تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلسطین اور بہروپئے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 6 شوال 1435هـ - 3 اگست 2014م KSA 14:34 - GMT 11:34
فلسطین اور بہروپئے

’’آخری صلیبی جنگ عروج پر تھی، اگر سینٹ لوئس، ریمنڈ اور رچرڈ، شاہ انگلستان ان ’’حیرت افزا‘‘ افواج کو دیکھتے تو ان کی روحیں اس وجہ سے متحیر ہو جاتیں کہ اس کا بہت قلیل حصہ مغربی اقوام (یورپ) پر مشتمل تھا، الجزئری اور ہندی مسلمان، عرب قبائل، ہندوستان کے ہزار ہا فرقوں کے ماننے والے، افریقہ کے حبشی اور یہودی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ’’نصاریٰ کے مقدس شہر‘‘ کو آزاد کرا لیا تھا‘‘۔ مسٹر نلسن کی تصنیف ’’تاریخی جنگ‘‘ سے لیا گیا یہ اقتباس بیت المقدس کے تادم تحریر مسلمانوں سے چھن جانے کی اس سازش سے پردہ اٹھا رہا ہے جس کی پہلی قطار میں بعض نام نہاد مسلمان رہنما بیٹھے صاف نظر آ رہے ہیں۔ جہاد، دین مبین کا وہ عظیم رکن ہے جو فساد مٹاتا اور امن لاتا ہے، جو ظالم سے مظلوم کے حقوق واگزار کراتا اور ہر خاص و عام کیلئے خیر سر عام پھیلاتا ہے۔ یہی فیوض سرکار دو عالمﷺ، ان کے عظیم صحابہؓ اور سلف صالحین کے جہاد کے وسیلے سے دنیائے عرب و عجم کے انسانوں نے سمیٹے۔ امن، خوشحالی اور حسن اخلاق کے ایسے شاہکار نمونے ان جہادوں کی برکت سے آشکار ہوئے کہ غیر مسلم فوج در فوج جسے قرآن عظیم نے افواجاً کہا، دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔

یہود و نصاریٰ کے تھنک ٹینک سر جوڑ کر بیٹھے کہ چھٹکارا کیسے پایا جائے؟ بصورت دیگر باطل نظریات تہہ خاک ہوا چاہتے ہیں۔ عقل و خرد کی عرق ریزی کا ماحصل یہی نسخہ تھا، کسی طرح دینِ خالص میں ملاوٹ کا سامان کیا جائے۔ مشنری و مشینری بروئے کار ہو گئیں تو بعض دین فروش رہنما ارزاں نرخ پر دستیاب پائے گئے اور پھر میدان لارنس آف عربیہ کے ہاتھ رہا۔ کیپٹن لارنس نے عالم ’’دین‘‘ کا لبادہ اوڑھ کر جس طرح اسلام کو نقصان پہنچایا، اسلامی تاریخ آج بھی اس پر ماتم کناں ہے۔ اسلام دشمن جانتے تھے کہ سامنے سے وار کرنے میں شکست کے ماسوا کچھ ہاتھ آنے سے رہا، چنانچہ نام نہاد مسلمانوں کے ذریعے ’’کودیتا‘‘ نسخۂ کیمیا ثابت ہوا۔ بیت المقدس تیرہ سو سال مسلمانوں کے قبضے میں رہا۔ اگرچہ اس عرصے میں تھوڑی مدت کیلئے کئی مرتبہ عیسائیوں کا بھی قبضہ رہا لیکن وہ مستقل نامراد ہی ٹھہرے۔ عیسائیوں نے اسے واپس لینے کیلئے 12 صلیبی جنگیں لڑیں، اس لئے فلسطین کو (Crusader's Land صلیبی جنگوں کی سرزمین) بھی کہا جاتا ہے۔ ان جنگوں کے بارے میں مورخین کا اندازہ ہے کہ ان میں 60 لاکھ عیسائی مارے گئے، جنگ عظیم میں اس سرزمین پر مارے گئے عیسائی اس میں شامل نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ مکار دشمن مسلمانوں کے خلاف مسلمانوں کو ہی بروئے کار لائے۔

شریف مکہ اور برصغیر کے بعض فتوٰی فروشوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ جس کا ارمان لئے سیکڑوں، ہزاروں نہیں، لاکھوں عیسائی سپوت مٹی کی خوراک بن چکے تھے۔ 8 اور 9 دسمبر ء1917 کی درمیانی شب کو بغیر جنگ کئے ترکوں کے آخری سپاہی نے بیت المقدس خالی کر دیا، اس طرح چار سو سالہ عثمانی دور یہاں اختتام پذیر ہوا۔ 10 دسمبر کی صبح کو جنرل شیا، کمان افسر 60 ڈویژن اور 11 دسمبر کو جنرل ایلنبائی جو مصری و فلسطینی افواج کا سپہ سالار اعظم تھا، مع اپنے اسٹاف کے پیدل فاتحانہ انداز میں باب یافا سے بیت المقدس میں داخل ہو گیا۔ بعدازاں سلطنت برطانیہ نے اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیا کہ یہ بھی صلیبی جنگ تھی جس میں مسلمانوں کے ہاتھ مسلمان کا خون بہایا گیا۔ مورخین نے اسے تیرہویں صلیبی جنگ قرار دیا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق جنرل ایلنبائی سے قبل سوا سات سو سال تک یروشلم نے کسی عیسائی فاتح یا برطانوی سپاہی کو نہیں دیکھا تھا…! چرچل اپنی تصنیف ’’دی گریٹ وار‘‘ میں لکھتے ہیں ’’ 8 دسمبر 1917ء کو ترک بیت المقدس سے دستبردار ہو گئے ان کے خاتمے کے بعد برطانوی کمانڈر انچیف ’’واہ واہ‘‘ اور ’’مرحبا، مرحبا‘‘ کے نعروں کے ساتھ شہر میں داخل ہوا‘‘۔ جارج ٹائونسنڈ اپنی کتاب ’’گرائونڈ ورک آف برٹش ہسٹری‘‘ کے صفحہ 757 پر لکھتے ہیں۔ ’’فلسطین میں شاندار پیش قدمی کے انصرام کا سہرا خاص طور پر ہندوستانی مسلمان افواج کے سر ہے‘‘۔ مسٹر لاول ٹامس اپنی کتاب ’’عرب میں لارنس کے ہمراہ‘‘ میں کیپٹن لارنس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اس فتح کا ایسا Holy Warrior (مقدس جنگجو) قرار دیتے ہیں جس نے (مسلمان عالم کا روپ دھارتے ہوئے) مسلمانوں کو مسلمانوں کے قتل کیلئے نکھارا اور سنوارا۔ دین فروش، لارنس کے شانہ بشانہ ’’جہادی فیکٹری‘‘ سے ایسی ایسی پیشن گوئیاں منظر عام پر لائے کہ سادہ لوح مسلمانوں کے پاس قائل ہونے کے ماسوا کوئی منطق ہی نہیں تھی۔ ان میں اس پیش گوئی کا خوب خوب چرچا کیا گیا ’’بیت المقدس کو آزاد کرنے والا مغرب سے آئے گا‘‘ اگر فتوٰی فروشوں کے بجائے مسلمان قرآن و حدیث سے رجوع کر لیتے تو وہ عیسائی فتح کو کیونکر ’’آزادی‘‘ تسلیم کرنے پر تیار ہو پاتے۔

ایک عرصہ قبل لکھے گئے اپنے مذکورہ کالم کے اقتباسات یہاں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ نقصان ان بہروپیوں نے پہنچایا ہےجو اسلام کےمقدس نام کو اپنے اور اپنے آقاوئں کی خاطر شاطرانہ طور پراستعمال کرتے رہے ہیں ۔ بیت المقدس کو عیسائی 12 صلیبی جنگوں میں فتح نہ کر سکے لیکن جب بہروپئے فتوٰی فروش بروئے کار آئے تو انہوں نے عیسائیوں کے لئے یہ معرکہ سر کر کے دکھایا … حیف صد حیف!! کہ مسلمانوں میں اسلام کا لبادہ اوڑہے بہروپئے ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ آج بھی دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مسلم ممالک میں مسلم ہی یہود و نصاریٰ کے اشاروں پر مسلم کے خلاف میدان جنگ میں ہے!! جہاد کا مقدس نام یوں غلط استعمال میں لایا گیا کہ اس سے اصل جہاد کا تصور ہی دھندلا سا گیا ہے، یہی اسلام مخالف قوتوں کا اصل ایجنڈا ہے۔ فلسطینیوں کے حق میں ہمارے مظاہرے،

جذبات سو فیصد برحق ،لیکن یہ اس سنگلاخ عالمی ضمیر پر کیا اثر کر پائیں گے جو دانستہ محو خواب ہے؟ اصل کام یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم بہروپیوں کو پہچان کر ان کے چنگل سے نکلنے کی سعی کریں ۔ وہ بہروپیئے جنہوں نے اسلام کے نام پر ہمیں دھوکہ دینے کی ٹھان رکھی ہے، ان سے تقاضا کریں کہ پہلے اپنے پانچ چھ فٹ کے جسم پر اسلام نافذ کریں پھر نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک کی فکر کریں۔ پہلے خود شہید یا غازی بن کر دکھائیں پھر ہمیں جہاد پر بھیجنے کی بات کریں۔ یہی فارمولا فلسطینیوں کو بھی اپنانا ہو گا ،لیکن اگر وہ اخلاقی طور پر یہود و نصاریٰ کو بھی شرمسار کرتے ہوں اور ہم پھر بھی خدا تعالیٰ کی نصرت کی توقع رکھیں تو یہ فطرت اسلام کے خلاف ہے۔ یہ یاد رہے کہ قرآن عظیم اور خانہ کعبہ کی حفاظت کا ذمہ مولائے کریم نے خود لے رکھا ہے اور بیت المقدس کی آزادی ہمارے اعمال سے مشروط ہے۔ جب تک ہمارے اعمال درست رہے، بیت المقدس ہمارا رہا۔ جب جب ہم اپنے اعمال سے یہود و نصاریٰ کو بھی شرمسار کرنے لگے تو یہ مقدس شہر مقبوضہ بن گیا۔ کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ہم اپنے قول و فعل کا جائزہ لیں!! جب تک ہم بہروپیوں کو پہچان نہیں لیتے اور اپنے آپ، محلے، شہر اور ملک پاکستان میں وہی کچھ نہ کریں جس کا ہم دعویٰ اور تمام دنیا سے تقاضا کرتے ہیں، لاکھ ریلیاں نکالیں لیکن کتا تو پھر بھی کنویں میں رہے گا…

ذرا سوچیں اگر ہم جھوٹ بولتے، رشوت لیتے، ملاوٹ، ناحق قتل کرتے، دوسروں کے حقوق غصب اور جہادکے نام پر فساد کرتے ہوں تو خداوند قدوس کیونکر ہماری مدد کریں گے۔ اگر ہمارے پیٹ حرام سے بھرے ہوں تو ہماری دعائیں کیسی قبول ہوں گی۔ فلسطینی نوجوانوں کی اخلاقی حالت ذرا سامنے لائیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ مٹھی بھر اسرائیلی اربوں مسلمانوں پر کیوں بھاری ہیں!!

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند