تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عالمی اقتصادی غارت گر پریشان کیوں؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 ذیعقدہ 1440هـ - 16 جولائی 2019م
آخری اشاعت: منگل 11 محرم 1436هـ - 4 نومبر 2014م KSA 10:01 - GMT 07:01
عالمی اقتصادی غارت گر پریشان کیوں؟

چین نے نیا ایشیائی بینک بنا کر عالمی مالیاتی اداروں کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے مثبت قدم اٹھایا ہے۔ چین کی رہبری میں اگر یہ معاشی نظام چل پڑتا ہے تو واقعی یہ صدی ایشیاء کی صدی بن جائے گی۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک وقت کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے شکنجے سے نکل آئیں گے۔ اس نئے بینک کے قیام پر فی الوقت امریکہ کا محتاط ردّ عمل سامنے آیا ہے۔ اس نے ورلڈ بینک جیسے اداروں کے معیار کے کم ہو جانے کا خطرہ ظاہر کیا ہے یہ معاملہ اس کے لئے پریشان کن ہے۔ کیونکہ چین نے اس سے عسکری محاذ پر اُلجھنے کے بجائے اس کے اقتصادی غبارے سے ہوا نکالنے کی ٹھانی ہے۔ اس لئے آپ دیکھیں گے امریکہ کے لب و لہجے میں دن بدن کر ختگی ظاہر ہوتی جائے گی، ہو سکتا ہے بحر چین میں سرگرمیاں بھی بڑھ جائیں۔

قارئین! پس منظر کے طور پر یاد رکھیں کہ قدیم زمانے میں اشیاء کے بدلے اشیاء کو بیچا جاتا تھا۔ اسے ’’بارٹر سسٹم‘‘ کہتے تھے۔ اس میں موجود ایک تکنیکی مشکل کی وجہ سے انسان نے جلد ہی کرنسی کے تصور پر غور و فکر شروع کر دیا۔ مشکل یہ تھی اتنے وزن و حجم کی چیزوں کو لئے پھرنا اور ان کیلئے مناسب گاہک تلاش کرنا آسان نہ تھا۔ ظاہر ہے جس کرنسی کا سوچا گیا اسے وزن میں ہلکا اور قیمتی ہونا چاہئے تھا، اس لئے سونے اور چاندی کو اپنا لیا گیا۔ سستی چیزیں خریدنے کے لئے دیگر دھاتوں کی ریزگاری بھی استعمال میں رہی جو سونے چاندی کے درہم کا ایک متناسب حصہ ہوا کرتا تھا۔ سونے چاندی کے سکے رائج ہونے سے تجارتی معاملات تو آسان ہو گئے، لیکن ان کی حفاظت کے مسائل پیدا ہو گئے، لہٰذا لوگوں نے یہ سکے صرافوں کے پاس جمع کرا کر ان کی رسیدوں سے خرید و فروخت شروع کر دی۔ یوں حفاظت کا مسئلہ کچھ حل ہوا، لیکن یہاں سے بینکاری کا نظام بننا شروع ہو گیا۔

1960ء کے بعد سے جب امریکہ نے ڈالر کے بدلے سونا دینے سے صاف انکار کر دیا تو رسیدیں ہی مستقل مال اور کرنسی بن گئیں۔ اب کرنسی کے پیچھے کوئی حقیقی مال نہیں۔ یہ پیپر کرنسی ہے جو حکومت کی ضمانت سے قیمتی ہے ورنہ کچھ نہیں۔ آج کسی ملک پر دوسرا ملک قابض ہو کر کرنسی بدل دے تو اس ملک کے ارب پتی ایک دن میں غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔ اب کرنسی خالص کاغذی حیثیت اختیار کر گئی ہے جس کی اپنی ذاتی قدر کچھ بھی نہیں، لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ یہ کاغذی کرنسی اب ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کی شکل میں کاغذی مالیت بھی کھوتی جا رہی ہے۔ اب یہ صرف اعداد و شمار ہیں جو بینکنگ سسٹم کے اندر درج ہیں جو طاقت ان اعدادو شمار پر دسترس رکھتی ہوگی وہ بغیر کسی حملے اور لڑائی کے دنیا کے کسی بھی شخص کو لمحے بھر میں غریب کردینے کا اختیار رکھتی ہو گی۔ یہ تو ان کا احسان ہے کہ وہ کالعدم کرنے کے بجائے فی الوقت منجمد کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔

ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے ’’ایس ڈی آر‘‘ کاغذی سونے کا نظام متعارف کروایا تھا۔ یہ ڈالر، یورو، پائونڈ کا ہم پلہ قرار دیا گیا۔ باقی دنیا کی کرنسیاں ان کی زیر نگیں بن گئیں۔ ان اداروں کے چارٹر میں 3 مقاصد درج ہیں۔ یہ عالمی تجارت میں توازن پیدا کریں گے۔ رکن ملکوں کی کرنسیوں کی شرح تبادلہ طے کریں گے۔ کرنسیوں کی قیمت گرنے پر مسلسل نظر رکھیں گے۔ در اصل اس کا مقصد یہ تھا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اب تعین کریں گے کہ کن ملکوں کو کب کون کون سی تجارت کرنا ہو گی؟ کرنسیوں کی شرح تبادلہ میں بڑے ملکوں کو سبقت دے کر غریب ملکوں کو دیوالیہ کیا جانے لگا۔ کمزور کرنسیوں کے حامل ملکوں پر ننگی تلواریں لٹکا دی گئیں۔ کاغذی سونے میں امریکہ کا حصہ 17.6 فیصد، جاپان کا 6.5 فیصد، جرمنی کا 6.2 فیصد، فرانس کا 5.1 فیصد، انگلینڈ کا 5.1 فیصد، اٹلی کا 3.3 فیصد، سعودی عرب کا 3.3 فیصد، کینیڈا کا 3.2 فیصد، چین کا 3.2 فیصد اور روس کا شیئر 2.8 فیصد قرار پایا تھا۔ یوں دنیا کے دس ملکوں کے ذخائر 56 فیصد اور باقی 190 ملکوں کے ذخائر 44 فیصد تسلیم کئے گئے۔

ان 10 ملکوں کی رائے تمام دنیا پر بھاری اکثریت سے مان لی جانے لگی۔ ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، آئی ایم ایف اور باقی ماندہ بینک، کارپوریشنیں اور بین الاقوامی ’’امدادی‘‘ کاموں میں مصروف حکومتیں ہمیں یہ بتاتی نہیں تھکتے وہ’’ احسن طریقے‘‘ سے اپنا کام کر رہے ہیں اور ان کی خدمات کی بدولت دنیا بھر میں ترقی ہوئی ہے، لیکن اس ترقی سے فائدہ اُٹھانے والے اپنی جان کو رورہے ہیں۔ ان عالمی امدادی اداروں نے جس کو بھی امداد فراہم کی، وہ کبھی اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہو سکا، بلکہ اگرکسی نے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے اور ان کے قرضے کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ چاہے وہ پانامہ کا صدر ٹوری جوس ہو، ایکواڈور کا جیمی اولڈوس ہو، گوئٹے مالا کا حکمران اربینز ہو یا چلی کا ایلندے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سودی نظام سے خیرکی کوئی اُمید لگانا الٰہی و تکوینی قانون سے جان بوجھ کر نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ سود کی خرابی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے لئے ہے۔

IMF کے چکر میں ایک دفعہ پھنسنے کے بعد کسی ملک کا وہی حال ہوتا ہے جو ہائوس بلڈنگ کا لون لینے والے شخص کا ہوتا ہے کہ بالآخر اسے وہ مکان ہی واپس کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی تاریخ دراصل تیزی سے زمین بوس ہوتی ہوئی معیشت کی روداد ہے۔ اس پر عالمی بینکوں نے نہایت گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ موجودہ حکومت کے ان 16 ماہ میں ہمارا قرضہ 140 ارب ڈالر سے بڑھ کر 149 ارب ڈالرز ہوگیا ہے۔ بیرونی قرضہ 65 ارب ڈالر اور اندورنی قرضہ 84 ارب ڈالر کا گراف عبورکر گیا ہے۔ جون 2013ء میں ہمارے وزیر خزانہ نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ جی ڈی پی کے مقابلے میں ہمارے ملکی قرضوں کی شرح ایک سال میں 63.5 سے کم کر کے 62 فیصد اور اگلے 3 سالوں میں 58 فیصد تک لے آئی جائے گی، جبکہ آج ایک برس بعد یہ 63.5 سے بڑھ کر 64.27 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ہر پاکستانی 85 ہزار کا مقروض ہو گیا ہے۔

ہمارے کل ٹیکس کا 2 تہائی یعنی 65 فیصدآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو سود اور قرضہ لوٹانے پر خرچ ہورہا ہے۔ صرف 35 فیصد سے ملک چلایا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کی مصدقہ رپورٹوں کے مطابق صرف سندھ میں اتنا تیل اور کوئلہ ہے کہ پاکستان کے سارے قرض اُتر سکتے ہیں۔ صرف بلوچستان میں اتنا گیس اور سونا ہے کہ پاکستان کی پوری آبادی کو بآسانی تعلیم اور علاج کی اعلیٰ ترین سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ پنجاب کی زرخیز ترین زمین جیسی زمین دنیا میں نہیں۔ سرحد کے قیمتی پتھروں سے بھرے پہاڑ چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کا 600 میل لمبا سمندری کنارہ جو دنیا کے بہترین ساحل اور قدرتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سب اضافی مراعات ہیں۔ ان میں سے ایک چیز بھی دنیا کے جس ملک کے پاس ہے، وہ ترقی یافتہ ہے، مگر ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

جنوبی امریکہ کے ان ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی وافر قدرتی وسائل کے باوجود توانائی کا بحران ہے جو حل ہونے میں نہیں آتا۔ حکمراں سے عالمی استعمار کے خلاف کسی جرأت مندانہ اقدام کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔ 2012ء میں ایک ذرا سی کوشش ہوئی تھی کہ ہمارے ملک میں بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو اپنے ملک کا سستا ایندھن فراہم کر دیا جائے تو اسی وقت حوصلہ افزائی کے بجائے منظورشدہ قرض بھی روک دیا تھا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ریشہ دوانیوں اور ہمارے لیڈروں کی عاقبت نا اندیشوں سے ہم ایک بند گلی میں مقید ہوکررہ گئے ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت رکھنے والے ملک چین کی سرپرستی میں 22 ممالک کی جانب سے ایک نئے بینک کا قیام تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اس کی کامیابی سے اقتصادی غارت گروں کی چوہدراہٹ ختم نہیں توکم ضرور ہو جائے گی۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند