تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلسطین، افغانستان اور لارنس آف عربیہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 20 شوال 1435هـ - 17 اگست 2014م KSA 12:46 - GMT 09:46
فلسطین، افغانستان اور لارنس آف عربیہ

لوگ حقائق جاننا چاہتے ہیں لیکن وطن عزیز میں سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپا کر پیش کئے جانے سے حقیقت ہمیشہ پسِ دیوار رہی ہے۔ بیت المقدس بلا شبہ اہل ایمان کے ایمان کا معاملہ ہے لیکن جو احتجاج ان دنوں فلسطین کے نام پر پاکستان میں ہو رہا ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ کیا بیت المقدس کی آزادی کیلئے مطلوبہ عمل کیا یہی ہے !! بیت المقدس 9 دسمبر 1917ء کو برطانیہ اور بعدازاں اسرائیل کے قبضے میں آیا۔

اب جب فلسطینیوں پر مظالم کا کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے تو پوری دنیا میں اس ظلم پر احتجاج کے باعث ہم بھی جاگ جاتے ہیں اور جذبات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اسے ہم ا نے ایک طرح سے مذہبی فریضہ بھی سمجھ رکھا ہے ہمارے احتجاج کا یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کوئی دوسرا ایشو سامنے نہیں آجاتا۔ یوں ہم الاقصیٰ کی آزادی کیلئے قرآن و حدیث کی روشنی میں جہاد کے طریقہ کار اور مربوط و قابل عمل لائحہ عمل اپنانے کی بجائے برسوں سے محض احتجاج کرنے کے بعد خواب خرگوش میں چلے جاتے ہیں۔ ایسا لائحہ عمل نہیں بناتے جس سے ہمیں پائیدار کامیابی نصیب ہو،بعض بہروپئے بھی ہمیںبس ہمیں وقتی نعروں سے بہلاتے رہتے ہیں، ہم بھی انہیں اس وقت پہچانتے ہیں جب ہمارے ہاتھ کچھ نہیں رہتا۔ افغانستان میں 1979ء کے انقلاب کے بعد بعض عناصر نے امریکی جنگ کو جہاد قرار دیا، لیکن امریکہ کے واحد عالمی ٹھیکیدار بن جانے کے بعدآج ہر کوئی ، یہاں تک کہ ان عناصر کے پشت بان بھی اسے ایسی جنگ قرار دے رہے ہیں جس کا واحد فاتح امریکہ رہا۔

بریگیڈیئر یوسف صاحب اپنی کتاب THE SILENT SOLDIER میں یوں اعتراف کرتے ہیں۔ ’’ افغانستان میں جنگ کا فاتح صرف اور صرف امریکہ ہے اور شکست ان افغانوں کو ہوئی جن کے گھر بارود کے ڈھیر بن گئے ، زمین اور کھیت جل کر راکھ ہوئے اور ملین کے ملین افغان ہلاک، خواتین بیوہ، ضعیف بے سہارا اور بچے یتیم ہوئے ‘‘ یہاں ان عناصر کے چہروں سے نقاب اٹھانا مقصود نہیں، عرض یہ ہے کہ فلسطین سے متعلق میرے پچھلے دو کالموں میں جس طرح محترم پڑھنے والوں نے اظہار دلچسپی کیا ہے اور اے این پی کے سابق وزیر برادر واجد علی خان نے جس طرح سچ کی خاطر اے این پی کی قربانیوں کا تذکرہ کیا ہے، وہ اس بات کا غمازہے کہ پاکستانی عوام حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ نیز وہ بہروپیوں سے بھی جان چھڑانے کے خواہاں ہیں لیکن جو بڑی مشکل درپیش ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ سچ و حقیقت اختیار مندوں کیلئے گھاٹے کا سودا ہے لہٰذا سچ تک رسائی شیریں کیلئے دودھ کی نہر نکالنے سے بھی مشکل تر امر بن چکا ہے ۔ بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے لارنس آف عربیہ کو دیومالائی کردار قرار دیتے ہوئے اس پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح اُس شخص نے اپنے مذہب و اپنی یعنی برطانوی حکومت کی کامیابی کیلئے سفاکانہ کردار پوری ’’دیانتداری‘‘ سے نبھایا۔

منشی عبدالقدیر مرحوم کی مشہور کتاب ’’بیت المقدس‘‘ میں جملہ تفصیلات ہیں۔ یہ کتاب جولائی 1947ء میں آگرہ میں چھپی تھی۔ جسے بعدازاں ڈاکٹر سید معین الرحمٰن صاحب نے مرحوم کے صاحبزادے رشید علائو الدین خالد کے زیراہتمام نئےسرے سے شائع کرایا۔ لارنس کا پورا نام ٹامس ایڈورڈ لارنس اور فوج میں کرنل تھا۔ نہ شراب خوار تھا اورنہ ہی تمباکو استعمال کرتا تھا۔ عرب میں پاجامہ اور گھٹنوں سے نیچی قمیض میں ملبوس رہتا۔ یہ خالص ریشمی ہوتے، عبا کے کناروں پر زرق برق زردوزی کا کام ہوتا، اپنے لباس کےباعث مثلِ شہزادوں کے ہر موقع پر نمایاں رہتا، عرب اسے شریف لارنس کہتے۔

اُس نے شام میں 4 سال تک عربی میں مہارت حاصل کی، بھیس بدلنے میں لاثانی تھا، اکثر نمازوں کی امامت کرتا تھا۔ سر ہنری میکماہن اور شاہ حسین شریف مکہ کے درمیان خلافت عثمانیہ کے خلاف معاہدہ کے بعد لارنس عرب آگیا تھا۔ لارنس نے عربوں اور دیگر ممالک کے مسلمانوں (تفصیل پچھلے کالموں میں موجود ہے) کی مدد سے ترک مسلمانوں سے ایک لاکھ مربع میل علاقہ چھین لیا جس کے بعد برطانوی جنرل ایلنبائی کو فلسطین فتح کرنے میں کامیابی ملی۔

لارنس وعدے کا پکا، خوددار اور انتہائی رحمدل تھا۔یہاںتک کہ 1935ء میں اس کی موت بھی اپنی موٹر سائیکل کے سامنے اچانک آنے والے دو بچوں کو بچاتے ہوئے ہوئی۔ لیکن اُس نے ترک مسلمانوں کے بچوںو خواتین کے قتل عام کیلئے مسلمان فتویٰ فروشوں کے ذریعے قتل عام سے ذرا برابر دریغ نہیں کیا۔ یعنی عیسائی و یہودیوں کی زندگی کے تحفظ کیلئے اُس نے مسلمانوں کے قتل کو جائز سمجھا ،جبکہ دوسری طرف حیف اُن مذہب فروشوں پر ہے، جو عیسائی، یہودیوں اور اپنے مفاد کیلئے ترک مسلمانوں کے خونِ ناحق سے ہاتھ سرخ کرتے رہے۔ اسی لئے راقم کا اصرار بہ تکرار یہ ہے کہ جب تک ہم اپنی صفوں میںچھپےایجنٹوں کو پہچان نہیں لیتے، دھوکہ کھاتے رہیںگے۔ ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کے دوران لارنس کے اونٹ پر دس دس ہزار پونڈ کے تھیلے موجود رہتے تھے جو ختم ہونے پر دوبارہ بھردیئے جاتے تھے۔ یہ اس تاریخی کمزوری کاثبوت ہے کہ دولت نے ہمیشہ فتویٰ فروشی کو فروغ دیا۔

یہی لارنس مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کو قتل، بیت المقدس عیسائیوں کے ہاتھ دینے اور یہودیوں کیلئے راستہ ہموار کرنے کے بعد مسلمانوں کے دوسرے بڑے مرکز افغانستان پہنچ گیا تھا۔ افغانستان میں اس وقت غازی امان اللہ خان کی حکومت تھی۔ ہم جو یہ ذکر کرتے ہیں کہ پختونوں نے برطانیہ کو شکست دی ہے، یہ یاد رہے کہ ایسی ہی ایک کامیاب یعنی تیسری اینگلو افغان جنگ کی قیادت غازی امان اللہ خان نے ہی کی تھی اور 19 اگست 1919ء کی اس فتح کی یاد میں ہرسال افغانستان میں یوم استقلال منایا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کسی طرح ان سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ جب جنگ کے ذریعے وہ نامراد ہوا تو وہ آزمودہ نسخہ یعنی فتویٰ فروشوں کو بروئے کار لایا۔ غازی امان اللہ خان نے جو 15 اصلاحات متعارف کرائی تھیں ان کی زد میں خان، سردار اور مذہبی اشرافیہ وغیرہ آتے تھے۔

لارنس نے پشاور پہنچ کر ان سے رابطے شروع کردیئے اور پھر غازی امان اللہ خان کو ملحد قرار دیکر ان کے خلاف محاذ بنادیا ۔ اس میں پیش پیش تین بڑے وہ لیڈر اوران کے آبائو اجداد بھی تھے جنہوں نے بعدازاں 1979ء میں روس کیخلاف امریکی جنگمیں بھی اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ پشاور میں جوتین خان فرنگی استعمار کیلئے فوج سازی کرتے رہے وہ خان بہادر کہلائے۔

بہرکیف امان اللہ خان کو اپنوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر فرانس جانا پڑا اور ایک تاجک ڈاکو بچہ سقہ کو انگریز اور ان کے ہمنوا فتویٰ فروشوں نے اقتدار حوالے کر دیا۔ جب ان کی حقیقت افغانوں پر کھلی تو انہوں نے لاکھ کوشش کی کہ امان اللہ خان افغانستان واپس آکر اقتدار سنبھال لیں لیکن وہ دلبرداشتہ ہو چکے تھے، اور یوں اقتدار ظاہر شاہ کے والد نادر خان کے حوالے کر دیا گیا۔ عرض بس وہی ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کو دشمنوں نے سامنے سے آکر شکست کبھی نہ دی، ہمیشہ آستین کے سانپ نے ہی ڈسا ہے۔ جنھیں پہچانے بغیر ہم لاکھ لانگ شارٹ مارچ کرلیں، ترقی، آسودگی اور اقوام عالم میں عزت خواب ہی رہے گا۔
نازش حیدری مرحوم نے کیا خوب کہا ہے۔

فریبِ وقت نے گہرا حجاب ڈالا ہے

وہاں بھی شمعیں جلادو جہاں اُجالا ہے

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند