تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ناکام دھرنا ۔۔۔ کامیاب
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 13 ذیعقدہ 1435هـ - 8 ستمبر 2014م KSA 10:19 - GMT 07:19
ناکام دھرنا ۔۔۔ کامیاب

یہ اعتراف، ایک رسوا کن سچائی ہے کہ دھرنا کامیاب ہو چکا۔ شاعرہ نے کسی الہامی لمحے میں کہا تھا کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ استعفیٰ تو نہیں آیا، نہ آنا تھا، نہ آئے گا۔ لیکن ناکام ترین دھرنا دینے والے نہیں اس کے کنٹرولر کامیاب ہو چکے۔ دھرنے کے ماسٹر مائنڈ کا نشانہ جمہوریت، معیشت اور چینی صدر کا دورہ تھا۔ کون نہیں جانتا کہ یہ مقاصد کہیں جزوی، کہیں کلی طور پر پورے ہو چکے۔ باقی ماندہ ٹارگٹ اگلے فیز میں۔

آزادی خان اور شیخ الاحتجاج اپنی بات پر ڈٹے رہیں۔ منتخب وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ پورا ہونے تک جانے سے انکار کر دیں۔ ڈی چوک کے کینٹنروں کو اپنا مستقل مسکن بنا لیں تو اور بات ہے۔ ورنہ یہ دھرنا، ان کے نہ سہی، دھرنا کے شہ دماغوں کیلئے کامیابی کا مکمل پیکیج لایا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ قائدین انقلاب کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں کیسے اور کس کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں؟ گا ہے، ایسے قائدین کی جدوجہد ان کے اخلاص، عزم اور نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن دراصل ان کی حقیقت کمان دار کی بجائے چلہ پر چڑھے تیر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ وہ بندوق کی بیرل میں پڑے کارتوس کی طرح ہوتے ہیں۔ کمان میں پڑے تیر کے ہاتھ میں کیا اختیار ہوتا ہے۔ اس کا کردار تو نشانہ پر آئے شکار کے جسم میں پیوست ہونا ہے۔

شکاری کو معلوم ہوتا ہے کہ وار جان لیوا ہو یا نشانہ پر آئے ہوئے کو نیم بسمل کر کے تڑپتے پھڑکتے چھوڑ دینا ہے۔ بندوق کی نالی میں پڑے کارتوس کی کیا مرضی۔ وہ تو بندوق بردار کی انگلی کی ایک جنبش کا تابع فرمان ہوتا ہے۔ بندوق بردار کی مرضی جب چاہے اپنے ہدف کی طرف روانہ کر دے۔ اس آزادی مارچ اور انقلاب کے قائدین کے اپنے مقاصد ہوں گے۔ دھاندلی بھی ہوئی ہو گی۔ لیکن انقلاب کی بساط بچھائے بیٹھے شاطروں کی نظریں ایک ایک تیر سے کئی کامیاب شکار کرنے پر لگی ہوئی تھیں۔ وطن عزیز کے دانشور، عوام، خواص کی اکثریت حیلوں بہانوں، مناظروں، مباحثوں اور مناقشوں کی رسیا ہے۔ ہمارے ایسے معاشروں میں عام طور پر معاشی اور اقتصادی نقصانات کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ ایسے خساروں کو عام طور پر اللہ کی رضا اور معاشرے میں پھیلی بے راہ روی کا نتیجہ سمجھ کر توبہ استغفار پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالیہ دھرنا پاکستان کی اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی پر ضرب کاری لگا چکا۔ ماہرین کے مطابق یہ دھرنا اب تک 1،000 ارب روپے کا ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ معاشی خسارہ کا تحفہ دے چکا۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان کے مطابق غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر جو 15 اگست 2014ء کو 13.9 ارب ڈالر تھے وہ صرف 2 ستمبر تک صرف 17 دنوں میں 13.5 ارب ڈالر رہ گئے۔ صرف وفاقی دارالحکومت میں مارکیٹوں کی بندش اور راستے بلاک ہونے کی وجہ سے عام تاجروں کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ سٹاک مارکیٹ میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث شدید مندی رہی۔ جس کے نتیجہ میں 319 ارب روپے ڈوب گئے۔ قانون کے نفاذ پر صرف یکم اگست سے 31 اگست تک 357 ملین روپے خرچ کئے گئے۔ ابھی مزید 130 ملین روپے مانگے گئے۔ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اندازے کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی املاک کو اب تک پانچ بلین روپے کا نقصان ہوا۔ قیمتی ترین انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ خسارہ معمولی نہ تھا۔ لیکن پھر بھی اس کنٹرولڈ انقلاب کا اصل ہدف کچھ اور تھا؟

اصل ہدف کیا تھا؟ پہلے بھی عرض کیا اہداف ایک نہیں،کئی ایک تھے۔ پاکستان میں ایسے بہت سے عناصر ہیں جن کو مضبوط اور مقبول سیاسی لیڈر ملک گیر سیاسی جماعتیں۔ مستحکم سیاسی نظام اور جمہوریت کا تسلسل ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ پاکستان میں دو مضبوط اور مقبول سیاسی لیڈر نوازشریف اور بینظیر بھٹو ہیں۔ بینظیر بھٹو نے تو اپنی مقبولیت کی قیمت لیاقت باغ کی سڑک پر اپنی جان کی صورت میں ادا کر دی۔ اب ان کے بعد صرف نوازشریف زندہ اور سیاست میں موجود ہیں۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ان کو غیر معمولی انتخابی کامیابی حاصل ہوئی۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے کئی مہلک غلطیاں سرزد ہوئیں اور اب بھی وہ ایسی غلطیاں کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا اصل قصور یہ ہر گز نہیں۔

جمہوریت مخالف قوتوں کو مقبول سیاسی رہنما "وارا" نہیں کھاتے۔ ان کی خواہش ہوا کرتی ہے کہ ایسے سیاسی رہنماؤں کی گردن کو گھٹنے کے نیچے رکھا جائے۔ وہ منظر عام پر تو رہیں لیکن گھٹنے کے نیچے آئے ہوئے مضروب کی طرح سسکتے رہیں۔ اٹھ کر کھڑے نہ ہو جائیں۔ لہٰذا ایسی قوتوں نے وزیراعظم کی "گچی" تھامنے کی ٹھان لی۔ دوسری طرف وہ پرویز مشرف جو ملک چھوڑ کر اپنے یورپی اور خلیجی عشرت کدوں میں جا بسے تھے۔ اپنے فیس بک اور ٹوئٹر کوفیوں کی پکار پر واپس آ گئے۔ وطن واپس آتے ہی وہ قانون کے شکنجے میں آ گئے۔ ان کے حالی موالی ان کی رہائی کے لئے سرگرم ہو گئے۔ ادھر کپتان جو اپنے آپ کو سچ مچ کا وزیراعظم سمجھ بیٹھے تھے۔ الیکشن میں کامیابی نہ ملی تو وہ بے صبرے ہو گئے۔ ان کو اندازہ ہوا کہ اگر نواز حکومت نے اپنے 5 سال پورے کر لئے تو ہو سکتا ہے کہ ان کی باری نہ آئے۔ لہٰذا پرویز مشرف کے ساتھی، جمہوریت کے دشمن، پاکستان کی ترقی کے مخالفین، ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔ ان سب نے مل کر وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولا اور یہ دھاوا نما دھرنا آج تک جاری ہے۔ اس دھرنے کے شرکا کی تعداد اتنی کم ہے کہ انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ دھرنا اپنے مقاصد میں اب تک کامیاب ہے۔

دھاندلی کے نام پر سجائے گئے اس "گھڑمس" کے نتیجہ میں نوزائیدہ جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔ وہ ٹرف جو سویلین حکومت نے حاصل کی تھی وہ خاصی حد تک واپس ہو گئی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی اور خارجہ پالیسی کے محاذوں پر سول حکومت پسپا ہوئی ہے۔ احتجاجی دھرنوں اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ ہو گیا تو دھاندلی کے لئے قائم کئے گئے جوڈیشل کمیشن کی تلوار وزیراعظم، ان کی حکومت اور منتخب پارلیمنٹ پر لٹکتی رہے گی۔ طاقتور حلقے جب چاہیں گے اس لٹکتی تلوار کی رسی کاٹ کر جمہوریت کا گلا کاٹ دیں گے۔ حکومت سیاسی بلیک میلنگ کا شکار رہے گی۔ ان سب باتوں کے باوجود اصل ٹارگٹ اب بھی کچھ اور تھا۔

بین الاقوامی تعلقات میں کوئی ملک نہ اسلامی ہوتا ہے نہ برادر۔ مفادات پر چوٹ پڑنے کا خدشہ ہو تو اکثر برادر سب کچھ بھول کر برادران یوسف بن جاتے ہیں۔ چین کے ساتھ 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھارت کے لئے ڈراؤنا خواب ہے تو بہت سے برادران یوسف کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ ان دھرنوں کا سب سے بڑا ٹارگٹ پاکستان کی معیشت کے لئے چینی سرمایہ کاری کا زود اثر انجکشن تھا۔ ان دھرنوں کا مقصد اس انجکشن کا توڑ تھا۔ یہ ناکام دھرنے اپنے اس مقصد میں کامیاب رہے۔ لیکن صرف وقتی طور پر۔ اطلاعات یہ ہیں کہ چینی حکومت نے اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ کر کے حکومت پاکستان کو اپنا موقف بتا دیا۔ زیرک چینیوں کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کو چین سے دوستی اور اس سرمایہ کاری کی سزا مل رہی ہے۔ ان رابطوں کی وجہ سے اس دورے کے مدہم ہوتے چراغ پھر جل اٹھے ہیں۔ انشاء اللہ یہ دورہ ضرور ہو گا۔ دھرنا جاری بھی رہا تب بھی۔

بہ شکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند