تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کون جانے سنہری دن کب طلوع ہو گا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 10 شوال 1435هـ - 7 اگست 2014م KSA 21:46 - GMT 18:46
کون جانے سنہری دن کب طلوع ہو گا؟

یہ غیر منطقی وجود کو بالآخر ہٹ جانا ہوتا ہے۔ موت اسرائیل کا مقدر ہے مگر اس وقت نواز شریف اور جنرل سیسی جیسے حکمران عالم اسلام پہ مسلط نہ رہیں گے۔ پانچ سال، دس سال یا دو عشرے۔ کون جانتا ہے کہ آنے والا سنہری دن کب طلوع ہو گا؟

پاکستانی نژاد برطانوی وزیر سعیدہ وارثی کا استعفیٰ ایک بڑا واقعہ ہے مگر اپنی نوعیت کا ایک الگ تھلگ ہر گز نہیں۔ اس کھیل کا آخری حصہ شاید شروع ہو چکا، جس کا انجام اسرائیل کے خاتمے پر ہو گا۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جو عہد ساز واقعات رونما ہوئے ہیں، عالم اسلام میں کم ہی اس پر غور کیا گیا۔ اس کا بڑا اور بنیادی سبب مسلم عوام اور دانشوروں میں پھیلی ہوئی گہری مایوسی ہے۔ اس امید سے آدمی دستبردار ہو جاتا ہے اور امکانات کے سبب دروازے بھی اسے بند نظر آتے ہیں۔ اقبال نے بے سبب نہ کہا تھا:

یقیں   پیدا   کر   اے  ناداں  یقیں   سے    ہاتھ   آتی   ہے
وہ   درویشی    کہ   جس   کے   سامنے   جھکتی   ہے    فغفوری

قرآن مجید کے طالب علم جانتے ہیں کہ شرک کے بعد، جو سب سے بڑے گناہ ہیں، مایوسی ان میں سرِ فہرست ہے۔ اللہ کی کتاب یہی کہتی ہوئی سنائی دیتی ہے کہ آدمی کتنا ہی خطا کار ہو، نجات سے امکان باقی رہتا ہے، اگرہ وہ رحمتِ پروردگار پہ نگاہ رکھے۔ فرمایا: اللہ نے آدمی کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو رحمت کو اپنے آپ پر لازم کر لیا۔ خالق سے زیادہ کسے خبر تھی کہ جنت سے نکالی گئی، آدم کی اولاد اپنی خطاؤں کے سبب تاریکی میں گھر جائے گی تو سپیدہِ سحر کی امید کھو بیٹھے گی۔

ارشاد کیا: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ افسوس کہ خود کو ہم نے ابن الوقت اور موقع پرست سیاستدانوں کے حوالے کر دیا اور ان مولوی صاحبان کے جو اللہ کے پیام سے بے بہرہ ہیں۔ دن رات جو عذاب کی نوید دیا کرتے ہیں۔ ’’نیم حکیم خطرہ جان، نیم ملا خطرہ ایمان۔‘‘

آدمی نے ایمان ہی کھو دیا تو اس کے پاس باقی کیا بچے گا؟ رمضان المبارک میں ایک گلوکار کو دیکھا کہ واضح ہو گیا ہے۔ ایک خاتون نے اسے فون کیا۔ کہا، اپنی سوتیلی بیٹی کو میں نے ڈانٹا جب گرم پانی کا برتن اٹھائے، وہ جا رہی تھی، وہ گھبرائی تو پانی اس کے تن پر گرا اور اس نے جان ہار دی۔ دل شکستہ عورت نے سوال کیا کہ کیا اس کے لیے نجات کی کوئی صورت نہیں۔ ’’بالکل نہیں‘‘ اسے جواب ملا، تم ایک قاتلہ ہو اور دروازے تم پر بند کر دیئے گئے۔

اللہ کا دروازہ چوپٹ کھلا رہتا ہے۔ اس کے سامنے جھکنا اور اس کے قوانین کا ادراک کرنا ہوتا ہے۔ ہارے ہوئے لوگوں سے اس کی کتاب یہ کہتی ہے ’’یا ایھاالانسان ما غرک بربک الکریم۔‘‘ اے آدم زاد تجھے کس چیز نے اپنے مہربان رب کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ وہ سوال کرتی ہے:

کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں عطا نہیں کیں؟
اور زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے؟
اور اسے خیر و شر کے دونوں راستے بھی دکھا دیئے

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا
اور تم کیا جانو کہ گھاٹی کیا ہے
کسی کی گردن کا چھڑانا
اور بھوک کے دن کھانا کھلانا
پیہم رشتہ دار کو
اور فقیر خاکسار کو
پھر ان لوگوں میں وہ داخل ہوا، جو صبر اور شفقت کی وصیت کرنے والے ہیں

یہی لوگ صاحبِ سعادت ہیں

یہ مایوسی ہے، جو عمل کی ساری صلاحیت چاٹ کر، حریت عمل کے سب امکانات تحلیل کر دیتی ہے۔ ہمارے دانشور، علماء اور رہنما آج اسی کار خیر میں مصروف ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ استعمار کے مسلط کردہ حکمرانوں کے طفیل ہماری راہ کھوٹی ہو گئی۔ یہ ادھورا سچ ہے، پورا سچ یہ ہے کہ ہم نے خود کو حکمرانوں کے حوالے کر دیا ہے۔ جدوجہد اور تگ و تاز جہاں نہ ہو، وہاں مقدر حکومت کیا کرتا ہے۔ یہ ملاح ہے جو کشتی کو ساحل سے ہمکنار کرتا ہے۔ اگر اسے پانیوں کے حوالے کر دیا جائے تو اس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔

غزہ کے فلسطینیوں نے جو زخم کھائے ہیں، وہ فقط اسرائیل کے لیے امریکی سر پرستی کے طفیل نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے طاقتور عرب پڑوسی افتاد کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ مصر، سعودی عرب اور دوسرے شاہی خاندان۔ بیداری کے ان سو سال کے بعد، جب آقاؤں کے خیموں کی طنابیں توڑ دیں، اپنے لیے حماس کو اسرائیل سے بڑا خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔

دنیا مگر بدل رہی ہے۔ اگرچہ آج بھی امریکہ اور یورپ کے ذرائع ابلاغ پر صہیونی اثر و رسوخ بہت گہرا ہے، پہلی بار لیکن یہ ہوا ہے کہ سوشل میڈیا نے اخبارات اور ٹیلی ویثن کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ اخبارات بے اثر ہوتے جا رہے ہیں اور ٹی وی کی نشریات بھی۔ مغرب میں اسرائیل کی مخالفت بڑھ رہی ہے؛ اگرچہ کوئی باقاعدہ سروے سامنے نہیں۔ محتاط ترین اندازہ مگر یہ ہے کہ 60 % سے زیادہ مغربی شہری صہیونی ریاست کو خون ریزی اور بد امنی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ مشہور برطانوی اخبار نویش رابرٹ فسک نے لکھا ہے کہ رائے عامہ روایتی ذرائع ابلاغ کی گرفت سے آزاد ہونے لگی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ ایک انقلاب کی نوید ہے۔ عرب ملکوں میں سب سے زیادہ سفاکی کا مظاہرہ مصر نے کیا، جہاں ایک منتخب حکومت برطرف کر کے، انکل سام اور عرب بادشاہوں کے ایما پر فوجی قیادت مسلط کر دی گئی۔

نگاہ خیرہ کر دینے والی صداقت یہ ہے کہ فلسطینیوں سے زیادہ اسرائیل پہ خوف طاری ہے۔ جھک جانے کی بجائے غزہ میں اشتعال نے جنم لیا ہے۔ لگ بھگ دو ہزار شہادتوں کے باوجود، جن میں خواتین اور بچوں کی اکثریت ہے، جنگ بندی بالآخر حماس کی شرائط پر ہوئی۔ مطالبہ اس کا یہ تھا کہ تل ابیب جب تک زمینی افواج واپس نہ بلائے گا، وہ ہر کز ہتھیار نہ رکھیں گے۔ ہتھیار کیا، مقامی طور پر تیار کئے گئے راکٹ۔ بیرون ملک مقیم، اسرائیل کے ممتاز شہریوں سے رابطہ رکھنے والے ایک پاکستانی نے اس خوف کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی، جو صہیونی آبادیوں کے در وبام پر مسلط ہے۔ ایک اسرائیلی نے اس سے یہ کہا: ہماری بھی کیا زندگی ہے۔ گھنٹہ بھر کے لیے گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور پھر دو گھنٹے کے لیے زیرِ زمین مورچوں میں پناہ گزیں رہتے ہیں۔

جیسا کہ جرمنی فلسفی ہیگل نے کہا تھا، افراد اور اقوام کے تضادات ہی بالآخر ان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ یہودیوں کی نفسیات بگڑ گئی ہے۔ طاقت کے بل پر وہ اپنی بات منوانا چاہتے ہیں اور منوا نہیں سکتے کہ فلسطینیوں نے خوف زدہ ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا طرز عمل یہ ہے: جتنے لوگوں کو چاہو مار ڈالو، کسی صورت ہم سپر انداز نہ ہوں گے۔ ایسے ہی لوگ زندہ رہتے ہیں، ایسے ہی:

فردائے   قیامت   تک   جینا  حصہ   ہے   اسی   فرزانے  کا
جس   نے  کہ   سلیقہ   سیکھ   لیا،   جینے  کے   لیے   مر   جانے    کا

وسائل کے لیے بھوکی اسرائیلی قیادت کو خود پر قابو نہیں اور ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں قدرتی گیس کے ڈیڑھ کھرب مکعب فٹ کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ بے چین ہو کر اگر پھر وہ فلسطینیوں پی چڑھ دوڑا تو مغرب میں عوامی مخالفت مزید بڑھے گی اور بالآخر نتائج پیدا کرے گی۔ سعیدہ وارثی کے استعفے کا پس منظر یہ ہے کہ پچھلے انتخابات میں ان کی قدامت پسند جماعت کو مسلمانوں کے صرف 12 % ووٹ ملے۔ اسی لیے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کی بڑی تعداد نہیں حق بجانب قرار دے رہی ہے۔ دنیا بدل رہی ہے اور ہم؟ تقلید کے راستوں پر آنکھیں بند کر کے تلپٹ بھاگنے والوں کو اس کا ادراک ہی نہیں۔ اللہ کے آخری رسول نے فرمایا تھا کہ بالآخر ہندوستان کے مسلمانوں اور ترک بلادِ شام میں یہودیوں سے معرکہ آرا ہوں گے۔ گزشتہ صدی کے پانچویں عشرے میں ایک ملک، رحمٰن نے بنایا اور ایک شیطان نے۔ پاکستان اور اسرائیل۔

ہر غیر منطقی وجود کو بالآخر ہٹ جانا ہوتا ہے۔ موت اسرائیل کا مقدر ہے مگر اس وقت نواز شریف اور جنرل سیسی ایسے حکمران عالم اسلام پہ مسلط نہ رہیں گے۔ پانچ سال، دس سال یا دو عشرے۔ کون جانتا ہے آنے والے دن کا سنہرا سورج کب طلوع ہو گا؟

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند