تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عقیدے کے نام پر تباہی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 4 شوال 1435هـ - 1 اگست 2014م KSA 10:01 - GMT 07:01
عقیدے کے نام پر تباہی

ملک میں داخلی طور پر اور بین الاقوامی سطح پر تاریخ کے تاریک لمحات کے درمیان آپ سب کو عید مبارک ۔ ذرا تصور کیجئے کہ امریکہ اسرائیل کے ذریعہ تباہی مچانے کے خلاف ایک لاکھ سے زائد افراد نے فلسطین کے غزہ کی پٹی میں دہلی کی سڑکوں پر امن مظاہرہ کیا۔ یہ لوگ پارلیمنٹ ہاؤس اور ریس کورس تک گئے لیکن جن پتھ یا آزاد میدان میں جمع نہیں ہو سکے۔ اسرائیل کے ذریعہ فلسطین میں لوگوں کے گھر بار تباہ کیے جانے کے خلاف یہ لوگ مظاہرہ کر رہے تھے، جہاں عید کے دن سیکڑوں لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ امریکہ نے اس جارحانہ اقدام کو کیسے ہضم کر لیا۔؟ اسرائیل اپنے اس ناقص عمل سے باز آئے گا؟ زیادہ تر مظاہرین کا یہ کہنا تھا کہ ہم سب فلسطینی مظاہرین ہیں۔

ہندوستان کے بارے میں مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ 1991ء میں جدید نرم روی کی شروعات کی تھی اور شاید اسلحہ جات کی صنعت کی جانب رجحان ہونے کے سبب اس نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کر دی تھی اور مغربی ایشیا میں اسرائیل کے نزدیک آ گیا تھا لیکن اس وقت راج ناتھ سنگھ کی مانند این ڈی اے کی اولین حکومت میں دراصل ایل کے اڈوانی نے اسرائیل سے تعلقات ہونے پر دراصل فرقہ وارانہ خطوط پر جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کا خاکہ تلاش کیا تھا۔ نئی دہلی کی واضح روش کے باوجود آج کے ہندوستانی حکام تذبذب کے شکار ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت کا رجحان نہ صرف اسرائیل کی جانب ہے بلکہ زرتشتیوں کی جانب بھ ہے۔ اب جب کہ حکومت اس تکلیف دہ تنازع کے تعلق سے ایک تجویز، جہاں پر 1200 افراد ہلاک کر دیے گئے، جہاں پر ہزاروں زخمی اسپتال میں بھرتی ہیں، جہاں پر مستقل طور پر ڈرینج سسٹم کو تباہ کر دیا گیا ہے، کے خلاف سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسرائیلی جارحیت کا شاخسانہ ہے۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان نے برکس ممالک کے ہمراہ اسرائیل کے ذریعہ غزہ میں حملہ کیے جانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ فلسطین کے ذریعہ تیار کی گئی تجویز کے ڈرافٹ کے حق میں ہندوستان نے برازیل ، روس، چین اور جنوبی افریقہ کے ساتھ ووٹ دیا تھا، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جائے۔ بعد ازاں کونسل کے47 ممبران میں سے 29 ممالک نے ریزولوشن کے حق میں ووٹ دیا تھا جب کہ 17 ممالک نے ووٹ دینے میں عدم دلچسپی دکھائی تھی۔ امریکہ ایسا ایک واحد ملک تھا جس نے صاف طور پر ریزولوشن کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا جبکہ یورپی ممالک نے ووٹ دینے سے خود کو دور رکھا تھا۔

دریں اثنا لندن اور کسی بھی دیگر جگہ پر ہونے والے مظاہروں کے تعلق سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان مظاہروں میں شرکت کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق یہودیوں، غیر مسلمانوں اور ملحدوں سے تھا جو کہ مظاہروں کی قیادت کر رہے تھے۔ لندن میں اٹھائے جانے والے نعروں میں یہ سنا گیا کہ ’’دریا سے لے کر سمندر تک فلسطین کو ٓزاد کیا جائے، تین چار میں سے ایک یا اس سے بھی زیادہ پانچ، چھ ، سات اور ٓٹھ میں سے ایک بذات خود ایک دہشت گرد ریاست ہے۔‘‘دریں اثنا لندن اور کسی بھی دیگر جگہ پر ہونے والے مظاہروں کے تعلق سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان مظاہروں میں شرکت کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق یہودیوں، غیر مسلمانوں اور ملحدوں سے تھا جو کہ مظاہروں کی قیادت کر رہے تھے۔ لندن میں اٹھائے جانے والے نعروں میں یہ سنا گیا کہ ’’دریا سے لے کر سمندر تک فلسطین کو ٓزاد کیا جائے، تین چار میں سے ایک یا اس سے بھی زیادہ 5،6 ،7 اور 8 میں سے ایک بذات خود ایک دہشت گرد ریاست ہے۔‘‘

ایک ملین افراد میں سے ہم سب ہزاروں فلسطینی ہیں۔ کیمرون شرم کرو، نتین یاہو شرم کروم غزہ ٓنسو ونہیں بہائے گا لیکن ہم تمہیں جینے نہیں دیں گے۔
ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں جو پلے کارڈ لے رکھے تھے ان پر لکھا ہوا تھا، ’’فلسطین پر بمباری بند کرو، قتل عام بند کرو، بی بی سی اسرائیل کے جرائم چھپانا بند کرے، کیمرون اپنے دوستوں کو بدل دو ورنہ ہم وزیر اعظم کو بدل دیں گے۔‘‘ یہ احتجاجی مارچ ڈاؤننگاسٹریٹ سے شروع ہو کر اسرائیلی سفارت خانہ پر اختتام پذیر ہوئی تھی۔ مظاہرین سے بہت سی معروف شخصیات نے خطاب کیا تھا، اسرائیلی مظالم پر اپنی جھلاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے سیرونیس جینی ٹونگے جنہیں فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے کی پاداش میں 2012ء لبرل پارٹی سے استعفیٰ دینے کے لیے مجبور کر دیا گیا تھا۔ نے کہا کہ ’’اس سرزمین پر اسرائیل کی اکر رہا ہے، وہ اپنا قانونی جواز کھ چکا ہے۔ وہ اب ایک جمہوری ملک نہیں رہا ہے۔ اس نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ جنیوا کنونشن کی قراردار کو بھی پامال کیا ہے۔ اس کے دل میں انسانی حقوق کے لیے کوئی احترام نہیں ہے۔ اسرائیل کو ممالک کی بین الاقوامی تنظیم سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔ شمالی لندن سے لیبر پارٹی کے سیاہ فام ممبر پارلیمان ڈائنے ایبٹ جنہیں ان کے اسمبلی حلقے میں کثیر تعداد میں یہودیوں نے ووٹ دیے تھے نے کہا کہ ’’ آج پورے ملک میں قومی سطح کا مظاہرہ لوگوں کو وسیع پیمانے پر ایک پیغم دے گا۔ غزہ اور فلسطینی اراضی پر اسرائیل کا قبضہ اب ختم ہونے والا ہے، فلسطینیوں کے لیے لوگ اب انصاری اور آزادی چاہتے ہیں اور ہزاروں لوگوں نے اس کے تعلق سے آواز اٹھائی ہے۔

اپنی جذباتی تقریر میں رسپیکٹ پارٹی کے لیڈر اور انسانی حقوق کے معروف عالمی کارکن جارج گیلووے نے فلسطین پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نظر انداز کرنے کے لیے برطانوی میڈیا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ تقریباً تین سو فلسطینیوں کو انہی اخبارات، انہیں ٹی ویز اور سیاسی لیڈروں نے مکمل طور پر نظر انداز کیا جو پابندیاںعائد کرنے کی دھمکی اور روس کے خلاف جنگ کرنے کی باتیں کرتے تھے۔ وہی انسانیت کے قاتل اسرائیل کو اسلھہ جات، رقومات اور سیاسی تعاون اور میڈیا کے زریعہ حمایت کر رہے ہیں۔ رسپیکٹ پارٹی کے لیڈر نے مزید کہا کہ میرے پاس وٹس ایپ کی ایک قابل اعتماد ویڈیو ہے جس میں انہوں نے بہت ہی حساس لہجے میں عربوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو اس طرح کی بربریت سے باز رکھ سکیں۔ دراصل جس کسی نے بھی یوکرین پر میزائل سے حملہ کیا تھا وہ غزہ کے ساحل پر ہونا تھا۔ اس وقت میڈی وقت سے پہلے ہی لنچ کرنے چلا گیا تھا اور اس نے اپنی ذمہ داری سے دامن چھڑا لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دوہرا معیار کیوں ؟ یوکرین میں بسنے والا خون، غزہ میں بہنے والے خون سے زیادہ قابل توجہ کیوں ؟ ایک ہفتہ قبل ایک دیگر مظاہرے میں گیلووئے نے مظاہرین پر اس بات کے لیے زور دیا تھا کہ وہ اس طرح ٹی وی چینل کو ادائیگی نہ کریں اور وہ بذات خود بھی بی بی سی کو کوئی ادائیگی نہیں کریں گے۔ اسرائیل حملے کی حمایت کرتے ہوئے بی بی سی نے اتنے وسیع مظاہرے کی معمولی سی کوریج کی تھی۔ اس مظاہرے سے متعلق آن لائن چند سطور دینے کے علاوہ اسکو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا تھا۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بی بی سی کا نیوز ڈائریکٹر جیمس ہارڈنگ یہودی ریاست کا کٹر اور بے شرم حامی ہے۔ ہارڈنگ اس سے قبل دی ٹائمز کا ایڈیٹر بھی رہ چکا ہے۔ یہ بات ریکارڈ میں درج ہے کہ اس نے نہ سرف صہیونی تاریخ مرتب کی تھی بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ ’’میں اسرائیل نواز ہوں‘‘ اس نے مزید کہا تھا کہ وہ اسرائیلی ریاست کے قیام میں یقین رکھتا ہے۔ میں اس وقت ایک پریشانی میں مبتلا ہو جاؤں گا اگر میں تاریخ کے کسی دستاویز میں اسرائیل مخالف ہونے کی بات تحریر کر دوں گا اور یہ ایک واضح سچائی ہے کہ روپرٹ مرڈوک اسرائیل نواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خبریں پیش کرتے ہیں اور لوگوں کے کیا نظریات ہیں، وہ نظریات کے صفحوں پر قارئین کا نظریہ جاننے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم غزہ میں ان جارحانہ ھملوں کی رپورٹ بھی ہیش کرتے ہیں جن کے دوران وائٹ فاسفورس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل کے ذریعہ اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اڑانا ہے۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2004ء میں زبردست صہیونی دباؤ کی وجہ سے بارجین کو اپنے ایک زیر تربیت صحافی دل پذیر کو اس لیے نکالنا پڑا تھا کیونکہ اس کا تعلق حربت تحریر سے بتایا گیا تھا۔ کسی نے بھی اس کی نہ تو حمایت کی تھی اور نہ ہی برطانیہ کے مسلم نوجوانوں نے اس الزام کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ دنیا میں کسی بھی جگہ سے اس قسم کی آواز اٹھانے کی خبر نہیں ملی، جس کے بارے میں یہ آواز اٹھائی جانی چاہیے تھی۔

سڈنی میں ٹاؤن ہال سے لے کر امریکی کنسولیٹ تک مارچ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ دریں اثنا غیر رواداد اور بربریت نواز آئی ایس آئی ایس نے عقیدے کے نام پر ایک بار پھر مطالعہ شروع کر دیے جس میں نہ صرف 1800 سال قدیم یادگار کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیا گیا بلکہ موصل میں واقع مسلمانوں اور عیسائیوں کے بین عقائد مرکز کو بھی تباہ کر دیا۔ امن اور وقر کے ساتھ عقیدے کے تحت زندگی گزارنے والوں کے لئے یہ شرم کی بات ہے۔ مذہب کے تئیں سیاست کاری اور عسکری رجحان کے خلاف صف بند ہونے کی ضرورت ہے۔ کلیساؤں کے علاوہ ایسے بہت سے دیگر مقدس مقامات ہیں جیسے موصل میں واقع قبا حسینیہ اور ہیس پر واقع لڑکیوں کا مقبرہ کو بھی جارحانہ حملوں میں اڑا دیا گیا۔ اسلام کے تعلق سے آئی ایس آئی ایس نے جو تشدد آمیز تشریح کی تھی اسی نے ان بیش بہا باقیات اور مقدس مقابر کو تباہ کر دیا تھا جس کو لوگ عقیدے اور تعظیم کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ سب عوامل اسلام کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں۔ موصل کے مغرب میں تقریبا پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر تل افار میں واقع مسجھ بن عقیل حسینیہ کے آستانہ اور تل افار کے نزدیک محلابیہ ضلع میں واقع احمد الرفائی مقبرے اور آستانہ کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر دستیاب ہیں، انہیں بھی بلڈوزر سے تباہ کر دیا گیا تھا۔ عیسائیوں ، شیعہ سنی مسلمانوں کے قابل احترام آستانے بھ داعش کے عتاب کا شکار بنے تھے اور پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے سخت گیریت، نفرت اور تشدد کا ایک اور نظارہ دیکھ لیا۔

6 دسسمبر 1992ء میں فیض آباد، اجودھیا کا سانحہ رونما ہوا تھا اور 2001ء میں بامیان میں گوتم بدھ کے مجسمہ کو منہدم کیا گیا تھا۔ 2003ء میں خلیج کی دوسری جنگ کے دوران عراقیوں اور مقدونیہ کے فن اور تاریخ کے قومی عجائب گھر کو لوٹا گیا تھا۔ چنانچہ اقتدار اور استحصال دونوں ہی تباہی کے ظالمانہ ذرائع ہیں لیکن دنیا کو کب انہیں خیر باد کہنے کے لیے عقل سلیم آئے گی۔؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریہ سحارا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند