تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیا بیرونی ایجنٹوں پر ہی گزارا رہے گا؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 13 محرم 1436هـ - 6 نومبر 2014م KSA 14:08 - GMT 11:08
کیا بیرونی ایجنٹوں پر ہی گزارا رہے گا؟

میں جب مئی 2009ء کے ایک دن سہارن پور سے اگلے مقام دیوبند پہنچا تو یوں لگا گویا بگلوں کے شہر میں آن نکلا ہوں۔ جسے دیکھو سفید کرتے پاجامے اور ٹوپی میں تیز تیز چل رہا ہے۔ اگر کوئی السلام علیکم کہے تو مغالطہ پکا۔ کم از کم وضع قطع سے تو پتہ نہیں چلتا کہ ان میں کون محمد ریاض ہے اور کون بنواری لال گپتا۔ دیوبند کی لگ بھگ ایک لاکھ کی آبادی میں آدھے مسلمان ہیں تو آدھے غیر مسلمان۔ ہندو مسلم کشیدگی۔؟ یہ کس جانور کا نام ہے؟ میرے میزبان ہیڈماسٹر روپ چند نے بتایا کہ باہر کے ہندو ہماری مضع قطع، رہن سہن اور رکھ رکھاؤ کے سبب دیوبندی ہندو کا طعنہ دیتے ہیں مگر ہم اس طعنے کو ایک تمغے کے طور پر لیتے ہیں۔ کبھیآپ سردیوں میں آئیے یہاں شہر سے باہر میلہ لگتا ہے۔ کہنے کو تو ہندوؤں کا ہے پر شرکت میں مسلمان بھی اتنے ہی ہوتے ہیں بلکہ اکثر زیادہ ہی ہوتے ہیں۔ شیخ الہند حضرت مولا حسین احمد مدنی مرحوم کے پوتے محمود مدنی صاحب نے بتایا کہ بھائی آپ آموں کے مسم تک اگر یہاں رہیں تو بہت اچھا ہو گا۔ سالانہ دعوتِ آم میں جامع مسجد کے صحن میں قصبے کے تمام عمائدین بلا تفریقِ مذہب و ملت شریک ہوں گے تو سب سے ملاقات ہو جائے گی۔ دیوبند میں دو دن گزار کے جب میں دلی کی ٹرین میں سوار ہوا تو ایلس ان ونڈرلینڈ بن چکا تھا۔

کلکتہ پہنچ کے معلوم ہوا کہ مغربی بنگال کے طول و عرض میں دینی مدارس کھلے ہوئے ہیں۔ انکا انتظام مدارس کا ایک ریاستی بورڈ کرتا ہے۔ مارکسسٹ حکومت ( 1909ء) ان مدارس کو مالی امداد بھی دیتی ہے۔ کئی مدارس میں ہندو بچوں کی تعداد مسلمان بچوں سے دگنی تگنی ہے۔ نصاب میں سیکولر مضامین اور عربی اور دینیات شامل ہیں۔ امحان سب بچوں کو سب مضامین میں پاس کرنا پڑتا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو ہزار برس سے آباد لاکھوں کشمیری پنڈت 1991ء کے ایک دن گورنر جگ موہن کے بہکاوے میں آ کر گھروں کو چھوڑ گئے کیونکہ شدت پسندوں نے چند پنڈتوں کو قتل کر دیا تھا۔ ائت ناگ کے ایک چوبارے پر رہنے والے معمر پنڈت جوڑے سے ملاقات ہوئی۔ چاچا کمل ناتھ کول نے بتایا کہ یہاں سے سب پنڈت جموں اور دلی چلے گئے۔ ہم بھی چلے گئے ۔ مگر پھر محلے کی محبت میں مجبور پواپس آ گئے کیونکہ مسلمان ہمسائے چٹھی پہ چٹھی بھیجتے تھے کہ اگر تم بھی نہیں آؤ گے تو ہماری ناک کٹ جائے گی کہ کیسے مسلمان ہیں جن کے درمیاں ایک ہندو تک نہیں ٹک سکتا۔ تم بھلے زندگی بھر نہ آؤ مگر تمہارا مکان ہم کسی کو نہیں خریدنے دیں گے۔ تم ہی آؤ گے تو تالہ کھولو گے۔ ہمارے دونوں بچے دلی میں سیٹ ہیں مگر ہمیں کوئی فکر نہیں۔ سارا محلہ ہمارے بچوں جیسا ہے۔ اب انتظار ہے کہ بی ایس ایف والے ہمارے گھر کے سامنے سے چوکی ہٹائیں تو اس چوبارے کے ایک کمرے کی قید سے نکلیں۔ اس دوران آنٹی کول نے جو پراٹھا گھر کے اچار کے ساتھ میرے آگے چوپی تخت پر پروسا، اس کی خوشبو کمرے آج پانچ برس بعد بھی نتھنوں سے نہیں جاتی۔

مشرقی دلی کی نیم متوسط ملی جلی بستی تر لوک پوری میں زیادہ تر خاندان آباد ہیں جو 1976ء میں پرانی دلی کو غیر قانونی تعمیرات سے صاف کرنے کے سنجے گاندھی کے جنون کا شکار ہوئے تھے۔ دو ہفتے پہلے اسی ترلوک پوری میں شراب میں دھت چند نوجوانوں میں جھگڑا ہوا اور پھر ہندو مسلم فساد میں بدل گیا۔ ایک مسجد کو آگ لگی۔ قریبا 70 لوگ اینٹوں پتھروں سے زخمی ہوئے۔ 45 برس میں جب سے یہ بستی بنی ہے پہلی بار فرقہ وارانہ جھگڑا ہوا۔ تب سے تر لوک پوری میں لگ بھگ ایک ہزار پولیس والے متعین ہیں۔ قریبی علاقے بوانہ میں مقامی بی جے پی قیادت نے مقامی کانگریسیوں کے ساتھ مل کے عام لوگوں کی ایک مہا پنچائت بلائی جس نے مطالبہ کیا کہ دس محرم کا جلوس ان راستوں سے نہ گزرنے دیا جائے جہاں ہندو آبادی اکثریت میں ہے۔ چنانچہ جلوس کا روایتی روٹ چھوٹا کر دیا گیا مگر تر لوک پوری میں بلوے کے بعد تشکیل پانے والی مشترکہ امن کمیٹی والوں نے عجب حرکت کی۔ انہوں نے پولیس ہائی کمان سے کہا کہ آپ کو چنتت ہونے کی ضرورت نہیں۔ محرم کا جلوس ترلوک پوری میں ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی نکلے گا اور ہندو رضاکار جلوس کے آگے پیچھے چلیں گے۔ اور پھر ترلوک پوری میں عاشورے کا روایتی جلوس نکلا اور کچھ بھی نہ ہوا۔

پاکستان میں تمام قابلِ ذکر سیاسی و مذہبی جماعتیں کسی اور نکتے پر متفق ہوں نہ ہوں اس پر بہر حال متفق ہیں کہ اس ملک میں کسی فرقے میں کسی فرقے کے خلاف متعصبانہ جذبات اگر ہیں بھی تو اس سطح کے نہیں کہ ایک دوسرے کی جان کے در پے ہوجائیں۔ اگر کوئی شرپسندی ، قتل و غارت یا دہشت گردی ہوتی بھی ہے تو اسکی ذمہ دار بیرونی قوتیں اور ان کے خفیہ ہاتھ اور ان ک زر خرید ایجنٹ اور انکے ہاتھوں گمراہ مٹھی بھر عناصر ہیں۔ انکا ایجنڈا اقوامی و فرقہ وارانہ اتحاد پارہ پارہ کر کے عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت کو کمزور کرنا ہے۔

اگر ایسا ہی ہے تو پھر اس بیرونی ایجنڈے کو ناکام کیسے بنایا جائے۔ ؟ جلئے بطور پائلٹ پروجیکٹ ایک لٹمس ٹیسٹ کرتےہیں۔ آنے والے ربیع الاول کے جلوس کی حفاظت فی الحال پورے پاکستان میں نہیں صرف لاہور اور کراچی میں شیعہ نوجوان رضاکار کریں گے۔ لاہور اور کراچی میں اگلے برس دس محرم کے جلوسوں کا تحفظ دیوبندی اور بریلوی علما کے پیروکاروں اور شاگردوں کی ذمہ داری ہو گی۔ پولیس سمیت سکیورٹی دستے صرف معاون کردار ادا کریں گے۔

آہندہ کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی پر حملہ ہو گا تو کوئٹہ کے شہری احتجاجی دھرنے ، جلوس یا جلسے میں اجتماعی شریک ہوں گے۔ شیعہ اور غیر شیعہ علما جاں بحق افراد کا ایک ہی مقام پر باری باری نمازِ جنازہ پڑھائیں گے اور کوئٹہ کی تمام کاروباری انجمنیں متاثرین کے محض روایتی مذمت کے بجائے مالی نقصان کا اجتماعی ازالہ کریں گی۔

تمام مسلمان ارکانِ پارلیمان و صوبائی اسمبلی 25 دسمبر اپنے اپنے مسیحے ووٹروں کے ساتھ گزاریں گے اور کرسمس کیک کاٹیں گے۔ ہولی کے اگلے تہوار میں ہندو ووٹروں کو تحائف بھیجیں گے اور تحائف قبول بھی کریں گے اور چھوٹی و بڑی عید پر پڑوس میں کوئی غیر مسلم پاکستان آباد ہے تو اسے عیدین پر الگ تھلگ نہیں رہنے دیں گے۔
اگلی عید پر تمام عیدگاہیں، بیت اللہ اور مسجدِ نبوی کی طرح تمام مسلمانوں پر بلا امتیاز کھول دی جائیں گی۔ جو چاہے ایک ہی صف میں ہاتھ باندھ کے اور نہ چاہے ہاتھ کھول کے نماز پڑھے یا ایک مسلک کی نماز ختم ہونے کے بعد اسی جگہ اپنی نماز کا اہتمام کر لے۔ اگر تم نے یہ بھی کر لیا تو بھی کچھ نیا نہیں کرو گے۔ بس خود پہ کرم کرو گے۔ 1970ء تک کا پاکستان عمومی مزاج میں کم و بیش ایسا ہی تھا۔ شک ہو تو کسی بھی 60 برس سے اوپر کے آدمی سے پوچھ لو۔

بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند