تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پاک بھارت ٹکراؤ: قومی شناختوں کا مسئلہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 21 محرم 1441هـ - 21 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 27 ذوالحجہ 1435هـ - 22 اکتوبر 2014م KSA 09:28 - GMT 06:28
پاک بھارت ٹکراؤ: قومی شناختوں کا مسئلہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کنٹرول لائن ایک مرتبہ پھر جنگ کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔ دونوں طرف سے مارٹر گولے پھینکے جا رہے ہیں جن سے ابھی تک متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں اکثریت پاکستانیوں کی ہے۔ بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے پاکستان کے لئے ’’دشمن ملک‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس نازک موقع پر پاکستان اندرونی طور پر انتہائی انتشار کا شکار ہے اور اس میں قومی وحدت کا تصور مفقود ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے ایک سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاک بھارت سرحدی جھڑپوں کے بارے میں کہا کہ جب ایک ہزار مارٹر گولوں کی بارش ہوتی ہے تو تب ’’دشمن‘‘ کی چیخیں نکلتی ہیں۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’دشمن کو احساس ہو چلا ہے کہ وقت بدل رہا ہے اور اسے تبدیل ہونا ہے کیونکہ اس کی پرانی عادتوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا‘‘ ۔ اس سے پہلے بھارت کے کسی وزیر اعظم نے پاکستان کے لئے ’’دشمن‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ ایک بہت بڑی بنیادی تبدیلی ہے۔ اسی نئی پالیسی کے تناظر میں ہندوستان کی وزارت داخلہ کے افسروں نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وزیر اعظم کے احکامات بہت جامع تھے کہ اس ٹکراؤ میں پاکستان کا بھاری نقصان ہونا یقینی بنایا جانا چاہئے۔ نریندر مودی کی کشمیر پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بھارت کو اس تنازع کو اپنی برتری قائم کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو سرحدی تنازع پر اتنا سخت رویہ اپنانا چاہئے کہ پاکستان سرحد پر چھیڑ خانی سے پہلے کئی دفعہ سوچے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی جنگجویانہ پالیسی سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ آج کی بھارتی جنتا پارٹی وہ نہیں ہے جیسا کہ اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں تھی۔ بھارتی الیکشن سے قبل بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نریندر مودی بھی واجپائی کی تقلید کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ صلح جوئی کا رویہ اپنائیں گے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ سرحد کے دونوں طرف دائیں بازو کی پارٹیوں کی حکومتیں تعلقات کو مثبت سمت میں لے جائیں گی۔ لیکن اب ثابت ہو رہا ہے کہ نریندر مودی جس ہندو قوم پرستی بلکہ شاونزم کے داعی ہیں اس میں پڑوسی مسلمان ملک کو دشمن بنا کر پیش کرنا ان کی سیاسی ضرورت ہے۔ درحقیقت سرحد کے دونوں طرف سیاسی معاشیاتی عمل دونوں ملکوں میں قوم پرستی کی طاقتوں کو مضبوط کر رہا ہے۔ سماجیات کے ماہرین کا اس نقطے پر اتفاق رائے ہے کہ دیہاتوں سے شہروں کی طرف تیزنقل مکانی نئے ’’شہریوں‘‘ میں شناخت کا مسئلہ پیدا کر رہی ہے۔ تاریخی مشاہدہ کے مطابق جب دیہی علاقوں کے لوگ شہروں میں جا کر بستے ہیں تو ان کی پرانی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ نئی پہچان کی تلاش میں ہوتے ہیں جو ان کو آسانی سے قوم پرستی کی شکل میں مل جاتی ہے۔

انیسویں صدی کا یورپ اسی عمل سے گذرا اور وہاں قوم پرستی جنونی شکل اختیار کرتی گئی جس کے نتیجے میں دو بڑی جنگیں لڑی گئیں۔سب سے پہلے برطانیہ میں انیسویں صدی کے وسط میں شہری آبادی پچاس فیصد سے زیادہ ہوگئی۔ باقی یورپ میں بھی یہی سماجی تبدیلی آئی۔ لیکن پورے یورپ میں تقریباً چالیس ملین دیہاتیوں نے شہروں کا رخ کیا۔ اس کے مقابلے میں چین میں تین سو ملین دیہی باشندے 2012ء تک شہروں میں بس چکے تھے۔ ہندوستان اور پاکستان میں بھی دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کئی سو ملین ہے۔ یہی نئے شہری ہندوستان میں نریندر مودی کی بھارتی جنتاپارٹی ہندو قوم پرستی کی بنیاد بن رہے ہیں اور اسی لئے بھارت علاقے میں برتری قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اسی طرح پاکستان میں اور بالخصوص پنجاب میں شہروں کی طرف نقل مکانی بڑی تیزی سے ہوئی ہے اس لئے وہاں بھی شناخت کا مسئلہ بڑا سنگین ہے جو کبھی مسلم قوم پرستی اور کبھی فرقہ واریت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس پس منظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کا مستقبل خوش آئند نہیں ہے۔ اس وقت بھارت اپنے آپ کو بہت آئیڈیل حالات میں تصور کررہا ہے۔

جاپان نے تیس بلین ڈالر اور چین نے بیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ امریکہ بھی کافی کامیاب تھا۔ گویا کہ ہندوستان کے عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہت سازگار ہیں۔ اس کے الٹ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور اپنے اندرونی خلفشار کے باعث دنیا میں دوست ملکوں (مثلاً چین) کے ساتھ بھی تعلقات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہا۔ پاکستان کی ان مشکلات سے بھارت کو اور شہ مل رہی ہے۔ لیکن بھارت کی پاکستان دشمنی ایک حد کے بعد اسکے لئے ضرر رساں ہو سکتی ہے۔ انڈین ایکسپرس کے ایک اداریے میں بھارتی حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ جنگی ماحول کو بڑھاوا دیتے ہوئے اپنے آپ کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر پیش نہیں کر سکتا۔ اداریے کے مطابق اگر پاک بھارت ٹکراؤ بڑھتا ہے تو دوسرے ملکوں کے سرمایہ کار اس سے گریز کریں گے اور پھر کشمیر میں دوبارہ سے آزادی کے لئے لہر بھی اٹھ سکتی ہے۔ لیکن اس وقت ہندوستان کی سیکورٹی پالیسی ایسے انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہے جو پاکستان کے ساتھ سخت ترین رویہ اپنانے پرزور دے رہے ہیں۔ لیکن کیا امریکہ ہندوستان کی اس پالیسی کی حمایت کرتا رہے گا؟

امریکہ کو علم ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کا تعاون ضروری ہے۔ امریکہ کی طویل المیعاد چین مخالف پالیسی کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات معمول کے مطابق ہوں۔ اس لئے جلد یا بدیر امریکہ بھارت کی پاکستان مخالف جنگجوئی کی مخالفت کرے گا۔ بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ممبر بننے کا خواہاں ہے اور وہ امریکہ اور دوسری بڑی طاقتوں کی مرضی سے ہی ہو سکتا ہے۔ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں رہے تو اس کا یہ خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

غالب امکان ہے کہ پاک بھارت سرحدی جھڑپیں کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ نہیں بنیں گی۔ لیکن پاکستان کے لئے سب سے زیادہ خطرناک اس کا اندرونی انتشار ہے جس کے باعث وہ معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا۔ اگر بھارت تیز رفتاری سے دنیا کی بڑی معاشی طاقت بن جاتا ہے تو اسے فطری برتری حاصل ہو جائے گی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ بھارت پہلے ہی دنیا کی آٹھویں معیشت بن چکا ہے جبکہ پاکستان ترقی معکوس کے نہ ختم ہونے والے دور سے گذر رہا ہے۔ یہ ہے وہ اصل خطرہ جس کا پاکستان کو سامنا ہے۔ معاشی ترقی کے بغیر پاکستان کا ایٹمی طاقت ہونا اسے جنگ سے تو محفوظ رکھ سکتا ہے لیکن علاقے اور دنیا میں اس کے اثر و رسوخ کو بڑھا نہیں سکتا۔ ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں روس امریکہ سے پیچھے نہیں ہے لیکن وہ (روس) معیشت کے میدان میں شکست کھا چکا ہے اور اس کا عالمی معاملات میں اثر و رسوخ بہت محدود ہے۔ پاکستان کو اس تاریخی مثال سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند