دوبارہ انتخابات منعقد کرانے کے لئے وزیر خارجہ جان کیری کے ذریعے مجبور کیا تھا آج وہی جان کیری اسی ناراض حامد کرزئی کے تعاون سے ہی امریکی مقاصد حاصل کرنے کا ضرورت مند ہے۔ خدانخواستہ یہ صورتحال برقراررہی تو طالبان سے بھی زیادہ بڑا سنگین خطرہ تقسیم افغانستان کی صورت میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے لہٰذا پاکستانی قائدین عمران خان اور علامہ طاہر القادری اپنے ایکشن سے قبل ایک مرتبہ پھر اپنے اعلانات اور فیصلوں کا جائزہ لے لیں کہ پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود اور ملک میں انصاف کا بہتر نظام لانے کے لئے وہ جس احتجاج اور تحریک کا آغاز کر رہے ہیں کہیں وہ پاکستان کو مزید خطرات سے دوچار تو نہیں کر دے گا ؟ یہ درست ہے کہ موجودہ نظام خرابیوں سے بھرا ہوا ہے لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلم دنیا جس دلدل میں دھنستی جا رہی ہے کہیں پاکستان بھی اسی بہائو اور دلدل میں پھنس نہ جائے۔باشعور اور تاریخی رول ادا کرنے والے قائدین وقت کی نزاکت بھانپ کر بعض مرتبہ اپنے پروگرام طاقتوں کے ارادے اور اپنی داخلی کمزوریوں کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کریں اور نتائج کی ذمہ داری بھی لیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند