تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نئے سیاسی رویئے۔ کتنے مفید کتنے مضر!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 19 ذیعقدہ 1440هـ - 22 جولائی 2019م
آخری اشاعت: اتوار 27 شوال 1435هـ - 24 اگست 2014م KSA 10:31 - GMT 07:31
نئے سیاسی رویئے۔ کتنے مفید کتنے مضر!

یہ 1500 قبلِ مسیح کی بات ہے۔ ہندوستان کے فرمانروا ’’چندر گپت موریہ‘‘ کے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں۔ بادشاہ نے اپنے اقتدار کو طول دینے اور اپوزیشن کی سازشوں کو کچلنے کے لیے اہلِ دانش سے صلاح و مشورے کیے۔ ’’چانکیہ‘‘ ایک ہوشیار، عیار اور ذہین ترین شخص تھا۔ وقتاً فوقتاً حکمرانوں کو اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے گر اور فارمولے بتاتا رہتا تھا۔ حاکمِ وقت ان پر عمل پیرا ہو کر اقتدار کے ہزاروں مخالفین کی ریشہ دوانیوں کے باوجود تخت سے چمٹے رہتے تھے۔ چانکیہ نے ’’چندر گپت موریہ‘‘ کو چند ایسے گر اور فارمولے بتائے جن کے بغیر لمبی حکومت کرنا ناممکن تھا۔ ’’چانکیہ‘‘ کی تعلیمات میں وعدہ خلافی، جھوٹ، مکروفریب اور دھوکا دہی سے کام لے کر اپنے مخالف کو زیر کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان جیسے درجنوں ’’سنہری اُصول‘‘ تھے جن پر ’’چندر گپت موریہ‘‘ نے پوری زندگی عملدرآمد کیا۔ نتیجے میں وہ ہندوستان کے ایک وسیع علاقے پر حکومت کرتا رہا۔ چانکیہ کے فلسفے سے اتفاق کرتے ہوئے بعد کے بھی کئی حکمران اس پر عمل کرتے آرہے ہیں بلکہ اب تو ان کے فلسفے کو عالمی شہرت مل چکی ہے۔ شاید انہیں فلسفوں کو مشعلِ راہ مان کر ہمارے حکمران بھی اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ بعض اوقات خود بھی شرما جاتے ہیں اور قوم سے معذرت کرنا پڑتی ہے۔‘‘

اس کے 1200 سال بعد یعنی 300 قبل مسیح یونان کے عظیم فلسفی سقراط، افلاطون اور ارسطو وغیرہ نے ’’ڈیموکریسی‘‘ کا تصور پیش کیا۔ ان یونان کے فلسفیوں نے خیالی تصور پر مبنی حکومتی ڈھانچہ پیش کیا۔ اسی بنیاد پر جمہوریت پر کتابیں لکھیں۔ سیاست پر افلاطون کی کتاب کا نام ہی ’’جمہوریہ‘‘ ہے، لیکن وہاں جمہوریت کا جو تصور تھا وہ نسبتاً سادہ اور محدود تھا۔ سادہ اس معنی میں کہ یونان میں جو ریاستیں تھیں، وہ شہری ریاستیں کہلاتی تھیں۔

یہ نظام سولہویں عیسوی صدی تک چلتا رہا۔ 17 ویں عیسوی صدی کے بعد یونان کی جمہوریت کا تصور عملاً ختم ہوگیا تھا۔ اس کی جگہ مطلق العنان بادشاہ نے لی تھی۔ پھر اس تصور کا احیاء اور تجدید 18 ویں صدی کے آغاز میں ہوئی۔ اُس کے بعد ہی جمہوریت نے ایک منضبط اور مضبوط شکل اختیار کی۔ وہ جمہوریت وجود میں آئی جو آج جمہوریت کہلاتی ہے جس کا نام ’’لبرل ڈیموکریسی‘‘ ہے۔ آج امریکہ و یورپ کے اکثر ممالک میں یہی ’’لبرل ڈیموکریسی‘‘ نافذ ہے۔ امریکا و یورپ کی پوری کوشش ہے کہ پوری دنیا میں یہ اپنے تمام اثرات کے ساتھ نافذ ہو جائے۔

یہ پندرہویں عیسوی صدی کی بات ہے۔ اٹلی اپنے بدترین دور سے گزر رہا تھا۔ ملک کی اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی صورتِ حال انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ عوام ظلم کی چکی میں پس رہے تھے تو ایسے حالات میں ’’میکاولی‘‘ اٹلی کے لیے ’’نجات دہندہ‘‘ بن کر آیا۔ یہ اٹلی کے شہر ’’فلورنس‘‘ کا باشندہ تھا۔ اس نے بھی وقت کے بادشاہ کو بہت ہی قیمتی مشورے دیے۔ اس کے چند گر اور اصول یہ ہیں۔ اپنے ذاتی اغراض ومقاصد کو اولین ترجیح دو اور ان کا حصول سرفہرست رکھو۔ طاقتور حکمران کو کمزور عوام پر ڈرانے، دھمکانے والے قوانین نافذ کرنے چاہییں تاکہ ان کی سرکشی اور بغاوت کو کچلا جا سکے۔ بے رحمی، سفاکیت اور ظالمانہ روش وہ لازمی اوصاف ہیں جن کے بغیر کسی اچھی حکمرانی کا تصور بھی محال ہے۔ خوف وہراس کی فضا انتہائی ضروری ہے تاکہ ریاست کی حکمرانی موثر انداز سے عمل پذیر ہوتی رہے۔ دبدبہ، ڈر اور رُعب سے متاثر کرنے کے مواقع سے فائدہ اُٹھائو۔ ایک اچھے حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو فناہ کے گھاٹ اُتار دے۔ جب تم اپنے دشمن پر غلبہ حاصل کر لو تو اس کے خاندان اور عزیز واقارب کا نشان مٹادو، ورنہ اس کے کچھ رشتہ دار کسی زمانے میں قوت حاصل کر کے تم سے تمہاری غلط کاریوں کا انتقام لے سکتے ہیں۔‘‘

یہ 17 ویں عیسوی صدی کی بات ہے۔ انگریز کا ہندوستان پر مکمل تسلط ہو گیا۔ انگریز نے ایک عرصے تک ہندوستان پر حکومت کی۔ ان کے ہاں بھی کچھ مسلّمہ اصول، ضوابط اور قوانین ہوا کرتے تھے۔ ’’وائسرائے ہند‘‘ ان کی مکمل پابندی کیا کرتے تھے۔ برصغیر پاک و ہند سے انگریز کے جانے کے بعد اس خطے کے سیاست دانوں کے ہاں بھی کچھ اصول ہوا کرتے تھے۔ گاندھی ہو یا محمد علی جناح، جواہر لال نہرو ہو یا ابو الکلام آزاد، شاستری ہو یا لیاقت علی خاں… اس زمانے کے تمام سیاستدان چند مسلّمہ قوانین کی پابندی کیا کرتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے سیاست دانوں نے، چاہے سندھ کے جی ایم سیّد ہوں یا سرحد کے خان عبدالغفار خان، بلوچستان کے اکبر بگٹی اور خیر بخش مری ہوں یا پنجاب کے نواب زادہ نصراللہ خان… ان حضرات نے ایک دوسرے سے شدید ترین اختلافات رکھنے کے باوجود کچھ اصول، قوانین اور روایات کی پابندی اور پاسداری کی۔ ان اکابر سیاستدانوں کا طرزِ عمل ہماری آج کی نئی نسل کے سامنے نہیں تو تاریخ کے اوراق میں ضرور محفوظ ہے۔

2012ء کے بعد جو نیا طرزِ سیاست اور طرزِ عمل ایجاد ہوا ہے، اس کے بُرے اثرات دور تک جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین 37 سیٹوں کی بناء پر اور اسلام آباد میں 10 ہزار افراد کو جمع کر کے 190 سیٹیں لے کر آئینی طور پر منتخب ہونے والے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا غیر آئینی مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ خود سوچیں! جو سیاسی جماعتیں موجودہ حکومت کے خاتمے کے لیے دھرنے اور احتجاج کر رہی ہیں کیا ان کے پاس ایسا مربوط اور منظم لائحہ عمل ہے جن سے پاک وطن کے گرد مڈلانے والے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے۔ اگر ہے تو محب وطن عوام کے سامنے کیوں نہیں لاتے۔ عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ سول نافرمانی کی تحریک چلائیں گے۔ قائدین کی یہ روش اور رویہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ وطن ہی کے خلاف ہو جائیں۔ اس کی املاک کو نقصان پہنچائیں۔ اس کے خلاف ہی زہر اگلیں۔ اس کے خلاف ہی بغاوت کریں۔ عمران خان کو اپنی طرزِ سیاست اور طرزِ عمل پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ ملکی تاریخ میں دھرنے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن سب سیاسی جماعتوں نے حد سے تجاوز نہ کیا۔ چند مسلّمہ اصولوں کی پاسداری کی۔ طاہر القادری کے دو بیانوں میں اس قدر تضاد پایا جاتا ہے کہ اہلِ عقل کو ان کی ذہنی صحت پر بدگمانی کا خیال ہونے لگتا ہے۔ پورے نظام کو لپیٹنے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ متبادل نظام ان کے پاس ہے نہیں۔ موصوف کی پوری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جو ’’لڈی ڈالنے‘‘ کے علاوہ قومی ذرائع ابلاغ پر اپنے ’’قائد‘‘ کا متبادل نظام اور ایجنڈا واضح بیان کر سکے۔

خاکم بدہن ! اگر یہ نئی ناپسندیدہ سیاستی روایت چل پڑی تو پھر کوئی بھی حکومت نہ چل سکے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے اگر یہ ناپسندیدہ اور نامعقول نئی سیاسی روایت کی داغ بیل ڈال دی گئی تو پھر جس جماعت اور جتھے کے پاس دس بیس ہزار افراد جمع کرنے کی صلاحیت ہوگئی وہ عوام اور حکومت کو یرغمال بنا سکے گی۔ خدارا! ان نئی سیاسی روایات کی حوصلہ شکنی کیجیے۔

آخر میں وفاقی حکومت کو ایک تجویز ہے کہ جلسوں، احتجاجوں اور ناگزیر دھرنوں کے لئے اسلام آباد کے باہر دُور مضافات میں کوئی میدان، کوئی جگہ مختص کردی جائے تاکہ دارالحکومت ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہ سکے اور اسلام آباد میں مقیم باشندوں کی زندگی اجیرن نہ ہو۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسی کو بھی جلسے جلوس اور احتجاجی دھرنوں کی قطعی اجازت نہ ہو۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند