تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کیلی فورنیا کے اخروٹی سے پوچھ لے!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 23 ربیع الاول 1441هـ - 21 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 14 محرم 1436هـ - 7 نومبر 2014م KSA 08:59 - GMT 05:59
کیلی فورنیا کے اخروٹی سے پوچھ لے!

27 جنوری 2011ء کو لاہور میں ایک غیر ملکی نے 2 پاکستانیوں کو گولی مار کر قتل کر دیا، یہی نہیں بلکہ جائے وقوعہ سے بھاگتے ہوئے اُس نے ایک تیسرے پاکستانی کو اپنی گاڑی تلے کچل کر بھی قتل کر دیا، تین افراد کے قتل نے موقع پر موجود پاکستانیوں کو مشتعل کر دیا، لوگوں نے غیرملکی قاتل کی فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دی، پولیس موقع پر پہنچی اور قاتل کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ اتنا سادہ نہ تھا، تھوڑی دیر میں ملک کے اندرنیچے سے اوپر تک "تاریں" کھڑک گئیں، غیرملکی سفارتخانے سے ٹیلی فون آنے پر وزارت داخلہ میں سراسیمگی پھیل گئی، وزارت خارجہ سے رابطہ ہوا اور اعلیٰ سیکیورٹی ادارے بھی متفکر نظر آنے لگے۔ پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ قاتل کوئی عام شخص نہ تھا بلکہ ایک امریکی شہری تھا۔ یہ قاتل "ریمنڈ ڈیوس" تھا، جسے بچانے کیلئے امریکی سی آئی اے چیف "لیون پنیٹا" کو خود میدان میں اُترنا پڑا۔ اُدھر میڈیا میں خبریں آنے لگیں کہ تین پاکستانیوں کا قاتل ریمنڈ ڈیوس کوئی عام امریکی شہری بھی نہیں بلکہ امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ اور پاکستان میں غیر قانونی سرگرمیوں کیلئے آیا ہوا ہے، جس کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ملک میں ایک جانب مظاہرے شروع ہوئے تو دوسری جانب روایتی طور پر اس معاملے پر ملک کے اندر سیاست بھی شروع ہو گئی۔

اُدھر ریمنڈ ڈیوس کی فوری رہائی کیلئے امریکی حکام کا پاکستان پر دباو¿ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوششیں رنگ لائیں اور 16 مارچ کو دیت کے قانون کے تحت ریمنڈ ڈیوس کو رہائی مل گئی، جسکے بعد وہ امریکہ سدھار گیا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری سے لے کر رہائی تک پاکستانی اور امریکی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہونے والی کوششوں کی روداد شایع ہو کر مارکیٹ میں آ چکی ہے۔ یہ داستانِ طلسم ہوشربا دراصل امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا کی حال ہی میں شایع ہونے والی یادداشت "وردی فائٹس" ہے۔ یوں تو پنیٹا کی کتاب (Worthy Fights) میں امریکی صدر سے لیکر امریکی فوج تک سب کی نااہلی کا بڑے خوبصورت انداز میں احاطہ کیا گیا ہے، لیکن اس کتاب کا ایک باب ریمنڈ ڈیوس اور اسامہ بن لادن سے متعلق ہے جو دراصل پاکستانی قیادت کی نااہلیوں ، نالائقیوں اور بداندیشیوں کی داستان عبرت ہے۔ جب ہزاروں مثالیں موجود ہوں تو پھر پاکستانی حکام کی نااہلی سے متعلق کوئی بھلا کیسے شک نہ کرے؟ مثال کے طور پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے ڈیڑھ ماہ بعد ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کیخلاف کیا جانے والا آپریشن کیا نااہلی کا واضح ثبوت نہیں تھا؟ اس آپریشن پر کمیشن بنا، لیکن آج کہاں ہے وہ کمیشن ؟ اور پھر اُس کمیشن کی فائنڈنگز کا کیا بنا؟

پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ اکثراوقات ہم اپنی طاقت کو " اوور ایسٹیمیٹ" کر کے آتش نمرود میں کود پڑتے ہیں اور پھر اپنی صلاحیت کو "انڈرایسٹیمیٹ" کر کے اس آتشِ نمرود کو اپنا مقدر سمجھ لیتے ہیں اور اس سے باہر نکلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ہم پاکستانی قوم کی ساخت اور ہئیت کو سمجھ ہی نہیں سکے کہ پاکستانی قوم میں مسائل سے نبرد آزما ہونے اور بحرانوں سے نکلنے کی فطری صلاحیت موجود ہے، لیکن ہم نے کبھی اس صلاحیت کو استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اب یہ مضحکہ خیز بات نہیں تو اور کیا ہے کہ لاہور میں واہگہ بارڈر کے قریب ہونیوالے خودکش دھماکے کے حوالے سے تفصیلی خبر ایک ہفتہ پہلے اخبارات میں شایع ہو چکی تھی اور انسداد دہشت گردی کا سیل ممکنہ طور پر ہونے والی اس تخریبی کارروائی کی جزیات پر ایک رپورٹ اس واقعے سے پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ارسال کر کے اقدامات کی سفارش بھی کر چکا تھا، لیکن اسکے باوجود یہ سانحہ ہو گیا اور بے گناہ پاکستانیوں کی شہادتوں کو نہ روکا جا سکا۔ دہشت گردی کی کسی کارروائی کے بارے میں پہلے سے اتنی زیادہ مصدقہ اور تفصیلی اطلاعات ہونے کے باوجود اس سانحے کا ہوجانا اپنی جگہ خود ایک سانحہ ہے!


قارئین محترم!! پنیٹا کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کے بعد پاکستانی حکام بغلیں بجا رہے تھے کہ قاتل کی رہائی کیلئے امریکی حکام بار بار اُنہیں فون کررہے ہیں ، لیکن کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ امریکی شہری تو پہلے بھی پاکستان میں گرفتار ہوتے رہے، پھر ایک ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کیلئے امریکہ کو اتنا تردد کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ پنیٹا کے مطابق حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اسامہ بن لادن تک مئی 2011ء سے بہت پہلے پہنچ چکا تھا اور مارچ میں اسامہ بن لادن کیخلاف آپریشن کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری نے اسامہ کےخلاف آپریشن کو تاخیر کا شکار کر دیا؟ پنیٹا کے مطابق اگر ریمنڈ ڈیوس رہا نہ ہوتا تو شاید اسامہ بن لادن کیخلاف ایبٹ آباد میں کیا جانیوالا آپریشن بھی التوا کا شکار ہوتا چلا جاتا۔ اس لیے پنیٹا کے مطابق اسامہ بن لادن کیخلاف آپریشن سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کو پاکستان سے نکالنا بہت ضرور تھا، کیونکہ اگر اسکی رہائی سے پہلے ایبٹ آباد آپریشن ہو جاتا تو پھر شاید ریمنڈ ڈیوس کی رہائی عمل میں نہ آتی۔

پنیٹا سے پوچھا گیا کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کو نہ چھوڑا جاتا تو پھر امریکہ کیا کرتا؟ کیا کسی بھی صورت امریکہ ریمنڈ کی رہائی سے قبل اسامہ کیخلاف آپریشن کر دیتا؟ کیلی فورنیا میں اپنے اخروٹوں کے فارم میں گلہریوں کی اچھل کود دیکھ کر خوش ہوتا لیون پنیٹا یکدم سنجیدہ ہوگیا "آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟ اسامہ کیخلاف آپریشن ہر امریکی شہری کی زندگی بچانے کیلئے کیا جانا تھا، ایسے میں ریمنڈ ڈیوس جو بیرون ملک امریکہ کیلئے اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو تیار ہو گیا تھا، بھلا اُسے جیل میں گلنے سڑنے کیلئے کیسے چھوڑا جا سکتا تھا؟ ریمنڈ کو بچانا ، اسامہ کو مارنے سے زیادہ اہم تھا"۔ یہ جان کر کیا ذہنوں میں سوال نہیں اٹھتا کہ جب پہلے سے معلوم تھا تو پھر واہگہ سے اٹھنے والی ساٹھ لاشوں کا ذمہ دار کون ہے؟ جب خودکش بمبار کی لاہور میں موجودگی اور فلیگ "سیرمنی" کو اڑانے تک کی اطلاعات موجود تھیں تو پھر اس سانحے کو کیوں ہونے دیا گیا؟ کیا تقریب منسوخ نہیں کی جاسکتی تھی؟ ساٹھ لاشیں گرنے دینا اور اگلے روز تقریب کا دوبارہ ہونا کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ ہمارے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی قدر قیمت نہیں ہے؟ کسی کو شک ہے تو کیلی فورنیا کے اخروٹی سے پوچھ لے!

بہ شکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند