تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سیاست بھی ہے عیاری !
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 19 ذوالحجہ 1435هـ - 14 اکتوبر 2014م KSA 09:50 - GMT 06:50
سیاست بھی ہے عیاری !

استاد ٹھیک ہی کہتا تھا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ پیری اور ’’ملّائی‘‘ کی بجائے سیاست کو عیاری کہتے۔ علامہ اقبال کے دور میں شاید سیاست اتنی عیار نہیں ہوتی تھی بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ علامہ اقبال کے دور میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے قومی رہنما قائد اعظم اور نہرو دونوں اصولی،قومی اورنظریاتی سیاست کے نمائندے اور ترجمان تھے۔ سیاست میں عیاری قیام پاکستان کے بعد آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری طرح چھا گئی۔ کم و بیش یہی حال ہندوستان میں بھی ہوا لیکن ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں لوٹ مار کا غدر قدرے زیادہ مچا کیونکہ مسلمانوں کے معدے وسیع، ہاضمے مضبوط اور شان و شوکت کا شوق تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ کل ہی ایک تجزیہ نگار نے لکھا تھا کہ چائے بیچنے والا مودی ہندوستان کا وزیراعظم بن کر کروڑ پتی بن گیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی چائے بیچنے والا وزیراعظم بن سکتا ہے؟ میں یہ تبصرہ پڑھ کر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا اور مجھے جنرل موسیٰ خان کا واقعہ یاد آ گیا۔ یادش بخیر۔ صدرجنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان ہوتے تھے۔ وہ بعد ازاں گورنر بھی رہے۔ جب فارغ ہو کر بلوچستان واپس لوٹے تو ان کے قبیلے نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ان کی شان میں قصیدے پڑھے گئے۔ لیکن اصل بات ایک سردار نے کہی۔

اس نے کہا کہ موسیٰ خان تم نالائق نکلے اور ہماری سبکی کروا دی۔ کمانڈر انچیف تو صدر بنتا ہے اور تم صدر بنے بغیر گھر آ گئے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جمہوری حوالے سے ترقی پذیر ممالک میں تو وزیراعظم ارب پتی بنتا ہے، مودی نے کون سا تیر مارا کہ کروڑ پتی بن گیا۔ اس نے نہ صرف عہدے کی سبکی کی بلکہ دوستوں ساتھیوں کو بھی شرمندہ کروا دیا۔ ہمارے ملک میں زرداری صاحب کے عہد حکومت میں دو وزیر اعظم بنے، دونوں کی دولت کی دھوم مچی۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر موٹرسائیکل چلانے والا وزیراعظم تو لندن میں مہنگے فلیٹوں کا مالک بن گیا۔ مودی بیچارے نے کروڑ پتی بن کر کون سا معرکہ سرانجام دے دیا ہے۔ مودی وہی واسکٹ پاجامہ اور عام کپڑے کا جوڑا پہنے پھرتا ہے حتیٰ کہ نیو یارک میں بھی اس لباس میں ملبوس ہندوستانیوں کو ’’شرمندہ‘‘ کرتا رہا۔ اس پر افتاد یہ کہ ٹھہرا بھی ایک عام سے ہوٹل میں حالانکہ ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر متاثر کن ہیں۔ تھوڑے سے ڈالر اپنی جان پر بھی خرچ کر لیتا تو بگڑتا کیا زمانے کا؟ اس کے مقابلے میں ہمارے وزیر اعظم اور سابق چند ایک وزراء اعظم کے قیمتی سوٹوں، چمکتی ٹائیوں، مہنگے جوتوں اور میک اپ کے لشکارے دیکھنے والوں کی نگاہوں کو خیرہ کرتے اور نظرکو چندھیا دیتے ہیں۔ ان وزراء ’’اعظموں‘‘ میں اسلام آباد کی سڑکوں پر کبھی موٹرسائیکل چلانے والا بھی شامل ہے جو نہایت قیمتی سوٹ کو شلوار قمیص کی مانند پہنتا ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ مجھے وہ حکمران ’’زہر‘‘ لگتے ہیں جو اقتدار کی کرسی اور عہدے کی شان و شوکت کا خیال نہیں کرتے۔ اگر وزیر اعظم غیر ملکی دورے پر قومی خزانے کو سات آٹھ کروڑ روپے کا ٹیکہ نہ لگائے تو وزیراعظم ہی کیا؟ اگر اقتدار میں آ کر انسان کروڑ پتی اور ارب پتی نہ بنے تو پھر سیاست کا جھک مارنے کا کیا فائدہ؟ بہتر ہے کہ بندہ گھر بیٹھے اور اللہ اللہ کرے۔ آخرت سنوارے، دنیا کو کاٹھ مارے۔ اگر ذاتی خزانہ نہیں بھرنا، آئندہ نسلوں کو سونے کی کان پہ نہیں بٹھانا، انگلستان، امریکہ اور دبئی میں قیمتی جائیدادیں نہیں خریدنی تو پھر انسان اللہ اللہ کرکے اپنے رب کو راضی کرے۔ دنیا اور رب کو بیک وقت راضی کرنا بڑا کٹھن کام ہے۔ مطلب یہ کہ اگر دنیا نہیں سنوارنی، تو پھر آخرت سنوارو۔ میں تو ان وزراء کو بھی ناکام سمجھتا ہوں جو وزیر بن کر اپنے چند ایک رشتے داروں کو اعلیٰ عہدے نہیں دلواتے اورخود چوری چھپے اندرون و بیرون ملک جائیداد نہیں بناتے۔

بات دور نکل گئی۔ میں عرض کر رہا تھا کہ اگر آج شاعر مشرق علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ پیری اورملّائی کی بجائے سیاست کو عیاری کا خطاب دیتے کیونکہ عیاری کے میدان میں سیاست سب کو پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ جہاں تک پاکستانی سیاست کا تعلق ہے اس حوالے سے میرے رول ماڈل پاکستان کے سابق اور مستقبل کے صدر جناب آصف زرداری صاحب ہیں جو آج کل لاہور میں اپنے نئے نویلے محل کے مزے لے رہے ہیں اور کھلی فضا میں اپنے پسندیدہ گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ وہ ہماری کامیاب سیاست کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ وہ ایک ماہر فنکار سیاستدا ن ہیں۔ دنیا بھر میں جائیداد یں بنا بھی لیں، چھپا بھی لیں اور لیڈر بھی ہیں۔ پرسوں انہوں نے بڑے پتے کی بات کہی بلکہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ ان کا فرمان تھا کہ اسپتال بنانے سے انسان سیاستدان نہیں بن جاتا۔ ان کا اشارہ عمران خان کی جانب تھا جس نے کینسر اسپتال تعمیر کر کے نہایت اہم قومی خدمت سرانجام دی ہے۔ گزشتہ کل انہوں نے عمران کو بلبلہ قرار دیا اور آنے والے کل کیا کہیں گے اس کا انتظار کیجئے لیکن وہ جو بھی کہیں گے کمال کہیں گے کیونکہ وہ تجربات اور دانش کے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کا کہنا سو فیصد درست ہے کہ پاکستان میں کوئی قومی خدمت سرانجام دینے والا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ گنگا رام اور گلاب دیوی وغیرہ وغیرہ نے اچھا کیا کہ ہندوستان چلے گئے۔

اگر خدمت کے بل بوتے پر ووٹ ملتے اور اقتدار ملتا تو پاکستان کا صدر ایدھی ہوتا یا ڈاکٹر قدیر خان ہوتے۔ ایدھی نے تو کبھی سیاست کے کوچے میں قدم ہی نہیں رکھا لیکن ڈاکٹر قدیر خان نے قسمت آزمائی کر کے دیکھ لی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان کے عوام خدمت کو نہیں دولت کو ووٹ دیتے ہیں۔ پھر دولت کو ووٹ دے کر روتے رہتے ہیں اور کڑھتے رہتے ہیں۔ اسی لئے میرا اندازہ ہے کہ ’’انشا اللہ‘‘ جناب آصف زرداری دوبارہ صدر بن جائیں گے۔ بلاول چاہے وزیراعظم بن سکے یا نہ کیونکہ اسے سیاست کی عیاری سیکھنے میں وقت لگے گا۔ فی الحال ہونہار برواکے چکنے چکنے پات، سنئے اور سر دھنیے۔ اور بلاول کے تقریر نویس کو داد دیجئے جس نے پہلے ہی حملے میں سب کو دشمن بنا لیا ماسوا بچے کھچے جانثار جیالوں کے..... فی الحال تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں اور ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کیسی جمہوریت ہے جس میں عوام غریب سے غریب تر اور لیڈران کروڑ پتی سے ارب پتی بن رہے ہیں؟ جمہوریت تو جمہور یعنی عوام کے لئے ہوتی ہے!!!

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند