تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کی 'شیطان بزرگ' کے ساتھ ساجھے داری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 26 شوال 1435هـ - 23 اگست 2014م KSA 20:20 - GMT 17:20
ایران کی 'شیطان بزرگ' کے ساتھ ساجھے داری

ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای جس امریکا کو 'شیطان بزرگ' کا نام دیتے ہیں، جس کی عراق میں بمباری اور حملوں پر ملی بھگت کے انداز میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی بھی اگرچہ ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئیر لوگوں میں شامل رہے ہیں وہ اور ایران کا ریاستی میڈیا عراق اور شام میں امریکی بمباری سے اندھے پن کی حد تک آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ اگر کسی درجے میں امریکا پر کوئی تنقید ہو رہی ہے تو وہ صرف عراقی سرحدوں کے قریب امریکی عزائم کے بارے میں ہے نہ کہ خطے میں سامنے آنے والی حالیہ صورت حال اور پیش رفت کے بارے میں ہے۔

امریکی حکام بھی عراق میں ایران کی فوجی سرگرمیوں اور اس کی عراقی حکومت کو دی جانے والی اعانت کے بارے میں کم سے کم تنقید کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں حتی کہ ایران کے عراقی سر زمین پر موجود فوجی دستوں کے بارے میں بھی امریکی برداشت خوب ہے۔ امریکا اور ایران جنہیں ایک دوسرے کا حریف خیال کیا جاتا ہے۔ ان دنوں بظاہر عراق میں بھی قدم بقدم ہیں۔ یہ ہم آہنگی داعش کا بازو مروڑنے کے ساتھ ساتھ عراق کا نیا وزیر اعظم اور حکومت لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

لہجے کی تبدیلی

ایرانی رہبر علی خامنہ ای کی امریکا مخالف شہرت کے باوجود ان کی ایک حالیہ تقریر نے ان کے امریکا کے بارے میں لہجے کے تبدیل ہونے کی چغلی کھائی ہے۔ اگرچہ پچھلے ہی ہفتے انہوں نے روایتی خطاب میں اپنا پرانا موقف دہراتے ہوئے کہا تھا ''امریکا کے ساتھ مذاکرات بے فائدہ ہیں۔'' ان کا مزید کہنا تھا ''بے شک ہم نے جوہری معاملے پر مذاکرات کے جاری رکھنے کو منع نہیں کیا ہے۔ ''

واقعہ یہ ہے کہ جب سے داعش نے عراق میں قابل لحاظ پیش قدمی کی ہے امریکا اور ایران باہم حیلے بہانے سے تعاون کر رہے ہیں۔ امریکا اور تہران نے نوری المالکی پر وزارت عظمی سے الگ ہونے کے لیے دباو ڈالا۔ مالکی کی برخاستگی میں یہ امکان بھی غالب ہے کہ ایران اور امریکی رہنماوں نے اسے یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ تب خامنہ ای نے عوام کے سامنے عراق کے نئے وزیر اعظم حیدر العبادی کی نامزدگی کا خیر مقدم کیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تعاون کا سلسلہ نیا نہیں ہے، خصوصا نائن الیون کے بعد ان دونوں کے درمیان قریبی تعاون کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس تعاون کے باعث دوطرفہ اتحاد برائے سلامتی کی تشکیل ہوئی۔ اس کا اظہار کئی مواقع پر سامنے آ چکا ہے۔ اس کا آغاز دوطرفہ بنیادوں پر بھی تھا، سہہ طرفہ بھی اور کثیر الجہتی بھی تھا۔

اس اتحادی ماحول کی تشکیل کے باوجود امریکا کی طرف سے ایران کی ظاہری طور پر مذمت کی جاتی رہی۔ اسی دوران ایران نے افغان طالبان کو اتار پھینکنے میں مدد دینے کی پیش کش بھی کی۔ اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ کمال خیرازی کے درمیان اقوام متحدہ میں علامتی مصافحہ بھی ہوا تھا۔ بعد ازاں افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے لیے بھی ایران نے امریکا کے ساتھ پورا تعاون کیا۔

اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے ایران نے 2003 میں عراق پر امریکی حملے کا خیر مقدم کیا تاکہ ایران کے تزویراتی حریف صدام حسین کو اتار پھینکا جائے۔ اس موقع پر بھی ایرانی وزارت خارجہ نے واشنگٹن کو تعاون کی پیش کش کی۔ ایران کو یہ بھی خطرہ تھا کہ امریکا، ایران میں بھی مداخلت کا مرتکب ہو سکتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران، امریکا کی عراق میں مداخلت سے فاتح کے طور پر سامنے آیا۔ ایران سماجی اعتبار سے بھی عراق پر غالب آ گیا، سیاسی طور پر بھی، فوجی اعتبار سے بھی اور معاشی حوالے سے بھی، جبکہ امریکا کی پوزیشن بتدریج کمزور ہوتی گئی۔

دو ہزار سات میں جب عراق کا تنازعہ وسعت پذیر تھا، امریکا نے عراق میں اپنے سفیر ریان سی کروکر کو اجازت دی کہ وہ ایرانی سفیر حسن کاظمی قمی سے ملاقات کرے۔ بیان کردہ تمام حوالوں سے امریکا اور ایران کے درمیان تعاون کا اظہار ہوتا ہے۔

عراق پر اثرو رسوخ

اگر داعش کو کسی وقت عراق سے نکال باہر کرنے میں کامیابی ہوئی تو العبادی کو واشنگٹن کے رہین منت ہوں گے۔ اس صورت حال میں دونوں ملک سیاسی اور معاشی حوالے سے عراق میں اثر و نفوذ بڑھانے میں کامیاب بوں گے اور اپنے قومی، جغرافیائی، تزویراتی و سلامتی کے حوالے اپنے مفادات کی بجا آوری کر رہے ہوں گے۔ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان تعاون کا ثانوی اثر یہ ہو گا کہ ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں جاری مذاکرات مثبت طریقے سے آگے بڑھیں گے، سفارتی تعلقات میں بہتری ہوگی، اس معاملے میں دشمن کا دشمن میرا دوست نہیں ہو گا۔ ابھی بھی امریکا اور ایران کے درمیان نظر آنے والی خلیج موجود ہے۔ یہ خلیج علاقئی، اور جیو پولیٹیکل مقاصد کے حوالے سے ہے۔ اس میں ایک فرق اسرائیل کے حوالے سے بھی اور حزب اللہ کے حوالے سے بھی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند