تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکہ اور اسرائیل میں نسل کشمکش
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 25 شوال 1435هـ - 22 اگست 2014م KSA 12:12 - GMT 09:12
امریکہ اور اسرائیل میں نسل کشمکش

امریکہ کی ریاست ’’مسوری‘‘ کے شہر ’’فرگیوسن‘‘ میں سفید فام پولیس کی گولیوں سے ایک اٹھارہ سالہ سیاہ فام نوجوان کے مارے جانے کے بعد سیاہ فام مظاہرین کے تشدد اور اسرائیل میں ایک یہودی لڑکی کے مسلم نوجوان سے شادی کر لینے سے یہودیوں کے ایک طبقے کے سڑکوں پر اتر آنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ فرقہ واریت اور نسلی کشمکش صرف عراق، افغانستان یا ان ملکوں میں نہیں جن کو انسانیت کا درس دینے کیلئے امریکہ اپنے مبلغ اور فوجی بھیجتا رہتا ہے بلکہ امریکہ اور اس کے پروردہ اسرائیل میں فرقہ واریت اور نسل پرستی کا ناسور ختم ہونے کے بجائے پھیلتا جا رہا ہے۔ خود امریکہ میں سیاہ فام تحریک شروع ہی ا سلیے ہوئی تھی کہ رنگ و نسل کی بنیاد پر جو تفریق کی جا رہی ہے اور سیاہ فام امریکیوں کو جس طرح انسانی اور شہری حقوق سے محروم کیا گیا ہے اس کا خاتمہ ہو سکے۔ برسوں کی جد و جہد کے بعد تحریک کامیاب ہوئی یہاں تک کہ سیاہ فام امریکیوں میں سے ایک سیاہ سفید شخص ملک کے سیاہ و سفید کا مالک یعنی صدر بن گیا۔ دنیا نے سمجھا اور دنیا کو سمجھایا بھی یہی گیا کہ امریکہ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے اور اب یہاں رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جائے گی مگر بعد میں مسلسل ایسے واقعات رونما ہوئے (جن میں تازہ ترین واقعہ اٹھارہ سالہ سیاہ فام نوجوان کا قتل ہے) جن سے معلوم ہوا کہ باراک اوبامہ کے عہدہِ صدارت پر فائز ہونے کے باوجود سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ تفریق اور ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔

سیاہ فام مظاہرین کے خلاف امریکی پولیس نے جو رویہ اختیار کیا وہ حد درجہ ظالمانہ تھا۔ اس ظالمانہ رویے پر امریکی اخبارات بے بھر پور تنقید کی اور ریاست کے گورنر نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا جس سے حالات قابو میں آنے لگے۔ لیکن اسی دوران پولیس کے ایک افسر نے سیاہ فام نوجوان کو گولی مارنے والے افسر کا نام ظاہر کرنے کے علاوہ مقتول نوجوان کی وہ تصویر بھی جاری کر دی جس میں اسکو ایک مقامی اسٹور سے سگار چراتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تصویر جاری کرنے کا مقصد شاید یہ باور کرانا تھا کہ مقامی اسٹور میں چوری کی واردات میں ملوث افراد کی تلاش کی مہم میں سیاہ فام نوجوان پولیس کے ہاتھ لگ گیا اور پھر وہ ہوا جس کے سبب مظاہرین تشدد پر اتر آئے۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے، اعلیٰ پولیس افسر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جس وقت سیاہ فام نوجوان پولیس افسر کے ہاتھ لگا اس وقت تک اس کو اس کے چوری میں ملوث ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مائیکل براؤن کو کیوں قتل کیا گیا؟ مقتول کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ایک بے گناہ کو قتل کرنے کے بعد اس کی کردار کشی کی جا رہی ہے تاکہ پولیس اپنی ظالمانہ کارروائی کا جواز پیدا کر سکے۔ یہ الزام سچ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ،مائیکل اگر چور بھی تھا تو اس کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جانا چاہئے تھا جو پولیس نے کہا اور پھر سیاہ فام مظاہرین کو کچلنے کے لیے جس طرح بھاری بھرکم اسلحہ استعمال کیا وہ اور بھی زیادہ مجرمانہ کارروائی تھی جس کی ہر طرف سے مذمت ہوئی ہے۔

اسرائیل میں 26 سالہ محمد منصور اور 23 سالہ یہودی دوشیزہ ماریل ملکہ کے ولیمہ کی تقریب میں دو سو یہودی مظاہرین نے بد ترین رویے کا مظاہرہ کیا۔ وہ جو ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے اس پر نسل پرستی پر مبنی نعرے لکھے ہوئے تھے اور انکے ہاتھوں میں جو پلے کارڈس تھے ان پر لکھا ہوا تھا Death To Arabs (یعنی عربوں کی موت)۔ لیکن اس موقع پر چند لوگوں نے نوجوان جوڑے کو گلدستے پیش کرتے ہوئے ایسے پلے کارڈس بھی ہوا میں لہرائے جن پر لکھا ہوا تھا : Love Conquers All (محبت سب کو فتح کر لیتی ہے یا محبت فاتح زمانہ ہوتی ہے) اور Jews and Muslims Refuse to be Enemies (یعنی یہودی اور مسلمان ایک دوسرے کا دشمن ہونے سے انکار کرتے ہیں)۔

اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں جن بنیادوں پر صہیونی اور نسل پرست حکومت قائم کی گئی تھی اس کی مخالفت کرنے والے بھی اسرائیل میں موجود ہیں اس لئے اس ملک میں نسل پرستی کو ہوا دینے والوں اور نسل پرستی کی مخالفت کرنے والوں میں زبردست کشمکش جاری ہے۔ یعنی اسرائیل اس وقت دوہری لڑائی لڑ رہا ہے۔ ایک لڑائی تو وہ فلسطینیوں کے خلاف غزہ میں لڑ رہا ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس سرزمین سے عربوں کا خاتمہ کر دے اور اس کی اس کوشش میں شیر خوار بچوں سمیت دو ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں لیکن خود اس کے ہی لوگوں میں ایسے افراد بھی اس کے خلاف صف آراء ہو رہے ہیں جو اسرائیلی حکومت کے جبر و ظلم کے مخالف ہیں۔ یہودی دوشیزہ ماریل ملکہ کا ایمان لانا اور پھر محمد منصور سے کھلے عام شادی کرنا بھی ثابت کرتا ہے کہ ظلم و جبر سے زمینوں پر تو قبضہ کیا جا سکتا ہے دلوں کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔ محمد منصور کے عشق میں وہ 5 سال پہلے گرفتار ہوئی تھی اور بالآخر یہ عشق شادی پر بحسن وخوبی ختم ہوا۔

اسرائیل کے ان مقبوضہ علاقوں میں جہاں لفسطینی رہتے ہیں، زندگی کتنی دشوار اور موت کتنی اذیت ناک ہے کہ اس کا اندازہ ہر وہ شخص کر سکتا ہے جو اخبار پڑھتا ہے اور اس کے باوجود وہاں اسرائیل کے کچھ لوگوں کا غزہ میں ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب اپنی حکومت کے خلاف احتجاج اور ایک یہودی لڑکی کا فلسطینی مسلمان لڑکے سے عشق اور شادی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل نفرت اور نسل پرستی کی وہ جنگ ہار رہا ہے جس کو بہر حال جیتنے کے لئے اس نے غزہ اور دوسرے علاقوں کو مقتل بنا دیا تھا۔
امریکہ میں سیاہ فام عوام کا اٹھ کھڑا ہونا بھی امریکی معاشرت میں موجود کشمکش کے راست تصادم کی صورت اختیار کر لینے کی دلیل ہے۔ سیاہ فام امریکی پانے حقوق کے حصول کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس تصادم کا نتیجہ بھی بر آمد ہو گا۔ اس تصادم نے امریکی پولیس اور انتظامیہ کے نسل پرستانہ رویے کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ دنیا کو اس صبح کا انتظار رہے گا جب ظلم، نا انصافی اور نسلی برتری کے خلاف مزاحمت امریکہ اور اسرائیل کے نسل پرست چہروں کو بے نقاب کرنے کے علاوہ دوسرے ملکوں اور علاقوں میں بھی شروع ہو گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند