تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسمارٹ سٹی کا خواب اور ’’میدانِ انڈیا‘‘
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 27 ذیعقدہ 1435هـ - 22 ستمبر 2014م KSA 09:45 - GMT 06:45
اسمارٹ سٹی کا خواب اور ’’میدانِ انڈیا‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی کو خریداری کا جو چسکہ ہے اس کے تحت انہوں نے چین اور جاپان سے بھی سرمایہ کاری کی توقع ظاہر کی ہے۔ انہیں امید ہے کہ ہمارے تعاون کیلئے کئی ملکوں کے سرمایہ کار ہندوستان میں اس قدر سرمایہ لگائیں گے کہ یہ ملک دنیا کی صنعت گاہ بن کر ابھرے گا۔ ان کی اس توقع کے پس پشت یہ خیال کار فرما ہے کہ عالمی معیار کا مال تیار کرنے کیلئے ہمیں نہ صرف سرمایہ بلکہ جدید ٹیکنالوجی بھی حاصل کرنا ہوگی۔ اگر مطلوبہ سطح پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعہ ایف ڈی آئی کے تحت براہ راست سرمایہ کاری ہو جائے تو ہمارے معیشت پر کافی بڑے پیمانے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے یعنی۔

دل کے بہلانے کوغالب یہ خیال اچھا ہے!

’’گوگل گرو‘‘ پر میں نے جب اس تعلق سے سرچ کیا تو یہ انکشاف ہوا کہ مینیسوٹا یونیورسٹی کے ذریعہ منعقدہ ایک تحقیقاتی مطالعہ سے یہ آشکار ہوا ہے کہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی معیشت پر ایف ڈی آئی کے کوئی آزادانہ اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔ یکبارگی اگر تعلیم ، انفرادی بچت، کھلی معیشت وغیرہ کے فوائد کو نظر انداز کر دیا جائے تو ایف ڈی آئی کے مثبت اثرات دور دور تک نظر نہیں آتے۔ چنانچہ یونیورسٹی آف کلکتہ کے ذریعہ کیے جانے والے ایک تجزیاتی مطالعہ سے بھی ظاہر ہوا کہ معاشی ترقی اور ایف ڈی آئی کے سودوزیاں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ حتیٰ کہ معاشی ترقی کے اتفاقی حادثات بھی ایف ڈی آئی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر، ایف ڈی آئی کسی ملک کی ترقی کو مہمیز نہیں دیتی۔ لیکن موقع پرست سا ہو کار کی طرح وہ جونہی کسی ملک کی ترقی کے ثمرات دیکھتی ہے تو رال ٹپکاتی ہوئی وارد ہوجاتی ہے۔ لہٰذا یونیورسٹی آف ایمسٹرڈم شاہد ہے کہ برطانیہ کے ذریعہ کی جانے والی براہ راست سرمایہ کاری جہاں میزبان ملک کیلئے نعمت ثابت ہوئی وہیں جرمنی اور امریکہ کے ذریعے کی جانے والی ایف ڈی آئی میں پیش رفت کے جاپان پر عبرت ناک اثرات مرتب ہوئے۔ مانتا ہوں کہ ورلڈ بینک کے ذریعہ کیے جانے والے ایک مطالعہ سے یہ انکشاف ہوا کہ انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ نے ایف ڈی آئی کے مثبت پہلو ہی کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم میں تو قصدا اس کے مبینہ فوائد کو نظر انداز کرنے ہی کو ترجیح دوں گا۔

معلوم ہوا ہے کہ اعلیٰ پائے کی تکنیکوں کے ساتھ کی جانے والی ایسی سرمایہ کاری ہی سود مند ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس طرح کی ایف ڈی آئی کا خیر مقدم ہے۔ مسئلہ تو اس غیر ملکی سرمایہ کاری سے پیدا ہوتا ہے جو ایف ڈی آئی کے تحت محض راس المال کی ریل پیل پر منحصر ہوتی ہے۔ مثلاً ہندوستان لیور نے ٹامکو نامی ہندوستانی کمپنی خرید لی۔ ایسی ایف ڈی آئی کالص سرمایہ پر مشتمل ہوتی ہے اور اپنے ساتھ کوئی جدید ٹیکنالوجی نہیں لاتی۔ اس لئے ایسے سودوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان سے حاصل ہونے والی ایف ڈی آئی سے گریز کرنا ضروری ہے۔ دراصل ترقی پزیر ممالک تو آج کل سرمایہ کے برآمد کار بن گئے ہیں ۔واضح رہے کہ ترقی پپزیر ملکوں نے 2006ء میں ایف ڈی آئی کے ذریعہ 506 بلین ڈالر جتنی سرمایہ کاری حاصلی کی تھی، ہم نے یہ اعداد و شمار ورلڈ بینک کے زائچے سے اخذ کئے ہیں۔ اس کے برخلاف 858 بلین امریکی ڈالر کی رقم غیر قانونی طریقے سے کی جانے والی ادائیگیوں میں سواہا ہو گئی یہ معلومات ترقی پزید ملکوں کے خزانوں کے احوال پر نظر رکھنے والی عالمی ایجنسی گلوبل فائنانشیل انٹیگریٹی نے منکشف کی ہیں۔ لب لباب یہ کہ ایف ڈی آئی کے نام پر ترقی پزیر ملکوں کو قانونا کافی کم رقوم حاصل ہو رہی ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر کی جانے والی ادائیگیوں میں انہیں خسارہ ہی خسارہ ہو رہا ہے۔ لہذا مسٹر مودی اگر واقعی بیرونی سرمایہ کاری کو یکا یک فروغ دینا چاہتے ہیں تو انہیں مذکورہ غیر قانونی ادائیگیوں کے تدارک پر فوری توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

این ڈی اے حکومت کے ذریعہ کالا دھن واپس لانے کا دعویٰ بیرونِ ملک واقع گنجینوں میں گم ہو جانا ہی دولت کی غیر قانونی نکاسی کے سرکاری اعتراف کے مترادف ہے۔ اب یہ عقد کھلا کہ ان غیر قانونی ادائیگیوں میں ایم این سیز کا بڑا ہاتھ ہے۔ فن لینڈ کی حکومت کے تعاون سے کیے جانے والے مالیاتی سروے کی ایک رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی سرمایہ کاری میں زبردست کرپشن کار فرما ہے، اور ابھی تو ہماری حکومت کو اسکے عشر عشیر کی بھنک لگی ہے۔ مذکورہ جائزہ کے مطابق عالمی سطح پر کالے دھن کے بازار میں دولت کی ریل پیل کا دارومدار ’’ترقی پزیر ملکوں میں سرگرم کثیر ملکی کمپنیوں کے ذریعہ ٹیکسوں کی چوری اور انحراف پر ہے۔ معلوم ہو کہ یہ ایم این سیز میزبان حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پلک جھپکتے ادھر کا مال ادھر کر دینے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔‘‘

چنانچہ انٹرنیٹ پر دستیاب دستاویزوں میں تقریبا وہ ساری تفصیلات درج ہیں کہ کثیر ملکی کمپنیاں اپنے مالوں کی نقل و حمل کے دوران ان کی شرحوں میں کس قدر تفاوت ظاہر کرتی ہیں۔ ان برقیاتی جائزوں کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ترقی پزیر ملکوں میں ایم این سیز کی دراندازی سے غیر قانونی دولت کی منڈی کو اندازا سالانہ ایک ہزار بلین امریکی ڈالر سے بھی زیادہ حاصل ہوتے ہیں۔ گویا کہ مزید ایم این سیز کو مدعو کرنا ملک میں چوروں کے ذریعہ پولیس اسٹیشن قائم کرنا ہے۔ بظاہر وہ بہت سے ڈالر خوانوں میں سجا کر لاتے ہیں لیکن در پردہ اپنے اصل سرمایہ سے کئی گناہ زیادہ رقم کا ہیر پھیر کر دیتے ہیں۔علاوہ ازیں ایک ہمالیائی سوال سرکار اخراجات کا بھی ہے۔ معاشی ترقی کے مسائل کی جڑیں تو ہماری خوں آشام دفتر شاہی میں پیوست ہیں جو عموما سیاستدانوں سے ساز باز کر کے ہمیشہ بہتی گنگا میں غوطہ زن رہتی ہے۔ ساتھ ہی سرکاری اہلکاروں کی تنخواہوں اور وظیفوں کا تخمینہ مجموعی حکومتی اخراجات کا تقریبا نصف ہے۔ اس موضوع پر بھی مسٹر مودی نے مون برت اختیار کر رکھا ہے۔

اس پس منظر میں ایف ڈی آٗی کی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ ہر ایک ایف ڈی آئی معاملہ کی یکسوئی سے قبل تکنیکی آڈٹ ناگزیر ہے۔ ایم این سیز کی پیش کردہ وہ ہر تجویز کو او کے کرنے سے قبل لازمی طور پر اسکی تکنیکی آڈٹ بھی کی جانی چاہیے۔یعنی ایم این سیز کے ذریعہ ملک میں سرمایہ کاری کی ہر پیشکش کو جدید ٹیکنالوجی سے مشروط کر کے ہی قبول کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ہمارے ملک پر مرتب ہونے والے سماجی اثرات کا قبل ازوقت جائزہ لینے کیلئے ان معاہدوں کا سماجی آڈٹ کلیئرنس بھی لازمی قرار دینا چاہیے۔ ہر چند کہ ایف ڈی آئی کے نتیجے میں نئے روزگار حاصل ہونے کے راست امکانات بھی ہوتے ہیں، لیکن چھوٹے صنعتکاروں کو بے دخل کر کے بڑی بڑی کمپنیاں قائم کرنے کے نتیجے میں مزید سیکڑوں مزدور روزگار سے محروم ہو جاتے ہیں۔ کپڑا ملوں کی مثال لے لیں، جن کے مہیب سائے میں بے شمار بنکر دانے دانے کو محتاج ہو گئے۔ بالآخر ایف ڈی آئی کے میزبان ملکوں کو اپنی زمینی صورتِ حال ملحوظ رکھنی چاہیے۔ مسٹر مودی کو وزارتِ خزانہ کو لازمایہ ہدایت دینی چاہیے کہ مختلف ممالک کی معیشت پر اثر انداز ہونے والی ایف ڈی آئی کا جائزہ لے کر ہی نئی سرمایہ کاری کی کسی پیشکش پر صاد کرے۔ اگر جاپانی سرمایہ کاری نے کسی ترقی پزیر ملک کی معیشت کو روند دیا ہو تو اس ملک سے آنے والی کاروباری تجاویز پر ہمیں خبردار ہو جانا چاہیے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند