تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یوکرین پر قبضے کی لڑائی انسانیت کی دشمن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 21 رمضان 1435هـ - 19 جولائی 2014م KSA 12:18 - GMT 09:18
یوکرین پر قبضے کی لڑائی انسانیت کی دشمن

مشرقی یوکرین کے آسمان پر ملیشیا ایئر لائنز کے جس طیارے کو مار گرایا گیا اس میں تقریباً تین سو افراد سوار تھے اور سب ہلاک ہو گئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک مسافر طیارے کو مار گرایا گیا جس میں ایسے لوگ سوار تھے جن کا یوکرین اور روس کی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جن کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ اس علاقے کے لیے امریکہ اور روس کے درمیان بالادستی کی جنگ چل رہی ہے۔ اتنی بات بالکہ سچ ہے۔ اس سچائی کو بنیاد بنا کر اب روس اور امریکہ کے ساتھی اپنی سہولت سے سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں لگ گئے ہیں۔ ملیشیا ایئر لائنز کا مسافر طیارہ، جس علاقے میں مار گرایا گیا وہ موجودہ یوکرین حکومت کے ٹھیکیداروں کے خلاف کام کر رہے باغیوں کے قبضے میں ہے۔

دارالحکومت میں جو حکومت ہے اس کا وزیر اعظم امریکہ کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کرتا ہے جبکہ اس کی مخالفت کر رہے نام نہاد باغی روسی کٹھ پتلیاں ہیں۔ دراصل کولڈ وار ختم ہونے کے بعد روس اور امریکہ کے درمیان باہمی رسہ کشی کی یہ سب سے بڑی مثال ہے۔ طیارے کے مار گرائے جانے کی خبر کی تصدیق بھی نہیں ہو پائی تھی کہ یوکرین کے افسروں نے روس پر الزام لگانا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملیشیا ایئرلائینز کا بوئنگ کسی ایسے میزائل سے مارا گیا ہے جو روس میں بنا ہوا ہے اور بہت ہی جدید ٹکنالوجی سے بنایا گیا ہے ۔ اس افسر نے میڈیا میں خبریں دینا شروع کر دیں کہ باغیوں کے ہاتھ یہ میزائل گزشتہ دنوں ہی لگا تھا۔

رات میں ایک پریس کانفرنس میں یوکرین کے داخلی سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے ایک بڑے افسر نے بتایا کہ انہوں نے کچھ فون بات چیت انٹرسیپٹ کی ہیں جنس کے بنیاد پر وہ پکے طور پر کہہ سکتے ہیں کہ حملہ باغیوں کا ہی کار گزاری ہے۔ ظاہر ہے کہ باغیوں کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرا دینے کے بعد روس پر حملے کے جواز بالکل فٹ بیٹھ جائیں گے۔ یوکرین پر قبضہ کرنے کے پر کسی جنگ میں لگے امریکہ اور روس کے درمیان یہ اب تک کا سب سے گھنائونا باب ہے۔ جس نے بھی یہ کارنامہ کیا ہے اس کو یوکرین کے قبضے کی لڑائی کو بین الاقوامی بنا دینے کی زبردست خواہش ہو گی کیونکہ دوسری صورت میں اتنے معصوم لوگوں کو بے موت مار دینا کہاں کی بہادری ہے۔ یوکرین پر قبضے کی لڑائی میں کبھی امریکہ کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کبھی روس کا۔

ابھی روس باغیوں کی طرف ہے لیکن ابھی کچھ دن پہلے تک امریکہ باغیوں کی مدد کر رہا تھا۔ اب امریکی باغی اقتدار میں ہیں جبکہ روس کے ساتھی پرانے صدر کی ٹولی والے باغی ہو گئے ہیں۔ دراصل نومبر ہو گئے ہیں۔ دراصل نومبر 2013ء میں یورپی یونین اور یوکرین کے درمیان دوررس سیاسی اور آزاد تجارت کے معاہدوں پر دستخط ہونے والے تھے ۔ جس کے بعد یوکرین بھی 28 ممالک کی یورپی یونین کارکن بن جاتا۔ اس معاہدے کے لیے یورپی یونین کے کچھ ملک خاص طور پر جرمنی کئی برسوں سے کوشش میں تھے۔ لیکن عین وقت پر صدر یانکووچ کا پلٹ جانا اور اس کے بدلے روس سے 15 ارب ڈالر کی مدد حاصل کرنے اپوزیشن اور یورپی یونین کی حمایتیوں کو ناگوار گزرا، نتیجتاً حکومت مخالف تحریک کی شروعات ہوئی۔ یوکرین کی سڑکوں پر مظاہرین اتر آئے۔ مظاہرین نے اس تحریک کو ''یورو میدان'' نام دیا ہے۔ اس دوران حکومت نے دار الحکومت میں ہو رہے مظاہرے پر لگام کسنے کے لیے سخت قانون نافذ کر دیا، جس کے تحت سرکاری کام کاج میں رکاوٹ ڈالنے یا سرکاری عمارتوں تک جانے کا راستہ روکنے پر جیل کی سزا کا التزام کر دیا گیا ۔ کارکردگی کے دوران ہیلمیٹ یا ماسک پہننے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ لیکن مظاہرین کی حکومت مخالف کارکردگی جاری رہی۔ 19 اور 20 فروری 2014ء کو پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی جس میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً 500 زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کے بعد 23 فروری کو یوکرین کی پارلیمنٹ نے مواخذے کے ذریعہ صدر وکٹر یانکووچ کو اقتدار سے بے دخل کر دیا اور انہیں ملک چھوڑ کر بھاگن پر مجبور ہونا پڑا۔

ادھر ''یورو میدان'' کی تحریک جا رہی تھی کہ روس کے حامیوں اور فوجیوں نے کریما کی سرکاری عمارتوں، پارلیمنٹ ، ہوائی اڈے اور بندرگاہ پر قبضہ کر لیا۔ روسی بولنے والا اکثریتی کریمیا اب روس کے قبضے میں ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوین کے اس قدم سے دنیا بھر میں تشویش چھا گئی اور کئی ممالک کے سفارتکار حرکت میں آ گئے۔ روس کے قدم کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بتایا جانے لگا۔ ''یورو میدان''کی تحریک اب کرییا اور روس کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔

1954ء سے پہلے کریمیا روسی سوویت یونین کا حصہ تھا اور اس وقت سوویت یونین میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری نکتا خرشچیو تھے جو یوکرین تھے۔ انہوں نے فروری 1954ء میں کریمیا کو یوکرین سوویت یونین کے تابع کر دیا۔ چونکہ روس اور یوکرین سوویت یونین کا ہی ایک حصہ تھے اس لیے خرشچیو کے اس فیصلہ سے کسی کو تکلیت نہیں ہوئی۔ وہ دور سوویت یونین کی مضبوط تنظیم اور رکن فیڈریشنوں کی ترقی کا تھا۔ سوویت یونین کے فیڈریشن اقتصادی، سیاسی اور سماجی طور پر یکسان حق رکھتے تھے اس لئے بھی اس وقت کریمیا کے یوکیرن کے ساتھ مل جانے کی مخالفت بے جواز تھی۔

1991ء میں سوویت یونین سے الگ ہو کر جب یوکرین آزاد ملک بنا تب کریمیا نے اس کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ لیا۔ یوکرین لسانی بنیاد پر روس سے بالکل الگ ملک بن گیا۔ یہان 78 فیصد یوکرین زبان بولنے والے اور 17 فیصد روسی زبان بولنے والوں کی آبادی ہے۔ جبکہ کریمیا صوبے میں تقریبا 59 فیصد روسی نثاد اکثریتی روسی بولنے والے ہیں۔ یوکرین کا حصہ ہونے کے باوجود کریمیا کو خودمختار فیڈریشن کا درجہ حاصل ہے۔ لسانی بنیاد پر مختلف ہونے کی وجہ سے یہ جنوب مشرقی صوبہ اپنے آپ کو یوکرین سے دور اور روس سے قریب مانتا آیا ہے۔ اس کا اہم سبب گزشتہ 15 برسوں سے یوکرین میں پیر پھیلا رہے دائیں بازو والے اور نازی انتہا پسند ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ یوکرین مکمل طور پر یوکرین زبان بولنے والے لوگوں کا ملک بنے اور دوسری زبان والے یہاں سے اپنی اصل جگہ چلے جائیں۔ وہ دوسری زبان بولنے والے یوکرین شہری ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ المیہ ہی مانا جائے گا کہ سابق سوویت یونین سے الگ ہوئے کئی فیڈریشنوں میں اس وقت لسانی بنیادوں پر ملک کی حفاظر کرنے والے انتہا پسند سرگرم ہیں۔ سوویت یونین کے وقت سماجی اور اقتصادی تو توازن کے لیے صوبائی بنیاد پر کل کارخانے قائم کئے گئے تھے۔ یوکرین دنیا کا تیسرا سب سے بڑا زرعی پیداواری ملک ہے۔ یہاں گندم کی پیداوار وافر مقدار میں ہوتی ہے۔ بلیک سی یعنی بلیک سی کے کنارے سے لگا ہونے کی وجہ سے یہاں صنعتی ترقی بھی بہت ہوئی۔ مینوفیکچرنگ میں ایرو اسپیسم صنعتی سامانم ریلوے وغیرہ کے آنے سے یوکرین روس کے بعد سوویت یونین کا دوسرا سب سے بڑا فیڈریشن بن گیا تھا۔ دراصل م سوویت یونین کے بنیادی ڈھانچے کو تیار کرتے وقت ہر فیڈریشن کو وہاں کی کثرت کے فارمیٹ میں تقسیم کیا گیا تھا۔ یونین کے تمام فیڈریشن ایک دوسرے کے لیے مفید اور ایک دوسر پر منحصر ہوتے تھے۔

یوکرین میں قدرتی گیس کی کمی ہے، جسے روس پوری کرتا آیا ہے۔ اسی طرح یوکرین گندم روس کے کھانے کا اہم حصہ ہے۔ روسی خلائی مہم کی ترقی میں بھی یوکرین کا ایرو اسپیس اہم کردار ادا کرتا آٰیا ہے۔ یوکرین کے آزاد قوم بننے کے بعد سے بلیک سی کو لے کر روس اور یوکرین کے درمیان کھینچ تان چلتی رہی۔ روس اپنے بحریہ کے لیے بلیک سی میں ایک مستقل ٹھکانہ چاہتا تھا۔ بالآخر 1997ء میں روس اور یوکرین کے درمیان ہوئے ایک معاہدہ میں بلیک سی کے 81 فیصد حصہ کو روسی بحریہ کے استعمال کے لیے دے دیا گیا۔ اس معاہدے سے ایک طرف جہاں روس اپنے مشن بلیک سی میں کامیاب ہو گیا وہیں یوکرین کو سبسڈی کے تحت قدرتی گیس اور دیگر اقتصادی مدد حاصل ہونے لگیں۔ آئندہ سالوں میں اس وقت کی یوکرین حکومت کا روس کے تیئں جھکائو بڑھتا جا رہا تھا کہ 2004ء میں مغرب کی نمائندگی کرنےوالی اپوزیشن کی لیڈر یولیا تموشینگو کی قیادت میں اورنج ریوولیوشن کا آغاز ہوا تھا۔ اس انقلاب کا بنیادی مقصد برسر اقتدار حکومت کو اکھاڑ پھینکنا، آئینی اصلاحات کرنا اور بدعنوانی سے مبرا حکومت کی تشکیل کرنا تھا۔ تقریباً 2 سال کے بعد تموشینگو یوکرین کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ 4 سال کے دور حکومت میں تمو شینگو کا مغربی ایجنڈا چلتا رہا۔ یوکرین کو روس سے الگ کر یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ اقتصادی تجارتی معاہدے کا خاکہ تیار کیا گیا۔

اس دوران یوکرین میں لسانی اختلافات بھی ابھر کر آنے لگے۔ روس کے ساتھ تعلقات میں پھر سے کھٹاس آ گئی۔ 2008ء میں روس نے گیس کی سپلائی روک دی جس کی وجہ سے یوکرین اقتصادی بحران میں چلا گیا۔ ملک کی حالت خراب ہو گئی۔ تمو شینگو پر بدعنوانی کے الزامات بھی لگے۔ مصیبتوں سے گھری تمو شینکو 2010ء کے انتخابات میں ہار گئیں اور وکٹر یانکووچ صدر منتخب کر لیے گئے۔ نئی حکومت نے بدعنوانی کے الزام میں تمو شینکو کے خلاف مقدمہ چلا دیا اور بالآخر تموشینکو کو 7 سال قید کی سزا ہو گئی۔ لیکن اپوزیشن اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے یوکرین کی حکومت پر یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کا دبائو بنائے رکھا۔ جسے نومبر 2013ء میں عمل میں آنا تھا، لیکن سوویت یونین کے زمانے سے روس کے حامی اور نزدیکی مانے جانے والے صدر وکٹر یانگووچ نے نہ صرف یورپی یونین کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے اور اتحاد سے انکار کر دیا بلکہ روس کے ساتھ کاروباری معاہدہ کیا جس کے بعد یوکرین میں احتجاج شروع ہو گئے۔ انہی مظاہروں کے بعد آج کی جو حکومت ہے اس کو موقع ملا اور یہ مکمل طور پر سے امریکہ کی پٹھو حکومت ہے۔ روس کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ لیکن ایک مسافر طیارے کو مار کر 304 معصوم لوگوں کی جان لے لینا بزدلی ہے اور اس کے لیے جو بھی ذمہ دار ہو اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔

اس طیارے پر ہالینڈ کے 154 لوگ تھے اور 27 آسٹریلیائی تھے۔ ملیشیا کے 28 مسافر تھے جبکہ عملے کے تمام 15 رکن ملیشیا کے ہی تھے۔ مسافروں میں کئی چوٹی کے سائنسدان تھے جو میلبورن میں ہو رہے 20 ویں ایڈز اجلاس میں حصہ لینے جا رہے تھے۔ اس المناک واقعہ کے بعد رعسی صدر ولادیمیر پوتین نے موجودہ یوکرین حکومت پر بالواسطہ طور پر الزام لگا دیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یوکرین کے مشرقی علاقے پر قبضہ کر چکے جو باغی اپنے ملک کو امریکی کٹھ پتلی صدر سے آزاد کرانے کی جنگ لڑ رہے ہیں انکو بدنام کرنے کے لیے یہ کام کیا گیا ہے جبکہ مغربی ممالک نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ باغیوں کو جدید ہتھیار دے کر جنگ کو مزید خونی بنا رہا ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ''راشٹریا سحارا''

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند