تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاکستان۔۔۔ جسے بلبلہ کہتے ہیں!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 12 شوال 1435هـ - 9 اگست 2014م KSA 11:42 - GMT 08:42
پاکستان۔۔۔ جسے بلبلہ کہتے ہیں!

عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے محض 14 ماہ بعد ہی نواز شریف حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور مظاہروں کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان اور کینیڈا پلٹ مذہبی عالم، طاہرالقادری، نے 14 اگست، یوم آزادی کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ بہت سے سیاستدانوں اور جماعتوں نے جن کو پاکستان کی اندرونی ریاست، آئی ایس آئی، کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے جانا جاتا ہے، شریف مخالف مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ قومی امکان ہے کہ نواز شریف خود پر حملے کی لہر سے بخیروخوبی گزر جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں ان کی مکمل اکثریت ہے اور ملک میں فوجی بغاوت کا مطالبہ کسی بھی طرف سے بھی نہیں کیا جا رہا۔

لیکن یہ مظاہرے، عین اسی طرح نواز شریف کو کمزور کر دیں گے اور منتخب حکومت کی توانائیوں کو تحلیل کر دیں گے اور اس کی طاقت کو کم کر دیں گے جس طرح آصف علی زرداری اور یوسف رضاگیلانی کی قیادت میں قائم گزشتہ سیاسی حکومت کے پَر کاٹے گئے۔ پھر عدلیہ نے منتخب راہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا، حالانکہ، اس دفعہ ،جج، اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔ ایک آزاد ملک، پاکستان ، میں فوج نے اس ملک کی زندگی کے نصف عرصے تک حکومت کی۔ اس وقت جبکہ فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی، ملک پر براہ راست حکومت کرنے سے قاصر ہے، لیکن یہ دونوں، حکومت اور خفیہ ایجنسی، اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے بے قرار ہیں اور خاص طور پر غیرملکی اور قومی سیکورٹی پالیسیوں کے حوالے سے وہ اپنے اثرورسوخ کے اظہارکی کوشش کر رہے ہیں۔ فوج کی طرف سے کسی بھی وقت مہم جوئی کو بیساکھیاں مہیا کرنے کے لیے کافی مقدار میں سیاستدان، میڈیا کی شخصیات اور ججز، ہروقت تیار رہتے ہیں۔ اس وقت فوج کا مطالبہ ہے کہ نواز شریف حکومت، بھارت کے لیے پرجوش رویے اور تعلقات کی بحالی پر مبنی رویے کو ترک کر دے، اور پاکستان کی طرف سے افغانستان کے معاملات میں مداخلت پر مبنی ماضی کی پالیسی پر نظرثانی کرے۔

فوج کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ سابق آمر جنرل پرویز مشرف پر بغاوت کا مقدمہ ختم کیا جائے۔ پاکستانی فوج کی فوجی بغاوت پر مبنی انداز فکر کو بغاوت کے باعث مقدمہ چلانے پر منتج نہیں ہونا چاہیے۔ مسلح افواج، محب وطن ہیں خواہ ان کی غلطیوں کے باعث ملک نصف رہ جائے جیسا کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان سے محروم ہو جانے اور بنگلہ دیش کی تخلیق کی صورت میں ہوا ۔دوسری طرف، ملک کے لیے ایک دوسرے راستے کی حمایت کرنے پر شہریوں کو غدار قرار دیا جا سکتا ہے۔ استہزائی اندا ز میں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ منتخب حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں ایک ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب پاکستانی فوج، شمالی وزیرستان میں جہادی دہشت گردوں کے خلاف سخت گیر جنگ میں مصروف ہے۔ بری فوج کے سربراہ نے وعدہ کیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ عام طور پر جنگ کے باعث، سیاستدان متحد ہو جاتے ہیں لیکن فوج، اور اس کی سیاسی اتحادیوں، یا پھرنواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اس تقسیم پر قابو پانے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی گئی۔ موجودہ سیاسی خلفشارکے باعث مجھے اپنی وہ گفتگویاد آ رہی ہے جو اس وقت کے افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی خاص نمائندے، مارک گراسمین کے ساتھ اس وقت ہوئی جب کچھ دیرقبل امریکہ کی طرف سے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے خفیہ فوجی کارروائی کی گئی تھی۔ گراسمین جو یکم مئی کی فوجی کارروائی کے وقت اسلام آباد میں موجودتھے، نے پاکستان کے دارالحکومت کی فضا کو ’عجب‘ قرار دیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی افسران اور باقی دنیا ’’دو متوازی دنیاؤں‘‘ میں رہتے ہیں۔ اس کہنہ مشق امریکی سفارت کار نے محسوس کیا کہ ملک میں دنیا کے مطلوب ترین دہشت گرد کی موجودگی کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے، پاکستان نے امریکہ کی طرف سے پاکستانی سرزمین پر پاکستانی حکام کی اجازت کے بغیراسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے فیصلے پر انتہائی غضب کے عالم میں احتجاج کیا۔

اس وقت ، امریکہ میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے میں گراسمین کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ میں اس سے متفق ہوں۔ لیکن بہت سے پاکستانیوں کے مانند، جو اپنے ملک کے مستقبل کے متعلق فکرمند تھے، میں نے اکثر محسوس کیا کہ میرے ہم وطن اپنی ہی زندگی میں رہنا چاہتے ہیں۔ باقی دنیا، جہادیوں کو ختم کرنے کے ضمن میں پاکستان کی ناکافی کوششوں کی واضح طور پر شاکی ہے۔ دہشت گردی کا معمول پاکستان کی معیشت پر مضراثرات مرتب کر رہا ہے اور پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک سفر کرنے کے علاوہ ملازمت کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں سری لنکا نے پاکستانیوں کو دی گئی وہ اجازت واپس لے لی جس کے تحت وہ سری لنکا آمد پر ویزا حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن اس قسم کی خبروں کو پاکستانی میڈیا میں بمشکل ہی موضوع بنایا جاتا ہے جو اکثر عمران خان اور طاہرالقادری جیسے لغو اور شرارتی لوگوں کی خبروں کو اپنی سکرین کی زینت بنائے رکھتے ہیں۔

لیکن پاکستانی میڈیا پر پاکستانیوں کو اکثر اوقات یہ معلومات مہیا نہیں کی جاتی کہ باقی دنیا پاکستان کے متعلق کیسا محسوس کرتی ہے اور اس ضمن میں یہ سمجھتے ہوئے الجھن میں مبتلا ہے کہ جہادی دہشت گردی، ملک کی بقاکے لیے بنیادی اور حقیقی خطرہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی قائدین قوم پرستی کے بڑے بڑے دعوں اور ایک دوسرے کے خلاف بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے کو ہی اپنی ترجیح سمجھتے ہیں اور ملک کو پہنچنے والے نقصان کے متعلق سنجیدہ اور ایماندارانہ بحث سے کنی کتراتے ہیں۔ اس لیے، عمران خان اور طاہرالقادری، اس لحاظ سے کچھ مختلف رویہ نہیں اپنائے ہوئے جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران زرداری کے خلاف، نواز شریف نے رویہ اختیار کیا۔ حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ، خواہ عام انتخابات کے محض چند ماہ بعد ہی، ایک سنجیدہ بحث کا موضوع بن سکتا ہے کہ کس طرح ایک قوم کی حیثیت سے پاکستان نے اپنی منزل کھوٹی کی۔ اس وقت بڑھتی ہوئی انتہاء پسندی، عدم برداشت، تشدد اور عالمی تنہائی کے امکانات جیسے مسائل کو موضوع بحث بنانے سے پہلوتہی کی جا رہی ہے۔ مسائل کے پہاڑ سے پہلوتھی، خود فریبی پر مبنی رویہ ہے۔

Pew Global کی طرف سے کیے گئے ایک حالیہ جائزے کے مطابق، پاکستان کے قریبی اتحادی، چین میں بھی محض 30 فیصد لوگ پاکستان کے متعلق مثبت انداز میں سوچتے ہیں لیکن اس قسم کے جائزے اور ان کے اثرات و نتائج کو شاذو نادر ہی پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث بنایا جاتا ہے جس کی توجہ اس وقت نواز شریف اور ان کے مخالفین کے درمیان جاری زبانی کلامی جنگ پر ہے۔ بلاشبہ، دو متوازی دنیائیں!

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند