تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بے حسی اور بے حسی اور بے حسی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 19 رمضان 1435هـ - 17 جولائی 2014م KSA 09:54 - GMT 06:54
بے حسی اور بے حسی اور بے حسی



وہ تو قتل ہو گیا، اس کی روح، لگتا ہے، مسلمان حکمرانوں میں حلول کر گئی۔ یہ قصہ ہے 1258ء کا اور بے حسی کا۔ واقعہ کو 750 برس گزر گئے، بے حسی اب بھی ہے۔ ہلاکو کے ایک فوجی نے ایک مسلمان کو زمین پر گرا لیا تھا۔ فوجی کی تلوار مسلمانوں کی گردنیں کاٹتے کاٹتے کند ہو گئی تھی۔ اسے دوسری تلوار چاہئے تھی۔ زمین پر پڑے ہوئے شخص سے اس فوجی نے کہا یہیں رہنا، میں دوسری تلوار لے کر آتا ہوں۔ اسے تلوار لانے میں کچھ وقت تو لگا ہو گا؟ مسلمان کو بھاگنے کا موقع بھی ملا۔ مگر تاتاری فوجی جب واپس آیا تو بغداد کا بے حمیت باشندہ وہیں پڑا ہوا تھا۔ تاتاری نے اس کے خون سے اپنی تلوار کی پیاس بجھائی، ٹھنڈے بے حس خون سے۔
’’یہ مسلمان حکمران کچھ کرتے کیوں نہیں، غزہ میں اسرائیل اتنے ظلم ڈھا رہا ہے؟‘‘ سوال ایک مسلمان بیٹی کا ہے، جواب کسی کے پاس نہیں۔ آج تک اسرائیل دو سو فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ وہ ایک تنظیم تھی اوآئی سی ۔۔ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز ۔۔ وہ کہاں ہے؟ اس کا کوئی کردار اس معاملے میں ہونا چاہئے تھا۔ کیوں نہیں ہے؟ اور اقوام متحدہ؟ کیا وہ بھی ہے؟ اس کا سیکریٹری جنرل صرف بیان بازی تک محدود ہے۔ کیا اسے صرف یہی کرنا چاہیے؟ کیا ظالم کے ہاتھ پکڑنے والا کوئی ہے؟ وہ جو ساری دنیا کی چوھد راہٹ کا دعویدار ہے، جس کے دماغ میں طاقت کا خناس بھرا ہوا،اور بڑائی کا۔ جو انسانی حقوق کے نام پر کسی بھی ملک پر چڑھ دوڑتا ہے، اسے تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے، وہ امریکہ کہاں ہے؟ اسرائیل تو اس کالے پالک ہے، اسے روکتا کیوں نہیں؟ اور اس کا صدر، سیاہ فام باراک حسین اوباما؟ اس کا باپ تومسلمان تھا۔ اور وہ خود واحد سپر پاور کا صدر ہے۔ وہ اسرائیل کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتا؟ سوال بہت ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں؟ عالمی ضمیر؟ سب سو گئے ہیں؟ کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔ کوئی نہیں بول رہا۔
امریکہ؟ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت عجیب و غریب ہے، حیران کن ، بعض معاملات میں۔ اسرائیل اور لبنان میں پچھلی صدی کی آخری دہائی میں جنگ ہوئی۔ اسرائیل نے لبنان پر متعدد بار بمباری کی۔ حدتو یہ ہے کہ ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے ایک ایمبولینس پر دو میزائل فائر کئے۔ ایک پھٹ گیا، بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے۔ ایمبولینس تباہ ہوگئی۔ دوسرا مزائل پھٹا نہیں، زمین میں دھنس گیا۔ یہ میزائل اسرائیلی فوج نے خریدے ہوں گے فلسطینیوں پر حملے کرنے کے لئے؟ جی نہیں۔ تو پھر اس کے ہاتھ کیسے لگے؟ دلچسپ کہانی ہے۔ انڈیپنڈنٹ اخبار کے رابرٹ فسک نے بڑی تحقیق کی اور یہ پتہ چلایا کہ یہ میزائل اسرائیل کو کیسے ملتے ہیں۔ لبنان کے علاقہ منصوریہ پر اسرائیلی حملہ جاری تھا، ہرطرف دھوئیں کے بادل تھے، اسرائیلی بموں سے اٹھنے والے دھوئیں کے۔ ایک خاتون صحافی، نجلہ، بھی وہاں موجود تھی۔ وہ رائٹر کے لئے کام کرتی تھی۔ دو امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر فضا میں تقریباً معلق تھے۔ انہیں کس کی تلاش ہے؟ نجلہ نے خوف سے سوچا۔ اسی دوران منصوری کے عباس جیہا خوفزدہ خاندانوں کو منتقل کرنے کے لئے قریب کے گائوں سے ایک پرانی ایمبولینس لے آیا۔ اس پرانی سی گاڑی میں چودہ افراد سوار ہو گئے، جن میں بچے تھے عورتیں تھیں اور صرف دو مرد۔ امریکی ہیلی کاپٹر نے اس ایمبولینس کا پیچھا کیا اور اسے ہیل فائر میزائل سے نشانہ بنایا۔ ایک میزائل نے ایمبولینس کے ٹکڑے اڑادئے، سات افراد ہلاک کر دیئے، جن میں بچے اور عورتیں ہی تھیں۔ دوسرا میزائل پھٹا نہیں۔

انہیں مزائلوں کے ٹکڑوں پر کُندہ کوڈ نمبروں سے، بہت تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ اسرائیل کو یہ اور بہت سے دوسرے مہلک ہتھیار کیسے ملتے ہیں۔ ان مزائلوں پر، تمام امریکی اسلحہ کی طرح، کچھ کوڈ نمبر دئے ہوتے ہیں۔ ہیل فائر نام کے یہ میزائل پہلے راک ویل انٹرنیشنل اور مارٹن میریٹا بناتے تھے ۔ راک ویل اب بوئنگ نے لے لی ہے۔ (آپ نے بوئنگ جہاز میں اکثر سفر تو کیا ہوگا، جی ہاں وہی بو ئنگ)۔ ایمبولینس پر جو میزائل مارا گیا اس کا ایک کوڈ تھا 1410-01-192-0293 ۔ اور اس کا لاٹ نمبر تھا MG188J315-534۔ اس کوڈ کا ایک مطلب ہے۔ راک ویل نے یہ میزائل امریکی میرین کو بیچے تھے، اسرئیل کو نہیں۔ نیٹو کے تمام ممالک کے الگ الگ کوڈ ہیں۔ برطانیہ کا کوڈ 99 ہے، اٹلی کا 15، اسرائیل کا 31۔ تو یہ 01 کے کوڈ والا، یعنی امریکی میرین کا خریدا ہوا میزائل اسرائیل کے ہاتھ کیسے لگا؟ کچھ سال پہلے تقریباً تین سو میزائل امریکی میرین نے خلیج کے ممالک کو بھیجے تھے۔ یہ کویت پر عراقی قبضے کے خلاف استعمال ہونے تھے۔ ان میں سے159 عراقی فوج پر فائر کئے گئے۔ جب کویت کا مسئلہ حل ہو گیا تو ڈیڑھ سو غیر استعمال شدہ ہیل فائر میزائل اور دوسرا اسلحہ خاموشی سے اسرائیل بندرگاہ حیفہ میں اتار دیا گیا-

اسرائیل کو ایک تحفہ۔ امریکہ اسرائیل کو نہ صرف اسلحہ بیچتا ہے، امداد میں دیتا ہے، بلکہ خفیہ طریقوں سے ایسا اسلحہ فراہم کرتاہے جس پر یہ قوانین لاگو نہیںہوتے کہ اسے عام نہتے شہریوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ بعض امریکی اخبارات کے مطابق امریکی فوجی افسروں میں اس بات پر غصہ پایا جاتا ہے کہ گذشتہ بیس پچیس برس میں امریکی اسلحہ خانے سے ہزاروں کی تعداد میں ٹینک اور armourنکال کر اسرائیل کو دے دئے گئے۔ حالانکہ امریکی وزارت دفاع نے، کہا جاتا ہے، اس پر اعتراض بھی کیا تھا۔ امریکہ مسلسل خفیہ طریقے سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتا رہا ہے۔ 1970کی روس امریکہ سرد جنگ کے دوران جرمنی سے سینکڑوں ٹینک نکال کر اسرائیل بھیجے گئے۔ تقریباً اسی وقت ایک بحری اسٹیشن سے ہوائی جہازوں کا آدھا اسکواڈرن نکال کر ان پر اسرائیل شناخت پینٹ کی گئی۔ یہ سارا اسلحہ فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہوا اور ہو رہا ہے۔

اور ہم کیا کررہے ہیں؟ عراقی قبضے سے نجات کے بعد کویت نے دو ارب ڈالر کے ٹینک خریدے، سعودی عرب نے برطانیہ سے ساڑھے سات ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا اور فرانس سے تقریباً چار ارب ڈالر کی آبدوزیں۔ اس سے پچھلے سال امریکہ سے نو ارب ڈالر کے لڑاکا طیارے خریدے جا چکے تھے۔ اور فلسطینیوں کی کتنی مدد کی گئی۔ غزہ۔ جیریکو معاہدے کے لئے صرف دس کروڑ ڈالر دئے گئے۔ ساڑھے تین ارب ڈالر کے ٹینک خریدنے والا ایک خلیجی ملک فلسطین کو صرف ڈھائی کروڑ ڈالر دے سکا۔ خلیج کی جنگ کے بعد امریکہ نے خلیجی ریاستوں کو 28 ارب ڈالر کا اسلحہ بیچا، جس میں سے17 ارب ڈالر کا اسلحہ صرف ایک ملک نے خریدا۔ اُن دنوں اِن ممالک کو اوسطاً ساڑھے چار کروڑ ڈالر روز کا اسلحہ بیچا جا رہا تھا۔

یہ اسلحہ کہاں جاتا ہے؟ اس کا استعمال کیا ہے؟ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں سے صرف عراق جنگ لڑتا رہا ہے، کبھی ایران سے، کبھی کویت سے، گو امریکہ کے کہنے پر۔ عراق پر امریکی حملہ میں بھی یہ اسلحہ کسی کام نہیں آیا۔ باقی ملک تو امن سے رہ رہے ہیں، اچھی بات ہے۔ تو پھر یہ اسلحہ کیوں خریدا جاتا ہے؟یہ تو امریکہ کی طرح خاموشی سے، خفیہ طریقے سے فلسطین منتقل بھی نہیں کرتے، کر بھی نہیں سکتے۔ اسلحہ بیچنے والوں کی طرف سے پابندیاں ہیں۔ تو پھر اس فضول خرچی کا مقصد؟ فائدہ تو ظاہر ہے کوئی نہیں۔ ان تمام ممالک کے امریکہ سے بہت اچھے تعلقات ہیں، کہا تو یہی جاتا ہے۔ مگر ان کے یہ تعلقات کبھی فلسطینیوں کے حق میں استعمال نہیں ہوئے۔ وہاں بے گناہ شہری،معصوم بچے اور با حیا خواتین اسرائیل بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، پہلے بھی بنتے رہے، ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا گیا، جو اب تک جاری ہے۔ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا۔ ان علاقوں کی تقدیر بے حس حکمرانوں کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ ’’یہ مسلمان حکمران کچھ کرتے کیوں نہیںہیں ، غزہ میں اسرائیل اتنا ظلم ڈھا رہا ہے‘‘۔سوال کی گونج ختم ہی نہیں ہوتی، جواب کیا دیں؟ کیسے دیں؟ کون دے؟ احساسِ زیاں جاتا رہا۔ بس بے حسی ہے ، اور بے حسی، اور بے حسی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند