تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش کے خلاف امریکی بمباری کامیاب ہو سکے گی؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 29 ذیعقدہ 1435هـ - 24 ستمبر 2014م KSA 11:52 - GMT 08:52
داعش کے خلاف امریکی بمباری کامیاب ہو سکے گی؟

امریکا نے بالآخر شام میں براہ راست فوجی کارروائی نہ کرنے کی طویل عرصے سے جاری اپنی پالیسی کو تبدیل کر دیا ہے۔ امریکی قیادت میں داعش کے ہدف بنانے کے لیے شام کے مختلف علاقوں میں داعش پر کی جانے والی بمباری نے امریکی خارجہ پالیسی میں اس تذویراتی اور تدبیری تبدیلی کا عملی اظہار کر دیا ہے۔ یہ بمباری اس کے باوجود شروع کر دی گئی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے عندیہ دے رکھا تھا کہ داعش کے خلاف شام میں فوجی کارروائی کرنے میں کئی ہفتے بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔ بہرحال اب امریکا نے داعش کے خاتمے کے لیے اپنی عراق میں جاری بمباری کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ مبینہ طور پر یہ کارروائی بشارالاسد کی اجازت کے بغیر شروع کی گئی ہے۔ پہلے روز ایک درجن سے زائد مقامات پر داعش کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شام میں کی جانے والی اس ابتدائی کارروائی کے دوران جدید ترین امریکی جیٹ طیاروں کےعلاوہ ٹاک ہام کروز میزائل اور بم بھی بروئے کار لائے گئے۔ شام میں تین سال سے زائد عرصے پر پھیلی خانہ جنگی میں امریکا اس طرح اترنا پہلی بار ہوا ہے۔

گہرے خطرات اور پیچیدگیاں

سب سے پہلے ایک مشکل یہ ہے کہ امریکا نے داعش کے خلاف کسی واضح ایجنڈے کے بغیر ایک ایسے خطے میں جنگی کارروائیاں شروع کی ہیں جو پہلے سے ہی جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس سے بھی بنیادی بات یہ ہے کہ پینٹاگان کے اہدافی جنگی منصوبے سے شام میں داعش کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو گا، البتہ یہ ضرور ہو گا کہ داعش سے وابستہ عسکریت پسند مقابلتاً محفوظ جگہوں کی طرف بھاگنے کی کوشش کریں گے۔ خصوصا شام کے گنجان ترین آباد علاقوں کی طرف چلے جائیں گے۔

اسی طرح داعش پر امریکی کارروائی کے لیے وقت کا چناو بھی محل نظر ہے۔ یہ کارروائی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دنوں میں شروع کی گئی ہے۔ جب پوری دنیا کے رہنما نیویارک میں جمع ہیں اور صدر اوباما 24 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔ توقع ہے کہ اوباما اس موقع پر داعش کے خلاف ایک عالمی اتحاد کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک قرارداد کی منظوری کی بھی کوشش کی جا سکتی ہے، تاکہ داعش سے درپیش خطرے کا تدارک کیا جا سکے۔

شام میں نئی شروع کی گئی اس مہم کے حوالے سے مزید دو امور امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق ہیں قابل توجہ ہیں۔ امریکا سمجھتا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد میں دوسرے اتحادیوں کے علاوہ مشرق وسطی اور نیٹو سے بھی ہونے چاہییں تاکہ اس کی جنگی کارروائی کے اخلاقی اور سیاسی جواز کو چیلنج کیے جانے کا امکان نہ رہے۔ اس کامیابی کی صورت میں داعش کے خلاف شام میں کارروائی پر تنقید کو روکا جا سکے گا۔

صدر اوباما نے داعش کے خلاف اس نئی کارروائی کو افغانستان اور عراق میں لڑی جانے والی امریکی جنگوں سے مختلف بتایا ہے۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لیے انہوں نے دلیل یہ پیش کی ہے کہ شام میں امریکا کی زمینی فوج نہیں جائے گی۔ محدود کارروائی کی اصطلاح کا حربہ اس کارروائی کو قبولیت دلوانے کے لیے ہے تاکہ اس کے جائز ہونے کے سوال پر بات نہ ہو۔ نیز محدود کارروائی کی اصطلاح کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا۔ ملک کے اندر کی تشویش کو کم رکھا جا سکے کیونکہ امریکا مشرق وسطی میں ایک اور جنگ پر اعتراضات اٹھ سکتے ہیں۔

ان امریکی فضائی کارروائیوں نے داعش کے قیام خلافت کے اولیں مقصد کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب اس کا ہدف امریکا اور اسکے مغربی اتحادیوں کے خلاف لڑنا بن گیا ہے۔ جیسا کہ داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے ایک ہفتہ پہلے کہا ''اگر آپ کو امریکی اور مغربی کافروں کو ہلاک کرنے کا موقع ملے خصوصا غلیظ فرانسیسیوں کو، یا کسی آسٹریلین، کینیڈین کو جو بشمول ان ملکوں کے شہریوں کو جو داعش کے خلاف اتحاد کا حصہ بنے ہیں تو انہیں جس طر ح چاہو قتل کرو۔''

شام کا اقتدار اعلی

دوسری جانب امریکی قیادت میں شروع ہونے والی اس جنگی مہم کے حوالے سے یہ تضاد ابھرا ہے کہ امریکا ایک طویل عرصے سے شام پر حملہ آور ہونے سے ہیچاں و پیچاں تھا۔ ایسے حملے سے شام کی خود مختاری ور اقتدار اعلی متاثر نہ ہو۔ جبکہ امریکا چین اور روس پر انگشت نمائی کرتا رہا ہے کہ وہ دونوں شام کے خلاف آنے والی قرار دادوں کو روکنے کا باعث بنتے رہے ہیں۔ جبکہ شام کے لوگوں نے بدترین ہلاکتوں کا سامنا کیا۔ ہزاروں لوگ اس خانہ جنگی میں لقمہ اجل بن گئے۔ لیکن امریکا سب کے سامنے کہتا رہا کہ شام نے شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کیے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود امریکا نے شام میں کوئی کارروائی نہ کی حتی کہ ''نو فلائی زون'' قائم کرنے پر بھی آمادہ نہ ہوا۔ اب شام میں کارروائی کے فیصلے نے امریکا کے سیاسی، تذویراتی اور معاشی مفادات کو یکسر جلد تبدیل کر دیا ہے کیونکہ عراق میں داعش نے عسکری حوالے سے غیر معمولی پیش قدمی کر لی ہے۔ اس موقع پر اوباما نے ذرہ بھر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیے بغیر شام تک کارروائیاں پھیلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اگرچہ اس کے لیے اقوام متحدہ نے کسی متفقہ ووٹ یا قرارداد کے ذریعے کوئی ایسی منظوری نہیں دی ہے۔ حتی کہ امریکی کانگریس نے بھی اس سے پہلے شام پر چڑھائی کو موخر کر رکھا ہے۔

کس کی ہار، کس کی جیت؟

داعش پر امریکی کارروائیاں امکانی طور پر داعش کو شام کے زیر قبضہ علاقوں سے پسپائی پر مجبور کر سکتی ہیں۔ خصوصا الرقہ شہر سے۔ لیکن الرقہ میں پیدا ہونے والے اس خلاء کو کون سی افواج پر کریں گی، ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے باغی گروپ بشمول آزاد شامی فوج میں سے کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ داعش کے امکانی طور پر چھوڑے علاقے کو اپنے کنٹرول کیں لے سکے۔ یہ اس لیے ممکن نہیں ہے کہ بشارالاسد کی افواج بہتر پوزیشن میں ہیں۔ نیز اسد رجیم کے پاس جنگی جہاز بھی موجود ہیں، جن کا وہ پہلے ہی بے رحمانہ استعمال کر رہی ہے۔ اس لیے غالب امکان یہی ہے کہ داعش کی جگہ اسد رجیم کی افواج ہی لیں گی۔

یوں امریکی قیادت میں ہونے والی داعش مخالف کارروائی بالواسطہ طور پر اسد رجیم کی ہی معاونت ہو گی جو اس وقت باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسد رجیم کی کامیابی کا ہی امکان ہو سکتا ہے جو آج کل باغیوں سے نبرد آزما ہے۔ وسیع تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے اس کارروائی نے امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکا کا دعوی ہے کہ وہ اس طرح داعش کی طرف سے عراق میں جنگ جووں کی فراہمی روکنا چاہتا ہے۔ لہذا امریکا اگر شروع سے شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے صاف اور واضح خارجہ پالیسی رکھتا تو ایسا طاقتور انتہا پسند گروپ تشکیل نہیں پا سکتا تھا۔ اگرچہ امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ کینسر کو ختم کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کی محدود کارروائیوں سے داعش کا کلی خاتمہ ممکن ہو گا؟ ایک طرف شام میں طویل خانہ جنگی ہے اور دوسری جانب عراق میں غیر نمائندہ حکومت شیعہ غلبے کے ساتھ موجود ہے۔ اس ماحول میں انتہا پسند گروپوں کی موجودگی کو خطرہ رہے گا۔

اس لیے ضروری ہے کہ امریکا اپنی خارجہ پالیسی کو نک سک سے پاک کرتے ہوئے واضح کرے کہ اس کی پالیسی کیا ہے اور عراق و شام میں سیاسی استحکام اور سلامتی کے حوالے سے اس کا اصل ایجنڈا کیا ہے۔ بصورت دیگر اس نوعیت کے انتہا پسند گروپوں کے باقی رہنے کا خطرہ رہے گا۔ اگر امریکا کے خیال میں اس مسئلے کو دیکھنے کا یہی ایک فوجی طریقہ ہی ہے تو اس کے لیے امریکا کو ایک لمبے عرصے کی حکمت عملی کے ساتھ آنا ہو گا۔ یہ ایک طویل مدتی چیلنج ہے۔ یہ ایک تنہا فوجی مہم نہیں بلکہ ایک جامعہ حکمت عملی کا متقاضی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند