تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اردوآن، حلف اور ترک سیاست کے پاسدار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 4 ذیعقدہ 1435هـ - 30 اگست 2014م KSA 11:09 - GMT 08:09
اردوآن، حلف اور ترک سیاست کے پاسدار

دو روز قبل 28 اگست کو طیب اردوآن نے جمہوریہ ترکیہ کے بارہویں صدر کی حیثیت سے گرینڈ ٹرکش اسمبلی میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ طیب اردوآن، ترکی کی تاریخ میں پہلی بار براہ راست انتخاب کے عمل میں 10 اگست کو صدر منتخب ہوئے ہیں۔ اس براہ راست صدارتی انتخاب کا اعلان انہوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ہی کیا تھا۔ وہ پارٹی کے آئین کے مطابق صرف تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ طیب اردوآن پچھلی ایک دہائی سے ترکی کی سیاست میں ایک مضبوط سیاست دان کے طور پر ابھی تک اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب نظر آ رہے ہیں۔ گیارہ برسوں تک وزارتِ عظمیٰ میں رہنے کے بعد وہ اگلے پانچ سال جمہوریہ ترکیہ کے اقتدار پر غالب رہنا چاہتے ہیں۔ صدر کا عہدہ جو کہ ترکی میں رائج پارلیمانی نظام کے تحت ایک رسمی عہدہ ہے، وہ برملا آئینی تبدیلیوں کے ذریعے اس کو طاقت کی انتہائی مرکزیت دینے کے خواہاں ہیں۔ وہ برملا یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم (یعنی ان کی قیادت میں) اپنی آزادی اور ری پبلک کے قیام کی صدسالہ تقریبات 2023ء میں منائیں گے، جس کی بنیاد جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال پاشا اتاترک نے 1923ء میں رکھی۔ یعنی وہ برملا اس بات کا اظہار کرتے اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی موجودہ صدارتی مدت کے بعد بھی وہ ترکی کے اقتدار میں ایک طاقتور ترین حکمران کے طور پر موجود رہیں گے۔

انہوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ اور اپنی جماعت کی کرسی ایک سابق پروفیسر احمت دعوت اولو کو تفویض کردی ہے جو 28 اگست تک وزارتِ خارجہ کا قلم دان سنبھالے ہوئے تھے اور جو ماضی میں کسی بھی سیاسی پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے۔ احمت دعوت اولو ایک تابعدار وزیراعظم کی حیثیت سے نئے صدر کے لیے موزوں ترین امیدوار کے طور پر نامزد کیے گئے، یعنی 2015ء تک جب ترکی میں نئے عام انتخابات منعقد ہوں گے۔ ان انتخابات سے قبل طیب اردوآن اس منصوبے کے ساتھ صدر منتخب ہوئے ہیں کہ وہ آئینی تبدیلیاں کر کے صدر کو طاقت کا انتہائی مرکز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کے لیے ان کی ماضی و حال کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو کسی تیسری جماعت کی حمایت حاصل کرنی ہوگی جوکہ سوائے کُردوں کے اور کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے کُردوں کو مزید خودمختار کرنا ہوگا جس کے بغیر کُردوں کا راضی ہونا مشکل ہے۔

اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ترکی کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اس حساس ایشو کی گہرائی کو جانچ سکتے ہیں کہ ترک ریاست اپنے ترک نیشنل ازم کو قربان کرنے کو کس قدر سخت گیری سے دیکھتی ہے۔ صدر اردوآن نے اپنا حلف مروّجہ آئین کے مطابق اٹھایا ہے جس پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ جس میں صدر ، ریاست کے سربراہ کے طور پر کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان کی کسی تقریب میں شامل ہوسکتا ہے جب کہ رجب طیب اردوآن 10 اگست کے بعد AKP کے اجلاسوں کی نہ صرف صدارت بلکہ پارٹی معاملات میں پالیسی سازی کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ اسی لیے جب وہ ترک اسمبلی میں صدارتی حلف اٹھانے کے لیے آئے تو ایک رکن اسمبلی نے آئین کی کاپی ان کی طرف پھینکی اور کہا، ’’صدرمملکت، آئین کو پڑھ لیں۔‘‘ جب کہ اپوزیشن پارٹی ، جمہور خلق پارٹی (CHP) نے اپنے قائد کمال کلیچ دار اولو کی قیادت میں ان کے حلف کی تقریب کا بائیکاٹ کیا۔

میں پچھلے ایک ماہ سے ترکی میں ہوں، ایک عام ترک ملک بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن کو مستقبل میں خطرے کی گھنٹی قرار دے رہا ہے اور ایک ایسی ریاست جہاں پر More Democracy اور More Freedom کا نعرہ سیاسی موضوعات کا عنوان تھا اور جس کے نتیجے میں خود طیب اردوآن سیاست کے میدان میں نمودار ہوئے، یہ خواب دھندلے نظر آ رہے ہیں کہ جہاں پر سرکاری اور کارپوریٹ میڈیا نئی ابھرنے والی اشرافیہ کے کنٹرول میں ہے اور صحافتی آزادیاں محدود کرنے میں ترکی کا ریکارڈ پچھلے چار سال میں شدید متاثر ہوا ہے۔ اس صورتِ حال میں صدر مملکت طیب اردوآن نے حلف اٹھاتے ہوئے عہد کیا ہے کہ وہ آئین کے پاسدار رہیں گے، ترک عوام کو متحد رکھیں گے اور اتاترک کے نظریات، فلسفے اور سیکولرازم کے نگہبان ہوں گے۔ اس کے فوراً بعد نومنتخب صدر طیب اردوآن، اتاترک کے مقبرے پر سلامی کے لیے گئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اب ایک سیاست دان اور لیڈر کے بعد اس Statesmanship کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوں گے جس کی ذمہ داری ایک ریاست کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔

طیب اردوآن، ترکی میں سیاسی حوالے سے سب کچھ کہہ جانے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں، جنہوں نے نجم الدین اربکان کی جماعت کے رکن کی حیثیت سے 1994ء سے 1996ء تک استنبول کے مئیر کے عہدے سے قومی سیاست میں شہرت پائی اور پھر نجم الدین اربکان سے بغاوت کرکے اپنی الگ جماعت کی بنیاد رکھی۔ نجم الدین اربکان کی جماعت کو الاخوان کی عالمی اسلامی تحریک کا اتحادی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن جب اردوآن نے اپنے ساتھی عبداللہ گل کے ساتھ AKP کی بنیاد رکھی تو سعید نورسی کے افکار کے پیروکار فتح اللہ گلین ہی وہ روحانی شخصیت تھے جن کے دست شفقت سے وہ اپنے اقتدار کے پہلے ادوار میں مستفید ہوتے رہے۔ طیب اردوآن اور بشارالاسد کی دوستی تو اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے کہ دونوں خاندان موسم گرما کی تعطیلات اکٹھے مناتے تھے۔ لیکن طیب اردوآن پر اس بات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے شام کے متحارب گروہوں کو اسلحہ دے کر جنگ کے شعلے اپنی سرزمین کی طرف بڑھنے کی راہیں کھول دی ہیں۔

عبداللہ گل کے بغیر طیب اردوآن ایک نامکمل سیاسی رہبر تھے لیکن اقتدار کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ اسی لیے عبداللہ گل جب صدارتی محل چنکایا سے نکلے تو وہ ہی نہیں بلکہ ان کی شریک حیات بھی سخت نالاں پائی گئیں۔ اس بات کو ترک میڈیا نے نمایاں جگہ دی جو انہوں نے صدارتی محل سے رخصتی کے وقت کہی کہ اپنی ہی پارٹی (AKP) اور اس پر گرفت کرنے والوں نے کیسے اقتدار کے لیے پرانے ساتھیوں کو چالاکی سے علیحدہ کر دیا۔ کیا عبداللہ گل خاموش رہیں گے؟ یہ سوال تو اہم ہے، لیکن اس سے بڑھ کر اہم سوال ترکی کے اندر دو کروڑ علوی، دو کروڑ کُرد اور دیگر نسلی گروہوں کو متحد رکھنے کا ہے اور سب سے بڑھ کر اہم ترکی کی سٹرٹیجک حیثیت میں اس کے وجود کو درپیش خطرات ہیں، اس کے اردگرد جنگوں کے الاؤ لگائے جارہے ہیں۔ عراق اور شام کے اندر ریاستوں کے بے بس ہو جانے سے سب سے بڑا خطرہ ترکی کو ہے۔

ترکی سٹرٹیجک حوالے سے جنگوں کے الاؤ کے بیچ کس طرح اپنی غیر جانب دار حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے؟ یہ سوالات ہیں جو ترکی کے سیاسی اور دانشور حلقوں میں اُٹھ رہے ہیں اور کیا ایسے میں نومنتخب صدر طیب اردوآن ترکی کی نوّ ے سالہ اس روایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے، جو ترکوں کے باپ مصطفی کمال پاشا نے رکھی تھی کہ علاقائی تنازعات سے بچ کر اپنا وجود برقرار رکھا جائے۔ طیب اردوآن نے 10 اگست کو اپنی کامیابی کے بعد انقرہ میں اپنی سابقہ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کی بالکنی سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ہم ایک قوم کے بچے ہیں، ہم پہلے ترک اور بعد میں مسلمان ہیں، مسیحی، یہودی، یزیدی، علوی، سنی، کُرد، عرب، لاز، جارجین، بوسنین، سرکیشین، آرمینی یا یونانی۔‘‘ یہ وہ تقریر تھی جو انہوں نے 10 اگست کو صدر منتخب ہونے کے چند گھنٹے کے بعد کی۔ کیا وہ اس تقریر کی روشنی میں ریاست کے سربراہ کے طور ان خیالات اور درپیش خطرات کو مدنظر رکھیں گے؟ اس کا جواب 2015ء کے انتخابات سے پہلے ہی مل جائے گا۔ اردوآن کی مخالف سیاسی جماعتیں اور دھڑے ایک ایسا ہی ترکی دیکھنے کے خواہاں ہیں جو اندرونی تقسیم اور علاقائی خلفشاروں سے مکمل اجتناب برتے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند