تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا پاکستان انقلاب کے دہانے پر؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 26 شوال 1435هـ - 23 اگست 2014م KSA 09:51 - GMT 06:51
کیا پاکستان انقلاب کے دہانے پر؟

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاجی مظاہرے کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ عمران خان نے چار حلقوں میں انتخابی دھاندلی کے الزام سے اس احتجاج کا آغاز کیا، جب کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے گزشتہ انتخابات سے بنیادی انتخابی تبدیلیوں اور دیگر اہم سیاسی اصلاحات کے مطالبے پر احتجاج کا آغاز کیا تھا۔ عمران خان اسی انتخابی نظام کے تحت پاکستان کی پہلی بار ووٹوں کے ذریعے ایک سیاسی قوت بن کر اُبھرے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس نظام پر یقین رکھتے ہیں جو رائج ہے تو غلط نہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر طاہر القادری ،پاکستان کے سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ آئین کے اندر طے کیے گئے اہم نکات کی نشاندہی کرتے ہیں جو عوامی فلاح و بہبود، ریاستی ڈھانچے کو نچلی سطح پر Empower کرنے اور جمہوری ڈھانچے کو حقیقی معنوں میں جمہور کے مفادات، حقوق اور تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر زور دیتے ہیں۔

عمران، ڈاکٹر طاہر القادری اور برسراقتدار نواز شریف، درحقیقت یہ تینوں طاقتیں دائیں بازو کا پس منظر اور نظریاتی بنیادیں رکھتی ہیں۔ عمران اور نواز عملاً اس نظام پر کامل یقین رکھتے ہیں جو کہ اس وقت رائج ہے۔ عمران خان جیسے پرویز مشرف کے استعفے تو پاکستان کے تمام مسائل کا حل تصور کرتے تھے، ویسے ہی اب وہ نوازشریف کے استعفے کو پاکستان میں ایک تبدیلی کے تناظر سے منسوب کرتے ہیں۔ نوازشریف اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کا جو دعویٰ کرتے ہیں، وہ اسے نظام کے اندر چند ایک اقدامات شہری ٹرانسپورٹ، غیر ملکی برآمدات میں اضافہ جیسے روایتی دعووں سے جوڑنے کی کوشش میں ہیں، یعنی وہ سستے نظام کو وٹامن کے کیسپول دے کر توانا کرنے کی طرف گامزن ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری جو ایک دہائی سے دنیا کی ایک جدید اور فلاحی ریاست میں رہنے اور مغربی دنیا میں اب ایک Exposure کا تجربہ رکھتے ہیں، وہ اس راز کو پائے ہوئے لگتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست کن اہم تبدیلیوں کا تقاضا کرتی ہے۔ وہ ایک عالم دین بھی ہیں اور اس مذہبی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان میں اکثریت میں ہے، یعنی بریلوی مکتبہ فکر۔ اپنی تنظیمی صلاحیتوں کی بنیاد پر انہوں نے اپنے تعلیمی نظام سمیت ایک شاندار نیٹ ورک بھی قائم کر لیا ہے اور وہ ایک شاندار منتظم قرار دیئے جائیں تو غلط نہ ہو گا۔ اپنے مذہبی نقطۂ نظر کے حوالے سے وہ پاکستان کے اکثریتی بریلوی نقطۂ نظر کے ایک بڑے حصے کو اپنی جانب مرغوب کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں، اس لیے ان کے Followers کی تعداد لاکھوں میں ہے، جب کہ عمران خان کے Fans ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے Followers درحقیقت ایک تازہ Political Cadre ہے جس کی اہم بات اس کا نچلے درمیانے طبقے سے ہونا ہے۔ اس نئے تازہ کیڈر میں خواتین بھی برابر کی شریک ہیں۔ صوفی نقطۂ نظر رکھنے کے حوالے سے یہ کیڈر آرتھوڈکس رحجانات سے کوسوں دور ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے فالوورز، شدت پسندی اور طالبانی رجعت پسندی کے فطری مخالف ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے عالمی Exposures نے ان کی شخصیت اور نظریات کو ترقی پسند افکار کے مزید قریب کیا ہے جو کہ درحقیقت اسلام کے عین مطابق ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے نظریات، افکار اور تجربات نے ان کے پیروکاروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی لیے ان کے جلسوں میں جہاں مرد حضرات کی شرکت بھرپور اور عوامی انداز میں نظر آتی ہے ویسے ہی خواتین کی بھی۔ ان کے سٹیج سے خطاب کرنے والی متعدد خواتین کی تقاریر کو سننے کا جب مجھے موقع ملا تو میرے لیے یہ شاندار حیرت تھی کہ وہ روایتی جماعتوں کی خواتین کی نسبت فکری لحاظ سے کہیں آگے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک ایک سطح تک پاکستان میں ایک نئے سیاسی کیڈر دینے میں کامیاب نظر آرہی ہے، لیکن اس نئے اور تازہ سیاسی کیڈر کی ابھی ایک طویل نظریاتی سیاسی تربیت درکار ہے۔ اس حوالے سے پاکستان عوامی تحریک ابھی تک سیکنڈ لائن لیڈر شپ سے محروم نظر آتی ہے۔ اس کی ایک وجہ پاکستان عوامی تحریک کے اراکین کا اپنے قائد ڈاکٹر طاہر القادری کو مذہبی اور سیاسی حوالے سے شخصیت پرستی کے انداز میں دیکھنا ہے اور جماعت کے اندر ڈاکٹر طاہر القادری کا مکمل کنٹرول دوسرا سبب ہے۔ اگر وہ اپنی جماعت کو برآمدی شخصیات کی بجائے اپنے اندر سیکنڈ لائن لیڈر شپ دینے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ نیا سیاسی کیڈر پاکستان کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

ایک اہم بات جو میڈیامیں نمایاں نظر آ رہی ہے، وہ یہ کہ ڈاکٹر طاہرالقادری پر سیاسی تنقید کم اور تمسخر زیادہ اُڑایا جا رہا ہے۔ یہ ایک شعوری مہم ہے۔ اس کی 2 وجوہات ہیں، ایک یہ کہ پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا میں جہاں مفاد پرست اور خواہشات کے غلام تجزیہ نگار اہم پوزیشنز پر موجود ہیں ،وہیں پر ایسے تجزیہ نگار بھی اہم پوزیشنوں میں ہیں جو پاکستان میں فقہی حوالے سے اقلیت مگر طاقت بلکہ بندوق کی طاقت کے حوالے سے اہم مقام پا گئے ہیں۔ یہی لوگ طالبان، القاعدہ اور اس جیسی دیگر مسلح تنظیموں کو آئیڈیلائز کرتے تھے اور کرتے ہیں اور حقیقی حوالے سے بھی وہ ان اور ان جیسی تنظیموں سے متفق یا قریب ہیں۔ یہ لوگ جب طاہرالقادری کا تمسخر اڑاتے ہیں تو اس کے پیچھے ان کا مسلکی تعصب ہے۔ یہ لوگ درحقیقت فرقہ وارانہ بنیادوں پر بریلوی نقطہ نظر کے مخالف ہیں اوریوں ایک بریلوی نقطۂ نظر رکھنے والے شخص کا تمسخر اُڑایا جانا ان کے سکونِ قلب میں اضافہ کرتا ہے۔

آپ پچھلے دو برسوں کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں کہ کس طرح اتنے مداحین رکھنے والے اس مذہبی رہنما ڈاکٹرطاہرالقادری کا مذاق اُڑایا جارہا ہے اور تمسخر اُڑانے والوں کا فرقہ وارانہ پس منظر بھی نوٹ کریں تو حقیقت کھل جائے گی۔ ایک بات اور نوٹ کی جانی چاہیے کہ کیا اب پاکستان کے کسی مذہبی سیاسی رہنما کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے جیسے ڈاکٹر طاہرالقادری کو بنایا گیا؟ ہرگز نہیں! اس لیے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کی جماعت مسلح نہیں اور دیگر تمام مذہبی سیاسی گروہ اور تنظیمیں مسلح ہیں۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے نظام کی تبدیلی کے لیے ایک بے مثال مظاہرہ کرکے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ اسلام آباد کا گھیراؤ کر سکتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان میں انقلاب برپا کر چکے ہیں۔ سیاسی حوالے سے ان کے مطالبات ایک تبدیلی کے ایجنڈے کے قریب ہیں اور یہ کہ اسلام آباد میں گھیراؤ کرنے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور اس کو انقلاب قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی تشریح (Defination) کے حوالے سے دیکھا جائے تو انقلاب کسی ایک گھیراؤ سے برپا ہو سکتا ہے اور نہ ہی مکمل۔ انقلابی تحریک اگر ریاست کے تمام شہروں، قصبات اور دیہات میں نظر نہ آئے تو اسے انقلاب قرار نہیں دیا جا سکتا، جب کہ ان کا گھیراؤ ابھی Mass Movement کے زمرے میں بھی نہیں آتا۔

جب تک ایسے مظاہرے، احتجاج اور تحریک ملک کے تمام شہروں میں جنم نہ لے سکیں اسے انقلاب قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک ملک کے تمام طبقات اس میں شامل نہ ہوں، درمیانہ طبقہ، محنت کش، مزدور، کسان، خواتین اور ملک کے کونے کونے سے عوامی شورشیں نہ اُبھریں۔ ملک کے کسی ایک علاقے، محلے یا دارالحکومت کے ایوانوں کے گرد اکٹھے ہونے کو انقلاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے ابھی وقت درکار ہے، دیکھیں انقلاب کب برپا ہو گا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے تجربات جو پچھلے ایک ہفتے سے دیکھنے کو ملے، عوامی تصور کے نئے پرت کھولنے میں ایسے واقعات ایک عوامی تحریک یا انقلاب کا پیش خیمہ تو بن جاتے ہیں، البتہ ایسے واقعات صرف حکومتوں اور شخصیات کی تبدیلی کا ہی سبب بن سکتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند