تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا یہ ایک عالمی سازش ہے؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 8 ذوالحجہ 1435هـ - 3 اکتوبر 2014م KSA 09:00 - GMT 06:00
کیا یہ ایک عالمی سازش ہے؟

پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل اسلم بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ عمران اور قادری کا حالیہ دھرنا پاکستان کے خلاف ایک عالمی سازش تھی جس کا مقصد پاکستانی فوج کو سیاست میں ملّوث کر کے ملک کو کمزور کرنا تھا اور یہ کہ پاکستان کے تمام مارشل لا امریکی آشیرباد سے لگتے رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خطرناک انکشاف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بحران ابھی ختم نہیں ہوا اور اس کا انجام کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ، حالات اور واقعاتی ثبوتوں کی بنا پرمیں ہمیشہ سے اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ پاکستانی تاریخ میں لگنے والے تمام مارشل لا اور فوجی حکومتیں امریکی آشیرباد کے مرہونِ منّت تھیں اور اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی جیوپولیٹکل محلِّ وقوع ہے۔ جو تمام بڑی طاقتوں کے مفادات کی گزر گاہ میں واقع ہے۔ پاکستان جیسی جغرافیائی اہمیّت دنیا کے کسی دوسرے ملک کی نہیں تھی جس کے اطراف میں بیک وقت سابق سپر طاقت سوویت یونین (جو امریکہ کا حریفِ اوّل تھا) اُبھرتی ہوئی سپر طاقت اور دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک چین اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک بھارت واقع ہے۔

جبکہ خلیج میں تیل کے چشموں (گرم پانیوں ) کو جانے والا راستہ بھی اس کی گوادر اور کراچی کی بندگاہوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ درحقیقت ہماری یہی اہمیّت ہی ہماری مصیبتوں کی وجہ بنی ہوئی ہے ۔ مستقبل کا تجزیہ کرنا شائد ایک مشکل کام ہے لیکن ماضی کا تجزیہ تو بہر حال آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ذرا غور کیجئے دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کا وہ کون سا سب سے بڑا ’’دھماکہ خیزواقعہ‘‘ ہے جس نے پوری دنیا کی شکل ہی بدل دی ہے۔ جس کی وجہ سے دنیا کا معاشی، معاشرتی اور سیاسی نظام بُری طرح ہل کر رہ گیا اور طاقت کے توازن کے تمام روایتی مراکز، زاوئیے اور ضابطے تبدیل ہو کر رہ گئے۔ جی ہاں، سابقہ سپر طاقت سوویٹ یونین کا انہدام جس کے بعد امریکہ دنیا کی اکلوتی سپرطاقت کے طور پر ابھرا اور اس نے دنیا کو اپنی مرضی سے چلانے کے لئے نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان کیا جس کے تحت آج ہر طرف افراتفری مچی ہوئی ہے۔ سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی نیابتی کس نے لڑی؟ میدانِ جنگ کون بنا؟ اور اس جنگ کے سُلگتے ہوئے تنور میں ابھی تک کون جُھلس رہا ہے؟

جی ہاں وہ ہے ہمارا بد نصیب ملک پاکستان ہے۔ جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل پرویز مشرف تک سب نے امریکی ایجنڈے پر عمل کرنے کے لئے پاکستان کے جمہوری نظام کو بدنام کرنے کے بعد پابندِ سلاسل کر دیا۔ اس عمل میں قوم ٹوٹ پھوٹ اور معاشی و معاشرتی تباہی کا شکار ہو گئی لیکن کسی نے اس قوم کی بدحالی پر رحم کھا یا اور نہ ہی تاریخ سے کوئی سبق سیکھا جنرل ایوب نے امریکی مفادات کے تکمیل کے لئے پاکستان کو سوویت یونین کے خلاف امریکی جاسوسی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ اور پشاور کے قریب بڈابیر میں امریکی اڈہ قائم کردیا جہاں سے جاسوس طیارے اڑ کر سوویت یونین کی جاسوسی کرتے تھے۔ سوویت یونین کے صدر خروشیف نے ایک مرتبہ بڈابیر کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی اسی وجہ سے سوویت یونین بھارت کے زیادہ قریب ہو گیا اور اس نے کشمیر کاز کو تباہ کرنے اور بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کی ہر طر ف مدد کی۔ حالانکہ ایوب کھوڑو کی قیادت میں سوویت یونین جانے والے وفد کو سوویت حکام نے یقین دلایا تھا کہ اگر پاکستان سوویت یونین کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرے اور سوویت یونین کے خلاف امریکی سازشوں کا حصّہ نہ بنے تو سوویت یونین کشمیر کے معاملے میں بھارت کی نسبت پاکستان کے مو قف کی تائید کرے گا اور پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اس کی ہر طرح سے مدد کرے گا۔

یہی حال جنرل ضیاء الحق کا تھا جس نے امریکہ کو تو دنیا کی واحد سپر پاور بنا دیا لیکن پاکستان کو تباہی کی دلدل میں پھینک دیا۔ پرویز مشرف نے امریکیوں کے لئے 9/11 کے بعد جو خدمات سرانجام دی ہیں اس کا خمیازہ بھی قوم کو لمبے عرصے تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان تمام ڈکٹیٹروں کے زمانے میں پاکستانی معیشت میں ایک مصنوعی خوشحالی بھی دیکھنے میں آئی ۔ جسے ڈکٹیٹرشپ کے حامی اس کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ وہ معاوضہ ہوتا ہے جو ڈکٹیٹروں کو ان کے کام کی اجرت کے طور پر دیا جاتا ہے جس سے ایک وقتی خوشحالی کی لہر آتی ہے تاکہ ڈکٹیٹر کو زیادہ سے زیادہ عوامی قبولیت حاصل ہو سکے۔ لیکن جب ڈکٹیٹر عوامی نفرت کا شکار ہونے لگتا ہے یا جنرل ضیاء الحق کی طرح اپنی من مانی کرنے لگتا ہے تو اسے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے اور عوامی دبائو کو زائل کرنے کے لئے کچھ وقت کے لئے حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کر دی جاتی ہے جو اپنی نا تجربہ کاری اور اس خوف سے کہ نجانے یہ حکومت کب ختم ہوجائے بُری طرح کرپشن میں مبتلا ہوجاتی ہے جسے میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جس کا جواز بنا کر کچھ عرصے کے بعد پھر کسی تازہ طالع آزما کو اپنے مقاصد کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔

یوں یہ ’’سازشی‘‘ اپنے مقاصد کی تکمیل میں چلتا رہتا ہے۔ جنرل اسلم بیگ انکشافات کی روشنی میں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ افغانستان سے روانگی کی صورت میں اگر حسبِ سابق امریکہ کو اپنی نیابتی جنگ لڑنے کے لئے پاکستانی افواج کی ضرورت درپیش ہے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر اس سارے کھیل میں سویلین حکومت بہت کمزور ہوجاتی ہے اور وزارتِ خارجہ و دفاعی امور جیسے ادارے اس کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں ۔تب بھی پاکستان کو پہلے کی طرح بڑی طاقتوں کے مفادات کی جنگ کا ایندھن بننے اور ہمسایوں سے غیر دانشمندانہ دشمنیاں پالنے کے عذاب بھگتنے کے لئے تیار ہنا ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند