تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلسطین کی نئی ریاست
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 25 ذوالحجہ 1435هـ - 20 اکتوبر 2014م KSA 15:52 - GMT 12:52
فلسطین کی نئی ریاست

فلسطینی توقع کر رہے ہیں کہ اس سال کے اختتام تک اقوام متحدہ ان کی آزاد ریاست کی حیثیت کو تسلیم کر لے گی لیکن ان کے راستے کی سب سے پہلی رکاوٹ سکیورٹی کونسل ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یو این سکیورٹی کونسل میں ان کے سات حامی موجود ہیں تاہم قوانین کے مطابق انہیں دو مزید ووٹ درکار ہیں۔ اس سے بھی اہم یہ کہ انہیں امریکا کو قائل کرنا ہو گا کہ وہ اس پیش رفت کو ویٹو نہ کرے۔ اب تک فلسطین کے حق میں اور اسرائیل مخالف پیش کئی گئی کسی بھِ قرار داد کو ویٹو کرتے ہوئے امریکا نے اسرائیلی مفادات کا تحفظ کیا۔


اگر فلسطینی سکیورٹی کونسل سے منظوری لینے میں ناکام رہے تو ان کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی ( انٹرنیشنل کریمنل کورٹ) کی رکنیت حاصل کرنے کی درخواست کریں گے۔ اس دھمکی پر ماضی میں تل ابیب نے احتجاج کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر فلسطینی اس کی رکنیت حاصل کر لیتے ہیں تو آئی سی سی کو اختیار مل جائے گا کہ وہ فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں روا رکھی جانے والی عالمی قوانین کی پامالی کی تحقیقات کر سکے۔ پانچ سال پہلے فلسطینی صدر محمود عباس نے آئی سی سی کی ایک ایسی رپورٹ منظر عام پر نہیں آنے دی تھی جس میں ماضی میں غزہ پر کیے گئے اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی تھی۔

اس رپورٹ کو چھپانے کی وجہ امریکا جو اسرائیل کا سب سے بڑا سرپرست ہے، کی طرف سے ڈالا گیا شدید دباو تھا۔ اس کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے محمود عباس نے اس معاملے کو مزید اچھالنے سے گریز کیا۔

تاہم تازہ ترین لڑائی جس میں اکیس سو فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے اور بہت زیادہ تباہی ہوئی، کے بعد اب محمود عباس زیادہ پرعزم ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری کی ثالثی میں شروع ہرنے والے مذاکرات میں تعطل کے بعد اب فلسطینیوں کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا۔ دوسری طرف اسرائیل یک طرفہ طور پر قائم کی جانے والی فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہوئے کہ رہا ہے کہ ایسا دو طرفہ مذاکرات کے بعد ہوا۔ تاہم وہ مذاکرات کرتے ہوئے مزید یہودی بستیاں تعمیر کرتا رہا۔

اس پس منظر میں یہ حیرانی کی بات نہیں کہ برطانیہ کے ہاوس آف کامن میں فلسطینیی ریاست کے مسئلے پر ہونے والی غیر اہم اور بے نتیجہ بحث بھی بہت اہم دکھائی دی۔ اسرائیل کے حامی ارکان پارلیمنٹ نے بہت شدومد سے اپنے موقف کی وکالت کی جبکہ حکومت نے اس بحث کو عوامی سطح پر بہت زیادہ اجاگر نہیں کیا۔ ایسلنگٹن سے تعلق رکھنے والے لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ گراہم موریز کی وجہ سے یہ بحث عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔ بحث کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر موریز نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اسرائیل کے لیے سود مند ثابت ہو گا اور ایوان پر امن فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

سابق سیکرٹری خارجہ سرمیلکم رفکنڈ کا خیال تھا کہ یہ قرار داد قبل از وقت کیونکہ ابھِی فلسطین کے پاس ایسے ادارے بھی نہیں ہیں کہ جو ایک ریاست کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم ٹونی بلئیر کی حکومت کے سیکرٹری خارجہ جیک سٹرانے ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے پرزار دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیلی عزائم کے آگے قانونی طور پر بند باندھا جائے کیونکہ اس نے فلسطین کا بہت سا علاقہ اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے اس خیال کو بھی سختی سے رد کیا کہ اسرائیل کو فلسطینی ریاست پر ویتو کا حق دیا جائے۔ شاید سب سے جذباتی تقریر کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن، سر رچرڈ اٹووے جو ہاوس کی فارن افیئر کمیٹی کے چئیر مین ہیں، کی طرف سے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے بھی وہ اسرائیل کے دوست تھے لیکن اسرائیل کی طرف سے حالیہ کارروائی کے دوران فلسطین کی تقریبا ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کرنے سے انہیں سخت صدمہ پہنچا ہے، اس لیے وہ فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔

ایک لبرل ڈیموکریٹ رکن، ڈیوڈ وارڈ نے اسرائیلی سکیورٹی کو لاحق خطرات کی بات کی۔ انہوں نے ہاوس کو یاد دہانی کرائی کہ 1948ء میں اسرائیل کےقیام سے قبل، امن فوج میں خدمات سرانجام دینے والے سات سو برطانوی اہل کار صہیونی جنگجووں کا نشانہ بنے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ سرجبرالڈ کف مین جو خود بھی ایک یہودی ہیں، نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ حماس کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں خو ان کے حق سے محروم کر رہا ہے۔ فائنل رائے شماری میں فلسطین کو تسلیم کرنے کے حق میں 274 جبکہ اس کی مخالفت میں بارہ ووٹ آئے۔ اگرچہ یہ نتاءج قطعی طور پر یک طرفہ دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ نصف سے زائد ارکان نے اس رائے شماری بوجوہ حصہ ہی نہیں لیا تھا۔

اگلی صبح اسرائیلی اخبارات میں ادارتی نوٹ اور مضامین میں برطانوی ہاوس میں ہونے والی بحث کے مضمرات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ دائیں بازو کے مبصرین نے قراد دار کے حق میں پڑنے والے ووٹون کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی برطانوی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تاہم کچھ فہم رکھنے والے سیاسی پنڈتوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حالیہ قرارداد اسرائیلی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تنہائی کی طرف ایک اور قدم ہے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کے 135 رکن ممالک نے فلسطین کو تسلیم کر لیا ہے۔ سویڈن نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ حمایت کرنے والوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین مقبوضہ مغربی کنارے پر یہودی آبادیوں میں ببنے والی مصنوعات جن پر میڈان اسرائیل کا لیبل لگا ہوتا ہے، پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بزنس ہاوسز بھی اسرائیل میں سرمایہ کاری نہ کرنے اور اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا کہ رہے ہیں۔ کچھ سیاحوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ احتجاجا اسرائیل نہیں جائیں گے جبکہ یورپ کی کچھ یونیورسٹیوں نے اسرائیلی سکالرز کو کانفرنسوں میں شرکت کرنے سے روک دیا۔ اگرچہ بہت بڑے اقدامات نہیں ہیں لیکن ان کی وجہ سے اسرائیل کے اعضاب پر دباو میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ اسرائیلی جارحیت اور عالمی قوانین کی پامالی پر یورپ کے صبر کا پیمانیہ لبریز ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسے ایک مغربی ملک سمجھ کر توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی عالمی قوانین کا اسی طرح احترام کرے جس طرح دیگر ممالک کرتے ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند