تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بلوچستان اور انتہا پسندی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 23 ذوالحجہ 1435هـ - 18 اکتوبر 2014م KSA 11:27 - GMT 08:27
بلوچستان اور انتہا پسندی

بلوچستان میں مذہبی انتہا پسندی کے نتیجے میں 3 لاکھ افراد کو صوبے سے ہجرت کرنی پڑی۔ انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم Human Right Communication کی سربراہ زہرہ یوسف نے بلوچستان کے بارے میں کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے۔ انھوں نے کوئٹہ میں صحافیوں کو بتایا کہ HRCP کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی صوبے میں تحقیقات کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ مسلمانوں کے اقلیتی فرقوں شیعہ اورذکری کے علاوہ دوسرے صوبوں سے آکر آباد ہونے والے افراد کے علاوہ ہندو بھی بلوچستان چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے بدترین صوبہ ثابت ہوا ہے، صرف گزشتہ چند سالوں میں صوبے میں 46کے قریب صحافی قتل ہوئے اور ان صحافیوں کو قتل کرنے والا ایک ملزم بھی گرفتار نہیں ہو سکا ۔ صحافیوں کے تحفظ کے حوالے بلوچستان کا دوسرا بڑ ا شہر خضدار سب سے زیادہ خطرناک علاقہ بن گیا ہے۔ خضدار پریس کلب کے صدر اور سیکریٹری سمیت کئی صحافی قتل ہوگئے ہیں جن کی تعداد 20کے قریب ہے ۔

زہرہ یوسف کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی تحقیقات کے بارے میں بتایا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے مگر لاپتہ افراد کا معاملہ ہنوز التواء کا شکار ہے۔ اس طرح لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ رک نہیں سکا ہے، خاص طور پر تربت اور پنجگور میں مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ زہرہ یوسف نے کہا کہ متاثرہ خاندان محض زبانی وعدوں اور تسلی سے مطمئن نہیں ہوں گے، انتظامیہ کو اس سلسلے میں موثر اقدامات کرنے ہونگے، انھوں نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ مشن کو اپنی تحقیقات کے دوران ایسی شہادتیں ملی ہیں کہ انتظامیہ کے کام میں غیر مرئی قوتوں کی مداخلت ہو رہی ہے یوں صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے ۔

HRCP کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی تحقیقات میں جو باتیں سامنے آئی ہیں وہ گزشتہ کئی سالوں سے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے اسکرین پر نمایاں ہوتی رہی ہیں ۔ کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں آباد ہزارہ برادری نائن الیون کی دہشت گردی سے واقعے کے بعدمسلسل دہشت گردوں کے حملوں کا شکار رہے، ان حملوں میں ایک ساتھ کئی سو لوگ جاں بحق ہوئے، یہ خود کش حملے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی بستیوں کے علاوہ امام بارگاہوں ، جنازہ گاہوں ، بازاروں ، ایران سے آنے اور جانے والے زائرین کی بسوں پر ہوئے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ ایک باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہزارہ برادری کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔

اس صورتحال میں بہت سے افراد کراچی اور دوسرے شہروں میں جا کر آباد ہوئے ، کچھ نے بیرون ممالک میں سیاسی پناہ لینے کی کوشش کی ۔ گزشتہ سال انڈونیشیا سے آسٹریلیا جانے والی پناہ گزینوں کی لانچیں سمندر میں ڈوب گئی تھیں اور سیکڑوں افراد جو بغیردستاویزات نے ان لانچوں میں سفر کررہے تھے ہلاک ہوئے ان میں سے بیشتر کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔ یہ نوجوان خودکش حملوں سے جان بچا کر روشن مستقبل کے لیے لانچوں کے ذریعے آسٹریلیا گئے مگر سمندری طوفان نے ان لانچوں کو الٹ دیا۔ ان میں مرنے والوں میں اکثریت ہزارہ برادری کی تھی اس طرح ذکری برادری کے افراد مسلسل حملوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔

گزشتہ ماہ ذکری برادری کی عبادت گاہوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، ان حملوں میں عورتیں اور بچے جاں بحق ہوئے، ہندو تاجروں ، ڈاکٹروں، اساتذہ کو اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں اغواء کیا جاتا ہے جو تاجر تاوان ادا کرتے ہیں وہ رہا ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے بہت سے افراد بھارت کا ویزا ملنے کے بعد خاموشی سے ہجرت کر گئے۔ ہندو برادری کے بہت سے افراد سنگا پور، متحدہ عرب امارات اور یورپ چلے گئے، صوبہ بلوچستان میں صدیوں سے آباد ہندو برادری کے سرکردہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ ان کے آباؤ اجداد بلوچستان میں پیدا ہوئے ، بلوچستان کے قبائلی نظام نے ہمیشہ اقلیتوں کا تحفظ کیا مگر اب مذہبی انتہا پسند ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں، اساتذہ، وکلاء اور تاجروں کو اغواء کرتے ہیں جو لوگ تاوان ادا کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں وہ کئی مہینے نجی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد رہا ہو جاتے ہیں۔

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے افراد تاوان کے عوض کروڑوں روپے اداکرنے کی سکت نہیں رکھتے ، ان میں سے بعض کی لاشیں مل جاتی ہیں اور کچھ کے بارے میں پتہ بھی نہیں چلتا ہے ۔ بلوچستان میں مذہبی انتہا پسند گروہ پنجگور کو، گوادر، تربت وغیرہ میں مخلوط تعلیم کے اسکولوں کو نشانہ بنانا شروع کیا جس کے نتیجے میں مخلوط تعلیم دینے والے تربت، پنجگور اور گوادر کے اسکول بند ہوگئے ، تربت میں ایک اسکول کی گاڑی پر حملہ بھی ہوا اور اسکول کے پرنسپل کو شدید نتائج کی دھمکیاں دی گئی ۔ تربت او ر دوسرے شہروں میں طلبہ و طالبات اور ہزارہ شہریوں نے انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے خلاف ہڑتالیں کیں اور جلوس نکالے ، نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ ان عناصر کا پتہ چلا رہے ہیں مگر ضلعی حکام ان عناصر کا پتہ چلانے میں ناکام رہے ہیں ۔

بلوچستان میں انتہا پسندوں نے دوسرے صوبوں سے آنے والے افراد کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ غیر مقامی افراد پر حملوں میں بلوچ علیحدگی پسند ملوث تھے، یوں اساتذہ ، ڈاکٹروں، وکلاء، صحافی، پولیس افسران ، حجام، دکاندار قتل ہوئے اور قتل ہونے والوں میں یونیورسٹی کے اساتذہ بھی شامل ہیں اس طرح بلوچستان کا تعلیمی اور صحت کا نظام متاثر ہوا۔ سنہ 2008 سے 2013تک بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت سردار اسلم رئیسانی کی حکومت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی کہ صوبائی حکومت کی رٹ صرف کوئٹہ مگر محدود ہے باقی صوبے پر فرنٹیئر کور کی عملداری ہے یوں اسلم رئیسانی اپنی حکومت کی بہت سے غلطیوں سے انکاری ہوئی مگر بلوچستان میں حالات مسلسل خراب ہوتے ہیں جب ڈاکٹر عبدالمالک نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف نے سامنے واضح کیا تھا کہ پورے صوبے پر صوبائی حکومت کی عمل داری ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے صوبائی حکومت کے اس موقف سے اصولی طور پر اتفاق رائے کیا تھا بعد میں مصدقہ خبریں اخبارات میں شایع ہوئیں کہ عسکری خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں اور ایف سی کے کمانڈنٹ نے چیف آف اسٹاف کے سامنے صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا یوں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے بیرون ممالک میں مقیم بلوچ علیحدگی ہندوؤں سے رابطے کیے انھیں ہر طرح کے تحفظ کی یقین دہانیاں کرائیں ، بلوچستان اسمبلی نے گذشتہ دنوں خان آف قلات کی جلاوطنی ختم کرنے کے لیے قرارداد منظور کی مگرHRCP کی اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سویلین معاملات میں مداخلت سے صورتحال اس طرح بہتر نہیں ہو پا رہی جس کی توقع تھی ۔

اس صورتحال کے ساتھ لاپتہ افراد کا معاملہ بھی منسلک ہے، اگرچہ کے صوبائی حکومت کی کوششوں سے سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ رک گیا ہے مگر جو لوگ لاپتہ ہوگئے ان میں سے بیشتر اپنے گھروں کو واپس نہیں ہوسکے ہیں ۔ ان میں سے کئی افراد کی لاشیں بلوچستان کے علاوہ کراچی سے مضافاتی علاقوں سے برآمد ہوتی ہیں، مذہبی انتہا پسندی کا بلوچستان میں تقویت پانا بلوچستان اور پورے ملک کے لیے خطرناک ہے ۔ رپورٹ یں صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا گیا ہے ۔ بلوچستان کے تمام مسائل کا حل ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کو مستحکم کرنا ہے ۔ وفاق اور صوبائی حکومت کو انتہا پسندوں کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے اگر انتہا پسندوں کو قوم پرست تحریک کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس حکمت عملی سے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند