تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی نیگر اور پاکستانی سفید فام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 22 رمضان 1435هـ - 20 جولائی 2014م KSA 13:17 - GMT 10:17
امریکی نیگر اور پاکستانی سفید فام

ڈیلور ریاست کے شہر لیوس سے ویک اینڈ پر نیو یارک آنے کا پروگرام بن رہا تھا مگر ڈاکٹر عاصم صہبائی کو چھوڑ کر جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ 4 ماہ میں ان کی اب عادت سی ہو گئی۔ بڑے عرصے بعد ایک خوبصورت انسان کے ساتھ 4 ماہ گزرے۔ اپنے گرو عامر متین کی بات یاد آتی ہے کہ عاصم صہبائی کے اندر ایک فرشتہ صفت انسان چھپا ہوا ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ ڈاکٹر عاصم صہبائی اور بھابی عائشہ خان نے زندگی کے برے دنوں میں میری مدد کی ہے جو میں عمر بھر نہ بھلا سکوں گا؛ تاہم نیو یارک جانا بھی ضروری تھا۔

ڈاکٹر احتشام قریشی نے کہا، شاہ جی والنگٹن شہر سے ٹرین پر سوار ہو جائیں، اچھا رہے گا۔ اگرچہ نیو یارک سے میاں مشتاق احمد جاوید کہہ چکے تھے کہ پروگرام ہو تو وہ آ کر لے بھی جائیں گے اور میں نے ٹھہرنا بھی انہی کے پاس ہی تھا؛ تاہم احتشام کی بات مان لی اور ٹرین پر سفر کا ارادہ کر لیا۔راستے میں احتشام کہنے لگے ''شاہ جی یہ وزیر اعظم نواز شریف نے کیا بیان دیا ہے ۔ فرماتے ہیں انہوں نے سرکاری افطاریوں پر پابندی لگا دی ہے؟'' میں نے کہا ، ''ایسا بین ہر سال لگتا ہے۔ آپ اس بات کو سنجیدہ نہ لیں۔

ایسے ناٹک اور نوٹنکیاں ہمارے سب حکمران کرتے ہیں۔ عوام بھی عادی ہو چکے ہیں۔ امریکہ سے ایک صاحب سے دوستوں لو لوٹ کر وطن واپس تشریف لے گئے۔ پہلے سیلاب زدگان کے ساتھ ایک ملین ڈالر کا فراڈ کیا۔ پھر ایک پارٹی میں شامل ہو کر سینٹ کا ٹکٹ خریدا۔ سابق حکومت میں وزیر لگے۔ فرمایا، اب وہ پچاس ہزار روپے کی تنخواہ نہیں لیں گے۔ ایسی باتوں پر ہمارے عوام بہت خوش ہوتے ہیں اور ان کے نزدیک وہ ایماندار ترین شخص ہے جو 50،000 روپے تنخواہ نہ لے چاہے باقی سب کچھ لوٹ لے۔ وہی ایماندار صاحب دبئی میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ایک بحری جہاز کی خریداری کے سکینڈل میں ملوث پائے گئے۔ آج کل موصوف ایک نئی پارٹی میں شامل ہو کر انقلاب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔''

ڈاکٹر احتشام بولے، ''شاہ جی آپ کو نیگر اور بلیک میں فرق کا علم ہے؟''
میں نے اپنے آپ کو مشکل میں پایا اور اتنا بول سکا کہ میرے نزدیک تو ایک ہی ہیں۔ ڈاکٹر احتشام بولے ''نیگر اور بلیک میں بڑا فرق ہے۔ یہی وج ہے کہ بلیک کو اگر نیگر کہا جائے تو وہ اپنی سخت توہین سمجھتا ہے۔''
میں نے کہا : '' شاہ جی چلیں ، آج یہ فرق ہی بتا دیں۔''

ڈاکٹر قریشی کہنے لگے؛ نیگر وہ ہے جو ہر اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتا ہے جو اسے ایک ذمہ دار شہری کے طور پر دوسرے لوگوں کی طرح کرنے ہی چاہئیں۔ اگر وہ یہ کام کرتا ہے تو کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ اسے پتہ ہونا چاہیے کہ یہ کام کرنے میں اس کی اپنی بھلائی ہے۔ میں تھوڑا سا حیران ہوا۔ ڈاکٹر احتشام بولتے رہے۔ ''ایک نیگر اس بات پر فخر کرے گا کہ اس نے اپنے بیٹے کو سکول بھیجا ہے۔ وہ اب اپنا کوڑا کرکٹ ڈسٹ بن میں ڈالتا ہے۔ وہ ایک ماہ سے جیل نہیں گیا۔ اس نے اس دفعہ بجلی کا بل دے دیا ہے۔ اس نے آج ہارن نہیں بجایا۔ وہ پچھلے دو دن سے ٹریفک سگنل پر رکتا ہے۔ نیگر ان باتوں پر اتراتا اور دوسروں سے داد کا طالب ہوتا ہے، جب کہ اس کے برعکس بلیک کو پتہ ہے کہ اس نے گوروں کی طرح یہ سب کام کرنے ہیں کیونکہ اس میں اسی کا فائدہ ہے۔

بلیک ذہنی طور پر ترقی کر گیا ہے، لہٰذا رنگ تو دونوں کا ایک ہی ہے لیکن نیگر اور بلیک کی اپروچ میں بہت فرق ہے۔ جب نیگر یہ سب کام دوسروں پر احسانات جتا کر کرتا ہے تو گورا حیران ہوتا ہے کہ جس بات پر نیگر اتراتا پھر رہا ہے، یہ سب کام تو اسے دیسے ہی کرنے چاہئیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کاموں کا فائدہ ریاست یا دوسروں سے زیادہ خود اس کی اپنی ذات کو ہے''۔ میں نے کہا '' شاہ جی آپ نے نیگر اور بلیک کا فرق مجھے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ یقیناً اس کے پیچھے کوئی وجہ ہو گی۔'' ڈاکٹر احتشام مسکرائے اور بولے '' شاہ جی آج صبح ایک پاکستانی اخبار میں لیڈ اسٹوری پڑھی جس کے بعد میرے ذہن میں نیگر آ رہا ہے۔

اب بتائیں اس میں لیڈ اسٹوری لگنے کی کیا بات ہے کہ وزیر اعظم نے حکم دیا ہے کہ سرکاری خرچے پر کوئی افطاری نہیں ہو گی۔ یہ تو وہی نیگر والا کام ہو رہا ہے۔ یعنی ریاست اور اس کے شہریوں پر احسان کیا جا رہا ہے کہ اب ان پیسوں کو افطاریوں پر خرچ نہیں کیا جائے گا۔ س بات پر تو ویسے ہی بین ہونا چاہیے، کیونکہ یہ پیسہ اس کام کے لیے تو ہے ہی نہیں۔ ہمارا حال اس نیگر کی طرح ہو چکا ہے جو اپنے فائدے کا کام بھی سب پر احسان بنا کر کرتا ہے۔ اب یہ بھی احسان ہ ےکہ افطاری ان پیسوں سے نہیں ہو گی۔ بھائی یہ پیسے اس کام کے لیے عوام سے اکٹھے بھی نہیں ہوئے تھے تو پھر کس بات کا بین اور کس بات کا کریڈٹ؟''

ڈاکٹر احتشام قریشی تو یہ کہہ کر چپ ہو گئے لیکن مجھے احساس ہوا کہ واقعی ہم سب اس نیگر کی طرح ہو گئے ہیں جو ہر کام پر احسان جتاتا ہے۔ اگر ہم ٹریفک لائٹ پر رک جائیں تو بھی ہم احسان کرتے ہیں۔ پولیس کانسٹیبل ہمیں سیٹ بیلٹ یا ہیلمٹ نہ پہننے پر چالان کرے تو ہم اس پر چڑھ دوڑتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ ہمارے ساتھ زبردستی کر رہا ہے اور اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہماری جان بچانے کی کوشش کرے، ہم جیئیں چاہیے مریں۔ ہمارے ملک میں کوئی کام جس کے ہمیں پیسے یا تنخواہ ملتی ہے، وہ بھی کیا جائے تو ایک احسان سے کم نہ ہو گا۔ خاکی مارشل لاء نہ لگائے تو بھی احسان، سیاستدان پل کا افتتاح کرے تو بھی احسان، حالانکہ پیسے عوام کے ہی لگے ہوتے ہیں۔ کبھی کسی ایماندار آدمی کے اندر چھپے زعم تقویٰ یا خبط عظمت کے مظاہرے دیکھیں۔ بھائی آدمی کو ویسے ہی ایماندار ہونا چاہیے۔ کیا ایماندار یا نیک ہونا کسی پر احسان ہے؟ کوئی اگر اچھا ہے تو اس سے اس کی اپنی ذات کو فائدہ ہوتا ہے اس میں دوسروں پر احسان کہاں سے آ جاتا ہے؟

جب میں پاکستان میں ہر دوسرے وزیر، سرکاری افسر، کسی بڑے سیاستدان یا ان کے حواریوں کو اس طرح کے کریڈٹ لینے کی کوشش میں مصروف پاتا ہوں تو مجھے وہ نیگر یاد آتا ہے جو ہر وہ کام کر کے احسان کرتا ہے جس کے اسے پیسے یا تنخواہ ملتی ہے۔ ایک ایم این اے، وزیر ، ایم پی اے، سینیٹر قوم سے ہر ماہ ایک بڑی رقم تنخواہ، الائونس ، فری ٹکٹ، میڈیکل، گاڑیوں وغیرہ کی شکل میں وصول کرتا ہے اور پھر قوم پر احسان کرتا ہے کہ وہ ان کی ''مفت'' خدمت کر رہا ہے۔ پاکستان میں اکثریت کو علم تک نہیں ہے کہ ان کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر ان کی خدمت کرنے کا ہر ماہ کیا معاوضہ لیتا ہے۔ حکمران کی حالت ایک ملازم جیسی ہے جسے ہر ماہ کام کی تنخواہ ملتی ہے اور آپ اپنے ملازم سے تقوع کرتے ہیں کہ وہ اچھا کام ہی کرے گا۔ یہی وجہ ہے مغربی ملکوں میں حکمران کو سکینڈل پر استعفیٰ دینا پڑتا ہے یا پھر جیل جاتا ہے۔ ہمارا حکمران ہمارے پیسوں پر عیاشی بھی کرتا ہے اور ہم پر احسان بھی جماتا ہے۔

ایک دفعہ میں نے اپنے انگریزی اخبار کے ایڈیٹر سے یہی کہا تھا کہ سر کیا بات ہے جب میں کوئی بڑا سکینڈل فائل کرتا ہوں آپ تعریف کا ایک لفظ تک نہیں کہتے اور خبر کی وضاحت آ جائے تو آپ ڈانٹتے ہیں۔ ایڈیٹر صاحب نے بڑے اچھی بات کہی۔ وہ بولے: '' تمہیں نوکری یہ سمجھ کر دی گئی ہے کہ تم اچھی خبرین لائو گے اور تمہیں اس کام کی تنخواہ ملتی ہے۔ اگر تم اچھا کام کرتے ہو تو کسی پر احسان نہیں کرتے کیونکہ تمہیں اس کے پیسے ملتے ہیں۔ یہ تمہارے فرائض میں شامل ہے۔ ہاں جب تم برا کام کرو گے تو تمہاری جواب طلبی ہوگی کیونکہ دنیا میں کوئی کسی کو برا کام کرنے کی تنخواہ نہیں دیتا۔''

بہت پہلے یہ بات میری سمجھ میں آ گئی تھی اس لئے میں نے کبھی اپنے ایڈیٹر اور مالکان سے اپنے کام کی تعریف کی توقع نہیں رکھی کیونکہ میری تسلی کے لیے یہ کافی ہے کہ میں نوکری پر قائم ہوں اور ہر ماہ مجھے تنخواہ مل جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میں درست کام کر رہا ہوں۔ تو جو عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے اربوں روپوں سے عیاشی کرتے ہیں، ہر ماہ اچھی خاصی تنخواہ لیتے ہیں، پھر احسن اقبال کی طرح صرف گیارہ ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، ایک وفاقی وزیر کی طرح بیٹے کو 41 کروڑ روپے کا قرضہ حسنہ دے کر بھی ٹیکس گوشوارے میں ظاہر کرتے ہیں کہ آمدن صرف ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ ہے، عوام کے پیسوں سے بنے ہوئے محلوں میں رہتے ہیں، سال میں غیر ملکی دوروں پر ڈیڑھ ارب روپے خرچ کرنے کا پلان بناتے ہیں، بلٹ پروف گاڑیاں اور اپنی رکھوالی کے لیے 24 لاکھ کے کتے خریدتے ہیں، سرکاری نوکر چاکر، سکیورٹی فورس، اربوں کے قرضے معاف کراتے ہیں، ان گنت مراعات اور بے پناہ کاروباری فائدے لیتے ہیں، پھر اپنے بچوں کو سیاست میں لانچ کرنے کے لیے 100 ارب روپے تک مختص کر دیتے ہیں، کیا یہ ہمارے سفید فام حکمران پاکستانیوں پر حکمرانی کر کے اس طرح کے احسانات کرتے ہیں جیسے کوئی نیگر ایک ماہ جیل نہ جا کر یا بچے کو سکول بھیج کر امریکی معاشرے پر کرتا ہے؟

بہ شکریہ روزنامہ ''دنیا''

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند