تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پرانا پاکستان بمقابلہ نیا پاکستان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 16 ذیعقدہ 1435هـ - 11 ستمبر 2014م KSA 11:04 - GMT 08:04
پرانا پاکستان بمقابلہ نیا پاکستان

اس سے پہلے کہ نئے پاکستان کی بات کو مزید آگے بڑھائیں۔ تھوڑا سا مزید تذکرہ پرانے پاکستان کا۔ اس پاکستان میں مختصر عرصہ کے لئے بطور تیرک، معتوب اور معطوں سویلین کو اقتدار میں حصہ ملا۔ بس اتنا ہی جتنا دکان سے سودا خریدنے والے بچے کو ٹافی بطور ’’جھونگا‘‘ ملتی ہے۔ ان مختصر ادوار میں سول حکمرانوں کو غداری، ملک دشمنی اور نااہلی کے تحفے ملے۔ اس کے باوجود ایک ایسے ہی حکمران نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ڈالی۔ خاتون وزیراعظم نے میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی خود انحصاری کا تحفہ دیا۔ تیسرے وزیراعظم نے ایٹمی دھماکہ کیا۔ آج اس ملک میں جو انفراسٹرکچر موجود ہے۔ انہی نااہل حکمرانوں کی نالائقی کا نتیجہ ہے۔ نئے پاکستان کی تعمیر کے لئے بے لوث سیاسی کارکنوں، دانشوروں، شاعروں، ادیبوں نے چھ عشرے قربانیاں دیں۔ 12 اکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف نے شوگر کوئٹڈ بغاوت کر کے ملک پر ناجائز قبضہ کیا تو جلد ہی متحارب سیاسی قوتوں کو احساس ہو گیا کہ ان کا اصل حریف، وہ خود نہیں کوئی اور ہے؟

اس حقیقت کے ادراک کے بعد معاملات تیزی سے آگے بڑھے اور 2 بدترین سیاسی دشمن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (نواز) ’’اے آر ڈی‘‘ کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے۔ اس ناممکن کو نوابزادہ نصراللہ خان کی غیر متنازعہ شخصیت نے ممکن بنایا۔ یہ اتحاد نئے پاکستان کی تعمیر کے لئے پہلی اینٹ بنا۔ سیاسی قوتیں آہستہ آہستہ بلوغت کی جانب بڑھتی رہیں۔ یہ دور سیاسی لحاظ سے بہت پر آشوب رہا۔ سیاسی قوتوں نے متحد ہو کر ایل ایف او کے خلاف مہم چلائی۔ بے مثال تاریخی جدوجہد کے ذریعے عدلیہ بحالی تحریک چلائی۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کرایا۔ ایمرجنسی کا نفاذ ہوا تو پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ آمر مطلق کو شراکت اقتدار کیلئے مجبور کیا۔ ملک گیر اور موثر ترین دباؤ کے ذریعے عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ عام انتخابات میں کسی بھی سطح پر منظم ادارہ جاتی دھاندلی نہ ہو۔ وردی کو اپنی ’’کھال‘‘ قرار دینے والے ناجائز حکمران کو پرامن جدوجہد کے ذریعے وردی اتار کر سویلین لباس پہننے کیلئے قائل کیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ حکمران جو اپنے حواریوں کے بل بوتے پر 10 مرتبہ منتخب ہونے کے منصوبے بنا بیٹھا تھا وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوا۔ 2008ء کے عام انتخابات ہوئے تو پہلی دفعہ سیاسی قوتوں نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو کشادہ دلی سے تسلیم کیا۔ 2008ء کے عام انتخابات میں پہلی بار ووٹر نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا۔ انتخاب کے دن تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ پرانے پاکستان کی مضبوط دیواریں اندر سے کتنی کھوکھلی ہو چکی۔ ووٹر نے پہلی مرتبہ عوام کی بجائے کسی ’’اور‘‘ کے آسرے پر سیاست کرنے والوں کو مسترد کر دیا۔ مسلم لیگ ق کو عبرتناک شکست ہوئی۔ 2008ء سے 2013ء تک کے پانچ سال عصر حاضر کی تاریخ کا مشکل ترین دور تھا۔ وہ مشکل، پیچیدہ، صبر آزما واقعات اور مراحل ہمارا آج کا موضوع نہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ نے پانچ سال پورے کئے۔ پرانے پاکستان میں یہ ممکن ہی نہ تھا۔ اس پانچ سالہ دور میں پہلی مرتبہ کسی چینل کا گلا گھونٹا گیا نہ اخبار بند ہوا۔ کوئی سیاسی قیدی جیل میں گیا نہ کسی کے مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا۔ پانچ سال بعد حکومت نے اپنا مینڈیٹ پورا کیا۔ اقتدار کے آخری دن، اس کے آخری سیکنڈ کو بھی انجوائے کیا۔ آئینی تقاضوں کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے الیکشن کمیشن بنا۔ نگران وزیراعظم اور وزارائے اعلیٰ کی تقرریاں ہوئیں۔ ان انتخابات میں پانچ سال بعد ان پارٹیوں نے بھی حصہ لیا جو اس سے پہلے بائیکاٹ کر گئی تھیں۔ اس پانچ سالہ دور میں منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ نہیں کئی بار قاضی عصر کی عدالت میں پیش ہوا۔ عدالت سے نااہل ہوا۔ لیکن کوئی محلاتی سازش نہ ہوئی اور عوام کی منتخب اسمبلی نے اپنے ووٹ سے نیا وزیراعظم چن لیا۔ ان انتخابات کے بعد نیا پاکستان مزید مضبوط ہوا۔ کوئی ہارس ٹریڈنگ ہوئی نہ ارکان اسمبلی کی بولیاں لگیں۔ ہارنے والے پیچھے ہٹ گئے اور فاتحین نے آگے بڑھ کر عنان اقتدار سنبھال لی۔ نئے پاکستان میں پہلی دفعہ وزیراعظم اور صدر دو مختلف پارٹیوں سے تعلق کے باوجود مل جل کر کام کرتے رہے۔ صدر مملکت کی مدت اقتدار ختم ہوئی تو صدر مملکت کو اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا۔

پرانے پاکستان میں صدور جیل جایا کرتے یا چپ چاپ بوریا بستر باندھ کر رخصت ہو جاتے۔ اس نئے پاکستان میں اپوزیشن نے فرینڈلی کا طعنہ برداشت کرنے کے باوجود جمہوریت کی بالادستی کیلئے حکومت سے تعاون کیا۔ یہاں تک ہوا کہ برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن ایک دوسرے کا سہارا بن گئے۔ اس موجودہ سیاسی بحران میں پہلی مرتبہ عوام الناس نے نئے پاکستان کو اپنی آنکھوں کے سامنے طلوع ہوتے دیکھا۔ سال خوردہ پاکستان میں رائج طرز سیاست کے قائل ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے تو ان کے ترکش میں وہی پرانے ٹوٹے پھوٹے تیر، چلے ہوئے کارتوس، ازکار رفتہ فارمولے ہی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سیاستدان انگلی کے اشارے پر دوسرے کو گرانے کیلئے بگٹٹ دوڑے آئیں گے۔ ذرا سا اشارے پر استعفوں کا انبار لگ جائے گا۔ منتخب ارکان پارلیمنٹ پارٹیاں بدلنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

لاہور سے جلوس چلے گا تو گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے ٹیلی فون کال آ جائے گی۔ اسلام آباد پہنچیں گے تو بوٹوں کی گھن گرج برپا ہوگی۔ سپہ سالار اعلیٰ اپنے کور کمانڈروں کے ہمراہ منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ لے کر کنٹینر کی چھت پر آ کر کپتان کے حوالے کر جائے گا۔ لیکن ایسا پرانے پاکستان میں ہوا کرتا تھا۔ اس بار انوکھا کام ہوا۔ پارلیمنٹ کندھے سے کندھا جوڑ کر حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ اپوزیشن متوقع غیر آئینی اقدام کی راہ میں ڈھال بن کر کھڑی ہو گئی۔ وزیراعظم کو پارلیمنٹ نے استعفیٰ نہ دینے کیلئے پابند کر دیا۔ سول سوسائٹی آئین کی بالادستی کیلئے کمربستہ ہو گئی۔ آج حالت یہ ہے کہ پرانے پاکستان کے نام لیواؤں کو واپسی کے لئے راستہ درکار ہے۔ لیکن راہ نہیں ملتی۔پرانے پاکستان کے علم بردار کنٹینروں پر سوار چہرے جانے پہچانے ہیں۔ شیخ الاسلام طاہر القادری ریفرنڈم کے حامی عمران خان، چوہدری برادران اور شیخ رشید سے کون واقف نہیں۔ پرانے اور نئے پاکستان کی یہ جنگ ابھی بہت طویل ہے۔ یہ جنگ جاری رہے گی۔ پرانا، گرتا ہوا پاکستان ابھی کمزور نہیں ہوا۔ نیا پاکستان ابھی تعمیر کے مرحلے میں ہے۔ اس نئے پاکستان کی حفاظت کرنی ہو گی اس کو بچانا ہو گا۔ پاکستان کے مستقبل کیلئے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند