تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بے وقت کی راگنی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 7 شوال 1435هـ - 4 اگست 2014م KSA 08:14 - GMT 05:14
بے وقت کی راگنی

بہت سے لوگ خصوصاً وزیراعظم نواز شریف کے مخالفین سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے ملین سونامی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے ’’عوامی انقلاب‘‘ کی وجہ سے بہت خوفزدہ ہے۔ مگر ہمارا خیال ہے کہ حکومت فکر مند ضرور ہے جو اسے ہونا بھی چاہئے مگر وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی نہیں ہے۔ اگر وہ واقعی اتنی زیادہ پینک ہوتی جتنا کہ ان حضرات کا کہنا ہے اور ملک میں اتنا بڑا ہی طوفان آیا ہوتا جتنا یہ پیش کر رہے ہیں تو وزیر اعظم کبھی بھی 10 دن ملک سے باہر سعودی عرب میں نہ رہتے ۔ ہمارے ہاں مثالیں موجود ہیں جب گزشتہ ادوار میں نواز شریف نے ہی ملک میں مختلف سنگین واقعات کی وجہ سے اپنے بیرونی دورے بھی ملتوی کئے تھے۔

تاہم وزیر اعظم کی ملک میں غیر موجودگی کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اپنے طور پر کوششیں کر تے رہے کہ وہ آزادی مارچ (اس احتجاج کو یہ کتنا غلط نام دیا گیا ہے کیونکہ یوم آزادی والے دن احتجاج نہیں ہوتا بلکہ تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے) کو ٹال سکیں ۔ یہ دونوں حضرات کافی پریکٹیکل ہیں اور مشکل سے مشکل مسئلے کا حل بھی نکالنے میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اپنی سعودی عرب میں موجودگی کے دوران بھی وزیراعظم کی توجہ رواں ماہ میں ہونے والے احتجاجوں کی طرف ہی رہی کیونکہ انہوں نے ایک سے زیادہ بار ان پر تبصرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی اصل نیت بتائیں کہ وہ مارچ کیوں کررہے ہیں اور چند ہزار لوگ کروڑوں کا مینڈیٹ لینے والوں کو یرغمال نہیں بنا سکتے۔

اپنے احتجاج کے ذریعے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان پورے ملک اور سسٹم کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقصد ان کا ایک ہی ہے کہ نواز شریف حکومت کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ’’انقلاب‘‘ اور قومی اسمبلی کے 4 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی اور انتخابی اصلاحات کے مطالبات سب بہانے ہیں ان کا اصل ایجنڈا اقتدار حاصل کرنا ہے چاہئے وہ جیسے بھی ممکن ہو۔ اس سارے احتجاج کی وجہ سے اگر خدا نخواستہ جمہوری نظام ڈی ریل ہوا تو چیئرمین پی اے ٹی کا تو کچھ نقصان نہیں ہو گا کیونکہ وہ تو پاکستان بھر میں کہیں بھی ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکتے اور نہ ہی وہ کبھی ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آسکتے ہیں اصل نقصان تو عمران خان کا ہو گا جن کی جماعت نے مئی 2013ء کے عام انتخابات میں کافی اچھی کارکردگی دکھائی۔ لہٰذا کون چیئرمین پی ٹی آئی کو سمجھائے کہ جمہوری نظام کے جاری رہنے میں ہی نہ صرف ان کا فائدہ ہے بلکہ ملک کا مفاد بھی اسی میں ہی ہے ۔ بے شمار لوگوں کا خیال ہے اور جو صحیح بھی ہے کہ عمران خان عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں وہ 2018ء تک نئے الیکشنز کا انتظار نہیں کر سکتے لہٰذا انہیں ہر صورت یہی کچھ کرنا چاہئے جو کچھ وہ کر رہے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح وہ وزیر اعظم بن سکیں۔

مگر انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اگر درمیانی مدت کے انتخابات جو وہ چاہ رہے ہیں ہو بھی جائیں تو اگر ان کی جماعت کی موجودہ پوزیشن برقرار رہتی ہے یا اس سے وہ بہتر کارکردگی دکھا دیتی ہے توپھربھی وہ وزیراعظم نہیں بن سکیں گے تو کیا پھر دوبارہ سونامی مارچ کرینگے تاکہ نئے انتخابات ہوں۔ اس وقت تک جب تک وہ وزیر اعظم نہ بن جائیں ۔یہ یقیناً ایک انتہائی غیر دانشمندانہ اپروچ ہو گی ۔ عمران خان نے اپنی سوچے سمجھے پلان کے تحت ڈیڈ لاک پیدا کیا ہے۔ ان کا یہ خیال کہ ان کے دبائو کی وجہ سے حکومت ان کے نئے انتخابات کے مطالبے کو مان جائے گی قطعاً ممکن نہیں ہے۔ ہاں البتہ وہ ان کے دوسرے مطالبات کو مان سکتی ہے جن میں کچھ حلقوں میں ووٹوں کی گنتی انتخابی اصلاحات وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم وہ تو نئے انتخابات سے کم کسی بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔ یہ ویسے بھی مذاق ہی لگتاہے کہ ایک سال کے بعد ہی نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ تاہم اگر جمہوری نظام کو جاری رہنا ہے تو اس کے اندر رہتے ہوئے ہی چیئرمین پی ٹی آئی کے مطالبات مانے جاسکتے ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہو سکتا ہے۔ یہ حکومت ہی ہے جو نئے انتخابات کا اعلان کر سکتی ہے اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ملک میں اللہ نہ کرے مارشل لا لگ جائے اس صورت میں نئے الیکشن ایک خواب ہی رہیں گے۔

عمران خان سمجھتے ہیں کہ وہ اب پنجاب جو کہ شریف برادرز کی سیاسی طاقت کا قلعہ ہے میں اتنے مقبول ہو گئے ہیں کہ وہ انہیں بری طرح ہرا سکتے ہیں جو کہ ایک خام خیالی ہے۔ انہیں مقبولیت نئی نئی ملی ہے جس کو سنبھالنا ان کے بس میں نظر نہیں آرہا ۔ یہ پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں کہ انتخابات کے ایک سال بعد ہی اتنا بڑا بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پورے نظام کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ مگر ایک لمحہ کیلئے فرض کریں کہ ان کے مطالبے کے مطابق نئے انتخابات ہوجاتے ہیں اور وہ جیت کر وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کیا نواز شریف بطور اپوزیشن لیڈر انہیں چند ماہ بھی چلنے دینگے جواب نہیں میں ہے۔ نون لیگ بطور اپوزیشن بڑی موثر جماعت ثابت ہوتی ہے ۔ تو پھر کیا ملک ایک گھنائونے چکر میں پڑا رہے گا اور کیا پاکستان اتنا مضبوط ہے کہ وہ ان جھٹکوں کو برداشت کر سکے یہ ساری باتیں عمران خان کو سمجھ نہیں آ رہیں۔

ڈاکٹر قادری تو سارے جمہوری نظام کو تلپٹ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے مریدوں اور اسکول سسٹم کے ملازمین کا ایک جتھہ اسلام آباد لا کر ملک کو جام کرنا چاہتے ہیں جبکہ عمران خان بھی اسی طرح کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ نئے انتخابات ہوں اور وہ وزیراعظم بن جائیں ۔اگر اس طرح کےmob rule کے ذریعے حکومتیں بدلنا شروع ہو جائیں تو پھر کوئی بھی جماعت یا گروہ چند ہزار لوگ اسلام آباد میں لایا کرے گا اور اپنے مطالبات کی منظوری تک وہاں بیٹھ جائے گا اس وقت تک جب تک حکومت ختم نہ ہو جائے۔ پھر کہاں گیا آئین اور قانون ۔ لہٰذا اس طرح کے رویئے کو ترک کرنا ہو گا ۔ جمہوریت میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ضروری ہوتا ہے جس کا عمران خان میں مکمل فقدان ہے۔ سوائے قاف لیگ جس کی عوامی پذیرائی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کوئی بھی سیاسی جماعت یا گروپ نہ تو ڈاکٹر قادری کے انقلاب کا حامی ہے اور نہ ہی عمران خان کے مارچ کا کیونکہ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ بے وقت کی راگنی ہے جہاں تک کہ جماعت اسلامی جو کہ خیبر پختونخوا حکومت میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہے وہ بھی عمران خان کے احتجاج کی سخت مخالف ہے۔

عام طور پر حکومت پر بہت زیادہ دبائو اس وقت ڈالا جاتا ہے جب وہ تین چار سال اقتدار میں رہے تاکہ آئندہ انتخابات میں اپوزیشن اس سے بہتر کارکردگی دکھا سکے۔ جہاں تک آرٹیکل 245 کا اسلام آباد میں نفاذ کا تعلق ہے اس کے مقاصد کچھ بھی ہوں اس کی ٹائمنگ سے لگتا ہے کہ یہ ’’انقلاب‘‘ اور سونامی مارچ کو ہینڈل کرنے کے لئے لگایا گیا ہے۔ تاہم اس بات کا قطعاً امکان نہیں ہے کہ حکومت کسی بھی اسٹیج پر فوج کے ذریعے ان احتجاجوں کو روکنے کی حماقت کرے گی کیونکہ اس کے سامنے 1977ء والا تلخ تجربہ موجود ہے ۔ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لئے بلانے کا فیصلہ دہشت گردوں کے خلاف ملٹری آپریشن شروع کرنے سے قبل حکومت اور فوج کے مشورے سے کیا گیا تھا مگر اس کانوٹیفیکیشن انقلاب اور سونامی مارچ سے چند ہفتے پہلے جاری کیا گیا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند