تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ست رنگا میلہ ختم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 19 رمضان 1435هـ - 17 جولائی 2014م KSA 10:03 - GMT 07:03
ست رنگا میلہ ختم

اوسلو سے لیکر چڑھتے سورج کی دھرتی ٹوکیو تک سات براعظم جاگتے تھے اور فٹ بال کی دنیا پر حکمرانی کی جنگ جاری تھی۔ اس مہایدھ نے زمان و مکاں کی قید کو 120 منٹ کیلئے ختم کر کے رکھ دیا۔ فاصلے سمٹ گئے۔ صحرائے اعظم کے ریت سے اٹے شہروں اور سائبریا کے برف زاروں تک، کہیں سپیدہ سحر نمودار ہو رہا تھا، کہیں شام کے سائے دراز ہو رہے تھے تو کہیں سورج سوا نیزے پر چمک رہا تھا۔ کہیں استوائی خطوں میں موسلادھار بارشیں برستی تھیں۔ ان سب خطوں میں، ایک دوسرے سے ہزاروں میلوں کے فاصلے پر مرد و زن کی کھلی آنکھیں ایک ہی نکتہ پر مرکوز تھیں۔ نسلی تفاخر کا شکار سفید فام جرمنی اور گندمی رنگت والے ارجنٹائن کے مابین فٹ بال میچ کے فائنل مقابلے پر۔

ماضی گم گشتہ کی مایا تہذیب کے اسراروں کی امین دھرتی، برازیل کے دارالحکومت ریوڈی جنیرو کے نوتعمیر شدہ مارکانہ سٹیڈیم میں 75 ہزار نفوس چٹختے اعصاب، گردن سے لیکر کمر تک رینگتے پسینے کی لہر کے ساتھ بائیس کھلاڑیوں پر مشتمل دو لشکروں کے درمیان اس پرجنون مقابلہ کو دیکھتے تھے۔ ایک ارب سے زائد انسان، ٹی وی سکرینوں کے سامنے دم سادھے ہنر، طاقت، توازن کی تحیر خیز کشمکش کو دیکھ رہے تھے۔ دنیا کے 120 ٹی وی چینل کھیل کے اس میدان سے، کیمرے کی آنکھ کے ذریعے فائنل مقابلے، ہر لمحے فٹ بال کے حصول کیلئے ایک دوسرے سے ٹکراتے، زخمی ہو کر گرتے، چند لمحوں بعد تازہ چوٹوں کو بھول کر ایک مرتبہ پھر سرپٹ دوڑ اٹھنے کے منظر کو یوں براہ راست نشر کر رہے تھے۔ جیسے یہ میچ برازیل نہیں بلکہ ان کے دفتر کے کمرے، گھر کے بیڈ روم یا صحن میں برپا ہو۔ جو لوگ حالت سفر میں تھے۔ وہ دوران سفر سمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل ٹیب کے ذریعے میچ کی صورت حال کے متعلق جانکاری کی تگ و دو میں تھے۔ کوئی سیل فون کے ذریعے باخبر تھا۔ لاکھوں ٹرانسسٹر کے ذریعے کمنٹیٹر کی ہیجان انگیز آواز کے ساتھ مقناطیس کی طرح چمٹے ہوئے تھے۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ خلاؤں اور اس سے بھی آگے مریخ اور دیگر سیاروں کے سفر پر نکلے خلاباز بھی کسی مواصلاتی معجزے کی مدد سے یہ میچ دیکھتے ہوئے کچھ دیر کے لئے اپنے سائنسی تجربات کو بھول گئے ہوں گے۔ فٹ بال کا جادو اسی طرح سر چڑھ کر بولتا ہے۔

فائنل مقابلہ کا فیصلہ مقررہ 90 منٹ میں نہ ہوسکا۔ جرمن ٹیم کھیلوں کی دنیا کی سب سے بڑی ٹرافی کا تحفہ قوم پر وار دینے کے لئے ایک ٹیم بن کر متحد ہو کر کھیلی۔ جرمنی کے برق رفتار جارح مزاج کھلاڑیوں نے مستعد ہراول دستہ کی طرح مخالف ٹیم پر پے در پے حملے کئے۔ مولر، فلپ، ٹونی کروز اور دیگر کھلاڑیوں نے منظم ہو کر بار بار قلعہ فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ساؤتھ امریکی قوم، ارجنٹائن کے دفاع میں شگاف ڈالنے میں ناکام رہے۔ ادھر ارجنٹائن جو آخری دفعہ فٹ بال کے ساحر میرا ڈونا کی قیادت میں 1986ء میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ 28 سال بعد اس کے پاس ایک مرتبہ پھر یہ موقع تھا کہ وہ یہ اعزاز یورپ سے چھین کر لاطینی امریکہ لے جائے۔

ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی جس کی جھولی فٹ بال کے ہر انفرادی اعزاز سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن اس کا دامن ابھی تک ورلڈ کپ کی طلائی ٹرافی سے محروم ہے۔ میسی کیلئے موقع تھا کہ وہ اس بار یہ امتیازی ستارہ اپنی قوم کے شانوں پر سجا دے۔ اس سے پہلے وہ سیمی فائنل جیت کر اپنی قوم کو یوم آزادی کا تحفہ دے چکے تھے۔ میسی اور اس کے ساتھیوں نے اپنی اہلیت، صلاحیت اور ہنر کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ لیکن وہ بھی جرمن ڈیفنس کی آہنی دیوار میں کوئی رخنہ نہ تلاش کر سکے۔ جرمنی کے سٹار کھلاڑی ناکام رہے۔ بے چینی اور اضطراب جرمنی کے کیمپ میں غبار بن کر چھایا صاف نظر آ رہا تھا۔ 22 ساہ ماریو گوئٹنر چپ اضافی کھلاڑیوں کی لائن میں تماشائی کی طرح دو طوفانوں کو آپس میں ٹکراتے دیکھ رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں میچ ختم ہو جاتا تو شائد کسی کو یاد بھی نہ رہتا کہ اس نام کا کوئی کھلاڑی ٹیم میں موجود ہے۔ لیکن کاتب تقدیر نے غروب ہوتے سورج کے ان لمحات میں اس بے نام کھلاڑی کے لئے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ سٹار کھلاڑی کلوزے آخری لمحات میں سست پڑا تو کوچ نے جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ ماریو گوئٹزے کو میدان میں اتارا۔

کھیل کے 113 ویں منٹ تک مقابلہ برابر تھا۔ سات منٹ بعد مقابلہ برابر رہتا تو پھر فیصلہ پینلٹی ککس پر ہوتا۔ پینلٹی ککس میں ہٹ لگانے والے کے سامنے صرف گول کیپر ہوتا ہے۔ بالکل ڈوئل کی طرح، ایک کی کامیابی دوسرے کی ناکامی پر تصدیق کی مہر ثبت کر دیتی ہے۔ گزری صدیوں میں یورپ اور امریکہ میں شرفا کی آن بان اور عزت وقار پر بن آتی تو مخالف کو ڈوئل لڑنے کا چیلنج دے ڈالتے۔ تلوار یا پستول سے دوبدو مقابلہ ہوتا۔ ایسے مقابلوں میں فتح اور شکست کا انحصار مہارت سے زیادہ تقدیر اور اتفاقات پر ہوتا ہے۔ پینلٹی ککس کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ذرا سی کمزور ہٹ اور گول کیپر کی معمولی سی سستی نتیجہ بدل ڈالتی ہے۔ ڈوئل میں صرف سات منٹ باقی تھے کہ وہ فسوں کار لمحہ آن پہنچا جس نے حتمی فیصلہ کر دیا۔ یہ موو بائیں بازو سے بنی۔ آندرے شولر نے انتہائی بائیں کونے سے کئی کھلاڑیوں کو چکما دیا اور فٹ بال کو ہٹ لگا کر گول پوسٹ کے کونے کے سامنے کھڑے گوئٹزے تک پہنچا دیا۔

19 نمبر کی جرسی میں ملبوس ماریو صحیح وقت پر درست جگہ پر موجود تھا۔ اس نے قوس بنا کر آتے ہوئے فٹ بال کو چھاتی پر روکا، بال کشش ثقل کے باعث زمین سے ٹکرانے کیلئے زمین کی جانب گامزن تھا۔ اسی لمحے کے ہزارویں حصہ میں فارورڈ کھلاڑی نے اپنے جسم کو اچھالا، ہواؤں کے سپرد کیا اور ہوا میں ہی ایک زور دار کک لگائی۔ 113 منٹ سے آہنی دیوار بنا گول کیپر بیٹ ہوا اور فتح و شکست کا فیصلہ ہو گیا۔ ایک لمحہ میں بے نام ماریو گم نامی کے فرش سے اٹھ کر شہرت کے عرش پر جا پہنچا۔ ایک طرف خوشی کے شادیانے بج گئے، دوسری جانب صف ماتم بچھ گئی۔ جرمنی چار سال کے لئے ورلڈ کپ کا فاتح بن گیا۔

ورلڈ کپ کا دھنک رنگ میلہ ختم ہوا۔ ایک مہینہ سے زائد جاری رہنے والے ایونٹ نے شائقین کی نیندیں تو چھین لیں لیکن ان کو خوشیوں سے نہال کر گیا۔ ہیرو زیرو ہو گئے۔ سپین ایسی ٹیم چلی اور نیدر لینڈ کے ہاتھوں شکست کھا کر پہلے راؤنڈ سے باہر ہو گی۔ میزبان برازیل کو براہ راست 64 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ اس ایک ماہ کے دوران 80 لاکھ سیاح برازیل میں وارد ہوئے۔ اس کے ساحل آباد، کیفے، کلب، ہوٹل اور تفریحی مقامات جگ مگاتے رہے۔ مخلوق خدا خوشیوں کی مہکتی، ست رنگی بارش سے سیراب ہوتی رہی۔ سیاحوں کی آمد سے 28 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا۔ اہل پاکستان سیالکوٹ ساختہ خوش رنگ فٹ بال کو میدانوں میں لڑھکتے دیکھ کر اپنا جی بہلاتے رہے۔ کوسٹاریکا، گھانا ایسی قحط زدہ اقوام کوالیفائی کر گئیں۔ آئیوری کوسٹ ایسا ننھا سا جزیرہ بھی کھیل میں شریک ہوا۔

فتح و شکست کھیل کا حصہ ہے۔ ارجنٹائن کی ٹیم فائنل ہار کر بیونس آئرس پہنچی تو خاتون صدر ہوائی مستقر پر موجود تھیں۔ عوام نے اپنے دل ان کھلاڑیوں کے قدموں میں بچھا دیئے۔ فاتح ٹیم برلن ائیرپورٹ پر اتری تو شہر کے سارے پھول ان فاتحین پر نچھاور کر دیئے گئے۔ مہذب قوموں کو خوشی بھی منانا آتی ہے اور سوگ و شکست کو بھی باوقار طریقہ سے برداشت کرنا آتا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ ہاکی کو دیس نکالا دے چکے۔ لٹھ لیکر کرکٹ کے تعاقب میں ہیں۔ اب کرنے کے لئے کچھ اور باقی نہیں رہا تو چودہ اگست کو یوم آزادی ہمارے نشانے پر ہے۔ موقع ملا تو اس کو بھی متنازعہ بنا کر اعزاز حاصل کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند