تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
داعش، ترکی اور یورپ و امریکہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: پیر 17 محرم 1436هـ - 10 نومبر 2014م KSA 11:18 - GMT 08:18
داعش، ترکی اور یورپ و امریکہ

ترکی نے عراق پر امریکہ کی تازہ فضائی کارروائی کے لیے اپنی زمین دینے سے منع کیا کیا کہ مغری میڈیا میں رجب طیب اردغان کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ ترکی اور آئی ایس آئی ایس میں سازباز ہے اور یہ گروہ آج اگر دنیا کی دولت مند ترین دہشت گرد تنظیم ہے تو ترکوں کی بدولت ہی ہے جنکی مدد سے دہشت گردوں کی یہ جماعت بین الاقوامی بازار میں تیل کا کالا بازاری کر رہی ہے۔ ترکی جو روز اول سے یورپین یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوشاں اور اس کے لیے وہ اپنے مغربی پڑوسیوں کی ہر فرمائش پوری کرنے کے لیے تیار رہا ہے، اب اسکے لیے ڈنمارک کا باشندہ باصل حسن بھی ایک نئی مصیبت بن گیا ہے۔ اسے تقریبا آٹھ ماہ قبل اپریل میں استنبول کے اتاترک ائیر پورٹ پر حراست میں لیا گیا۔ مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ باصل حسن وہی شخص ہے جس نے اسلام مخالف ڈینش مصنف لارس ہیدے گارد پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اندیشہ ہائے دور دراز کا بازار گرم ہے کہ باصل حسن کو ان 46 ترکوں کی رہائی کے عوض رہا کیا گیا تھا معلوم ہوتا ہے جن کو داعش نے موصل میں ترکی کے قونصل خانہ سے یرغمال بنا لیا تھا جبکہ یہ واقعات اس وقت رونما ہی نہیں ہوئے تھے۔ موصل میں ترکی کے قونصلیٹ کے اہلکاروں کو جون میں یرغمال بنایا گیا اور انکو ستمبر میں رہا کیا گیا جبکہ مبینہ جہادی باصل حسن کو اپریل میں ایئر پورٹ پر روکا اور ضروری تفتیش کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ لیکن ترکی مجرم ہے اس لیے کہ اس نے ماضی کی طرح اس بار عراق پر بمباری کے لیے امریکہ کو اپنی زمین نہیں دی اور باصل حسن یوروپین یونین میں ترکی کی رکنیت کی بحث میں اس کے خلاف ایک نئی اور سب سے مضبوط دلیل بن گیا ہے۔

یہ ترکی ہی تھا جسکی زمین استعمال کر کے امریکہ نے صدام حسین کے محلوں کو نہہ و بالا کیا اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن اس تلخ تجربہ کے بعد جس نے ساری دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اسکا انجام کیا ہوا اور اس کے کتنے بھیانک نتائج نکلے، ترکوں کی قیادت نے اپنے گریبانوں میں منھ ڈالا، ترکی اب اس نسلی اور علاقائی منافرت کو مزید بھڑکانا نہیں چاہتا جس کے شعلے خود اسکی اپنی دہلیز تک پہنچ چکے ہیںْ۔ اس وقت جبکہ داعش ترکی کی سرحد پر واقع شام کے ایک بہت بڑے علاقے پر قابض ہے اور کرد اکثریتی شہر کوبانی اس کے قبضے میں ہے جہاں سے اٹھنے والی ایک ذرا سی چنگاری بھی ترکی کے ایک بڑے علاقے کو تشدد کے حوالے کر سکتی ہے اور ترکی کے کرد باغیوں کو اسکے خلاف آسان موقع ہاتھ ھآ سکتا ہے تو یہ رجب طیب اردوگان کی کونسی دانشمندی ہوتی کہ وہ ترکی کو امریکہ اور یورپ کی خوشنودی کے لیے جنگ میں جھونک دیتے؟ عراق امریکہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے ، شام کی خانہ جنگی بھی امریکہ اور اسکے حلیفوں کی سلگائی ہوئی ہے اور اسکو بجھانے کی ذمہ داری بھی ان ہی کی ہے۔ بے شک صرف ترکی کے چاہنے سے عراق اور شام کی آگ سے ترکی محفوظ نہیں رہ سکتا، عالمی استعمار نے اگر اسکو پورے خطے میں پھیلانے اور نسلی و مسلکی منافرتوں کو نسل درنسلسینجنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو بھلا ترکی تنہا کیا کر سکتا ہے لیکن کوئی جان بوجھ کر آگ میں تو نہیں کود سکتا۔

مشرق وسطیٰ میں سازشوں کے جال کہاں سے کہاں تک پھیلے ہوئے اور کتنے گہرے ہیں اب کسی سے مخفی نہیں رہ گئے ہیں۔ یہ بات اب پورےر تواتر و تسلسل سے کہی جا رہی ہے کہ داعش اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے شام میں تیل کے نئے کنوئیں کھود رہی ہے ۔ اگر یہ سچ ہے تو کیا تیل کے یہ نئے کنوئیں کدال سے کھودے جا رہے ہیں اور کیا داعش نے اپنی ساری افرادی قوت اسی طرف لگا دی ہے؟ تیل و گیس کے کنوئوں کی کھدائی ایک انتہائی جدید ٹیکنالوجی ہے جو ریاستوں کے پاس بھی موجود نہیںْ ۔ دنیا میں چند ہی کمپنیاں دسترس رکھتی ہیں اور اس بنا پر وہ تیل کی دولت سے مالامال ریاستوں کو بلیک میل بھی کرتی ہیں۔ پاکستان، ایران ، سعودی عرب ، ہندوستان ، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک بھی ان ہی کمپنیوں کے محتاج ہیں۔ اسی لیے سارے منافع کی مالک یہی کمپنیاں ہوتی ہیں اور یہ ممالک اپنا ہی تیل ان کمپنیوں سے عالمی نرخ پر خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تیل کی پیداوار والے ممالک کو انکے اپنے تیل کی آمدنی پر تیرہ سے اٹھارہ فیصد کے درمیان رائلٹی ملتی ہے اور بس۔ تو داعش نے دیکھتے ہی دیکھتے اس ٹیکنالوجی پر کیسے کمال حاصل کر لیا۔ اب یہ کیوں نہ مانیں کہ تیل پیدا کرنے والے تیل ریفائنریوں کے مالک ۔ تیل بیچنے والے ، شپنگ کمپنیوں کے مالک یہ سب ایک ہیں اور اب یہی شام میں تیل کے نئ ےکنوئیں کھود رہے ہیں اور کریڈٹ داعش کا جا رہا ہے جس نے ادھر ایک عرصے سے اس کی بربریت کے خلاف انصاف پسندانہ موقف اختیار کر رکھا اور اسکی دوستی کو لات مار چکا ہے۔

جن قوتوں نے داعش کو پیدا کیا ہے وہی داعش کے نام پر یہ بزنس بھی کر رہی ہیں۔ وہی قوتیں داعش کو لامتناہی فنڈ بھی فراہم کر رہی ہیں۔ دنیا کو بے وقوف بنانے کے لیے ان ہی دسیہ کاروں کا غلام عالمی میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ داعش کوئی ناقابل تسخیر و مافوق الفطرت قوت ہے۔ ایک طرف ودعوی یہ ہے کہ داعش کو عالمی سطح پر روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی کوشش میں اس پر بمباری بھی کی جار ہی ہے ۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا دوسری طرف شام اور لیبیا کا تیل آزادانہ طور پر چوری کر کے بڑے بڑے آئل ٹینکروں کے ذریعے شپ کیسے کیا جا رہا ہے یہ ریفائنریوں میں جاتا ہے اور پھر صاف ہو کر عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے مگر کسی کو نطر نہیں آتا۔ جب عراق پر صدام حسین کے دور میں اقتصادی پابندیاں لگائی گئی تھیں تو محض دوا کی عدم دستیابی کے باعث عراق کے سالانہ پانچ لاکھ بچے موت کے منہ میں چلے گئے ۔مگر صدام پوری کوشش کے باوجود دوا کی ایک گولی اپنے ملک میں نہیں لا سکتا تھا لیکن داعش کونسا جادو رکھتے ہیں کہ روز درجنوں جہاز تیل سے بھرے ہیں اور روانہ کرتے ہیں مگر کسی کو نظر نہیں آتے۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان رکنیت کے مذاکرات اکتوبر 2005ء میں شروع ہوئے تھے اور توقع کی جاتی تھی کہ یہ مذاکرات تیزی کے ساتھ فروغ پائیں گے۔ ترکی مو مستقل رکنیت کی فراہمی کی قطعی تاریخیں بھی دی جا رہی تھیں۔ بعض حلقوں کے مطابق ترکوں کو 2014ء میں یورپی یونین کا مستقل رکن بنا لیا جانا تھا لیکن رکنیت کے عمل میں انتہائی سست روی کا دور شروع ہوا حتی کہ ایک وقت یہ عمل رک جانے کے نکتے پر پہنچ گیا۔ اور اب اس میں نئے اڑنگے کھڑے کئے جا رہے ہیں۔ مارمرا یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے پروفیصر ڈاکٹر رمضان گیوزین کی رائے میں ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کے مذاکرات میں سست روی پیدا ہونے کی پہلی وجہ جرمنی اور فرانس کے رویے میں تبدیلی آنے سے ہے۔

جرمنی میں انگیلا مرکل اور فرانس میں سرکوزی کے کے برسر اقتدار کے بعد یورپی یونین کے ترکی کے بارے میں نظریات میں تبدیلی آنے لگی۔ ان دونوں لیڈروں اور انکے حمایتی روایت پسند اور کرسچن ڈیموکریٹس گروپوں کا زور ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کی مستقل رکنیت دینے کے بجائے اسے امتیازی حیثیت دی جانی چاہیے۔ اسی دوران دیگر یورپی اداروں نے بھی ترکی اور مسلمانوں کے بارے میں منفی موقف اختیار کر لیا۔ اسلام مخالف عناصر ترکی کو رکنیتدینے کے خلاف ہیں۔ دوسری جانب مسئلہ قبرص کی وجہ سے فرانس اور قبرصی یونانی انتظامیہ نے ترکی کی رکنیت کی فائلوں کو معطل کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یورپی انسانی حقوق کی عدالت نے ترکی میں سکارف اوڑھنے کی آزادی کے مقدمے کے بارے میں منفی فیصلہ کر کے ترکی کے بارے میں منفی نظریات کا برملا اظہار کیا۔ یورپی ممالک نے تو واضح طور پر اپنے موقف کا اظہار نہیں کیا لیکن صورتحال سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ ترکی کو اس کے مذہبی تشخص کی وجہ سے یورپی یونین کا رکن نہیں بنایا جا رہا ہے اور یہ اس کا مذہبی تشخص ہی ہے جس کے باعث اب اسے داعش سے جوڑا جا رہا ہے ورنہ ی ہحقیقت کس سے مخفی ہے کہ ترکی سیکولر ملکوں سے بھی زیادہ سیکولر رہا ہے اور یہ اسی کا سیکولرزم تھا کہ مسلم ملکوں میں اگر کسی نے اسرائیل سے اعلانیہ سفارتی تعلقات رکھے تو وہ ترکی ہی ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند