تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
تیل کی سیاست سے لت پت امریکہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 27 ذوالحجہ 1435هـ - 22 اکتوبر 2014م KSA 09:39 - GMT 06:39
تیل کی سیاست سے لت پت امریکہ

یہ بات تو یقیناً آپ جانتے ہونگے کہ امریکہ دنیا میں ترقی پذیر ممالک کواسلحہ کی فروخت میں سب سے آگے ہے، شاید یہ بات آپ کے علم میں نہ ہو کہ امریکہ بہادر کے دنیا بھر میں 737 فوجی اڈے ہیں جن کی قیمت لگ بھگ 137 ارب ڈالر ہے( قیمت سے مراد یہ ہے کہ اگر ان فوجی اڈوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے تو لاگت کم از کم 137 ارب ڈالر آئے گی) جوکہ بہت سے ملکوں کے جی ڈی پی (گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ) سے بھی زیادہ ہے۔ 2005ء میں امریکی فوجیوں کی تعداد جو بیرون ملک میں تعینات تھی دو لاکھ نو سو 75تھی جو اب تین کے قریب پہنچ چکی ہے ان کی دیکھ بھال اور مدد کیلئے 81 ہزار چار سو 25 مزید امریکی شہری بیرون ملک مقیم ہیں۔ پنٹیگان کی ایک رپورٹ کے مطابق ان فوجی اڈوں میں 32 ہزار 7 سو 23 بیرکس، ہینگرز، اسپتال اور دوسری عمارتیں شامل ہیں، علاوہ ازیں امریکی افواج نے ان ممالک میں مزید 16 ہزار 5 سو 27 عمارتیں لیز پر لے رکھی ہیں۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ فوجی اڈوں کی مندرجہ بالا تعداد کلی طور پر درست نہیں اور وہ یوں کہ پنٹیگان نے اس تعداد میں سربیا، کوسووہ، عراق، افغانستان، اسرائیل، قرغستان، قطر، ازبکستان اور ہمارے ’’پیارے ملک‘‘ پاکستان کے فوجی اڈوں کو شامل نہیں کیا گیا اس طرح صدر اوباما ناجائز دبائو ڈال کر جنگ کے نام پر اب تک ایک کھرب 83 ارب ڈالر کی خطیر رقم کانگریس سے منظور کروا چکے ہیں۔

یہ رقم چین، روس، برطانیہ اور بھارت کے مجموعی فوجی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ بش انتظامیہ نے ’’ہوم لینڈ سیکورٹی‘‘ کے نام سے ایک محکمہ قائم کیا ہے جو سالانہ 40 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے جبکہ دہشت گردی کے حملوں کو ناکام بنانے کے لئے امریکہ میں داخلے کے تمام راستوں پر چیکنگ کی مد میں 15 ارب ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے جس میں بتدریج ہر سال اضافہ ہو رہا ہے 2010ء ستمبر میں اوباما حکومت نے عراق اور افغانستان میں لڑی جانے والی جنگوں کے لئے 190 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا جو منظور کر لیا گیا امریکی صدر اوباما نے آغاز حکومت سے عراق اور افغانستان کی جنگوں کے لئے درکار رقم میں 43 ارب ڈالر کا اضافہ کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ اضافی رقم میں سے چھ ارب ڈالر افغانستان میں اضافی امریکی فوج کے لئے خرچ ہوں گے جبکہ گیارہ ارب ڈالر سے امریکی افواج کے لئے بارودی سرنگوں سے محفوظ سات ہزار بکتر بند گاڑیاں خریدی جائیں گی۔

وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے سینیٹ کو بتایا کہ امریکی فوجیوں کا جانی نقصان کم سے کم ہو سکے اس لئے ہم نے رقم کا کچھ حصہ دشمن کے حملوں سے بچنے اور فوج کے لئے ’’لڑاکا گاڑیوں‘‘ کی خریداری پر خرچ کیا ہے۔ 9 ارب ڈالر مستقبل کی فوجی کارروائیوں کے لئے درکار ٹیکنالوجی اور آلات کی خریداری، چھ ارب ڈالر امریکی افواج کی فوری تعیناتی کے لئے تیاری، ایک ارب ڈالر امریکی سہولتوں اور اڈوں کیلئے، جبکہ ایک ارب ڈالر افغان سیکورٹی عملہ کی تربیت اور انہیں اسلحے کی فراہمی کے لئے خرچ کئے جائیں گے۔ ان فضول خرچیوں کے لئے اتنے ڈھیر سارے ڈالر کہاں سے آئے تھے؟ جواب ہے تیسری دنیا کے ممالک سے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سال 2009ء میں امریکہ نے تیسری دنیا کے ممالک کو دوسرے ممالک سے زیادہ ہتھیار فروخت کئے ہیں۔ سال گزشتہ تیسری دنیا جسے تھرڈ ورلڈ بھی کہتے ہیں کے ممالک نے امریکہ سے ہی سب سے زیادہ ہتھیار خریدے، ان ممالک نے 43 فیصد ہتھیاروں کی خریداری امریکہ سے کی جن کی مالیت 15.2 بلین ڈالر ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2011-12ء میں پاکستان، بھارت اور سعودی عرب نےسب سے زیادہ ہتھیار حربی سازو و سامان امریکہ سے خریدا، خود ساختہ خطرات میں گھرے ہوئے پاکستان نے صرف 2010ء میں 1.7 بلین ڈالر مالیت کے ہتھیار خریدے۔ دکاندار (امریکہ) نے اپنے مال کی فروخت کا جواز مہیا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت کی مدافعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیو کلئیر بموں سے لیس پاکستان مخالف دہشت گردی جنگ میں اہم حلیف ہے۔ اسامہ بن لادن کے نام پر اسلحے کی فروخت امریکہ کے لئے نہایت منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر گیا تھا یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک اسامہ کو جینے نہیں دیتے تھے اور امریکہ مرنے نہیں دیتا تھا۔ دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ القاعدہ کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ مرحوم اور القاعدہ کی حمایت میں زبردست کمی ہوئی ہے جبکہ امریکہ کے اسلحہ کی فروخت بڑھ گئی ہے۔ امریکہ کی اسلحے کی فروخت سے ہونے والی آمدنی 3.4 ارب ڈالر زیادہ ہو گئی ہے ۔ ظاہر ہے اگر آمدنی میں اضافہ نہ ہوتا تو امریکہ دنیا میں اپنے فوجی اڈوں کے تحفظ اور عراق و افغانستان جنگ پر 600 بلین ڈالر کیسے صرف کرتا؟

کانگریس ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی ایک رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ عراق اور افغانستان جنگ پر ہر ماہ 13 بلین ڈالر خرچ کرتی تھی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف افغانستان پر ماہانہ اخراجات 10 بلین ڈالر آتے تھے، جبکہ تین بلین ڈالر افغان سیکورٹی کے حصے میں آتے تھے رپورٹ کے مطابق دیگر چھوٹے موٹے اخراجات اس میں شامل نہیں۔ سی آر ایس نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اوباما انتظامیہ نے مالی سال 2015ء کے لئے مزید فنڈز کی درخواست کی ہے جس سے 56 بلین ڈالر صرف مڈل ایسٹ پر خرچ ہون گے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2017ء تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ 1.4 کھرب ڈالر خرچ کر سکتا ہے۔

یہاں ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے گزشتہ ساٹھ برسوں میں امریکہ نے 40 غیر ملکی اور 23 قوم پرست حکومتوں کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جس میں کامیابی کا تناسب زیادہ ہے یہ حکومتیں اپنے عوام میں بے حد مقبول تھیں لیکن وہاں امریکہ کے مفادات محفوظ نہیں تھے۔

جس کو چاہیں تباہ کر ڈالیں
آج کل آپ کا زمانہ ہے

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند