تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کی سرگرمیاں اور مسلم ممالک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 25 ذیعقدہ 1435هـ - 20 ستمبر 2014م KSA 13:21 - GMT 10:21
داعش کی سرگرمیاں اور مسلم ممالک

بے کار کی بحث میں کون پڑنا چاہے گا اور یقینا میں تو نہیں چاہوں گا۔ نام نہاد اسلامی ریاست یا داعش کی جو غارتکرانہ سرگرمیاں ہیں، کوئی بھی ذی ہوش، انصاف پسند اور حساس شخص انکی حمایت نہیں کرے گا۔ عرب ممالک اور مسلمانوں کیلئے تو دولت اسلامیہ عراق و شام کی مخالفت و مذمت کرنے کی کئی وجوہات ہیں کیونکہ یہ تنظیم اپنی ہلاکت خیز اور شرمناک کارروائیاں انکے اور انکے قیدے کے نام پر ہی انجام دینے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ داعش کے ذریعے دو امریکی صحافیوں اور ایک برطانوی کارکن کا سر قلم کئے جانے کے واقعے سے امریکہ اور اسکی اتحادی طاقتوں کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کا بہانہ مل سکتا ہے اور مغربی ممالک میں رائے عامہ بھی اسی سمت میں ہموار ہو رہی ہے جبکہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ داعش کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نشانہ زیادہ تر عرب اور مسلم ہی بنے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے جب انہی کالموں میں یہ بحث کی گئی تھی کہ داعش کا وجود ان عناصر کا نتیجہ فکر ہو سکتا ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے القاعدہ کے معاون اور حامی رہے ہیں، تو اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تھا۔ کچھ امریکی مسلمانوں نے اس پر ناراضگی بھی ظاہر کی تھی۔ ہفنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں صحافی مہدی حسن نے اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ عرب مسلمان سازشی نظریات کی حمایت کر سکتے ہیں یا انکے ذہن ایسی کسی بات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ قارئین خود سے پوچھیں کہ شام اور عراق میں گزشتہ کچھ مہینوں سے جو حالات منظر عام پر آئے ہیں، ان کا براہ راست فائدہ کسے ملا ہے یا کسے مل سکتا ہے؟ ان حالات کا سیاسی فائدہ اٹھانے والے کئی ہیں جن میں شام کے صدر بشار الاسد کا نام بھی شامل ہے۔ جنگ زدہ دمشق سے عالمی توجہ اب پوری طرح ہٹ چکی ہے جو خانہ جنگی کے سبب تقریبا پوری طرح تباہ ہو جانے کی زد پر تھا اور عالمی توجہ کا مرکز اب داعش بن چکا ہے۔

ان حالات سے اسرائیل اور اسکے ہمنوا ممالک کو بھی بڑے فائدے ملے ہیں۔ عراق اور شام میں داعش کے نتیجے میں جو جنگی حالات ابھرے ہیں ان سے بین الاقوامی اسلحہ صنعت اور اس پر کنٹرول کرنے والی مغربی طاقتوں کا کم از کم آئندہ دس برسوں کا تجارتی ہدف تو پورا ہو گیا ہے۔ عرب صحافی اسامہ الشریف نے نشاندہی کی ہے کہ داعش کے سامنے آنے کی صورت میں اسرائیل اور غزہ بھی اب عام توجہ کا مرکز نہیں رہ گئے ہیں اور نہ اسرائیل کے ذریعے چھیڑی گئی حالیہ جنگ موضوع بحث ہے جو 51 روز تک جاری رہی۔

عالمی طاقتوں نے غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت اور پھر جنگ بندی کو موضوع بنانا ضروری سمجھا لیکن داعش کے خطرات سے نمٹنے کیلئے پیرس میں گزشتہ دنوں ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد ضرور کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے ممالک نے واشنگٹن کی قیادت میں ایک اتحاد کیلئے رضامندی ظاہر کر دی۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ عالمی برادری اسرائیل کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے جبکہ داعش پر خوب وا ویلا مچانا اور اس پر قابو پانے کیلئے منصوبے تیار کرنا اس کا اہم ترین مقصد ہے۔ پھر جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو جنگ بندی کی صورت میں اسے اہل غزہ کا حصار مزید تنگ کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنے جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کا تجربہ کرنے کیلئے فلسطینیوں کو تختہ مشق بناتا رہے گا۔ یعنی یہ بات پورے وثوق اور دلائل کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کا مقصد عرب ممالک پر مزید جنگیں مسلط کرنا اور ان کی زمینوں پر مزید قبضہ کرنا ہے۔ مسلم ممالک کی مزید تباہی اور تاراجی ان کے منصوبوں میں شامل ہے۔ مشرق وسطیٰ میں یہ تمام سازشیں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران زبردست بحران اور خانہ جنگی کی زد میں رہنے والے ملک عراق میں حالات بحالی کی طرف گامزن ہو رہے تھے۔ آزادی اور جمہوریت کے نام پر عراق فوج کشی کے جو نتائج برآمد ہوئے وہ آج کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ قدیم تہذیب اور انسانیت کیلئے پہلا قانون اور ضابطہ متعین کرنے والے بادشاہ حموربی کی سرزمین پر اب ایک مرتبہ پھر امن و امان کے نام پر جنگ چھیڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اچھے ارادوں کے ساتھ تباہی کے راستے تیار کئے جا رہے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ امریکی صدر باراک اوبامہ نے 2008ء میں عہد کیا تھا کہ ’’امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ وہ اس طرح کریں گے کہ اس کے پش پشت مقاصد ذمہ دار نہ ہوں۔‘‘

2008ء میں الیکشن سے قبل انتخابی مہم کے دوران باراک اوبامہ نے کہا تھا’’ یہ میرا وعدہ ہے کہ صدر کے عہدہ پر فائز رہنے تک میں اپنی فوجیں واپس بلاؤں گا۔ اپنی فوجوں کو واپس بلانا پہلا کام ہو گا جو میں کروں گا۔ ہم اس جنگ کا خاتمہ کریں گے اور آپ اس بات پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ ‘‘ اوبامہ کی بات اور عہد پر بہت سوں کو اعتماد ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اس جنگ میں فاتح جو بھی ہو، شکست تو مسلم ممالک کا ہی مقدر بنے گی۔ جیتے کوئی بھی، لیکن دونوں طرف سے مسلمانوں کا ہی خون پانی کی طرح بہے گا۔ داعش کے وجود کے پیچھے جو بھی اسباب اور عوامل کار فرما ہوں لیکن اس کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں جو محاذ قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے مقاصد نیک نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹام فریڈمین جیسے صحافی نے بھی جو مغربی طاقتوں کے حامی رہے ہیں، یہ لکھا ہے کہ ’’صدر اوبامہ کے عراق میں دوبارہ فوج کشی کے منصوبے سے مجھے تشویش لاحق ہے۔ امریکہ کا یہ رد عمل بھی کچھ دانستہ طور پر کی گئی کارروائیوں کے نتیجہ میں سامنے آیا ہے۔

یو ٹیوب پر دکھائے جانے والے دو امریکی صحافیوں کا سر قلم کرنے کے واقعہ پر مشتمل ویڈیو سے یہ ڈر پیدا ہوا کہ داعش کے لوگ امریکہ کے مال میں بھی گھس سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اتنی جلدی خوفزدہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ کیا ہم نے داخلی سلامتی کا محکمہ نہیں بنایا ہے؟‘‘ نیو یارک ٹائمز میں میں شائع ہونے والے اپنے حالیہ مضمون میں ٹام فریڈمین رقمطراز ہیں کہ ’’ میں آئی ایس آئی ایس کو مسترد نہیں کر رہا ہوں۔ اوبامہ کا کہنا صحیح ہے کہ آئی ایس آئی ایس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جب آپ ڈر کر کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو آپ حکمت عملی پر مبنی کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی میں ایران ہمارا ساتھ دینے سے پیچھے ہٹ رہا ہے جبکہ کچھ عرب ممالک بھی تعاون کرنے میں شرطیں رکھ رہے ہیں۔ ایک ایسے ملک پر جو گزشتہ ایک دہائی سے بحران کا شکار ہے، دوبارہ حملے کا منصوبہ بنایا کیا مسائیل کا حل ہے؟ ہر مرتبہ جب تم مشرق وسطی کو بچانا چاہو گے وہاں کچھ نہ کچھ تباہی ضرور آئے گی۔‘‘

داعش کے خلاف مغربی طاقتوں نے ایک اتحاد بنا لیا لیکن اس خطے میں واحد نیوکلیائی طاقت کے حامل ملک یعنی اسرائیل کے خلاف ہمیں کوئی اتحاد نظر کیوں نہیں آتا؟ باراک اوباما کی حس غصہ اور ناراضگی کیا اس وقت مردہ تھی جب اسرائیل غزہ میں بے قصور فلسطینیوں پر بمباری کر رہا تھا اور ان کے گھروں اور اسکولوں کو تباہ کر رہا تھا؟ داعش کے خلاف لڑائی میں اگر عراق پر کاری ضرب پڑتی ہے تو نتیجتا شدت پسندوں کو فروغ پانے کا مزید موقع ملے گا۔ داعش کے ’’فتنہ‘‘ کے خلاف عرب اور مسلم ممالک کو مجموعی طور پر کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ایک ایسے ملک کی مدد حاصل کرنا جو پہلے سے ہی عراق کی بربادی کا ذمہ دار ہے ، ایسی ستم ظریفی ہو گی جو تاریخ کے خد و خال کا تناسب بگاڑ کر رکھ دے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند