تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
وائٹ پیپر اور جلسہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 7 ذوالحجہ 1435هـ - 2 اکتوبر 2014م KSA 11:18 - GMT 08:18
وائٹ پیپر اور جلسہ

کسی دور میں سیاسی سرگرمیوں اور ہنگامی پریس کانفرنسوں کا احوال صرف اخبارات یا چھوٹے موٹے پمفلٹ کی صورت سامنے آتا تھا۔ اسی لئے اکثر بیانات میں رد و بدل کروانا بھی ممکن تھا مگر درجنوں نیوز چینلوں کی موجودگی میں اب ایسا ممکن نہیں رہا کیوں کہ ہنگامہ خیز نشریات کے باعث ہر لمحہ خبر کی تلاش میں رہنے والوں کے لئے ایسے مواقع بے حد خوش آئند ہوتے ہیں جہاں وہ مرضی کے ایسے سوالات بھی کر سکیں جو بریکنگ نیوز بننے کے قابل ہوں۔

کہنے کو تو ہر چینل نےتفریحی چینلوں کا بھی اہتمام کررکھا ہے تا کہ فن و ثقافت کی پاسداری بھی ہو سکے مگر ناظرین خبروں، تبصروں اور مباحثوں کی ڈرامائی عکاسی سے اس حد تک مانوس ہوچکے ہیں کہ اب انہیں اصل ڈراموں اور موسیقی کے پروگراموں سے وہ رغبت محسوس نہیں ہوتی جو خبروں کے پروگراموں سے ہوتی ہے۔ گویا ادب، آرٹ اور کلچر کے تمام شعبے خبروں میں ضم ہو چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ثقافتی حوالے سے تو ہم قیامِ پاکستان کے دِن سے خدشات کا شکار ہیں۔ اب مباحثوں میں اندازِ تکلم، گالی گلوچ اوربات کے درمیان بولنا بلکہ بڑھ چڑھ کر بولنے سے تہذیبی اور اخلاقی طور پر بھی غربت کا شکار ہورہے ہیں۔ نئی نسل اس سے کیا اثرات قبول کررہی ہے اس سے کسی کو غرض نہیں بس ریٹنگ بہتر رکھنی ضروری ہے۔ پھر نت نئی خبروں کی تلاش میں رہنے والی آنکھ کو اچھائی، برائی اور قومی مفاد سے سروکار نہیں کیوں کہ اس کے ہاتھ میں کوئی ضابطہ ٔ اخلاق ہے نہ پالیسی اور حکومتی و قانونی خوف کا یہ عالم ہے کہ پوری پارلیمنٹ کیبل آپریٹرز کی حکمت عملی پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔ ایسی آزاد فضائوں میں ہر وقت خبروں میں رہنے والے ویلے سیاست دان اور ریٹائرڈ افسران کوئی نہ کوئی ہنگامہ برپا کئے رکھتے ہیں۔ دھرنا بھی ایک ایسی ہی خواہش کا مظہر ہے۔ اگر میڈیا انہیں اس درجہ کوریج نہ دیتا تو شاید ایسی بری حالت میں وہ چند دن بھی قیام کرنا پسند نہ کرتے مگر مسلسل تشہیر انہیں اسٹیج چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتی۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید جو ہر معاملے میں اصول و ضوابط کی پاسداری کو ممکن بنانے کی عملی کاوش کرتے ہیں۔ بڑے دنوں بعد ان کی طرف سے KPK حکومت کے خلاف وائٹ پیپر کے مندرجات سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تحریک انصاف کی کارکردگی کی لمبی فہرست ماروی میمن صاحبہ نے پڑھ کر سنائی۔ جو انتہائی مایوس کن تھی ان میں سے کچھ کے بارے میں تو سوشل میڈیا پر بھی بات ہوتی رہتی ہے مگر کچھ راز و نیاز بالکل نئے اور اچھوتے تھے یوں صوبے کی مجموعی کارکردگی صرف مایوس کن نہیں بلکہ خطرے کے نشان سے بہت اوپر تھی۔ کوئی بھی شعبہ ایسا نہ تھا جسے مثالی تو کیا تسلی بخش ہی قرار دیا جاسکے۔ کرپشن، ڈی میرٹ، اقرباء پروری، سرکاری سہولتوں کے غلط استعمال سمیت ہر طرف سیاہ حاشیے موجود تھے۔ کم از کم ایک صوبے کے چند محکموں کو مثالی بنا کر دھرنا دیاجاتا تو شاید اس کے نتائج مختلف ہوتے۔ دھرنے کی ناکامی کی وجہ یہ نہیں کہ وفاقی حکومت مثالی کارکردگی کی حامل ہے بلکہ یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے حاصل کردہ مینڈیٹ کا مذاق اڑایا ہے اور عملی کام کی بجائے صرف زبانی جمع خرچ پر انحصار کر کے عوام کے ذہنوں میں ابہام پیدا کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بلند بانگ دعوے کرنے والے عملی منصوبہ بندی سے لاتعلق ہیں۔

خیبر پختونخوا کی حکومت اور تحریک انصاف کے ممبران پر تو سب واضح تھا مگر عوام کی اکثریت اس سے نابلد تھی اور تمام تر برائی کا ذمہ دار صرف وفاقی حکومت کو سمجھتی تھی۔ اس طرح آئینہ دکھانے کی یہ کاوش اچھی سیاسی حکمت تھی تا کہ گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر مارے مارے پھرنے والے لوگوں کو حقائق سے باخبر کیا جا سکے جن کی مہم جوئی سے ملک کو بدنامی کے ساتھ ساتھ معاشی، سماجی اور سیاسی نقصان کا سامنا ہے تاہم اتنی مغزماری کے باوجود چند روز بعد تحریک انصاف کے لاہور کے جلسے میں لوگوں نے بھرپور شرکت کی اور عمران خان کے ساتھ کھڑے پرویز مشرف صاحب کے تمام جانثاروں نے حکومتِ وطن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بدل جانے کا عندیہ دیا لیکن پرویز خٹک نے فرمایا کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی آچکی ہے۔ اگر ایسی تبدیلی ملک میں لانا مقصود ہے تو اللہ ہی حافظ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر سیاسی جماعت یا برسرِ اقتدارپارٹی اس یک طرفہ تنقیدی روئیے کو ہی اپناتی رہے گی یا کبھی اپنی کوتاہیوں کی بھی نشاندہی کرے گی۔ نہ جانے دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی کارکردگی کا موازنہ کرنے کی رسم کب عام ہوگی؟ کیا ہی اچھا ہوتا وزیر اطلاعات کچھ اپنی کابینہ کے معزز ممبران کی کارروائیاں بھی زیر بحث لاتے۔

مختلف شعبہ جات میں ہونے والی چھوٹی موٹی بے ضابطگیوں کا ہی ذکر کرتے۔ خلوصِ نیت سے شروع کئے گئے منصوبوں میں رہ جانے والی خامیوں سے آگاہ کرتے اور اجتماعی کوتاہیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آئندہ انہیں نہ دہرانے کا اعادہ کرتے کیوں کہ وزراء، افسران اور دیگرحکومتی افراد بھی انسان ہیں فرشتے نہیں جو غلطیوں سے مبرا ہوں۔ وہ سارے الزامات جن پر تحریک انصاف کا تکیہ ہے انہیں مکمل ختم نہیں تو کچھ کم کر کے ان کی تحریک کو ڈانواں ڈول کردیتے۔ اسی طرح عمران خان خیبر پختونخوا میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو درست کرنے، کابینہ کو مختصر اور فعال کرنے اور قصورواروں کا احتساب کرنے کا اعلان کرتے۔ دونوں جماعتوں سے استدعا ہے کہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا اپنا محاسبہ خودکریں۔ خلوصِ نیت سے ملکی مفادات اور قومی مقاصد کو اپنی ترجیحات بنا کر نئے سیاسی کلچر کو متعارف کروائیں جہاں تسلیم کرنے کی روایت ہو۔ یقین کیجئے یہی عمل نئے پاکستان کا ضامن ہو گا کیوں کہ پرانے پاکستان کو (نعوذ بااللہ) تہس نس کر کے کچھ نیا تشکیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی نظریاتی اساس تبدیل کی جاسکتی ہے۔ درست حکمتِ عملی کا تقاضہ ہے کہ تقریروں کو تعبیروں میں ڈھالنے کے لئے تدبیروں کا رستہ اختیار کیا جائے۔ عوام کی شعوری بیداری بہت ضروری ہے اور اس مقصد کے لئے جلسے جلوسوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کیا تمام ترتوانائیاں اسی مقصد کے لئے صرف کی جاتی رہیں گی؟ آج کل وطنِ عزیز میں ہر طرف انقلابی جلسوں کی بہار ہے۔ معلوم ہوتا ہے الیکشن اور دھاندلی کے علاوہ ملک میں اور کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی فعالی اور حکومت کی بے حسی دونوں ملکی مفاد میں نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند