تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گمنام سپاہی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 9 ربیع الثانی 1442هـ - 25 نومبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 16 ذوالحجہ 1435هـ - 11 اکتوبر 2014م KSA 10:20 - GMT 07:20
گمنام سپاہی

31 جولائی کو بھارت کے سبکدوش ہون والے آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے اپنا چارج چھوڑنے کی تقریب میں میڈیا سے گفتگو کے دوران یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ ’’میں نے کشمیر میں بھارتی فوجیوں سے سر قلم کرنے کا پاکستان سے ایسا بدلہ لیا ہے جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔‘‘ بھارتی میڈیا سے کی جانے والی اس گفتگو نے تمام ابہام دور کرتے ہوئے ان اندازوں کو سچ ثابت کر دیا کہ تحریک طالبان پاکستان در اصل بھارت کی مکتی باہنی کا دوسرا نام ہے جو افغانستان میں انکی تربیت کرنے والے بھارتی افسران کے کہنے پر پاکستانی فوجیوں کے سر قلم کر رہی ہے۔ جب چند ماہ قبل ٹی ٹی پی سے مذاکرات چل رہے تھے تو اس وقت ایف سی کے تئیس جوانوں کے سر قلم کرنے کے بعد ان سے فٹ بال کھیلتے ہوئے طالبان کی وڈیو نے سب کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ اس کے پیچھے پاک فوج کے کسی ابدی اور جانی دشمن کا ہاتھ ہی ہو سکتا ہے۔

جب سوات میں ہر طرف بے گناہوں کا قتل عام جاری تھا، جب لاشوں کو قبروں سے نکال کر چوکوں میں لٹکایا جا رہا تھا، جب لاکھوں کی تعداد میں نورانی چہرے والی پختون مائیں ، اپنی عزتوں کو ایمان کا درجہ دینے والی پاکباز پشتون بیٹیاں، معصوم بچے اور بچیاں، سفید داڑھیوں اور جھکی ہوئی کمروں والے بوڑھوں کا جینا حرام ہو کر رہ گیا تھا، جب ان کے صحت کے مراکز اور انکی درسگاہیں جلائی جا رہی تھیں، جب انکا گھروں میں رہان عذاب بن گیا تھا، جب انتہا پسند اللہ کے احکامات کی کھلم کھلی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے سوات کی نو عمر بیٹیوں سے ’’زبردستی نکاح‘‘ کر رہے تھا۔ اس وقت پاک فوج کو اللہ کا حکیم یاد دلایا گیا۔ مفہوم: ’’ اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں لڑائی کیلئے نہیں نکل رہے، نکلو ان کمزور مردوں، بچوں اور عورتوں کے واسطے جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار بھیج۔‘‘ ( سورۃ نساء : 75) اور پاکستان کی فوج اللہ کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے ان مظلوموں کی مدد کے لئے سوات، مالاکنڈ اور مہمند ایجنسی کی آتشِ نمرود میں بے خوف و خطر کود پڑی تھی۔ پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے درجنوں افسر اور جوان راہِ حق میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ ان شہیدوں کی شان حضرت ابو امامہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ْ ’’ اللہ کو کوئی بھی چیز اتنی محبوب نہیں جتنے دو قطرے محبوب ہیں۔ ان میں سے ایک قطرہ آنسوئوں کا جو خوف خدا سے گرے اور دوسرا قطرہ خون کا راہِ خدا میں گرے۔ ایک دوسرے حدیث مبارکہ جو حضرت عباسؓ سے روایت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ’’ دو آنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ کبھی نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ جو راتوں کو خوفِ خدا سے روئی اور دوسری وہ جس نے رات کو راہ خدا میں نگہبانی کرتے گزاری۔

رمضان المبارک کی ستائسویں شب معرض وجود میں آنے والے پاکستان کی نگہبانی کرتے ہوئے شہید ہونے والے سپاہی آصف جوگھیو، حوالدار خالد، اللہ دینو، نثار علی، غلام مصطفےٰ، ساجد علی سولنگی، لانس نائیک عاصم محمود، ذکاء اللہ، پشاور پولیس کے اے ایس آئی خائستہ خان اور وہ جانثارانِ وطن جن کے ناموں سے کوئی واقف نہیں، وہ جنہیں صرف انکے ارد گرد کے لوگ بمشکل جانتے تھے لیکن آج وہی اللہ کے نزدیک سب سے پیارے اور بلند رتبے والے ہیں۔ ہماری تاریخ کا فخر ایسے ہی جانبازوں سے قائم ہے جنہیں ہم نے سوال ، مالاکنڈ اور وزیرستان میں دیکھ لیا ہے۔

سندھ کے ضلع سانگھڑ کے ایک چھوٹے سے گوٹھ بھاروسن کے اکیس سالہ ساجد علی سولنگی کی شادی کو ابھی صرف چھ ماہ ہوئے تھے اور اسکی دلہن ابھی اپنے ہاتھوں پر لگی سہاگ کی مہندی کے نقش و نگار میں کھوئی ہوئی تھی کہ ساجد علی رخصت ہو گیا۔ وہ سہاگن آج بیوہ ہو چکی ہے، کس کے لیے؟ہم میں سے کسی نے ایک دفعہ بھی سوچا ہے کہ کیوں اور کس کیلئے ؟ میر پور خاص سندھ کے گائوں علی نواز کا تیس سالہ غلام مصطفےٰ راہ نجات میں شہید ہوا۔ اس کا تین سالہ بیٹا اور ایک سال کی ننھی منی گڑیا بات کی شفقت سے محروم ہو چکے ہیں۔ کیا کبھی سوچا گیا کہ یہ کس لئے اور کس کیلئے یتیم ہوئے ہیں؟ یہ اس پاکستان کی خاطر یتیم ہوئے ہیں جو ہمارے پاس اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی امانت ہے۔ اللہ کی امانت یہ پاکستان چند ہزار لٹیروں کا نام نہیں ، اوپر اور نیچے مختلف شکلوں میں قابض ٹیکس چوروں کا نام نہیں، راشی افسروں اور کمیشن کھانے والے لٹیرے سیاستدانوں کا نام نہیں، بینکوں کے اربوں روپوںکے قرضے ڈکارنے والے لیڈروں کا نام نہیں، پورے لاہور کی ہر گلی، سڑک اور کونے پر کھڑی ہوئی گاڑیوں سے سرکار کے نام پر بیس روپے چھیننے والوں کا نام نہیں ، منشیات فروشوں اور قبضہ گروپوں کا نام نہیں، پاکستان نام ہے ان لوگوں کا جن کی ہزاروں مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کی پاک عصمتوں کا خون اسکی بنیادوں میں شامل ہے۔ جس کی بنیادوں میں 1947ء میں لا الہ الا اللہ کے نعرے لگانے کے جرم میں کافروں کے ہاتھوں ذبح ہونے والے ہزاروں نہتے مسلمانوں کی کٹی پھٹی لاشیں دفن ہیں۔ خاکی وردی پہن کر پاکستان فوجا کا ہر ساجد سولنگی، عاصم محمود، بلال ظفر، فیض سلطان، طارق جمال، جونید شہید،  اور غلام مصطفےٰ یہی سوچتا ہے کہ اگر ایک قدم بھی پیچھے ہٹایا تو دشمن کا ناپاک ہاتھ پاکستان کی مائوں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں کی طرف بڑھے گا۔

ان گمنام شہیدوں کا تعلق پاکستان کے ہر خطہ سے ہے۔ پاکستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلے ہوئے یہ گم نام سپاہی جو سوات کی وادیوں، مہمند ایجنسی ، بونیر ، دیر بالا وزیرستان، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں ارض پاکستان کی نگہبانی کرتے ہوئے شہید ہو رہے ہیںک، ان کی رگوں میں وہی خون دوڑ رہا ہے جس نے 1947ء میں کافروں کے ہاتھوں مقدس کتاب کی بے حرمتی ہوتے دیکھی تھی۔ ان کے بزرگوں نے انہیں بتایا تھا کہ کس طرح کافروں نے مسجدوں میں جانوروں کو باندھا۔ انکے سامنے ان مسجدوں میں پلید جانوروں کو ذبح کیا گیا اور یہ سپاہی جان گئے کہ ساجد میں پلید جانور باندھنے والا وہی دشمن آج نئے میر جعفروں اور صادقوں کی آڑ میں دہشت پھیلا کر اللہ کی دی گئی امانت پاکستان کو ہم سے چھیننے نکلا ہے۔

یہ گمنام شہید کون ہیں،؟ انہیں کوئی جانتا پہچانتا نہیں تھا۔ پاکستان کی مختلف چھائینیوں کی سڑکوں پر، بازاروں میں کئی بار ہمارے قریب سے گزرے ہوں گے ، بسوں ، ویگنوں ، ریل گاڑیوں میں ان میں سے اکثر ہمارے ساتھ بیٹھے ہوں گے اور ہم نے انکی طرف دیکھا بھی نہ ہو گا۔ وہ دور دراز گمنام سے دیہات کے گم نام سپاہی تھے۔ سادہ سے لیکن سب دیکھ رہے ہیں کہ گمنام دیہات کے یہی بے نام و گم نام سپاہی نعرہ حق کی گرج بن کر دشمن کی سدھائی ہوئی کفر کی آہنی اور آتش فشاں متحرک چٹانوں پر بجلیاں بن کر گر رہے ہیں۔ ان کے جسم زمینوں سے چور ہیں لیکن وہ آخری دم تک دیکھے اور ان دیکھے دشمن کی راہ یں فولای چٹانیں بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ میرا آج کا یہ کالم قوم کے انہی گمنام جانبازوں کے نام ہے جن سے سر تحریک طالبان والوں نے کاٹے۔!!

وہ شہیدان وطن جن کا کہیں ذکر نہیں
انہی گم نام شہیدانِ وطن کو ہو سلام!

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید