تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فوجی مداخلت ہو گی یا نہیں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 2 ذیعقدہ 1435هـ - 28 اگست 2014م KSA 11:57 - GMT 08:57
فوجی مداخلت ہو گی یا نہیں؟

آج کل اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن افراد سے بھی ملاقات ہوتی ہے وہ یا تو لانگ مارچ کے حوالے سے پریشان ہوتے ہیں یا پھر انہیں یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کہیں ملک میں مارشل لا تو نہیں لگ جائے گا۔ جو لوگ مارشل لا کے حوالے سے پریشان ہیں، ان کے خدشے کو بے بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کچھ لوگ اندر کی خبریں جاننا چاہتے ہیں تاکہ انکی روشنی میں وہ خود کو نئی صورتِ حال کے مطابق ڈھال سکیں۔ موجودہ حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، یہ کہنا مشکل ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ ہو سکتا ہے کہ لوگ اس قدر ذہنی تنائو کا شکار ہو جائیں کہ پھر ان حالات کا جو بھی نتیجہ نکلے، وہ سکون کا سانس لیں کہ تنائو تو ختم ہوا۔

بہر حال یہ یک طرفہ جنگ ہے۔ عام آدمی حکومت کی موجودہ کارکردگی سے ناخوش تو ہے مگر "نیا پاکستان" کا ترانہ بھی اس بلند آہنگ میں بجایا جا رہا ہے کہ اس کے مقابلے میں ابھرنے والی دیگر آوازیں دب کر رہ گئی ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس نئے تصور کے شور شرابے میں جو تصور ابھر کر سامنے آ رہا ہے وہ یہ کہ پاکستان کے بچائو کا دارومدار صرف ایک آدمی "عمران خان" پر ہے۔ صرف انکے پاس ہی حق ہے کہ وہ منتخب ہوں اور جو انہیں ووٹ نہیں دے گا، وہ توہین کا مرتکب ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیا کے زیادہ تر دھڑے اس تمام سیاسی تماشے کو دکھاتے ہوئے اشتہارات کا وقفہ بھی نہیں لیتے۔ اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اس نقصان کی تلافی وہ کیسے کریں گے؟

حالیہ سیاسی جمود کے نتیجے میں ایک نرم شب خون کی راہ ہموار ہو چکی۔ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائے لیکن اس کی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اگر مارچ کرنے والے کل اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں لیکن حکومت کی باقی مدت دنیا کو یہ باور کرانے میں گزر جائے گی کہ اقتدار پر اسی کا کنٹرول ہے۔ درحقیقت وزیرِ اعظم کسی درمیانی درجے کی ایٹمی صلاحیت کی حامل ریاست کے سربراہ کی بجائے کسی چھوٹی سی انتظامیہ کے باس لگتے ہیں۔ اب انکے پاس داخلی امور انجام دہی میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے سر پر منڈلانے والا خطرہ قدرے کم ہو جائے جب معاملات کو پسِ پردہ رہ کر کنٹرول کرنے والے کچھ افراد گھر چلے جائیں۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ لوگ جنکے ہاتھ میں گھوڑوں کی لگامیں ہیں، اپنی من مانی کرنا پسند کریں۔ اس صورت حال میں جمہوریت کا تختہ الٹے جانے کا خطرہ پوری شدت سے موجود ہے۔

جس چیز نے فی الحال اس خطرے کو ٹال رکھا ہے، وہ غالبا یہ خیال ہوگا کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو ہٹا دیا جائے تو انکی جگہ کون لے گا؟ دفاعی اداروں میں بھی اتفاق رائے ہے یا نہیں، کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ یہ دعویٰ اپنی جگہ پر کہ فوج سیاسی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرے گا کیونکہ شمالی وزیرستان اور اب مشرقی سرحد پر مصروف ہے لیکن بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ مقتدر حلقے ایک ایسی سویلین قیادت پر اعتماد نہیں کریں گے جو ان کے اختیارات کو کم کرنے پر تلی ہو۔ جن کے پاس بے پایاں قوت ہوا کرتی تھی، وہ اس کو مرحلہ وار کھوتا ہوا دیکھ کر اپنے اعصاب پر کنٹرول نہیں رکھ پائیں گے۔

سویلین حکومت انہیں خوش رکھنے یا ان کی رائے کو منقسم رکھنے کے لیے بہت سی غیر ضروری رعایتیں دینے پر بھی راضی ہو سکتی ہے لیکن سول حکومت کی طرف سے غیر جمہوری طاقتور عناصر کے مفاد کو چیلنج کرنے کی پالیسی انہیں تائو دلا سکتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ اعلیٰ فوجی افسران کے چند ماہ بعد ریٹائر ہونے کی وجہ سے صورتِ حال تبدیل ہو جائے اور نئی فوجی قیادت اس سوچ کی حامل نہ ہو، لیکن اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ملک مزید پندرہ دن یا ایک ماہ تک انہی حالات کا شکار رہتا ہے تو معاملات مزید خرابی کی طرف چلے جائیں گے۔ اگر حکومت قائم رہ بھی گئی تو بھی اس کی اخلاقی اتھارٹی ختم ہو جائے گی۔

اگر کوئی پاکستان کے حالات کو دور سے دیکھ رہا ہو تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ کیا پاکستان ایک افریقی ریاست تو نہیں بن چکا ہے؟ اشرافیہ طبقے میں طاقت کے لیے شدید نوعیت کی رسہ کشی جاری ہے۔ وہ یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ یہ ملک اور اس کے عوام ایسے ڈراموں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت پاکستان میں ہر طرف افراتفری دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار کے حصول اور اپنے حریفوں کو نیچا دکھانے کے خبط میں رہنما عوام اور ریاست کے مفاد سے بیگانہ دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کو مالی بحران سے گھائل کرنے کے لیے لوگوں سے یہ کہنا کہ وہ ٹیکس ادا نہ کریں یا سرکاری ذرائع سے رقوم نہ بھیجی جائیں، کو ایسی مکروہ روایات قرار دیا جا سکتا ہے جس کا ہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر کل عمران خان حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو کیا ہو گا؟ وہ اس مثالی کردار پر ہر گز پورا نہیں اترت جس کی جھلک انہوں نے اپنے پیروکاروں کو دکھائی ہے۔ یہ احتجاج نہیں بلکہ سیاسی جرم ہے جو اپنی جگہ پر اتنا ہی برابر ہے جتنے وہ نقائص جو وہ حکومت میں نکالتے ہیں۔

ہم موجودہ سیاسی حالات کے منفی اثرات کے بارے میں بہت کم گفتگو سنتے ہیں۔ اس نے ملکی معیشت کو کمزور کر دیا ہے اور لوگوں کے ذرائع آمدن ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں، جن سے میں نے حالیہ دننوں بات کی ، کو شکایت ہے کہ جب سے لانگ مارچ اور دھرنوں کا یہ سیزن شروع ہوا ہے، انکے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں۔ لوگ صرف اس وجہ سے نوحہ کناں نہیں اور جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ انکے پاس متوازی ذرائع آمدن بھی ہوتے ہیں۔ ایک اور بات، حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ انکی وجہ سے ٹکرائو کا خدشہ شدت اختیار کر جائے گا۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر عوام کے درمیان تصادم ہوا تو جمہوری حکومت کا تختہ الٹے جانے کا خدشہ سچ ثابت ہو گا۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فوجی جنرل کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ وہ اس صورتِ حال سے کیسے نمٹتے ہیں۔ بعض کا سہ لیس بنگلہ دیش ماڈل کی بات کرت رہے ہیں۔ تاہم وہ بھول جاتے ہیں کہ ڈھاکہ کا سیاسی نظام اور عوام کے سامنے انتخابی چوائس فوجی مداخلت کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت ملک کو درپیش چیلنج اس قدر شدید ہیں کہ فارن کوالیفائیڈ ماہرینِ معیشت، بینکار اور ترقیاتی منصوبہ سازی کے ماہرین ان کو سلجھانا تو کجھا، ان کی فہم بھی نہیں رکھتے۔ یہ مانا کہ امریکہ میں بہترین یونیورسٹیاں ہیں لیکن وہاں سے فارغ التحصیل ماہرین ترقی پذیر ممالک کے معاملات سدھارنے کی بجائے بگاڑنے کے بھی ماہر ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ایسے تجربے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ یہ وقت ذاتی انا کی تسکین کا نہیں بلکہ ملک کے اجتماعی مفاد کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کا ہے۔ وزیر اعظم کے استعفے پر اصرار کرنے کی بجائے بہتر ہوتا اگر طاہر القادری اور عمران خان اداروں کو درست کرنے اور ملک کو بہتر راستے پر گامزن کرنے کا وعدہ لیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم ایک اندھے گڑھے میں گرنے جا رہے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند