تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دہشت گردی، امریکہ اور اسلام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 24 ذیعقدہ 1435هـ - 19 ستمبر 2014م KSA 09:39 - GMT 06:39
دہشت گردی، امریکہ اور اسلام

جھاد خالص اسلامی اصطلاح ہے جس کے مغوی معنی سخت جد و جہد اور کوشش کے ہیں۔ قرآن حکیم میں اس کی صراحت یوں کئی گئی ہے ’’اور اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو جیسا کہ اسکا حق ہے‘‘۔ سورۃ حجرات میں مال اور نفس کے ذریعے جہاد کرنے والے کو مومن کہا گیا ہے اور سورۃ بقرہ میں اسکی تیسری قسم یوں بیان کی گئی ہے ’’اور جنگ کرو اللہ کے راستے میں ان سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام میں جہاد کا مفہوم بے حد وسیع ہے جس میں بالنفس، جہاد بی المال، جہاد باللسان، جہاد بی العلم و قلم، جہاد بی القلب اور جہاد بھی السیف شامل ہیں، شرط یہ ہے کہ سب محض خدا کی خوشنودی کے لئے ہو۔ مولانا مودودی فرماتے ہیں کہ ’’ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح و بہبود کیلئے کیا جائے ، جس میں کوئی ذاتی غرض یا دنیوی مفاد پوشیدہ نہ ہو، جہاد ہے۔ ‘‘ اسلام ایسے کام کو فی سبیل اللہ قرار دیتا ہے جو جہاد کا جزو لایقک ہے۔ بدقسمتی سے فی زمانہ اس اصطلاح کا جس بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے اس سے اس کا مقصد فوت اور تقدس پامال ہو رہا ہے۔

آج کل جہاد کے نام پر بعض مسلم ممالک میں جنگجو گروپوں کی طرف سے مسلم نوجوانوں کی ورغلا کر جس طرح جنگ کی بشارت اور اچھی تنخواہوں کا لالچ دیا جاتا ہے اور جس قسم کے ظلم و تشدد اور قتل و غارتگری کو روا رکھا جاتا ہے ، وہ جہاد نہیں جدال و قتال ہے جس نے اسلام دشمنوں کو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور اسلام کو بدنام کرنے کا موقع فراہم کی ہے اور سراپا رحمت و ہدایت والے مذہب کو جارحانہ پروپیگنڈے کے ذریعے دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جہاد کے نام پر کی جانے والی غیر اسلامی اور غیر قانونی سرگرمیوں اور اس کے مرتکبین اس کے لیے ذمہ دار ہیں جس کا مقصد اسلام کے خدمت کے بجائے اقتدار حاصل کرنے ہے۔

دہشت گردی کو رواج دینے میں پاکستان کا رول بھی کچھ کم نہیں ہے جس نے وہاں وبائی شکل اختیار کر لی ہے امن عالم کے لئے یہ ملک خطرہ بن گیا ہے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی مملکت ’’بدقماش ریاست‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے میں امریکی رول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طالبان ہوں یا القاعدہ یا شام کے باغی عناصر، امریکہ نے ان تمام کو اپنی مقصد براری کیلئے استعمال کیا جا اب خود اس کے اور دنیا کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔ افغانستان اور عراق پر تھوپی جانے والی جنگوں سے امریکہ نے کچھ نہیں سیکھا۔ سپر پاور ہونے کے زعم میں وہ بھول گیا کہ جنگ چھیڑنا آسان ہے لیکن اس کے مابعد اثرات سے دامن چھڑانا نہایت مشکل۔ 2010ء میں عراق سے نکلنے کے بعد وہاں کے حالات آج بھی ابتر ہیں اور وہاں کی سرزمین آج بھی خاک و خون سے آلودہ ہے۔ سالِ رواں میں امریکہ کا ارادہ افغانستان سے انخلاء کا ہے۔ وہاں کے حالات کیا ہوں گے کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔

اگر القاعدہ کے بطن سے پیدا شدہ نوزائیدہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق و شام نے دونوں ملکوں عراق و شام میں ادھم مچا رکھا ہے تو افغانستان میں طالبان، حکومت اور امریکہ کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے کئی علاقے طالبان کے تسلط میں ہیں، اسی طرح داعش نے شام و عراق کے کئی شہروں اور عراق کی آئیل ریفائنریز پر قبضہ کر رکھا ہے۔ عراقی حکومت نے امریکہ سے فضائی حملوں کی درخواست کی تھی جسے نامنظور کر دیا گیا تھا لیکن جب سے داعش نے امریکی صحافیوں اور برطانیہ کے ایک امدادی کارکن کا سر قلم کیا ہے امریکہ اور نیٹو اس کے خلاف فضائی حملے پر متحد ہو گئے ہیں۔ اوبامہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق کے ساتھ شام میں بھی داعش کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ شام نے اس پر اعتراض کیا اور متنبہ کیا ہے کہ شام پر جارحیت کو حملہ تصور کیا جائے گا۔ روس نے شام کی حمایت میں فضائی حملے کے لئے سکیورٹی کونسل کی منظوری کو ضروری قرار دیا ہے۔ مغربی ممالک داعش کی سرکوبی کے لئے تیار نہیں ہے۔ انکا الزام ہے کہ داعش کو تقویت پہنچانے میں شامی صدر نے اس کی بالواسطہ مدد کی تھی۔

واشنگٹن پوسٹ کے ایک سروے میں 71فیصد عوام نے عراق پر اور 65 فیصد نے شام پر فضائی حملے کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ امریکی کانگریس نے بھی تعاون کا یقین دلایا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ گزشتہ کئی دنوں سے عرب ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مشرق وسطیٰ کے دورے پر تھے۔ داعش کو نیست و نابود کرنے کے لئے تقریباً 40 ممالک نے امریکی پالیسی کی حمایت کی ہے۔ ان میں وہ دس عرب ممالک بھی شامل ہیں جنکے سربراہ داعش کی سرگرمیوں سے خائف ہیں اور انہیں اپنا مستقبل ڈانوا ڈول نظر آ رہا ہے۔ 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کی تیرہویں برسی کے موقع پر اوبامہ نے جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ امریکہ کو دھمکی دینے والے دہشت گردوں کو بخشا نہیں جائے گا چاہے وہ جہاں کہیں ہوں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ داعش کوئی مذہبی تنظیم نہیں، دہشت گردوں کی تنظیم ہے کیونکہ کوئی مذہب بے گناہوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔

یہی بات برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دوسرے لفظوں میں کہی کہ اسلام کے نام پر بے گناہوں کا سر قلم کرنے والے مسلمان نہیں انسان نما عفریت ہیں۔ ان بیانات سے قطع نظر، ویسے بھی یہ معاملہ غور طلب ہے۔ داعش نے بھلے ہی نام بدل کر، دولتِ اسلامیہ، رکھ لیا ہو اور اس کے سربراہ نے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا ہو ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عراقی اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور قتل و غارتگری اور امریکی و برطانوی شہریوں کا سر قلم کرنے والے یہ بے رحم اور سفاک لوگ آخر کس اسلام اور خلافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسلام نے ایک بے گناہ کے قتل کو ساری انسانیت کے قتل کے مشابہ قرار دیا ہے اور بے گناہ مسلمانوں کے قاتلوں کو جہنم کی وعید سنائی ہے اور یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ داعش کے ہاتھوں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ جہاں تک خلافت کا تعلق ہے تو خلفائے راشدین کے بعد وہ عملی طور پر ختم ہو گئی ، اسکی ایک چھوٹی سی جھلک حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ڈھائی سالہ عہد میں دکھائی دی تھی۔ ورنہ خلفائے راشدین کے بعد خلافت ، ملوکیت میں تبدیل ہو چکی تھی۔

امریکہ اور اتحادیوں کے فضائی حملے کب شروع ہوں گے اسکا علم انہی لوگوں کو ہو گا تاہم یہ طے ہے کہ حملے اچانک ہوں گے اور غضبناک ہوں گے اور امریکہ کے دعوے کے باوجود انکا خمیازہ بے گناہ شہریوں کو بھگتنا ہوگا کیونکہ دہشت گرد تو رو پوش ہو جائیں گے لیکن شہریوں کو جائے پناہ نہیں ملے گی۔

ایک بات اور 2002ء سے امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی یہ جنگ آخری نہیں ہو گی کیونکہ دہشت گردی کو تشدد سے نہیں اس کے اسباب کا ازالہ کر کے ہی ختم کیا جا سکتا ہے اور عالم یہ ہے کہ ان اسباب پر توجہ دینے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند