تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کی شکست ایرانی ضروت نہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 25 ذیعقدہ 1435هـ - 20 ستمبر 2014م KSA 07:55 - GMT 04:55
داعش کی شکست ایرانی ضروت نہیں

ایران کی بنیاد پرستانہ خارجہ پالیسی کے مقاصد یہ ہیں کہ تہران کو ایک ایسی علاقائی طاقت سمجھا جائے جو داعش کو شکست دے سکتی ہے اور عراق سے انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی خارجہ پالیسی کے بنیادی خطوط ایران کی خطے میں بالا دستی کے عزائم اور مقاصد کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

 

ایرانی رہنما نے بین الااقوامی سطح پر دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے بلائی گئی کانفرنس میں ایران کو دعوت نہ ملنے پر قابل فہم حد تک غضبناک ہیں۔ اس کے باوجود کہ امریکا، ایران کے ساتھ کانفرنس کی سائیڈ لائینز میں اس موضوع پر مذاکرات بھی کر چکا ہے، لیکن ایران کو دہشت گردی کے خلاف اتحاد میں شرکت کی دعوت دینے سے انکاری ہے۔

اس پر مکمل غیر روایتی انداز میں ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری ویب سائٹ پر لکھا اور ٹوئٹر کے ذریعے ایک مختلف مکالمہ پیش کیا تاکہ خطے میں اپنی بالا دستی کے عزائم اور ایرانی ساکھ کو بچا سکیں۔ سپریم لیڈر نے یہ استدلال اختیار کیا کہ ایران نے خود داعش کے خلاف اتحاد میں شمولیت سے انکار کیا۔

شروع سے ہی امریکا نے عراق میں اپنے سفیر کے ذریعے سے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ کیا ہم داعش کے خلاف باہم تعاون کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے خامنہ ای نے لکھا ''میں نے نہ کر دی کیونکہ ان کے ہاتھ گندے ہیں۔'' علی خامنہ ای نے یہ بھی لکھا ''امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ذاتی طور پر وزیر خارجہ جواد ظریف سے پوچھا لیکن ظریف نے یہ درخواست مسترد کر دی۔"

اہم سوال

اہم معاملہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ایران کی فوجی طاقت داعش کی شکست چاہتی ہے یا نہیں۔ نیز یہ کہ عراق میں ایرانی معاونت حاصل کرنے کی قیمت اور فوائد کیا ہوں گے۔ ذرائع ابلاغ کا بڑا حصہ اس سے بھرا پڑا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد میں ایران کو شامل کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ ایران کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہے ہیں جس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

لیکن ضروری یہ ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو مبالغے کے ساتھ بیان نہ کیا جائے کہ ایران کئی ماہ تک داعش کے خلاف لڑ سکتا ہے۔ تہران کی قدس فورس عراق میں داعش کے خلاف لڑ بھی رہی ہے اور عراقی حکومت کو مشاورت کی خدمات بھی دے رہی ہے۔ ایرانی رہنما عراق میں شیعہ غلبے کو حکوتی اتحاد میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایران، عراقی حکومت کو مضبوط اس لیے دیکھنا چاہتا ہے کہ اس راستے عراق میں اپنے اثرات میں اضافہ کرتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے۔

اس کے باوجود کہ ایران عراق میں اپنے پورے وسائل بروئے کار لا رہا ہے لیکن تہران اس پوزیشن میں نہیں آ سکا کہ داعش کے خلاف کوئی قابل لحاظ کامیابی حاصل کر سکے۔ اس کے مقابلے میں داعش کا قبضہ پھیل رہا ہے اور اس کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کی فوجی طاقت مغربی اور نیٹو ممالک کے مقابلے میں کافی کمتر نوعیت کی ہے۔

تہران کی بینادی طور پر دو افواج ہیں۔ ایک وہ فوج جو پرانا اور ایران کا اپنا تیار کردہ اسلحہ رکھتی ہے۔ دوسری فوج انقلابی محافظین پر مشتمل ہے۔ اس کی اسلحی اور جنگی صلاجیت کو اس طرح پیش کیا جاتا کہ اس کی وجہ سے ایران علاقے کی بڑی طاقت ہے۔

ایران کو داعش مخالف اتحاد میں دعوت دینے کے مضمرات فوائد پر حاوی ہو سکتے تھے۔ ایسی صورت میں ایران، عراق میں اپنی مداخلت کو مزید جواز فراہم کرے گا اور دوسرے ملکوں میں بھی اپنی فوجی سرگرمیوں کو بڑھانے کی کوشش کرےگا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی مزید سہولیات اور رعائتوں کا تقاضا کر سکتا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند