تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ اور جنوبی ایشیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 27 جمادی الاول 1441هـ - 23 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 8 ذوالحجہ 1435هـ - 3 اکتوبر 2014م KSA 09:19 - GMT 06:19
مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ اور جنوبی ایشیا

وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی مپیں اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر دیرینہ قومی موقف کا اعادہ کر کے پوری پاکستانی قوم کے دل جیت لئے ہیں۔ بلاشبہ وزیر اعظم کا مسئلہ کشمیر پر دوٹوک اظہار خیال خوش آئند امر ہے۔ مگر اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ کشمیر کے معاملے کو قومی مسئلہ تو ہم سمجھتے ہیں لیکن بھارت سے تعلقات کے ضمن میں جب بھی پیش رفت ہوتی ہے اس وقت اس اہم بنیادی مسئلے کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ بھارت نے ہماری قیادت کی ان کمزوریوں کاہمیشہ فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ ہمیں دوستی کا فریب دیتا ہے مگر اس دوستی کی آڑ میں اس کی ہمیشہ یہی سازش کارفرمارہی ہے کہ کسی طرح پاکستان کو مسئلہ کشمیر بھلا دیا جائے۔ بہر کیف اب ہمارے ارباب اقتدار کو ایک طویل عرصے کے بعد کشمیر پر قومی اور اصولی موقف کی پھریاد ستائی ہے تو یہ محض زبانی جمع خرچ نہیں ہونا چاہئے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ 18 کروڑ اہالیان پاکستان موجودہ حکومت سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس اہم اور حساس مسئلہ کے جلد حل کویقینی بنانے کیلئے اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لائے گی۔ بھارت گزشتہ67 سالوں سے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارت 1948ء میں خود اقوام متحدہ اس مسئلے کو لے کر گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کوحق خودارادیت دینا بھارت کی ذمہ داری تھی۔ بھارت نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ مقبوضہ کشمیر کے ممتاز رہنما اور حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بجا طور پر درست مطالبہ کیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی طرز پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی ریفرنڈم کا حق دیا جائے۔ ان کا یہ مطالبہ مبنی برحق ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر و فلسطین جیسے دیرینہ مسائل کوحل کرے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی میں یہ سوال ٹھیک اٹھایا ہے کہ آخر چھ دہائیوں سے کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ اقوام متحدہ کیلئے یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ بھارت اور اسرائیل نے آج تک کشمیر اور فلسطین پر اس کی قراردادوں پر عمل نہ کرنے کا سنگین مذاق کیوں کیا؟ بھارت اور اسرائیل کے اس روئیے سے خود اقوام متحدہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں اٹھائے جانے سے کشمیر ایک بار پھر اہم ترین فلیش پوائنٹ بن گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بھارت کی روایتی چالبازی کے تناظر میں کشمیر کے معاملے پر ایسی حکمت عملی اپنائے کہ بھارت کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے پر مجبور ہو جائے۔ ماضی کے تلخ تجربات کے پیش نظر یہ آسانی سے ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔

جنوبی ایشیاء کامنظرنامہ تبدیل ہورہا ہے۔ امریکہ نے افغان حکومت کے ساتھ افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی کو اقتدار منتقل ہونے کے بعد بیرونی افواج کے انخلاء کے معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔ امریکہ اور نیٹو افواج ڈھائی لاکھ کی تعداد میں افغانستان میں موجود تھیں جن میں سے اب تقریباً 10 ہزار امریکی فوج افغانستان میں رہ جائے گی۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی امریکہ سے اس حوالے سے تحریری معاہدہ کرنے سے گریزاں تھے۔ بالآخر اس معاملے کو نئی افغان حکومت کے قیام پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ امریکہ افغانستان سے بیرونی افواج کو نکالنے کیلئے اس لئے بے چین تھا کہ اسے امریکی عوام کے شدید دبائو کا سامنا تھا۔ افغانستان میں پہلی مرتبہ اقتدار کی منتقلی پرامن طور پر ہوئی ہے۔ مستقبل قریب میں اس کے اچھے اثرات جنوبی ایشیاء بالخصوص پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ قابل تحسین امر یہ ہے کہ نومنتخب افغان صدر اشرف غنی نے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ طالبان نے اگرچہ نئی افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کو مسترد کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود قوی امید ہے کہ رواں سال دسمبر تک غیر ملکی افواج کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد حالات مزید بہتر ہوں گے۔ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکی جارحیت سے کشمیر ایشو کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر تباہی وبربادی ہمارامقدر بن گئی۔ قومی معیشت دیوالیہ ہو گئی۔ مگراتنی قربانی دینے کے بعد بھی وہ ہم سے خوش نہیں ہوا۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ امریکہ نے بھارت سے کیا۔ ہمارے بار ہا اصرار کے باوجود امریکہ نے ہمیں اس قابل نہیں جانا۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ایک ایسے موقع پر جبکہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن جاری ہے امریکہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے قبائلی علاقے پر مسلسل ڈرون حملے کئے جا رہا ہے۔ ہماری حکومت اس پر خاموش تماشائی کا کردار کیوں ادا کر رہی ہے؟ امریکہ سے ڈرون حملوں پر صرف رسمی احتجاج کیوں کیا جاتا ہے؟ جب پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں حالت جنگ میں ہے تو امریکہ کیوں ہمارے علاقوں پر ڈرون حملے کر رہا ہے؟ یہ حملے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف اور عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ ڈرون حملوں کاسلسلہ رکے تو امریکہ سے سرکاری سطح پر شدید احتجاج کیا جائے۔ ان حملوں کو بند کرانے کے لئے اب امریکہ سے رسمی نہیں بلکہ عملی احتجاج کرنا چاہئے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کو بلا تاخیر سمیٹنا بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔

پاکستان کو اب مشرقی سرحدوں کی جانب اپنی نظریں مرکوزکرنا ہوں گی کیونکہ اس وقت تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ ہزاروں خواتین بے آبرو ریزی کی جا چکی ہیں ان گنت کشمیری نوجوان عقوبت خانوں میں اذیت ناک مظالم جھیل رہے ہیں۔ مگراپنے آپ کو مہذب کہلانے والے امریکہ اور یورپ خون مسلم کی ارزانی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان، عراق، کشمیر اور فلسطین میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑتے ہیں مگر کسی مغربی مہذب ملک کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ مظلوموں کی داد رسی کرے۔

افغان عوام نے دنیا کے مظلوم اور پسے ہوئے عوام کو یہ درس دیا ہے کہ ظلم کی سیاہ رات آخر کار ختم ہوکر رہتی ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے عوام نے بھی افغان عوام کی جدوجہد آزادی سے سبق حاصل کیا ہے۔ اگر مشرقی تیموراور جنوبی سوڈان علیحدہ ملک بن سکتے ہیں اور اسکاٹ لینڈ کے عوام کوریفرنڈم کاحق مل سکتا ہے تو پھر کشمیر اور فلسطین کے بے بس اور ظلم کے شکار لوگ اس سے محروم کیوں ہیں؟ اقوام متحدہ اگر اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو خود اپنی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دلانا ہو گا۔ اگر انہیں اب بھی انکے اس بنیادی حق سے محروم رکھا گیا تو اس عالمی ادارے کامقصد وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اول روز سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا اور اب وہ ان قراردادوں کو ماننے سے انکاری ہے۔

بھارت پر جب بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے دبائو بڑھتا ہے تو وہ یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ یہ دو ملکوں کامسئلہ ہے اسے اقوام متحدہ میں اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہی موقف اب بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران اختیار کیا ہے۔ اس سے بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور اس کے غیرذمہ دارانہ طرزعمل کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی قیادت کو بھارت کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں اس کے ماضی کے رویوں پر گہری نظر رکھنی چاہئے۔ بھارت سے دوستی کشمیر کی قیمت پر نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس سے دوستانہ تعلقات کشمیر کے مسئلے کے حل کے ساتھ مشروط کرنے چاہئیں۔ کشمیر پاکستان کیلئے زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ پاکستان بھارت، افغانستان سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کاخواہاں ہے مگریہ تعلقات برابری کی سطح پر باہمی رواداری اور تعاون پر مبنی ہونے چاہئیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند