تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مینڈیٹ یا پانی کا بلبلہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 30 ذیعقدہ 1435هـ - 25 ستمبر 2014م KSA 16:26 - GMT 13:26
مینڈیٹ یا پانی کا بلبلہ

رکھ دیا ہے۔ بھارتی عوام کی جانب سے پنکچرزنی کی اس واردات سے ثابت ہو گیا کہ مینڈٰیٹ کی حیثیت پانی کے بلبلہ سے زیادہ نہیں۔ سرکاری دعوے، غیرسرکاری اداروں کے جائزے، سروے، چینلوں اور اخباروں کے تجزیئے لاکھ ڈنڈی ماریں، آخری فیصلہ عوام ہی کرتے ہیں۔ عصرحاضر کا ووٹر بری کارکردگی پر اپنی جماعت اور نمائندہ ایسے ہی تبدیل کرتا ہے۔ جیسے اپنے گھرکی آرام کرسی پربیٹھا ناظر ریموٹ کا بٹن دبا کر چینل تبدیل رہتا ہے۔

سولہ مئی کے روز بھارتی لوک سبھا کی 543 نشستوں پر چناؤ ہوا تو بی جے پی نے 272 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے برصغیرہی کیا ساری دنیا کے سیاسی مبصرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ عام انتخابات کے بعد ابتدائی چند ماہ نئی حکومت کا ٹیک آف ٹائم ہوتا ہے۔ عصرحاضر کے سیاسی تجزیہ نگار ابتدائی سودن کو ہر نئی حکومت کا ہنی مون پیریڈ قرار دیتے ہیں۔جس طرح نئی نویلی دلہن کی غیرمعمولی آؤبھگت کی جاتی ہے۔ نئے گھرمیں سرزدہوجانے والی غلطیوں پر کوئی تعرض نہیں کیا جاتا۔ کوتاہیوں سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔ اسی طرح نئی نویلی حکومت بھی تنقید کے نوکیلئے تیروں، طنز کی پرچھیوں باز برس کے نشتروں سے بچی رہتی ہے۔ ابتدائی سوروز میں حکومت اپنی ترجیحات کا تعین کر لے۔ سمت سیدھی ہو جائے تو عوام اور میڈیا اس رعایتی مدت میں تھوڑا اضافہ کر دیتے ہیں۔ لیکن بی جے بی کے ساتھ عجیب ہاتھ ہوا۔ ابھی ٹیک آف کیا ہی تھا۔ ابھی سودن کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوا ہی تھا کہ ضمنی انتخابات کا کڑا امتحان سامنے آ کھڑا ہوا۔ چند ماہ پہلے بھاری مینڈیٹ کے گھوڑے پر سوار بھارت ایسے وسیع و عریض ملک کا راج پاٹ سنبھالنے والی پارٹی اس پہلے سیاسی امتحان میں ناکام ہو گئی۔

عام انتخابات کے بعد لوک سبھا کی تین خالی نشستوں اورمختلف ریاستوں کی 33 سیٹوں پر ضمنی انتخابات کا مرحلہ آیا۔ ان انتخابات کے نتائج کے حوالے سے رائے عام کے جائزوں اور سروے رپورٹ میں بی جے بی کی کامیابی کے دعوے کیے گئے۔ ان دعوی کی دلیل میں بی جے بی کے پہلے سودنوں کی کامیاب حکمت عملی اور وژن کو بنیاد بنایا گیا۔ لیکن انتخابات کا نتیجہ آیاتو بی جے بی بری طرح پٹ گئی۔ سب سے عبرتناک شکست بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیس میں ہوئی۔ یوپی میں 11 خالی نشستوں پر چناؤ ہوا۔ دلتوں اور مسلم ووٹروں سے بھری ہوئی اس ریاست کے ووٹروں نے بی جے بی کی ہندو قوم پرستی، جنویت اورمنافرت کی پالیسیوں کا انتقام اپنے ووٹ کے ذریعے لیا۔ان گیارہ نشستوں میں سے بی جے بی کے ہاتھ صرف تین سیٹیں آئیں۔ آٹھ نشستیں ملائم سنگھ یاددوکی سماج وادی پارٹی کو ملیں۔ اس ریاست میں بی جے پی نے ووٹر کو تقسیم کرنے کیلئے آگ لگا کر اس پر نفرت کا تیل کنستر بھر بھر کر ڈالا۔ لیکن ناکام رہی۔

بی جے بی کو اصل سیاسی دھچکہ گجرات میں لگا۔ گجرات بھارت کے نومنتخب پردھان منتری نریند رمودی کی جنم بھومی بھی ہے اور ان کا پاور بیس بھی۔ وہ اس ریاست کے تین مرتبہ وزیر اعلی بنے۔ اسی ریاست میں کامیابی سے حکومت اور اس کارکردگی کی بنیاد نریندر مودی کو ہندو قوم پرست جماعت کی قیادت ملی۔ اسی ریاست میں وضع کردہ کامیاب معاشی پالیسیوں کی بنیاد پر نریندر مودی شائننگ انڈیا کا نعرہ لیکر اٹھا اوربھارت کے سیاسی افق پر چھا گیا۔ گجرات میں نونشستیں خالی ہوئیں۔ یہ ساری نشستیں بی جے بی کے پاس تھیں۔عام انتخابات کا مرحلہ آیا تو بی جے بی نو میں سے چار سیٹیں ہار گئی۔ یہ چاروں نشستیں کانگریس کے حصے میں آئیں۔ عام انتخابات میں اس ریاست سے کانگریس کا نام ونشان بھی مٹ گیا تھا، لیکن صرف چند ماہ کے اندر ہی کانگریس نے اپنے وجود کا احساس دلا دیا۔ راجستھان بھی بی جے بی کی ہندو تواکی سیاست کا مضبوط گڑھ ہے۔ یہاں چارسیٹوں پر چناؤ ہوا۔ کانگریس ایک مرتبہ پھرفاتح رہی۔ تین نشستیں کانگریس نے جیتیں۔ بی جے بی کی جھولی میں صرف ایک سیٹ آئی۔صرف ایک ریاست مغربی بنگال میں بی جے بی نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ اس ریاست میں 33 نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوا۔ بی جے بی نے اس ریاست میں بارہ ،سماج وادی پارٹی نے آٹھ اور کانگریس نے سات سیٹیں حاصل کیں۔

بی جے بی نے برسر اقتدار آ کر ہندوستان کو شائننگ انڈیا کی کیٹگری سے نکال کر الٹرا شائننگ ملک بنانے کیلئے چار نکاتی ترجیحاتی ایجنڈے کا اعلان کیا۔ ان چار نکات میں معیشت کے میدان میں بی جے بی نے مالی خسارہ کا ہدف ساڑھے چار فیصد مقرر کرنے انشورنس اور دفاع کے شعبہ ڈائریکٹ فارن انوسٹمینٹ، ملک میں 100 جدید لیکن چھوٹے شہر بسانے۔ انکم ٹیکس پر چھوٹ کی شرح میں اضافہ۔ انفرادی ٹیکس اور سینئر سٹیزن کیلئے ٹیکس معافی کی سلیب مقرر کرنے جیسے فیصلے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ملکی مصنوعات کے استعمال کو حوصلہ افزائی کیلئے میڈان انڈیا کے نام سے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ واحد اقدام ہے جس کو اب تک غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ چند ماہ کے اندر ہی ملکی ساختہ اشیاء کے استعمال میں چار فیصد اضافہ ہوا۔البتہ مودی سرکارنے ڈیڑھ ٹریلین ڈالرکے لگ بھگ بیرونی ممالک کے بنکوں میں پوشیدہ رقم واپس لانے جواعلان کیا ا س پرابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ گڈگورننس کے شعبہ میں عوام کی شمولیت کیلئے ایک ملک گیرویب پورٹل کا آغاز کیا گیا ہے۔ جس کی نگرانی براہ راست پردھان منتری خود کیا کرتے ہیں۔دفاع کے شعبہ میں نومنتخب حکومت نے دو سو پچاس ارب ڈالر خرچ کرنے کا پلان تیار کیا ہے۔ سفارت کاری کے شعبہ میں ظاہری اعلانات کی حد تک تو بھارت نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ البتہ جنوبی ایشیاء کی ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ بھارت اسی بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد ایل اوسی پاک بھارت بارڈر پر سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
نریندرمودی نے قومیت پرستی، مذہبی جنون اور نچلی ذاتوں کے خلاف نفرت اور مسلم دشمنی کو اپنا منشور بنا کر الیکشن جیتا۔ عام انتخابات کے صرف چار ماہ بعد ان پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے بھاری مینڈیٹ کو ریورس گیئرلگ چکا ہے۔ نسلی اور مذہبی تعصب کی آگ اسی طرح جلتی رہی تو بی جے بی کا اقتدار ایسی دلدل میں جا پھنسے گا کہ نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ملے گا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند